سلیمانی
دشمن کو اپنے اقدام پر پشیمانی ہوگی، کمانڈر ایرانی زمینی فوج
اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے خلیج فارس میں دشمن کی مہم جوئی کے ردعمل میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ پشیمان ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق، جنرل امیر حاتمی نے وزارت داخلہ کے خصوصی معاون بریگیڈیئر محمدحسن نامی کے پیغام کو دوبارہ شائع کرتے ہوئے اس کے متن کی تائید کی، جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ دشمن پشیمان ہوں گے۔
ایرانی فوج کے سربراہ کا یہ مختصر مگر سخت بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دشمن کے لیے ایک واضح انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ مشکل میں، آبنائے ہرمز میں طاقت کا نیا توازن قائم ہورہا ہے، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی محاصرے نے سمندری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک نئی صورتحال بتدریج مضبوط ہو رہی ہے اور امریکہ کے لیے موجودہ حالت کو جاری رکھنا ناقابل برداشت بنتا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور محاصرہ قائم کرکے سمندری جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شرارتیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں گی اور ان کے شر سے نجات حاصل ہوجائے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ موجودہ صورتحال کا تسلسل امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ہے، جبکہ ایران نے ابھی تک عملی طور پر اپنی کارروائیوں کا آغاز بھی نہیں کیا۔
ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے، مزید جنگ نہیں چاہتے، امریکی وزیر جنگ
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگست نے پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی اور یہ اس وقت بھی برقرار ہے، جبکہ امریکہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، اور سمندری تجارت جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور آبنائے ہرمز میں شروع کیا گیا منصوبہ عالمی تعاون کا متقاضی ہے۔
پیٹ ہیگست نے یہ دعوی بھی کیا کہ امریکہ ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اقدامات میں احتیاط برتے تاکہ صورت حال جنگ بندی کی خلاف ورزی کی حد سے نیچے رہے۔
دوسری جانب امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ممالک جو آبنائے ہرمز میں مفادات رکھتے ہیں، آگے بڑھیں۔
انہوں نے دعوی کیا کہ ایران نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد 10 بار امریکی افواج پر حملے کیے، تاہم یہ حملے اس سطح تک نہیں کہ امریکہ دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرے۔
علم و عمل؛ کامیابی کا اصل راستہ
رہبرِ شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کے ارشادات نوجوان نسل کے لئے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ آپ کی نصیحتوں کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی زندگی کے اس قیمتی دور کو سنجیدگی کے ساتھ علم حاصل کرنے، کردار سازی اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں صرف کریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم کو کبھی معمولی نہ سمجھا جائے۔ جیسا کہ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ فرمایا: "صرف خوبصورت گفتگو یا اچھے خیالات اس بات کی دلیل نہیں کہ انسان نے صحیح معنوں میں علم حاصل کر لیا ہے۔ اصل معیار مسلسل محنت، باقاعدہ مطالعہ اور گہری علمی بنیاد ہے۔ بغیر علم کے انسان معاشرے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔"
آپ اس بات پر بھی زور دیتے تھے کہ علم انسان کو مضبوط بناتا ہے۔ لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علم کے ذریعہ اپنی شخصیت کو استوار کریں اور دل لگا کر تعلیم حاصل کریں۔ اگر انسان اپنے افکار اور صلاحیتوں کو معاشرے میں مؤثر بنانا چاہتا ہے تو اس کے لئے علمی پختگی ناگزیر ہے۔
اسی طرح آپ کی تعلیمات میں اخلاقی پہلو بھی نہایت نمایاں ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کے مطابق تعلیم کے ساتھ پاکدامنی، فضول اور بے فائدہ مشاغل سے اجتناب بھی نوجوانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک طالبِ علم کا وقت قیمتی سرمایہ ہے، جسے بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
اسی طرح آپ خاص طور پر دینی طلبہ کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص روحانیت کا لباس پہن لے مگر علم حاصل نہ کرے تو یہ ایک بے معنی عمل ہے، بلکہ ایسا ہے جیسے کوئی کسی چیز پر ناجائز قبضہ کر لے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی منصب ایک بڑی امانت ہے، جسے صرف وہی شخص سنبھال سکتا ہے جو علمی طور پر اہل ہو۔
اسی تناظر میں آپ نے ابتدائی علوم جیسے نحو، صرف اور منطق کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور فرمایا: "یہ سب علمی عمارت کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر اعلیٰ علمی مقام تک پہنچنا ممکن نہیں۔ اسی طرح فقہ اور اصول کی گہری سمجھ انسان کو ایک مؤثر عالمِ دین بناتی ہے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی کی ان نصیحتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ نوجوان علم کو سنجیدگی سے لیں، اپنے اخلاق کو سنواریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ جو نوجوان علم اور عمل دونوں میں مضبوط ہوگا، وہی معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے اور ایک بامقصد زندگی گزار سکتا ہے۔
رہبر شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ اور دیگر بزرگان دین کے ارشادات اور نصیحتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہر وہ عمل جو تعلیمی نظام کو متاثر کرے، نوجوانوں خاص طور سے طلبہ کی تعلیم و تربیت میں رکاوٹ بنے وہ کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے۔
جیسا کہ جناب شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے شب قدر کے سلسلہ میں فرمایا: "مَن أحیا هاتَینِ اللَّیلَتَینِ بِمُذاکَرَهِ العِلمِ فَهُوَ أفضلُ" یعنی جو شخص ان دونوں راتوں کو علمی گفتگو اور سیکھنے سکھانے میں گزارے، وہ زیادہ افضل ہے۔ (امالی شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ، مجلس 93)
اسی طرح مفسر قرآن فقیہ اہل بیت علیہم السلام آیۃ اللہ العظمیٰ جوادی آملی دام ظلہ نے فرمایا: شبِ قدر میں الٰہی علوم اور دینی معارف کو سیکھنے، بیان کرنے اور سننے سے بہتر کوئی کام نہیں۔ تفسیر، حدیث یا احکام کی محفلوں کا انعقاد کرنا یا ان میں شرکت کرنا خود ایک سعادت اور توفیق ہے۔ اگر ایسی کوئی مجلس میسر نہ ہو تو انسان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہیے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔
آپ نے مزید فرمایا: تیئیسویں شب، جو ماہِ مبارک رمضان کی تمام راتوں بلکہ انیسویں اور اکیسویں شب سے بھی افضل ہے، اس میں سب سے بہتر کام علم حاصل کرنا اور آگاہی پیدا کرنا ہے۔ یہی علم انسان کو عقل تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے، اور جو انسان عاقل ہو جائے وہ سکون میں رہتا ہے اور کبھی عذاب میں مبتلا نہیں ہوتا۔
مذکورہ مطالب سے نتیجہ نکلتا ہے کہ جب شب قدر کا افضل ترین عمل تعلیم و تعلم ہے تو عام حالات میں اس سلسلہ میں غفلت، فراموشی یا کوتاہی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
اللہ تبارک و تعالی کے ولی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی یعنی سید الاولیاء وسید الاوصیاء امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا: “مواقع بادلوں کی طرح تیزی سے گزر جاتے ہیں، پس نیکی کے مواقع کو غنیمت جانو اور انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو۔”
اقوام متحدہ: غزہ صحافیوں کے لیے دنیا کی خطرناک ترین جگہ ہے
مرکز اطلاعرسانی فلسطین کے مطابق اس بین الاقوامی ادارے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر عالمی یوم آزادیٔ صحافت کے موقع پر ایک پیغام میں کہا: غزہ کی پٹی صحافیوں کے لیے پوری دنیا میں سب سے خطرناک جگہ ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے دنیا کے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا سے وابستہ افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صرف "مذمتی بیانات یا یکجہتی کے اظہار” سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔
ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جوابدہی کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں، صحافیوں کو جسمانی تحفظ فراہم کیا جائے، اور بین الاقوامی میڈیا کو غزہ تک آزاد اور خودمختار رسائی دی جائے۔
اسی تناظر میں، فولکر ترک، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، نے موجودہ صورتحال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: “غزہ میں اسرائیل کی جنگ میڈیا کے لیے ایک مہلک جال بن چکی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دفتر نے اکتوبر 2023 میں تنازع کے آغاز سے اب تک تقریباً 300 صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ اس شعبے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔/
امریکی بحری محاصرہ ناکام؟ ایرانی گیس بردار جہاز باآسانی نکل گیا
“ٹینکر ٹریکرز” نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی مائع گیس لے جانے والا جہاز “زافیا” امریکی بحری محاصرے سے گزرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
الجزیرہ کے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جہاز امریکی بحریہ کی جانب سے قائم کردہ محاصرے کے دائرے سے باآسانی نکل گیا۔
“ٹینکر ٹریکرز” نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ تقریباً تین ہفتے قبل انہوں نے XAVIA (9052331) نامی جہاز کو ایران کے شہر عسلویہ میں اپنی کھیپ لوڈ کرتے ہوئے دیکھا تھا، جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔

مزید کہا گیا کہ اس جہاز کو آخری مرتبہ دو روز قبل عمان کے شہر صحار کے قریب دیکھا گیا۔
آبنائے ہرمز میں آمد و رفت صرف ایران کی اجازت سے ممکن ہوگی، سپاہ پاسداران انقلاب
سپاہ پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے سربراہ جنرل جوانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں متعین حدود کے اندر گزرنے والا ہر جہاز ایرانی مسلح افواج کی اجازت سے گزرے گا، جبکہ دشمن سے تعلق رکھنے والے کسی بھی بحری جہاز سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے نظم و نسق کو ایک عملی شکرگزاری کے طور پر دیکھتا ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی منظم نگرانی و کنٹرول کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کا نیا انتظامی نظام عالمی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئے نظم کی بنیاد رکھے گا۔
سردار جوانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی جہاز اس مخصوص اور خط کشی شدہ علاقے میں آمد و رفت کرنا چاہے گا، اسے ایرانی مسلح افواج کی اجازت کے ساتھ یہ کام انجام دینا ہوگا تاکہ اس کی سلامتی یقینی بنائی جاسکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی دشمن یا حریف ملک سے تعلق رکھنے والا بحری جہاز اس علاقے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے ساتھ فیصلہ کن اور سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کا نقصان خود امریکہ کے لیے کہیں زیادہ ہوگا۔ امریکہ اپنی طاقت آزمانے کے لیے ہر ممکن صلاحیت میدان میں لائے گا، لیکن انجام کار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے اور وہ 40 روزہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہر ممکن کوشش کرچکا، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کسی صورت یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ حالات کو جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس لے جاسکے یا زمینی حقائق کو تبدیل کرسکے۔
آبنائے ہرمز کے بارے ٹرمپ کا منصوبہ مبہم اور ناقابل عمل ہے، الجزیرہ
الجزیرہ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی صدر کے منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکی ہوئی بحری آمدورفت کے مسئلے میں اب تک کوئی عملی تبدیلی نظر نہیں آئی۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر ایران کی نئی حکمت عملی کے تحت جہازوں کی رفت و آمد میں بندش کو ختم کرنے کا اعلان کیا تاہم مقررہ مہلت گزرنے کے باوجود ٹرمپ کے اعلان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے کے پہلے دن ہی واضح نتائج سامنے نہیں آئے اور آبنائے ہرمز میں رکی ہوئی بحری آمدورفت کے مسئلے میں کوئی عملی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ اس حوالے سے چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں کئی ابہامات پائے جاتے ہیں اور یہ منصوبہ عملی طور پر قابلِ نفاذ نظر نہیں آتا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ آزادی آپریشن کے پہلے ہی دن شکوک و شبہات سامنے آگئے اور اس بات کے کوئی واضح آثار نہیں ملے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو آزاد کرنے کا دعوی حقیقت میں پورا ہوا ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اندازوں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد گزشتہ 66 دنوں میں آبنائے ہرمز میں سینکڑوں بحری جہاز رکے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس منصوبے کے عملی نتائج ابھی تک سامنے نہیں آسکے اور بحری راستوں کی صورتحال بدستور غیر واضح اور پیچیدہ ہے۔
یورینیم افزودگی کی سطح پر کوئی قانونی پابندی نہیں، اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا مؤقف
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے واضح کیا ہے کہ قانونی نقطۂ نظر سے یورینیم افزودگی کی سطح پر کوئی حد مقرر نہیں، کیونکہ ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں عالمی ادارے کی نگرانی میں انجام پا رہی ہیں۔
ایرانی مستقل مشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جوہری پھیلاؤ کی روک تھام اور تخفیفِ اسلحہ کے معاملے میں واشنگٹن کا کردار انتہائی شرمناک رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کے پاس ہزاروں جوہری ہتھیار موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے آرٹیکل 1 اور آرٹیکل 6 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایرانی مشن نے زور دیا کہ امریکہ کو دیگر ممالک کے جوہری معاملات میں دوہرے معیار اور ناانصافی پر مبنی رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
بیان میں یہ بھی دہرایا گیا کہ یورینیم افزودگی سمیت ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں ہمیشہ عالمی جوہری نگرانی کے ادارے کی نگرانی میں اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں انجام دی جارہی ہیں۔
عوام کی سڑکوں پر موجودگی میزائلوں کے لیے ایندھن کا درجہ رکھتی ہے، سپاہ پاسداران انقلاب
مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے عوام کی سڑکوں اور چوراہوں پر اجتماعات میں بھرپور شرکت کو میزائلوں کے لیے ایندھن قرار دیتے ہوئے اسے قومی طاقت اور استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایرانی عوام کی حالیہ دو ماہ میں میدانوں میں حاضری، خاص طور پر قومی مہم "جانفدا برائے ایران امام رضا" کے دوران، ملک کی مسلح افواج کی حمایت اور رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہای سے بیعت کا مظہر ہے۔
پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام کی یہ حاضری دشمن امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایرانی عوام کے عزم اور اتحاد کو ظاہر کرتی ہے، اور جنگی اور میڈیا دباؤ کے باوجود ایران اور ایرانی کبھی بھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔
سپاہ پاسداران نے تاکید کی کہ عوام کی سڑکوں پر موجودگی اور ولایتی شعور کے حامل مبلغین کی کوششیں قومی وحدت اور بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، اور یہ میزائلوں کے لیے ایندھن کے برابر ہے جو ملک کی دفاعی اور اسٹریٹجک طاقت کو مستحکم بناتا ہے۔
پیغام میں سپاہ پاسداران نے دفاع وطن میں حصہ لینے والے تمام اہلکاروں، شہداء کے خاندانوں اور جانبازوں کو خراج تحسین پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالی انہیں دشمن کے مقابلے میں قطعی کامیابی عطا فرمائے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
