سلیمانی

سلیمانی

 ایسٹ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین امیرحسینی نے اپنی ایک یاد داشت میں لکھا ہے خلیج فارس کا نام پانی پر نہیں لکھا ہے  بلکہ تاریخ کے حافظ میں ن‍قش ہوچکا ہے اوراس کا دفاع سیاسی تحریف کے مقابلے میں حقیقت کا دفاع ہے۔  

انھوں نے ارنا کے لئے لکھے گئے اپنے اس مقالے میں لکھا ہے کہ  آج لڑائیاں صرف فوجی میدان میں ہی شروع نہیں ہوتیں، بلکہ بعض اوقات ایک اصطلاح اور ایک نام حتی نقشے سے کسی صفت کو حذف کردینا بھی بہت گہرا تنازعہ شروع ہوجانے کا باعث ہوسکتا ہے۔

  پروفیسرمحمد حسین امیرحسینی لکھتے ہیں کہ خلیج فارس وہ جگہ ہے کہ جہاں، تاریخ، سیاست اور تشخص، سب ایک نام میں  ضم ہوجاتے ہیں اور خلیج فارس ایک جغرافیائی نام ہے جو ایک  تمدن کا تاریخی حافظہ ہے۔

  وہ لکھتے ہیں کہ خلیج فارس کا مسئلہ ایک جغرافیائی نام پر صرف لفظی اختلاف کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس نام میں، تہہ در تہہ ، تاریخ ایران، تجارتی گروہ، جہازرانی، علاقائی سلامتی، نقشوں  کی زبان، سفرناموں کی ادبیات، سفارتی دستاویزات اور نام رکھنے کا بین الاقوامی نظام، سب کچھ موجود ہے۔ بنابریں، اس وسیع سمندری علاقے کے نام سے لفظ " فارس" کو حذف کرنے کی کوشش، درحقیقت، اہم ترین جیوپولیٹیکل خطے اور قدیمی ترین تہذیب سے ایران کا رابطہ منقطع کرنے کی کوشش ہے۔  

وہ لکھتے ہیں کہ یورپی نقشوں میں بھی یہی نام موجود ہے۔  معتبر برطانوی آرکائیوز، منجملہ بریٹش لائبریری میں متعدد نقشے اور سمندری چارٹ موجود ہیں جن میں اس خطے کے مقامی اور عربی  نام کے ساتھ ہی، انگریزی میں  Persian Gulf  یعنی خلیج فارس لکھا ہوا ہے۔ ان میں، انیسویں اور بیسویں صدی کے  اوائل سے متعلق نقشے اورسمندری چارٹ بھی شامل ہیں۔  اس سے  پتہ چلتا ہے کہ  جس زمانے میں یورپی نقشہ نویس، جنوبی ساحلوں کے نام لکھ رہے تھے، انھوں نے  اس پورے سمندری علاقے کا نام خلیج فارس لکھا ہے۔  

  پروفیسرمحمد حسین امیر حسینی نے لکھا ہے کہ " خلیج کا تعلق ماضی سے نہیں بلکہ حال اورمستقبل سے ہے۔ جب ہم اس کام صحیح نام لیتے ہیں تو صرف ایک صحیح اصطلاح  کا دفاع نہیں کرتے بلکہ تاریخ رابطے اور حقیقت کا بھی دفاع کرتے ہیں۔

 وہ لکھتے ہیں کہ  خلیج فارس پانی پر لکھا ہوا نام نہیں ہے جس کو  لہریں مٹادیں، یہ نام تاریخ کے حافظ میں محفوظ ہے۔   

نیٹو کے سابق کمانڈر جنرل وسلے کلارک نے سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس ٹوماہاک میزائلوں کا 50 فیصد سے بھی کم ذخیرہ رہ گیا ہے۔ ایرانی حملوں میں ہم نے ایسے ریڈار کھو دیئے ہیں جن کی جگہ لینا مشکل ہے۔ اسی طرح تھاڈ انٹرسپٹرز کا نصف ذخیرہ استعمال کر لیا ہے۔ ان میزائلوں کو پورا کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ اس سے پہلے پنٹاگون حکام نے امریکی کانفرنس کو دی گئی ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ ایران جنگ پر اب تک 25 ارب ڈالر خرچ کیے۔ تاہم سی این این نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ جنگ کی حقیقی لاگت 40 سے 50 ارب ڈالر ہے۔ سی این این کے مطابق، 25 بلین ڈالر کا یہ سرکاری تخمینہ ایک "کم تر تخمینہ" ہے، جس میں جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے وسیع نقصان کی مرمت کی لاگت شامل نہیں ہے۔ اس معاملے سے واقف تین ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ جب امریکی فوجی تنصیبات کی تعمیر نو اور تباہ شدہ اثاثوں کی تبدیلی کی لاگت کو شامل کیا جائے تو اس جنگ کی اصل لاگت کا تخمینہ 40 سے 50 بلین ڈالر کے قریب ہے۔

ایران غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم ہے، این بی سی نیوز
چند روز پہلے امریکی چینل این بی سی نیوز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران کو معاہدے کی کوئی جلدی نہیں، وہ غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم ہو گیا ہے۔ این بی سی نیوز نے ایران اور امریکہ کے درمیان تازہ صورتحال پر اپنی رپورٹ میں مغربی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ایران موجودہ حالات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن امریکی اس صورتحال کو مزید برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے فضائی حملوں میں شدت لائی، بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں، سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا اور بحری ناکہ بندی کا حکم دیا۔ اس کے باوجود تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ این بی سی کے مطابق: “ایران کے رہنماؤں کے قتل اور متعدد فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باوجود، ایک مغربی سفارتکار اور انٹیلی جنس جائزوں سے آگاہ پانچ مغربی حکام کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ ایرانی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے حملوں سے سیاسی فائدہ اٹھایا ہے۔

ان حکام نے کہا کہ یہ حکومت غیر متوقع طور پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہو گئی ہے اور حتیٰ کہ کچھ حد تک زیادہ سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کر چکی ہے۔مغربی ذرائع نے مزید بتایا کہ ایران میں اصلاح پسند سیاسی دھڑا اب پس منظر میں چلا گیا ہے، کیونکہ امریکہ کی شدید بمباری اور ٹرمپ کے بار بار الٹی میٹم نے ان کے اس مؤقف کو کمزور کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ نرم رویہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ میں بھی سیاسی اخراجات بڑھ رہے ہیں؛ وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، ٹرمپ اور چینی صدر کی اہم ملاقات متوقع ہے، اور پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نئی رائے شماری کے مطابق، زیادہ تر ووٹرز ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ایک مغربی عہدیدار نے این بی سی نیوز کو بتایا: “ایسا نہیں لگتا کہ ایرانی مذاکرات کے لیے جلدی میں ہیں۔”

ادھر امریکہ میں جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹرمپ کی حکمت عملی اور اس کے معاشی اثرات پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ این بی سی نیوز کے ایک نئے سروے کے مطابق دو تہائی امریکی ٹرمپ کے جنگی انتظام سے متفق نہیں جبکہ صرف ایک تہائی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی طرح فوکس نیوز کے حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی اور معیشت کے معاملے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے کالج آف فارن سروس کے پروفیسر ڈینیل بیمن کا کہنا ہے کہ ایرانی رہنما سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ حکومت اور امریکی عوام طویل جنگ برداشت نہیں کر سکتے اور معاشی و سیاسی اخراجات بڑھنے کے ساتھ پیچھے ہٹ جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، بایمن نے Center for Strategic and International Studies (CSIS) کے لیے اپنے تجزیے میں لکھا: “ایرانی حکومت کے لیے یہ تصادم وجودی نوعیت کا ہے، جبکہ زیادہ تر امریکیوں کے لیے بہتر ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے اور اسے بھلا دیا جائے، اس امید کے ساتھ کہ ایندھن کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔”

“Mowing the Grass” حکمت عملی بھی ناکام ہو گی۔ امریکی تھینک ٹینک کا تجزیہ
 Mona Yacoubian واشنگٹن میں قائم Center for Strategic and International Studies کے مشرقِ وسطیٰ پروگرام کی ڈائریکٹر اور سینئر مشیر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک تجزیئے میں اشارہ دیا کہ براہ راست جنگ میں مکمل ناکامی کے بعد اسرائیل پیٹ پیچھے حملہ کرنے کیلئے امریکہ کو راغب کر سکتا ہے، اس حکمت عملی کو Moving the Grass کا نام دیا جاتا ہے، یہ اصطلاح خود صیہونیوں کا متعارف کردہ ہے جسے حماس کیخلاف استعمال کیا گیا۔ 2013ء میں دو اسرائیلی ماہرینِ تعلیم نے اس اصطلاح کو متعارف کروایا، اس کا مطلب ہے آہستہ آہستہ دشمن کے اہم اہداف کو ٹارگٹ کرتے رہنا تاکہ انہیں کمزور کیا جا سکے اور وقتی طور پر تنازع کو قابو میں رکھا جا سکے (ماضی میں ایرانی جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اسی حکمت عملی ایک مثال ہے) لیکن مونا لکھتی ہیں کہ غیر ریاستی مخالفین کے خلاف اس حکمت عملی کی خامیوں کے علاوہ، یہ طریقہ کار کبھی بھی ریاستی سطح کے حریفوں کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ اگر غیر ریاستی عناصر ریاست جیسی خصوصیات یا زیادہ طاقتور صلاحیتیں حاصل کر لیں تو “Mowing the Grass” ایک پرانی حکمت عملی بن جائے گی۔

مونا لکھتی ہیں "آج کی صورتحال میں آئیں تو ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ مکمل جنگ کی طرف واپس جانے کے بجائے، امریکہ یا اسرائیل کو یہ لالچ ہو سکتا ہے کہ وہ “Mowing the Grass” اپنائیں، یعنی جب بھی اندازہ ہو کہ ایران اپنی طاقت دوبارہ بحال کر رہا ہے تو وقفے وقفے سے حملے کریں۔ اس منطق کے تحت وہ ایران کے خطرے کو صرف “manage” کرنے کی کوشش کریں گے، بغیر اس تنازع کے سیاسی مسائل حل کیے بغیر یہ ایک لامتناہی تھکا دینے والی حکمت عملی ہو گی جس کا کوئی انجام نہیں۔ لیکن یہ طریقہ کار کامیاب نہیں ہو گا۔ ایران حماس نہیں ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کا دوسرا بڑا ملک ہے جس کی آبادی 9 کروڑ سے زیادہ ہے؛ اس کے پاس 400 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے اور اب وہ عملاً آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر اسے خطرہ محسوس ہوا تو ایران اپنی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کے ذریعے دوبارہ خلل پیدا کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر موجودہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز پر کوئی معاہدہ ہو بھی جائے، تہران یہ دکھا چکا ہے کہ وہ اس اہم گزرگاہ میں خلل ڈالنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے۔"

اس سے پہلے اسی تھینک ٹینک کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف سات ہفتوں کی جنگ کے دوران اہم میزائلوں کے اپنے ذخائر خطرناک حد تک کھو دیئے ہیں، جس سے ایک “قریب المدتی خطرہ” پیدا ہو گیا ہے اور آئندہ کسی بھی جنگ میں اس کی کمزوری ظاہر ہو سکتی ہے۔ Center for Strategic and International Studies (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق شدید جنگی کارروائیوں نے امریکہ کے جدید ترین ہتھیاروں کا بڑا حصہ ختم کر دیا ہے، جن میں کم از کم 45 فیصد Precision Strike Missiles (PrSM)، تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے انٹرسیپٹرز، اور آدھے سے زیادہ تھاڈ میزائل شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار پینٹاگون کے خفیہ اندازوں سے بھی کافی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ کمی صرف فضائی دفاعی نظام تک محدود نہیں ہے۔ تجزیے کے مطابق اس مہم کے دوران امریکہ نے اپنے ٹوماہاک کروز میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً 30 فیصد، طویل فاصلے تک مار کرنے والے Joint Air-to-Surface Standoff Missiles (JASSM) کا 20 فیصد سے زیادہ، اور SM-3 اور SM-6 انٹرسیپٹرز کا بھی لگ بھگ 20 فیصد استعمال کر لیا ہے۔

 CSIS کی رپورٹ کے مطابق اس کمی نے امریکہ کی کسی اور بڑے پیمانے کی جنگ لڑنے کی صلاحیت کو بنیادی طور پر کمزور کر دیا ہے، خاص طور پر چین جیسے طاقتور حریف کے خلاف۔ رپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا کہ ان ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنا ایک سست اور مہنگا عمل ہو گا۔ ایک ماہر نے سی این این کو بتایا کہ “ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں ایک سے چار سال لگ سکتے ہیں، اور اس کے بعد انہیں مطلوبہ سطح تک بڑھانے میں مزید کئی سال درکار ہوں گے۔” اسی ماہ کے آغاز میں وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ پینٹاگون نے بڑی امریکی کار ساز کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ شہری فیکٹریوں کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

ٹرمپ کے ایک کے بعد ایک غلط دعوے
جنگ میں بدترین ناکامی اور شکست کو چھپانے کیلئے ٹرمپ کے جھوٹے دعوؤں کی حقیقت تو پوری دنیا جانتی ہے تاہم امریکی چینل سی این این نے ٹائم لائن کے ساتھ ٹرمپ کے بے بنیاد دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعرات کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: “پوپ نے بیان دیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار رکھ سکتا ہے۔” حالانکہ پوپ لیو، جو جوہری ہتھیاروں کے واضح مخالف ہیں، نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ گزشتہ بدھ کو نشر ہونے والے Fox Business کے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے کی توقع نہیں تھی، جبکہ حقیقت میں ایران کی جوابی کارروائیوں کا خدشہ پہلے سے موجود تھا۔

اس سے پہلے اتوار کو فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا: “ان (ایران) کی فوج ختم ہو چکی ہے، سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔” حالانکہ ایران کی فوج واضح طور پر اب بھی موجود تھی اور تباہ کن صلاحیت رکھتی تھی، اگرچہ امریکہ اور اسرائیل نے اسے کچھ حد تک کمزور کیا تھا۔ 6 اپریل کی ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ کا ایک بیان اس بات کی واضح مثال تھا کہ جنگ کے بارے میں ان کے کئی دعوے حقیقت سے کس قدر دور تھے۔ انہوں نے کہا: “اصل میں ہم نے جو جہاز کھوئے، وہ صرف ‘فرینڈلی فائر’ (اپنی ہی فوج کی فائرنگ) کی وجہ سے تھے۔” حالانکہ اسی تقریب میں وہ پہلے یہ بھی بیان کر چکے تھے کہ ایران نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا۔ سی این این نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں وہ مختلف موضوعات پر غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔ چاہے انہوں نے جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کیا ہو یا وہ خود غلط معلومات کا شکار رہے ہوں۔

ان کے بیانات کی کثرت نے یہ مشکل بنا دیا ہے کہ ایران کے بارے میں ان کے دعوؤں پر اعتماد کیا جائے۔ گزشتہ ہفتے صحافیوں سے فون پر گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مبینہ بڑی رعایتوں کے بارے میں کئی دعوے کیے، جب سی بی ایس نیوز کی نامہ نگار Weijia Jiang نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا ایران نے مستقل طور پر یورینیم افزودگی روکنے پر اتفاق کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: “انہوں نے ہر چیز پر اتفاق کر لیا ہے۔” ماہرین نے ان دعوؤں پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ جلد ہی ایرانی حکام نے بھی اس دعوے کو مسترد کیا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات تسلیم کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: “افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین کی طرح مقدس ہے اور اسے کسی بھی صورت کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔" ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا: "امریکہ کے صدر نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے، اور ساتوں غلط تھے۔”
 
"زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی 40 سال سے ناکام ہو رہی ہے"
 یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز (ECFR) کی سینئر فیلو، ایلی گیرانمائی نے امریکہ ایران کشیدگی اور پاکستان میں ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے سی این این پر اپنا تجزیہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی وہی پرانی امریکی پالیسی ہے جو 40 سال سے ناکام ہو رہی ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ آج کی تباہ کن جنگ ہے جس کے معاشی اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ دباؤ کے جواب میں وہ مزاحمت کرے گا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایران  کیا ایران کی اندرونی قیادت میں الجھن اور تضاد راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ  میرے لیے تو امریکہ کی جانب سے آنے والے متضاد بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس زیادہ الجھن کا باعث ہیں۔
 
فارن افیئرز میگزین کا تجزیہ: ایران فتح کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
امریکی جریدہ فارن افیئرز نے ایک تجزیے وضح کیا کہ امریکہ کے پاس فتح کے اعلان کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ تجزیئے کے مطابق "امریکہ نے شاید عسکری طور پر ایران پر غلبہ حاصل کیا ہو، اس کی مسلح افواج کو شدید نقصان پہنچایا ہو اور اس کے بدلے میں خود نسبتاً کم جانی نقصان اٹھایا ہو۔ لیکن امریکی اپنی فوج سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں، اور محض اسلامی جمہوریہ کو لہولہان کر دینا انہیں زیادہ متاثر نہیں کر سکے گا۔ امریکی کسی جنگ کو واضح فتح اسی صورت میں تسلیم کرتے ہیں جب امریکہ نے مخالف حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں اپنی پسندیدہ حکومت قائم کر دی ہو۔ ایران کو پہنچنے والی تمام تر تباہی کے باوجود، اس کی حکومت اب بھی مضبوطی سے قائم ہے۔ لہٰذا، امریکی اس جنگ کو وسائل کا ضیاع سمجھیں گے، خاص طور پر ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد کہ بمباری ایران کے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے" پر ختم ہو گی۔

اس کے برعکس، تہران بیانیے پر قبضہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ ایک کمزور طاقت کے طور پر، جس نے جنگ شروع نہیں کی تھی، وہ بڑے فوجی نقصانات کے باوجود محض اپنی بقا کو فتح قرار دے سکتا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے 8 اپریل کے بیان میں کہا، "ایران کے مجرم دشمنوں نے جب یہ جابرانہ جنگ شروع کی تھی، تو انہوں نے سوچا تھا کہ وہ قلیل وقت میں ایران پر مکمل فوجی غلبہ حاصل کر لیں گے اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن ایران کے بھرپور جواب نے ان کے خواب چکنا چور کر دیے۔" واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ شاید ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن اگر امریکی ناکامی اور ایرانی کامیابی کا یہ تاثر پختہ ہو گیا، تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں یہ بیانیے ریپبلکن پارٹی کو کمزور کر سکتے ہیں، جبکہ ایران میں یہ حکومت کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔

 جنگ کا عوامی تاثر پھر بھی واشنگٹن کے حق میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی محض جنگی غلبے کو فتح نہیں مانتے۔ امریکیوں کے نزدیک جیت کا مطلب فیصلہ کن کامیابی ہے، دشمن کو مکمل شکست دینا، اس کا نظامِ حکومت ختم کرنا اور وہاں ایک دوست حکومت قائم کرنا۔ امریکی ماڈل دوسری جنگِ عظیم ہے، جو نازی جرمنی اور جاپان کی مکمل شکست پر ختم ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی خود کو فاتح کے طور پر نہیں دیکھ رہے کیونکہ نتائج ان کے معیار سے بہت پیچھے ہیں۔ ایرانی حکومت نہ صرف بچ گئی ہے بلکہ اس نے سر بھی نہیں جھکایا۔ امریکہ اور اسرائیل نے رہبرِ معظم علی خامنہ ای کو قتل کیا، لیکن ان کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ نے لے لی۔ جوہری ڈھانچے پر حملے ہوئے لیکن تہران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا ہیڈ کوارٹر تباہ ہوا، لیکن اب اس کا ملک پر کنٹرول پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ سروے بتاتے ہیں کہ امریکی عوام اس جنگ کو ایک غیر ضروری ناکامی سمجھ رہے ہیں۔

 ایران کا جنگی تجربہ امریکہ کے برعکس رہا ہے۔ ایرانیوں نے چوبیس گھنٹے فضائی حملے سہے، اپنی بحریہ اور فضائیہ کا بڑا حصہ کھو دیا اور ہزاروں فوجی و شہری جانیں گنوائیں۔ لیکن اس کے باوجود تہران کے لیے فتح کا اعلان کرنا آسان ہو گا۔ ایران کے لیے محض بقا ہی ایک فتح ہے، اس بات کا ثبوت کہ بڑی امریکی اور اسرائیلی افواج بھی اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکیں۔ ایران اپنی فتح کا اعلان اس لیے بھی کر سکتا ہے کیونکہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک مادی فائدہ بھی ہے: رپورٹس کے مطابق ایران ہر جہاز سے 20 لاکھ ڈالر وصول کر رہا ہے۔ بہت سے مبصرین کے لیے ہزاروں امریکی فضائی حملے بے معنی ہو گئے ہیں کیونکہ واشنگٹن اس آبی گزرگاہ کو نہیں کھلوا سکا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخذ
https://edition.cnn.com/2026/04/20/tv/video/ellie-geranmayeh-iran-war-pakistan-talks-amanpour
https://us.cnn.com/2026/04/20/politics/analysis-trump-claims-iran-war
https://www.rt.com/news/638914-us-missile-stockpiles-depelting/
https://www.csis.org/analysis/why-mowing-grass-wont-work-iran
https://www.foreignaffairs.com/iran/iran-war-expectations-game
https://www.nbcnews.com/politics/white-house/trump-facing-increasingly-patient-iran-rcna341592
ترتیب و تنظیم: ایل اے انجم

 
 
 
 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور وہ نظام جس میں امریکہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا، اب بتدریج ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک نیا کثیر الجہتی عالمی نظام ابھر رہا ہے جس میں مختلف طاقتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس تناظر میں مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ، کا رویہ بھی بدلتا نظر آ رہا ہے۔ جہاں ماضی میں وہ عالمی قوانین اور اداروں کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھتے تھے، وہیں اب یکطرفہ اقدامات، دھمکیوں اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، معاشی پابندیاں جو کبھی ایک مؤثر ہتھیار سمجھی جاتی تھیں، اب اپنی تاثیر کھو رہی ہیں اور اس کے برعکس عالمی سطح پر مغربی مالیاتی نظام پر عدم اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی اثاثوں کی ضبطی اور دیگر سخت اقدامات کو مغرب کی کمزوری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاست میں یہ تبدیلی محض وقتی نہیں بلکہ ایک گہری تبدیلی ہے جس میں چین، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔ اس نئی صورتحال نے مغرب کے لیے اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں دباؤ کی پالیسی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اس کے برعکس ایران کی اندرونی مضبوطی اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی دنیا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں وہ عالمی نظام کو منظم کرنے کے بجائے ردعمل دینے پر مجبور ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور بحرانوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

معاشی اور ثقافتی میدان میں بھی مغرب کو چیلنجز درپیش ہیں۔ ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششیں، علاقائی تعاون کا فروغ، اور مقامی بیانیوں کی کامیابی اس تبدیلی کی واضح علامات ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل کا عالمی نظام ایسا ہوگا جس میں کوئی ایک طاقت مکمل کنٹرول نہیں رکھے گی بلکہ مختلف ممالک اور خطے مشترکہ طور پر عالمی امور میں کردار ادا کریں گے۔ ایسے میں مغرب کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئی حقیقتوں کو تسلیم کرے اور خود کو اس بدلتے ہوئے نظام کے مطابق ڈھالے۔

اگر مغرب نے پرانے طریقوں پر اصرار جاری رکھا تو اس کے زوال میں مزید تیزی آ سکتی ہے، تاہم اگر وہ خود کو ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر پیش کرے تو وہ نئی عالمی نظام میں اپنا کردار برقرار رکھ سکتا ہے۔

 رہبر معظم کے دفاعی مشیر اور سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت مکمل بندگلی میں پھنس چکا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ جنگ کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور دوسری طرف اس کے فوجی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر میدان میں اترے تو گرفتار ہوسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جنرل محسن رضائی نے جنگ رمضان کی تازہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ آئندہ دو تین دن میں ممکن ہے جنگ میں براہ راست داخل ہونے کا ارادہ کرے، لیکن امریکی فوجی ٹرمپ کو بتا رہے ہیں کہ جنوبی ساحلوں سے کسی بھی کارروائی کی صورت میں امریکی اہلکاروں کے گرفتار ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ مغربی علاقوں سے بھی کارروائی کرسکتا ہے یا تہران میں بمباری جیسے اقدامات انجام دے سکتا ہے، تاہم یہ ان کے پاس آخری منصوبہ رہ گیا ہے۔ امریکی فوجی حکام نے خود ٹرمپ کو متنبہ کیا ہے کہ یہ اصفہان جیسے محدود حملے کی طرح نہیں ہوگا بلکہ اس کا انجام امریکہ کے لیے تباہ کن شکست کی صورت میں نکلے گا، جس میں امریکی بحری جہاز غرق اور فوجی گرفتار ہوسکتے ہیں۔

رہبر معظم کے دفاعی مشیر نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہے۔ امریکی بحری جہاز خلیج فارس کے جنوبی ممالک میں موجود اپنے ٹھکانوں تک بھی محفوظ طریقے سے نہیں جا سکتے، کیونکہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی گزشتہ عسکری منصوبہ بندیاں ناکام ہو چکی ہیں اور اب ان کے آخری آپشنز زیر غور ہیں، جبکہ امریکی حکام اور خود ٹرمپ شدید اضطراب میں مبتلا ہیں۔

جنرل محسن رضائی نے کہا کہ پس پردہ کچھ عناصر اس بحران کو کنٹرول کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن نیتن یاہو اور ٹرمپ جیسے افراد اپنے عدالتی اور سیاسی مقدمات کی وجہ سے بھی شدید دباؤ میں ہیں اور اسی دباؤ کے تحت ایران کے خلاف جنگی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے امریکہ کے ممکنہ راستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک امکان یہ ہے کہ امریکہ کسی خودکش اقدام کے ذریعے بندگلی سے نکلنے کی کوشش کرے، لیکن اس کے نتائج ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ دوسرا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظار کرے اور جنگی ناکامیوں کا ذمہ کانگریس خصوصا ڈیموکریٹس پر ڈال دے تاکہ سیاسی طور پر اپنی پوزیشن بچاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف معاشی اور بحری محاصرہ جاری رکھ سکتا ہے اور سی آئی اے و موساد کے ذریعے ایک نئے انقلاب مخالف منصوبے یا کودیتا کی کوشش بھی کرسکتا ہے، جو ممکنہ طور پر مئی یا جون میں سامنے ہوسکتی ہے۔

سرلشکر رضائی نے آخر میں واضح کیا کہ خطے کی تمام تر صورتحال پر ایران مکمل نگرانی کررہا ہے اور ایران ہر قسم کے خطرے اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

 غاصب صیہونی فوج نے لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس کے جواب میں حزب اللہ نے مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں کو نشانہ بنایا اور مغربی الجلیل میں متعدد مقامات پر خطرے کے سائرن بج اٹھے۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے شہروں حاریص، بیت یاحون اور الغندوریہ پر حملے کیے۔

دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد مغربی الجلیل میں 15 مختلف مقامات پر خطرے کے سائرن بجنے لگے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسی دوران عبرانی میڈیا نے کہا ہے کہ مغربی الجلیل کے علاقے شومیرا میں حزب اللہ کے میزائل کے براہ راست حملے کے نتیجے میں صہیونی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی میں آگ لگ گئی۔

صہیونی حکومت روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے علاقوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ ان حملوں کو ہرگز بلاجواب نہیں چھوڑا جائے گا۔

حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک صہیونی فوج لبنان کی سرزمین سے مکمل طور پر واپس نہیں جاتی، مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقے صہیونیوں کے لیے محفوظ نہیں رہیں گے۔

*حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، رہبرِ انقلابِ اسلامی کا قومی یومِ خلیج فارس کے موقع پر پیغام*

?? ہماری خطے کی مسلم اقوام، خصوصاً معزز اسلامی ایران کے شریف عوام کے لیے اللہ تعالیٰ کی بے مثال نعمتوں میں سے ایک “خلیج فارس” ہے۔ یہ صرف ایک آبی خطہ نہیں بلکہ ایک عظیم عطیہ ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کے ایک حصے کو تشکیل دیا ہے، اور اقوام کے درمیان رابطے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز اور اس کے بعد بحیرۂ عمان میں عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور منفرد حیاتیاتی راستہ فراہم کیا ہے۔

? یہ اسٹریٹجک سرمایہ گزشتہ صدیوں میں بے شمار شیاطین کی طمع کا نشانہ رہا ہے، اور یورپی و امریکی غیر ملکی طاقتوں کی بار بار جارحیت، خطے کے ممالک کے لیے بدامنی، نقصانات اور مختلف خطرات، دراصل خلیج فارس کے باشندوں کے خلاف عالمی استکبار کی سازشوں کا صرف ایک حصہ ہیں، جس کی تازہ ترین مثال بڑے شیطان کی حالیہ غنڈہ گردیاں ہیں۔

? ایران، جو خلیج فارس کے سب سے طویل ساحلی علاقے کا مالک ہے، خلیج فارس کی آزادی اور غیر ملکی جارحین کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک رہا ہے؛ پرتگالیوں کے اخراج اور آبنائے ہرمز کی آزادی سے لے کر، جو دسویں اردیبهشت کو قومی یومِ خلیج فارس قرار دینے کی بنیاد بنی، ہالینڈ کی استعماریت کے خلاف جدوجہد، برطانوی استعمار کے مقابلے میں مزاحمت کی عظیم داستانوں تک… لیکن اسلامی انقلاب ان تمام مزاحمتوں کا نقطۂ عطف ثابت ہوا، جس نے خلیج فارس کے خطے سے مستکبرین کے ہاتھ کوتاه کیے۔ آج دنیا کے جابروں کی سب سے بڑی فوج کشی اور جارحیت کے دو ماہ بعد، اور امریکہ کی اپنی سازش میں رسوا کن شکست کے بعد، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا ایک نیا باب رقم ہو رہا ہے۔

? خلیج فارس کی اقوام، جو طویل عرصے تک حکمرانوں کی خاموشی اور ظالموں کے سامنے ذلت قبول کرنے کی عادی بنا دی گئی تھیں، گزشتہ ساٹھ دنوں میں ایرانی بحریہ اور سپاہ کے بہادر جوانوں کی عظیم استقامت، بیداری اور جہاد کے حسین مناظر، نیز جنوبی ایران کے غیور عوام اور نوجوانوں کی غیرت و بہادری کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں، جنہوں نے غیر ملکی تسلط کو مسترد کر دیا۔

? آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، تیسرے imposed war کے مظلوم شہداء کے خون، اور بالخصوص اسلامی انقلاب کے عظیم المرتبت، دوراندیش رہبر (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی برکت سے، نہ صرف دنیا کے عوامی افکار اور خطے کی اقوام بلکہ بادشاہوں اور حکمرانوں پر بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ خلیج فارس میں امریکی موجودگی اور ان کے اڈے، خطے میں بدامنی کا سب سے بڑا سبب ہیں، اور امریکہ کے کھوکھلے اڈے اپنی حفاظت تک کی صلاحیت نہیں رکھتے، چہ جائیکہ وہ اپنے علاقائی وابستگان یا امریکہ پرستوں کو تحفظ فراہم کر سکیں۔

? ان شاء اللہ، خلیج فارس کے خطے کا روشن مستقبل، ایک ایسا مستقبل ہوگا جو امریکہ سے پاک اور اپنی اقوام کی ترقی، آسائش اور خوشحالی کے لیے وقف ہوگا۔ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے اس وسیع آبی خطے میں “ہم سرنوشت” ہیں، جبکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے لالچ کے ساتھ شرارت کرنے والے غیر ملکیوں کا یہاں کوئی مقام نہیں، سوائے اس کے کہ وہ اس کے پانیوں کی تہہ میں دفن ہوں۔ اور یہ فتح کا سلسلہ، جو خداوند متعال کے لطف سے مزاحمت کی تدابیر، ایرانِ قوی کی حکمتِ عملی اور پالیسیوں کے سائے میں حاصل ہوا ہے، ایک نئے علاقائی اور عالمی نظام کا پیش خیمہ ہوگا۔

? آج ملتِ ایران کی معجزانہ بیداری صرف صہیونیت اور خونریز امریکہ کے خلاف کروڑوں جانثاروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ پوری بیدار اسلامی امت کے شانہ بشانہ، اندرون و بیرونِ ملک نوّے ملین غیور ایرانی، اپنی تمام شناختی، معنوی، انسانی، علمی، صنعتی اور جدید و بنیادی ٹیکنالوجی—نانو، بایو، ایٹمی اور میزائل سمیت—کو قومی سرمایہ سمجھتے ہیں، اور آبی، زمینی و فضائی سرحدوں کی مانند ان کی حفاظت کریں گے۔

?? اسلامی ایران، آبنائے ہرمز پر مؤثر انتظام کی نعمت کا عملی شکر ادا کرتے ہوئے، خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور اس آبی گزرگاہ سے دشمن کی معاندانہ بد استعمالیوں کا خاتمہ کرے گا۔ آبنائے ہرمز کے لیے نئے قانونی ضوابط اور انتظامی نفاذ، خطے کی تمام اقوام کے حق میں آسائش، ترقی اور اقتصادی فوائد کا باعث بنیں گے، اور ملت کے دلوں کو خوشی سے بھر دیں گے؛ ان شاء اللہ، چاہے کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔

✍️ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
۱۰ اردیبهشت ۱۴۰۵
30 اپریل 2026

 حدیثِ سلسلۃ الذہب وہ عظیم روایت ہے جو امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے شہر نیشاپور میں ارشاد فرمائی۔ یہ حدیث صرف ایک اعتقادی بیان نہیں بلکہ فکری، سیاسی اور عملی زندگی کے لیے ایک جامع منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔امام علیہ السلام نے فرمایا:(کلمَةُ لا إلهَ إلَّا اللَّهُ حِصْنِي فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِي أمِنَ مِنْ عَذابِي)کلمہ (لا الٰہ الا اللہ) میرا قلعہ ہے، جو اس قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے محفوظ ہو جائے گا۔پھر آپ نے فوراً اس کی شرط واضح فرمائی:(بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَ)اس قلعے میں داخل ہونے کی شرطیں ہیں، اور میں خود ان شرطوں میں سے ہوں۔

اس حدیث شریف میں توحید کو خدا کے عذاب سے بچنے کے لیے ایک مضبوط قلعہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ ائمہ کی ولایت کو توحید کے میدان میں داخل ہونے کی شرط بتایا گیا ہے۔ یہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے جو ائمہ اطهار علیہم السلام سے لے کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتی ہے، "سلسلۃ الذہب" یعنی "سنہری زنجیر" کے نام سے مشہور ہے۔

یہ حدیث، شیعہ اور اہل سنت دونوں کی حدیث کی کتابوں میں مختلف سندوں اور مضامین کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ ان میں سے شیخ صدوق( رہ ) نے اپنی تین کتابوں التوحید، معانی الاخبار اور عیون اخبار الرضا میں یوں بیان کیا ہے:

اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب حضرت رضا علیہ السلام نیشاپور پہنچے تو محدثین آپ کے گرد جمع ہو گئے اور عرض کیا: اے فرزند رسول خدا! کیا آپ ہمارے پاس سے تشریف لے جا رہے ہیں اور ہمارے لیے کوئی ایسی حدیث بیان نہیں فرمائیں گے جس سے ہم فائدہ اٹھائیں؟امام علیہ السلام کجاوے میں تشریف فرما تھے، آپ نے اپنا سرِ مبارک باہر نکالا اور فرمایا:

(حَدَّثَنِی أَبِی مُوسَی الْکَاظِمُ عَنْ أَبِیهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ عَنْ أَبِیهِ مُحَمَّدٍ الْبَاقِرِ عَنْ أَبِیهِ زَیْنِ الْعَابِدِینَ عَنْ أَبِیهِ الْحُسَیْنِ عَنْ أَبِیهِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ حَدَّثَنِی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ قَالَ حَدَّثَنِی جَبْرَئِیلُ قَالَ سَمِعْتُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَی یَقُولُ: کَلِمَةُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی)

میرے والد موسیٰ بن جعفر نے مجھ سے بیان فرمایا، انہوں نے اپنے والد جعفر بن محمد صادق سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن علی باقر سے، انہوں نے اپنے والد علی بن حسین زین العابدین سے، انہوں نے اپنے والد حسین بن علی سے، انہوں نے اپنے والد علی بن ابی طالب سے، انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا، آپ نے فرمایا: مجھ سے جبرئیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے خداوند متعال سے سنا:(لا الٰہ الا اللہ) میرا مضبوط قلعہ ہے، جو میرے قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے محفوظ ہے۔

راوی کہتے ہیں کہ جب قافلہ چلنے لگا تو امام علیہ السلام نے آواز دی: (بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا) اس کے شرطوں کے ساتھ، اور میں خود اس کی شرطوں میں سے ہوں۔۱۔

اہل سنت کے بہت سے بڑے محدثین نے بھی اس حدیث کو مختلف سندوں اور متون کے ساتھ نقل کیا ہے، البتہ اس فرق کے ساتھ کہ حدیث کا آخری حصہ جو امام نے فرمایا (بشرطها و انا من شروطها)، وہ اہل سنت کے کسی بھی منبع میں بیان نہیں ہوا۔ ۲۔صرف قندوزی نے ینابیع المودّہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔۳۔

اس حدیث کو شیعہ اور سنی محدثین نے مختلف سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے اور سند کے بارے میں ایسے الفاظ بیان کیے ہیں جو اس کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حدیث کا مضمون بہت سی دوسری آیات اور روایات میں بھی آیا ہے۔ لہٰذا اگر ہم اسے لفظی طور پر متواتر نہ بھی کہیں تو یقیناً معنوی طور پر متواتر ہے۔۷۔

ابن صباغ لکھتے ہیں: قلم اور دوات رکھنے والے محدثین کی تعداد جنہوں نے حدیثِ سلسلۃ الذہب کو تحریر کیا، بیس ہزار سے زیادہ شمار کی گئی۔۸۔

حافظ ابونعیم لکھتے ہیں: یہ حدیث اسی سند کے ساتھ پاکیزہ انسانوں سے ان کے پاکیزہ باپ دادا تک پہنچی ہے، اور ایک بڑے محدثِ قدیم نے جب یہ حدیث اسی سند کے ساتھ روایت کی تو کہا: اگر یہ سند کسی دیوانے پر پڑھ دی جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔۹۔

اس حدیث کے شارحین اور مفسرین کے مطابق، کلمہ (لا الٰہ الا اللہ) کا اقرار کرنا اور اس پر عمل کرنا سعادت کا سبب ہے۔ یہ کلمہ درحقیقت قرآن کے اسی اصل معنی اور تصور کو ظاہر کرتا ہے جو قیامت تک بشری معاشرے کے لیے سعادت کا ذریعہ ہے، لیکن یہی کلمہ ولایت کے بغیر ادھورا بلکہ بے حقیقت ہے۔

مجموعی طور پر یہ حدیث دو اہم نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے:

۱۔ توحید کے مقام تک پہنچنا انسان کو ایسی پناہ گاہ میں داخل کرتا ہے جس کا نتیجہ خدائی عذاب سے امن ہے۔

۲۔ اس مقام تک پہنچنا اہل بیت علیہم السلام کی امامت اور ولایت پر ایمان لیے بغیر ممکن نہیں۔ درحقیقت امام جو ظاہری اور باطنی ولایت کا حامل ہے، وہ انسان کامل ہے جس کی پناہ میں لوگ توحید کی پناہ گاہ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔۱۰۔

اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ صرف زبانی اقرارِ توحید کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ولایت کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ یوں اطاعتِ امام کو توحیدی قلعے میں داخلے کی بنیادی کنجی قرار دیا گیا۔"شرط" اس چیز کو کہتے ہیں جس کے بغیر مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکے۔ یہاں مطلوب حصنِ الٰہی میں داخل ہونا ہےاور اس کی شرط ولایتِ اہل بیتؑ کو قبول کرنا ہے۔جب امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی ذات کو ان شرطوں میں شامل فرمایا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام ائمہ اہل بیتؑ اسی سنہری زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اس تصور کے مطابق توحید محض الفاظ کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ اطاعت اور عملی وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ ولایتِ اہل بیت (علیہم السلام) توحیدِ عملی کے حصول اور حصنِ الٰہی میں داخلے کی شرط ہے۔ یہ حدیث اسلامی تشخص اور عبودیت و اخلاص کے اظہار کی عقیدتی بنیاد ہیں۔ ولایت کو قبول کرنا صرف دل کی محبت نہیں، بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ انسان معصومین علیہم السلام کے سیاسی، ثقافتی اور سماجی خطِ مشی کی پیروی کرے اور غیبتِ کبریٰ کے دور میں، ان کے حقیقی نائبین (ولایتِ فقیہ) کی اطاعت کرے۔

قرآنی تعلیمات کے مطابق تکبر اور طغیان ہمیشہ توحید کے مقابل رہے ہیں۔تاریخ میں فرعون، نمرود اور دیگر طاغوتی قوتیں اسی رویے کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ولایتِ اہل بیتؑ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ظلم، جبر اور ناانصافی کے نظاموں سے بیزاری اختیار کرے۔اسی لیے:تبرّی (دشمنانِ حق سے بیزاری) کو ولایت کا حصہ سمجھا گیا۔ظلم اور جبر کے خلاف کھڑا ہونا، ایک دینی ذمہ داری کے طور پر بیان کیا گیا۔امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنے زمانے میں عباسی اقتدار کے دباؤ کے باوجود اپنے موقف کو واضح رکھا۔ ان کی زندگی کو صبر، استقامت اور اصولی موقف کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

توحید کا حقیقی مفہوم صرف اعتقاد نہیں بلکہ عملی وفاداری ہے۔ولایت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے عقیدے کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہے۔ظلم کے سامنے جھک جانا، دینی اصولوں سے انحراف کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔رهبر معظم انقلاب شہید امت سید علی خامنہ ای(ره) کی زندگی بھی اسی فکری تسلسل کا ایک عملی نمونہ ہیں۔شہید رہبر معظم ،ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا اور امام حسین علیہ السلام کی اس فرمان پر کہ(مثلی لا یبایع مثل یزید)وقت کے یزیدوں کے ہاتھوں بیعت نہیں کی بلکہ مقاومت کا اعلی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہوا۔ ان کی جدوجہد نے مزاحمت کے تصور کو ایک فکری بنیاد فراہم کی اور اسے عالمی سطح پر ایک نظریہ کے طور پر پیش کیا۔

اگر کوئی توحید کا اقرار کرے مگر ظلم کے سامنے سر جھکا دے، تو اس کی وفاداری کمزور تصور کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ولایت کو تسلیم کیا جائے مگر عملی جدوجہد سے اجتناب کیا جائے، تو شرط مکمل نہیں ہوتی۔موجودہ دور میں جدوجہد کے طریقے صرف عسکری نہیں بلکہ فکری اور ثقافتی بھی سمجھے جاتے ہیں، جیسے:

۱۔فکری شبہات اور نظریاتی حملے

۲۔معاشی دباؤ اور پابندیاں

۳۔ثقافتی اثرات اور طرزِ زندگی کی تبدیلیاں

شہید رہبر معظم انقلاب کے فکری نظام میں مقاومت (لا الہ الا اللہ) کا عملی تسلسل اور ولایت میں اخلاص کی علامت ہے، اور مقاومتی محاذ کی حفاظت، شیاطینِ جن و انس کے شر سے اسی حصنِ رحمانی کی حفاظت کرنے کے مترادف ہے۔رہبر شہیدکی نقطۂ نظر سے مقاومت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ اس کی مختلف جہتیں ہیں:

۱۔ اقتصادی مقاومت (ظالمانہ پابندیوں کے خلاف) جو حصنِ ولایت میں قومی عزت اور آزادی کی حفاظت ہے۔

۲۔ ثقافتی مقاومت (نرم جنگی حملوں اور ثقافتی یلغار کے خلاف) جو حصنِ توحید کے اندر توحیدی شناخت کی نگہبانی ہے۔

۳۔ سیاسی مقاومت (علاقے میں مقاومتی محاذ کی حمایت، جیسے حزب اللہ لبنان، حماس، اسلامی جہاد، انصار اللہ یمن) جو ایمان کی سرحدوں سے دشمن کو دفع کرنے کا عملی اظہار ہے۔

رہبر شہید امریکہ کے بارے میں فرماتے تھے:امریکہ ہر اعتبار سے ایک استکباری طاقت ہے۔ یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ساری دنیا کا مسئلہ ہے، دنیائے اسلام کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے ہر خطے کے بارے میں امریکیوں کا رویہ استکباری ہے۔ دنیا میں استکبار اور جابر قوتوں کے عزائم یہ ہیں کہ تمام حکومتوں اور ان کے ساتھ ساتھ تمام اقوام کو اپنے موقف، مظالم اور نا انصافیوں کو تسلیم کرنے اور اسی راہ پر چلنے پر مجبور کریں۔استکبار قوموں کے حقوق کو بھی نہیں مانتا۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ قوموں کو انتخاب کا حق ہے، قوموں کو اپنی مرضی کے مطابق اقدامات انجام دینے کا حق ہے، اپنی مرضی کے مطابق معاشی ماڈل چننے کا حق ہے، اپنی مرضی کے مطابق پالیسیاں اور سیاست وضع کرنے کا حق ہے۔ وہ قوموں کے اس حق کو ماننے کے لئے تیار نہیں، اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔

اسی لیے اہلِ فکر مزاحمت کو صرف جنگی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک فکری اور سماجی رویہ قرار دیتے ہیں۔اس فکری تناظر میں مسلمانوں پر چند بنیادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:

۱۔توحید کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھنا بلکہ اس کے تقاضوں کو سمجھنا ۔

۲۔ولایتِ اہل بیتؑ کو عملی زندگی میں شامل کرنا۔

۳۔ظلم اور ناانصافی کے خلاف شعوری موقف اختیار کرنا۔

۴۔علمی، اخلاقی اور سماجی میدانوں میں بھی استقامت اپنانا۔

۵۔استکبار کے خلاف مزاحمت جاری رکھنا۔

شہید رہبر نے مختلف معاملات پر بہت بلند نظر رکھی تھی اور آج ان کی جدائی کے بعد یہی نظر اور حکمت عملی اپنی افادیت ثابت کر رہی ہے۔ ان میں فیصلہ سازی میں عوام الناس کو شامل کرنے پر ان کی توجہ، نیز مذہبی اور حتیٰ کہ غیر مذہبی دانشوروں کے کردار پر زور دینا، اور سب سے اہم ایران کی دفاعی طاقتِ پر ان کا اصرار شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شہید رہبر کی جدائی کے وقت متعدد عوامل نے مل کر ایک قومی یکجہتی اور اتحاد کو جنم دیا، جس میں قوم کے تمام طبقے چاہے مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، چادر والے ہوں یا بے چادر، اور مختلف اقوام میدان میں آئے اور عالمی طاقت (امریکہ) اور اس کے علاقائی اتحادی اسرائیل کے سامنے موجودگی کی شاندار داستان تخلیق کی۔ حقیقت یہ ہے کہ شہید رہبر اپنی تدبیروں سے 37 سال میں اس ملک کے ایسے فرزند پروان چڑھانے میں کامیاب رہے جنہوں نے صیہونی دشمن اور امریکہ جیسی عالمی طاقت کے خلاف جنگ میں ایرانی صلاحیتوں اور تخلیقی قوت کا مظاہرہ کیا۔

شہید رہبر نے امریکہ، صیہونی حکومت اور یورپی ممالک کی زیادتیوں اور ناجائز مطالبات کے مقابلے میں مضبوطی سے قدم جمائے رکھا، اور ان کا آخری کلام یہ تھا:(میرے جیسا شخص یزید جیسے سے بیعت نہیں کرتا)جبکہ اس قیمتی قول کو انہوں نے پوری ایرانی قوم کے لیے عام کیا اور فرمایا: اِسی طرح ایک قوم جو ایران کی قوم ہے، وہ وقت کے یزید کی بیعت نہیں کرے گی۔

شہید رہبر کی اہم خصوصیات میں سے ایک بہادری اور اللہ کی نصرت پر گہرا یقین تھا۔ یہ کہ آپ عالمی کفر کے محاذ کے خلاف جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کریں، جبکہ شاید ساز و سامان، تعداد، قوتِ عمل اور اس کے جلووں کی حیرت انگیزی کے لحاظ سے یہ محاذ آپ کی آنکھیں خیرہ کر دے، یہ ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ جب کوئی شخص اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھتا ہو اور اللہ کے اس وعدے پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ مومنوں کی ضرور مدد کرے گا، تو وہ کسی طاقت کے سامنے نہیں جھکتا اور ابرقوتوں کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح کھڑا ہو سکتا ہے۔

ایران کا تمدن سازی کے مرحلے میں قدم رکھنا باعث بنا ہے کہ عرب دنیا کے بہت سے دانشور اپنے حاکموں کو حقیر جاننے لگے ہیں اور ایران کو مغرب کے مقابلے میں مزاحمت کی وجہ سے سراہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خلیج فارس کے ممالک کے باشندے ایران کا موازنہ اپنی صورتِ حال سے کرتے ہیں، کیونکہ 47 سالہ مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایرانی قوم نظام سازی اور تمدن سازی کی طرف گامزن ہیں۔یہ علاقہ 200 سال سے استعمار کے مسئلے میں جکڑا ہوا ہے۔ان تمام سالوں میں استعماری طاقتوں نے جو جرائم کیے، ان کی وجہ سے پورے علاقے کے لوگ ایک ایسے ہیرو کے منتظر تھے جو ان زیادتیوں کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ اسی لیےمشاہدہ کرتے ہیں کہ جب اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو علاقائی ممالک کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔دو ایٹمی اور استعماری طاقتوں کے ساتھ کامیاب جھڑپوں نے دنیا اور خطے کے لوگوں کے دلوں میں امید پیدا کر دی ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فوجی جنگ اسلامی انقلاب کے ثقافتی ابعاد اور اس کے انسانی پہلوؤں کا اعلان ہے، اور ہر ایک میزائل کی مانند ایک بیج ہے جو دو سو سالہ مسلمانوں کی تذلیل کے پس منظر میں پڑ چکا ہے، اور جو استکبارِ عالمی کے خلاف مزاحمت کی بہار پیدا کر سکتا ہے۔

حوالہ جات:

1. ابن بابویه، محمد بن على، التوحید، جامعه مدرسین، ایران ؛ قم، چاپ: اول، ۱۳۹۸ق.

2. محمدمحسن طبسی، سلسله الذهب به روایت اهل سنت، مجله فرهنگ کوثر ۱۳۸۵ شماره ۶۷.

3. محمد رحمانى، بررسى حدیث (سلسلة الذّهب)، مجله علوم حدیث ۱۳۷۵.

4. حافظ ابونعیم احمدبن عبدالله اصفهانى، حلیةالأولیاء وطبقات الأصفیاء، دارالکتب العلمیّة.

5. الامام ابن الصّبّاغ، الفصول المهمّة فى معرفة احوال الائمّة، منشورات دارالحدیث.

6. قاسم ترخان، رابطه توحید و ولایت (با تاکید بر حدیث سلسله الذهب)، قبسات، ۱۳۹۰ شماره ۶۲.

7. سلیمان بن ابراهیم القندوزى، ینابیع المودّة لذوى القربى، دارالاسوة، ج۳، ص۱۲۲.

8. ابن بابویه، محمد بن على، عیون أخبار الرضا علیه السلام، نشر جهان، تهران، چاپ: اول، ۱۳۷۸ق.

9. اربلى، على بن عیسى، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، بنى هاشمى،تبریز، چاپ:اول، ۱۳۸۱ق.

10. طوسى، الأمالی، ۱جلد، دار الثقافة،قم، چاپ: اول، ۱۴۱۴ق.

 

 تحریر: مولانا ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

 اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت کا نتیجہ پوری دنیا بھگت رہی ہے ۔

اس سلسلے میں اب  سویڈن نے طیاروں کے ایندھن کی کمی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔

ایران پر امریکہ اور صہیونی حکومت  کے جارحانہ حملوں نے یورپی ممالک کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور سویڈن نے طیاروں کے ایندھن کی کمی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔

در ایں اثنا ایران کے خلاف  امریکی اور صیہونی جارحیت  کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں خلل  پڑا  ہے۔

اسی طرح ایران کے خلاف اس غیر منصفانہ و غیر قانونی  جنگ کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک ایندھن، توانائی اور دیگر ضروری اشیاء کی کمی کا شکار ہو گئے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی معاشرے میں لڑکیوں کے کردار، ذمہ داریوں اور مقام کے حوالے سے رہبرِ شہیدِ انقلاب کے بیانات کو دوبارہ سامنے لایا گیا ہے، جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لڑکیاں نہ صرف معاشرے کا اہم حصہ ہیں بلکہ وہ اس کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی اسلامی شناخت، عفت و حیا اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھیں۔

رہبرِ شہیدِ انقلاب نے واضح کیا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیم، سماجی خدمات، سیاست، صحافت اور دیگر میدانوں میں آگے بڑھنے کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر کوئی لڑکی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، تدریس کے شعبے میں آنا چاہتی ہے یا سماجی و سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتی ہے تو اسے مکمل حق حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ اسلامی حدود، خصوصاً عفت و حجاب کی پابندی ضروری قرار دی گئی ہے۔ ان کے مطابق مردوں کی طرح خواتین بھی معاشرے کے مسائل کے بارے میں ذمہ داری محسوس کریں اور ان کے حل میں حصہ لیں۔

بیانات میں لڑکیوں کو حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت کو اپنانے کی تلقین کی گئی ہے، تاکہ وہ اپنی شخصیت اور شناخت کو مضبوط بنا سکیں۔ اسی طرح خواتین کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ اسلامی خاتون کے اعلیٰ کردار کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور ایک مثبت مثال قائم کریں۔

رہبرِ شہیدِ انقلاب نے تعلیم کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو پڑھائی، تحقیق، دینی شعور اور سیاسی بیداری پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق یونیورسٹیاں خواتین کی علمی ترقی کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہیں، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طالبات اور اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں اسلامی ماحول اور اقدار کو فروغ دیں۔

اخلاقی تربیت کو بھی بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ لڑکیوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ خودنمائی اور بے جا نمائش سے بچیں، کیونکہ اس کے معاشرتی اور اخلاقی نقصانات دیرپا ہوتے ہیں، جب کہ عفت و حیا کو ان کی عزت اور شخصیت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، انہیں دشمنوں کی ثقافتی یلغار اور گمراہ کن تبلیغات سے ہوشیار رہنے اور اپنی پاکیزگی و ایمان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

خاندانی نظام کے حوالے سے بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ لڑکیاں والدین کی نصیحتوں کو اہمیت دیں، کیونکہ اکثر اوقات والدین کی رہنمائی ان کے مستقبل کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کو معاشرے اور ملک کے اہم مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے، سیاسی شعور رکھنے اور حالات کا تجزیہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایمان اور نیک عمل ترقی کی بنیاد ہیں۔ لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علم، کردار اور ایمان کے ذریعے نہ صرف اپنی زندگی سنواریں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی حصہ ڈالیں۔ انہیں مستقبل میں ملک کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے خود کو تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

آخر میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں لڑکیاں علم، ایمان، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ کر نہ صرف اپنی شخصیت کو مضبوط بنا سکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو مثبت سمت دے سکتی ہیں۔

ایک بیان میں  اسلامی جمہوریہ ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران  بحری قوانین سے متعلق اقوام متحدہ کے سن ۱۹۸۲ کے کنونشن کا رکن نہیں ہے  اس لئے آبنائے ہرمز کے سلسلے میں اس کا فیصلہ ، قانون کی بنیاد پر ہے۔

بیان میں کہا گيا ہے کہ ان حالات میں  خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں کسی بھی  طرح کی خلل اندازی  اور اس کے نتائج کا  ذمہ دار امریکہ ہوگا۔

 بیان کے مطابق آبنائے ہرمز،  ایران کی ساحلی حدود میں واقع ہے،  اس لئے ایران کو قانونی حق حاصل ہے کہ وہ  اس علاقے میں سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ کرنے، بحری گزرگاہ کے تحفظ کو یقینی بنانے اور آبنائے ہرمز کے مخاصمانہ یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال  کے سد باب کے لئے ضروری اور مناسب اقدامات کرے۔