سلیمانی
امریکہ بند گلی میں پھنس چکا، ہر قسم کے حالات کے لیے مکمل تیار ہیں،جنرل رضائی
رہبر معظم کے دفاعی مشیر اور سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت مکمل بندگلی میں پھنس چکا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ جنگ کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور دوسری طرف اس کے فوجی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر میدان میں اترے تو گرفتار ہوسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جنرل محسن رضائی نے جنگ رمضان کی تازہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ آئندہ دو تین دن میں ممکن ہے جنگ میں براہ راست داخل ہونے کا ارادہ کرے، لیکن امریکی فوجی ٹرمپ کو بتا رہے ہیں کہ جنوبی ساحلوں سے کسی بھی کارروائی کی صورت میں امریکی اہلکاروں کے گرفتار ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ مغربی علاقوں سے بھی کارروائی کرسکتا ہے یا تہران میں بمباری جیسے اقدامات انجام دے سکتا ہے، تاہم یہ ان کے پاس آخری منصوبہ رہ گیا ہے۔ امریکی فوجی حکام نے خود ٹرمپ کو متنبہ کیا ہے کہ یہ اصفہان جیسے محدود حملے کی طرح نہیں ہوگا بلکہ اس کا انجام امریکہ کے لیے تباہ کن شکست کی صورت میں نکلے گا، جس میں امریکی بحری جہاز غرق اور فوجی گرفتار ہوسکتے ہیں۔
رہبر معظم کے دفاعی مشیر نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہے۔ امریکی بحری جہاز خلیج فارس کے جنوبی ممالک میں موجود اپنے ٹھکانوں تک بھی محفوظ طریقے سے نہیں جا سکتے، کیونکہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی گزشتہ عسکری منصوبہ بندیاں ناکام ہو چکی ہیں اور اب ان کے آخری آپشنز زیر غور ہیں، جبکہ امریکی حکام اور خود ٹرمپ شدید اضطراب میں مبتلا ہیں۔
جنرل محسن رضائی نے کہا کہ پس پردہ کچھ عناصر اس بحران کو کنٹرول کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن نیتن یاہو اور ٹرمپ جیسے افراد اپنے عدالتی اور سیاسی مقدمات کی وجہ سے بھی شدید دباؤ میں ہیں اور اسی دباؤ کے تحت ایران کے خلاف جنگی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے امریکہ کے ممکنہ راستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک امکان یہ ہے کہ امریکہ کسی خودکش اقدام کے ذریعے بندگلی سے نکلنے کی کوشش کرے، لیکن اس کے نتائج ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ دوسرا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظار کرے اور جنگی ناکامیوں کا ذمہ کانگریس خصوصا ڈیموکریٹس پر ڈال دے تاکہ سیاسی طور پر اپنی پوزیشن بچاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف معاشی اور بحری محاصرہ جاری رکھ سکتا ہے اور سی آئی اے و موساد کے ذریعے ایک نئے انقلاب مخالف منصوبے یا کودیتا کی کوشش بھی کرسکتا ہے، جو ممکنہ طور پر مئی یا جون میں سامنے ہوسکتی ہے۔
سرلشکر رضائی نے آخر میں واضح کیا کہ خطے کی تمام تر صورتحال پر ایران مکمل نگرانی کررہا ہے اور ایران ہر قسم کے خطرے اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
تل ابیب کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی، حزب اللہ کا بھرپور جواب
غاصب صیہونی فوج نے لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس کے جواب میں حزب اللہ نے مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں کو نشانہ بنایا اور مغربی الجلیل میں متعدد مقامات پر خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے شہروں حاریص، بیت یاحون اور الغندوریہ پر حملے کیے۔
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد مغربی الجلیل میں 15 مختلف مقامات پر خطرے کے سائرن بجنے لگے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسی دوران عبرانی میڈیا نے کہا ہے کہ مغربی الجلیل کے علاقے شومیرا میں حزب اللہ کے میزائل کے براہ راست حملے کے نتیجے میں صہیونی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی میں آگ لگ گئی۔
صہیونی حکومت روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے علاقوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ ان حملوں کو ہرگز بلاجواب نہیں چھوڑا جائے گا۔
حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک صہیونی فوج لبنان کی سرزمین سے مکمل طور پر واپس نہیں جاتی، مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقے صہیونیوں کے لیے محفوظ نہیں رہیں گے۔
ایران آبنائے ہرمز میں دشمن کے کھیل کا خاتمہ کرے گا، رہبر انقلاب اسلامی
*حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، رہبرِ انقلابِ اسلامی کا قومی یومِ خلیج فارس کے موقع پر پیغام*
?? ہماری خطے کی مسلم اقوام، خصوصاً معزز اسلامی ایران کے شریف عوام کے لیے اللہ تعالیٰ کی بے مثال نعمتوں میں سے ایک “خلیج فارس” ہے۔ یہ صرف ایک آبی خطہ نہیں بلکہ ایک عظیم عطیہ ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کے ایک حصے کو تشکیل دیا ہے، اور اقوام کے درمیان رابطے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز اور اس کے بعد بحیرۂ عمان میں عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور منفرد حیاتیاتی راستہ فراہم کیا ہے۔
? یہ اسٹریٹجک سرمایہ گزشتہ صدیوں میں بے شمار شیاطین کی طمع کا نشانہ رہا ہے، اور یورپی و امریکی غیر ملکی طاقتوں کی بار بار جارحیت، خطے کے ممالک کے لیے بدامنی، نقصانات اور مختلف خطرات، دراصل خلیج فارس کے باشندوں کے خلاف عالمی استکبار کی سازشوں کا صرف ایک حصہ ہیں، جس کی تازہ ترین مثال بڑے شیطان کی حالیہ غنڈہ گردیاں ہیں۔
? ایران، جو خلیج فارس کے سب سے طویل ساحلی علاقے کا مالک ہے، خلیج فارس کی آزادی اور غیر ملکی جارحین کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک رہا ہے؛ پرتگالیوں کے اخراج اور آبنائے ہرمز کی آزادی سے لے کر، جو دسویں اردیبهشت کو قومی یومِ خلیج فارس قرار دینے کی بنیاد بنی، ہالینڈ کی استعماریت کے خلاف جدوجہد، برطانوی استعمار کے مقابلے میں مزاحمت کی عظیم داستانوں تک… لیکن اسلامی انقلاب ان تمام مزاحمتوں کا نقطۂ عطف ثابت ہوا، جس نے خلیج فارس کے خطے سے مستکبرین کے ہاتھ کوتاه کیے۔ آج دنیا کے جابروں کی سب سے بڑی فوج کشی اور جارحیت کے دو ماہ بعد، اور امریکہ کی اپنی سازش میں رسوا کن شکست کے بعد، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا ایک نیا باب رقم ہو رہا ہے۔
? خلیج فارس کی اقوام، جو طویل عرصے تک حکمرانوں کی خاموشی اور ظالموں کے سامنے ذلت قبول کرنے کی عادی بنا دی گئی تھیں، گزشتہ ساٹھ دنوں میں ایرانی بحریہ اور سپاہ کے بہادر جوانوں کی عظیم استقامت، بیداری اور جہاد کے حسین مناظر، نیز جنوبی ایران کے غیور عوام اور نوجوانوں کی غیرت و بہادری کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں، جنہوں نے غیر ملکی تسلط کو مسترد کر دیا۔
? آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، تیسرے imposed war کے مظلوم شہداء کے خون، اور بالخصوص اسلامی انقلاب کے عظیم المرتبت، دوراندیش رہبر (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی برکت سے، نہ صرف دنیا کے عوامی افکار اور خطے کی اقوام بلکہ بادشاہوں اور حکمرانوں پر بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ خلیج فارس میں امریکی موجودگی اور ان کے اڈے، خطے میں بدامنی کا سب سے بڑا سبب ہیں، اور امریکہ کے کھوکھلے اڈے اپنی حفاظت تک کی صلاحیت نہیں رکھتے، چہ جائیکہ وہ اپنے علاقائی وابستگان یا امریکہ پرستوں کو تحفظ فراہم کر سکیں۔
? ان شاء اللہ، خلیج فارس کے خطے کا روشن مستقبل، ایک ایسا مستقبل ہوگا جو امریکہ سے پاک اور اپنی اقوام کی ترقی، آسائش اور خوشحالی کے لیے وقف ہوگا۔ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے اس وسیع آبی خطے میں “ہم سرنوشت” ہیں، جبکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے لالچ کے ساتھ شرارت کرنے والے غیر ملکیوں کا یہاں کوئی مقام نہیں، سوائے اس کے کہ وہ اس کے پانیوں کی تہہ میں دفن ہوں۔ اور یہ فتح کا سلسلہ، جو خداوند متعال کے لطف سے مزاحمت کی تدابیر، ایرانِ قوی کی حکمتِ عملی اور پالیسیوں کے سائے میں حاصل ہوا ہے، ایک نئے علاقائی اور عالمی نظام کا پیش خیمہ ہوگا۔
? آج ملتِ ایران کی معجزانہ بیداری صرف صہیونیت اور خونریز امریکہ کے خلاف کروڑوں جانثاروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ پوری بیدار اسلامی امت کے شانہ بشانہ، اندرون و بیرونِ ملک نوّے ملین غیور ایرانی، اپنی تمام شناختی، معنوی، انسانی، علمی، صنعتی اور جدید و بنیادی ٹیکنالوجی—نانو، بایو، ایٹمی اور میزائل سمیت—کو قومی سرمایہ سمجھتے ہیں، اور آبی، زمینی و فضائی سرحدوں کی مانند ان کی حفاظت کریں گے۔
?? اسلامی ایران، آبنائے ہرمز پر مؤثر انتظام کی نعمت کا عملی شکر ادا کرتے ہوئے، خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور اس آبی گزرگاہ سے دشمن کی معاندانہ بد استعمالیوں کا خاتمہ کرے گا۔ آبنائے ہرمز کے لیے نئے قانونی ضوابط اور انتظامی نفاذ، خطے کی تمام اقوام کے حق میں آسائش، ترقی اور اقتصادی فوائد کا باعث بنیں گے، اور ملت کے دلوں کو خوشی سے بھر دیں گے؛ ان شاء اللہ، چاہے کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔
✍️ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
۱۰ اردیبهشت ۱۴۰۵
30 اپریل 2026
حدیثِ سلسلۃ الذہب، شہادتِ رہبر معظم انقلاب اور استکبار کے خلاف مزاحمتی جدوجہد
حدیثِ سلسلۃ الذہب وہ عظیم روایت ہے جو امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے شہر نیشاپور میں ارشاد فرمائی۔ یہ حدیث صرف ایک اعتقادی بیان نہیں بلکہ فکری، سیاسی اور عملی زندگی کے لیے ایک جامع منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔امام علیہ السلام نے فرمایا:(کلمَةُ لا إلهَ إلَّا اللَّهُ حِصْنِي فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِي أمِنَ مِنْ عَذابِي)کلمہ (لا الٰہ الا اللہ) میرا قلعہ ہے، جو اس قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے محفوظ ہو جائے گا۔پھر آپ نے فوراً اس کی شرط واضح فرمائی:(بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَ)اس قلعے میں داخل ہونے کی شرطیں ہیں، اور میں خود ان شرطوں میں سے ہوں۔
اس حدیث شریف میں توحید کو خدا کے عذاب سے بچنے کے لیے ایک مضبوط قلعہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ ائمہ کی ولایت کو توحید کے میدان میں داخل ہونے کی شرط بتایا گیا ہے۔ یہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے جو ائمہ اطهار علیہم السلام سے لے کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتی ہے، "سلسلۃ الذہب" یعنی "سنہری زنجیر" کے نام سے مشہور ہے۔
یہ حدیث، شیعہ اور اہل سنت دونوں کی حدیث کی کتابوں میں مختلف سندوں اور مضامین کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ ان میں سے شیخ صدوق( رہ ) نے اپنی تین کتابوں التوحید، معانی الاخبار اور عیون اخبار الرضا میں یوں بیان کیا ہے:
اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب حضرت رضا علیہ السلام نیشاپور پہنچے تو محدثین آپ کے گرد جمع ہو گئے اور عرض کیا: اے فرزند رسول خدا! کیا آپ ہمارے پاس سے تشریف لے جا رہے ہیں اور ہمارے لیے کوئی ایسی حدیث بیان نہیں فرمائیں گے جس سے ہم فائدہ اٹھائیں؟امام علیہ السلام کجاوے میں تشریف فرما تھے، آپ نے اپنا سرِ مبارک باہر نکالا اور فرمایا:
(حَدَّثَنِی أَبِی مُوسَی الْکَاظِمُ عَنْ أَبِیهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ عَنْ أَبِیهِ مُحَمَّدٍ الْبَاقِرِ عَنْ أَبِیهِ زَیْنِ الْعَابِدِینَ عَنْ أَبِیهِ الْحُسَیْنِ عَنْ أَبِیهِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ حَدَّثَنِی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ قَالَ حَدَّثَنِی جَبْرَئِیلُ قَالَ سَمِعْتُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَی یَقُولُ: کَلِمَةُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی)
میرے والد موسیٰ بن جعفر نے مجھ سے بیان فرمایا، انہوں نے اپنے والد جعفر بن محمد صادق سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن علی باقر سے، انہوں نے اپنے والد علی بن حسین زین العابدین سے، انہوں نے اپنے والد حسین بن علی سے، انہوں نے اپنے والد علی بن ابی طالب سے، انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا، آپ نے فرمایا: مجھ سے جبرئیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے خداوند متعال سے سنا:(لا الٰہ الا اللہ) میرا مضبوط قلعہ ہے، جو میرے قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے محفوظ ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ جب قافلہ چلنے لگا تو امام علیہ السلام نے آواز دی: (بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا) اس کے شرطوں کے ساتھ، اور میں خود اس کی شرطوں میں سے ہوں۔۱۔
اہل سنت کے بہت سے بڑے محدثین نے بھی اس حدیث کو مختلف سندوں اور متون کے ساتھ نقل کیا ہے، البتہ اس فرق کے ساتھ کہ حدیث کا آخری حصہ جو امام نے فرمایا (بشرطها و انا من شروطها)، وہ اہل سنت کے کسی بھی منبع میں بیان نہیں ہوا۔ ۲۔صرف قندوزی نے ینابیع المودّہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔۳۔
اس حدیث کو شیعہ اور سنی محدثین نے مختلف سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے اور سند کے بارے میں ایسے الفاظ بیان کیے ہیں جو اس کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حدیث کا مضمون بہت سی دوسری آیات اور روایات میں بھی آیا ہے۔ لہٰذا اگر ہم اسے لفظی طور پر متواتر نہ بھی کہیں تو یقیناً معنوی طور پر متواتر ہے۔۷۔
ابن صباغ لکھتے ہیں: قلم اور دوات رکھنے والے محدثین کی تعداد جنہوں نے حدیثِ سلسلۃ الذہب کو تحریر کیا، بیس ہزار سے زیادہ شمار کی گئی۔۸۔
حافظ ابونعیم لکھتے ہیں: یہ حدیث اسی سند کے ساتھ پاکیزہ انسانوں سے ان کے پاکیزہ باپ دادا تک پہنچی ہے، اور ایک بڑے محدثِ قدیم نے جب یہ حدیث اسی سند کے ساتھ روایت کی تو کہا: اگر یہ سند کسی دیوانے پر پڑھ دی جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔۹۔
اس حدیث کے شارحین اور مفسرین کے مطابق، کلمہ (لا الٰہ الا اللہ) کا اقرار کرنا اور اس پر عمل کرنا سعادت کا سبب ہے۔ یہ کلمہ درحقیقت قرآن کے اسی اصل معنی اور تصور کو ظاہر کرتا ہے جو قیامت تک بشری معاشرے کے لیے سعادت کا ذریعہ ہے، لیکن یہی کلمہ ولایت کے بغیر ادھورا بلکہ بے حقیقت ہے۔
مجموعی طور پر یہ حدیث دو اہم نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے:
۱۔ توحید کے مقام تک پہنچنا انسان کو ایسی پناہ گاہ میں داخل کرتا ہے جس کا نتیجہ خدائی عذاب سے امن ہے۔
۲۔ اس مقام تک پہنچنا اہل بیت علیہم السلام کی امامت اور ولایت پر ایمان لیے بغیر ممکن نہیں۔ درحقیقت امام جو ظاہری اور باطنی ولایت کا حامل ہے، وہ انسان کامل ہے جس کی پناہ میں لوگ توحید کی پناہ گاہ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔۱۰۔
اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ صرف زبانی اقرارِ توحید کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ولایت کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ یوں اطاعتِ امام کو توحیدی قلعے میں داخلے کی بنیادی کنجی قرار دیا گیا۔"شرط" اس چیز کو کہتے ہیں جس کے بغیر مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکے۔ یہاں مطلوب حصنِ الٰہی میں داخل ہونا ہےاور اس کی شرط ولایتِ اہل بیتؑ کو قبول کرنا ہے۔جب امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی ذات کو ان شرطوں میں شامل فرمایا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام ائمہ اہل بیتؑ اسی سنہری زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اس تصور کے مطابق توحید محض الفاظ کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ اطاعت اور عملی وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ ولایتِ اہل بیت (علیہم السلام) توحیدِ عملی کے حصول اور حصنِ الٰہی میں داخلے کی شرط ہے۔ یہ حدیث اسلامی تشخص اور عبودیت و اخلاص کے اظہار کی عقیدتی بنیاد ہیں۔ ولایت کو قبول کرنا صرف دل کی محبت نہیں، بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ انسان معصومین علیہم السلام کے سیاسی، ثقافتی اور سماجی خطِ مشی کی پیروی کرے اور غیبتِ کبریٰ کے دور میں، ان کے حقیقی نائبین (ولایتِ فقیہ) کی اطاعت کرے۔
قرآنی تعلیمات کے مطابق تکبر اور طغیان ہمیشہ توحید کے مقابل رہے ہیں۔تاریخ میں فرعون، نمرود اور دیگر طاغوتی قوتیں اسی رویے کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ولایتِ اہل بیتؑ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ظلم، جبر اور ناانصافی کے نظاموں سے بیزاری اختیار کرے۔اسی لیے:تبرّی (دشمنانِ حق سے بیزاری) کو ولایت کا حصہ سمجھا گیا۔ظلم اور جبر کے خلاف کھڑا ہونا، ایک دینی ذمہ داری کے طور پر بیان کیا گیا۔امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنے زمانے میں عباسی اقتدار کے دباؤ کے باوجود اپنے موقف کو واضح رکھا۔ ان کی زندگی کو صبر، استقامت اور اصولی موقف کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
توحید کا حقیقی مفہوم صرف اعتقاد نہیں بلکہ عملی وفاداری ہے۔ولایت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے عقیدے کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہے۔ظلم کے سامنے جھک جانا، دینی اصولوں سے انحراف کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔رهبر معظم انقلاب شہید امت سید علی خامنہ ای(ره) کی زندگی بھی اسی فکری تسلسل کا ایک عملی نمونہ ہیں۔شہید رہبر معظم ،ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا اور امام حسین علیہ السلام کی اس فرمان پر کہ(مثلی لا یبایع مثل یزید)وقت کے یزیدوں کے ہاتھوں بیعت نہیں کی بلکہ مقاومت کا اعلی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہوا۔ ان کی جدوجہد نے مزاحمت کے تصور کو ایک فکری بنیاد فراہم کی اور اسے عالمی سطح پر ایک نظریہ کے طور پر پیش کیا۔
اگر کوئی توحید کا اقرار کرے مگر ظلم کے سامنے سر جھکا دے، تو اس کی وفاداری کمزور تصور کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ولایت کو تسلیم کیا جائے مگر عملی جدوجہد سے اجتناب کیا جائے، تو شرط مکمل نہیں ہوتی۔موجودہ دور میں جدوجہد کے طریقے صرف عسکری نہیں بلکہ فکری اور ثقافتی بھی سمجھے جاتے ہیں، جیسے:
۱۔فکری شبہات اور نظریاتی حملے
۲۔معاشی دباؤ اور پابندیاں
۳۔ثقافتی اثرات اور طرزِ زندگی کی تبدیلیاں
شہید رہبر معظم انقلاب کے فکری نظام میں مقاومت (لا الہ الا اللہ) کا عملی تسلسل اور ولایت میں اخلاص کی علامت ہے، اور مقاومتی محاذ کی حفاظت، شیاطینِ جن و انس کے شر سے اسی حصنِ رحمانی کی حفاظت کرنے کے مترادف ہے۔رہبر شہیدکی نقطۂ نظر سے مقاومت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ اس کی مختلف جہتیں ہیں:
۱۔ اقتصادی مقاومت (ظالمانہ پابندیوں کے خلاف) جو حصنِ ولایت میں قومی عزت اور آزادی کی حفاظت ہے۔
۲۔ ثقافتی مقاومت (نرم جنگی حملوں اور ثقافتی یلغار کے خلاف) جو حصنِ توحید کے اندر توحیدی شناخت کی نگہبانی ہے۔
۳۔ سیاسی مقاومت (علاقے میں مقاومتی محاذ کی حمایت، جیسے حزب اللہ لبنان، حماس، اسلامی جہاد، انصار اللہ یمن) جو ایمان کی سرحدوں سے دشمن کو دفع کرنے کا عملی اظہار ہے۔
رہبر شہید امریکہ کے بارے میں فرماتے تھے:امریکہ ہر اعتبار سے ایک استکباری طاقت ہے۔ یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ساری دنیا کا مسئلہ ہے، دنیائے اسلام کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے ہر خطے کے بارے میں امریکیوں کا رویہ استکباری ہے۔ دنیا میں استکبار اور جابر قوتوں کے عزائم یہ ہیں کہ تمام حکومتوں اور ان کے ساتھ ساتھ تمام اقوام کو اپنے موقف، مظالم اور نا انصافیوں کو تسلیم کرنے اور اسی راہ پر چلنے پر مجبور کریں۔استکبار قوموں کے حقوق کو بھی نہیں مانتا۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ قوموں کو انتخاب کا حق ہے، قوموں کو اپنی مرضی کے مطابق اقدامات انجام دینے کا حق ہے، اپنی مرضی کے مطابق معاشی ماڈل چننے کا حق ہے، اپنی مرضی کے مطابق پالیسیاں اور سیاست وضع کرنے کا حق ہے۔ وہ قوموں کے اس حق کو ماننے کے لئے تیار نہیں، اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔
اسی لیے اہلِ فکر مزاحمت کو صرف جنگی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک فکری اور سماجی رویہ قرار دیتے ہیں۔اس فکری تناظر میں مسلمانوں پر چند بنیادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
۱۔توحید کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھنا بلکہ اس کے تقاضوں کو سمجھنا ۔
۲۔ولایتِ اہل بیتؑ کو عملی زندگی میں شامل کرنا۔
۳۔ظلم اور ناانصافی کے خلاف شعوری موقف اختیار کرنا۔
۴۔علمی، اخلاقی اور سماجی میدانوں میں بھی استقامت اپنانا۔
۵۔استکبار کے خلاف مزاحمت جاری رکھنا۔
شہید رہبر نے مختلف معاملات پر بہت بلند نظر رکھی تھی اور آج ان کی جدائی کے بعد یہی نظر اور حکمت عملی اپنی افادیت ثابت کر رہی ہے۔ ان میں فیصلہ سازی میں عوام الناس کو شامل کرنے پر ان کی توجہ، نیز مذہبی اور حتیٰ کہ غیر مذہبی دانشوروں کے کردار پر زور دینا، اور سب سے اہم ایران کی دفاعی طاقتِ پر ان کا اصرار شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شہید رہبر کی جدائی کے وقت متعدد عوامل نے مل کر ایک قومی یکجہتی اور اتحاد کو جنم دیا، جس میں قوم کے تمام طبقے چاہے مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، چادر والے ہوں یا بے چادر، اور مختلف اقوام میدان میں آئے اور عالمی طاقت (امریکہ) اور اس کے علاقائی اتحادی اسرائیل کے سامنے موجودگی کی شاندار داستان تخلیق کی۔ حقیقت یہ ہے کہ شہید رہبر اپنی تدبیروں سے 37 سال میں اس ملک کے ایسے فرزند پروان چڑھانے میں کامیاب رہے جنہوں نے صیہونی دشمن اور امریکہ جیسی عالمی طاقت کے خلاف جنگ میں ایرانی صلاحیتوں اور تخلیقی قوت کا مظاہرہ کیا۔
شہید رہبر نے امریکہ، صیہونی حکومت اور یورپی ممالک کی زیادتیوں اور ناجائز مطالبات کے مقابلے میں مضبوطی سے قدم جمائے رکھا، اور ان کا آخری کلام یہ تھا:(میرے جیسا شخص یزید جیسے سے بیعت نہیں کرتا)جبکہ اس قیمتی قول کو انہوں نے پوری ایرانی قوم کے لیے عام کیا اور فرمایا: اِسی طرح ایک قوم جو ایران کی قوم ہے، وہ وقت کے یزید کی بیعت نہیں کرے گی۔
شہید رہبر کی اہم خصوصیات میں سے ایک بہادری اور اللہ کی نصرت پر گہرا یقین تھا۔ یہ کہ آپ عالمی کفر کے محاذ کے خلاف جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کریں، جبکہ شاید ساز و سامان، تعداد، قوتِ عمل اور اس کے جلووں کی حیرت انگیزی کے لحاظ سے یہ محاذ آپ کی آنکھیں خیرہ کر دے، یہ ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ جب کوئی شخص اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھتا ہو اور اللہ کے اس وعدے پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ مومنوں کی ضرور مدد کرے گا، تو وہ کسی طاقت کے سامنے نہیں جھکتا اور ابرقوتوں کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح کھڑا ہو سکتا ہے۔
ایران کا تمدن سازی کے مرحلے میں قدم رکھنا باعث بنا ہے کہ عرب دنیا کے بہت سے دانشور اپنے حاکموں کو حقیر جاننے لگے ہیں اور ایران کو مغرب کے مقابلے میں مزاحمت کی وجہ سے سراہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خلیج فارس کے ممالک کے باشندے ایران کا موازنہ اپنی صورتِ حال سے کرتے ہیں، کیونکہ 47 سالہ مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایرانی قوم نظام سازی اور تمدن سازی کی طرف گامزن ہیں۔یہ علاقہ 200 سال سے استعمار کے مسئلے میں جکڑا ہوا ہے۔ان تمام سالوں میں استعماری طاقتوں نے جو جرائم کیے، ان کی وجہ سے پورے علاقے کے لوگ ایک ایسے ہیرو کے منتظر تھے جو ان زیادتیوں کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ اسی لیےمشاہدہ کرتے ہیں کہ جب اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو علاقائی ممالک کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔دو ایٹمی اور استعماری طاقتوں کے ساتھ کامیاب جھڑپوں نے دنیا اور خطے کے لوگوں کے دلوں میں امید پیدا کر دی ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فوجی جنگ اسلامی انقلاب کے ثقافتی ابعاد اور اس کے انسانی پہلوؤں کا اعلان ہے، اور ہر ایک میزائل کی مانند ایک بیج ہے جو دو سو سالہ مسلمانوں کی تذلیل کے پس منظر میں پڑ چکا ہے، اور جو استکبارِ عالمی کے خلاف مزاحمت کی بہار پیدا کر سکتا ہے۔
حوالہ جات:
1. ابن بابویه، محمد بن على، التوحید، جامعه مدرسین، ایران ؛ قم، چاپ: اول، ۱۳۹۸ق.
2. محمدمحسن طبسی، سلسله الذهب به روایت اهل سنت، مجله فرهنگ کوثر ۱۳۸۵ شماره ۶۷.
3. محمد رحمانى، بررسى حدیث (سلسلة الذّهب)، مجله علوم حدیث ۱۳۷۵.
4. حافظ ابونعیم احمدبن عبدالله اصفهانى، حلیةالأولیاء وطبقات الأصفیاء، دارالکتب العلمیّة.
5. الامام ابن الصّبّاغ، الفصول المهمّة فى معرفة احوال الائمّة، منشورات دارالحدیث.
6. قاسم ترخان، رابطه توحید و ولایت (با تاکید بر حدیث سلسله الذهب)، قبسات، ۱۳۹۰ شماره ۶۲.
7. سلیمان بن ابراهیم القندوزى، ینابیع المودّة لذوى القربى، دارالاسوة، ج۳، ص۱۲۲.
8. ابن بابویه، محمد بن على، عیون أخبار الرضا علیه السلام، نشر جهان، تهران، چاپ: اول، ۱۳۷۸ق.
9. اربلى، على بن عیسى، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، بنى هاشمى،تبریز، چاپ:اول، ۱۳۸۱ق.
10. طوسى، الأمالی، ۱جلد، دار الثقافة،قم، چاپ: اول، ۱۴۱۴ق.
تحریر: مولانا ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
ایران کے خلاف جارحیت کے جھٹکے ، پوری دنیا میں ، اب سویڈن کی باری
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت کا نتیجہ پوری دنیا بھگت رہی ہے ۔
اس سلسلے میں اب سویڈن نے طیاروں کے ایندھن کی کمی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
ایران پر امریکہ اور صہیونی حکومت کے جارحانہ حملوں نے یورپی ممالک کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور سویڈن نے طیاروں کے ایندھن کی کمی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
در ایں اثنا ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی جارحیت کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں خلل پڑا ہے۔
اسی طرح ایران کے خلاف اس غیر منصفانہ و غیر قانونی جنگ کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک ایندھن، توانائی اور دیگر ضروری اشیاء کی کمی کا شکار ہو گئے ہیں۔
رہبرِ شہید کے بیانات کی روشنی میں اسلامی معاشرے میں بیتیوں کا مقام
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی معاشرے میں لڑکیوں کے کردار، ذمہ داریوں اور مقام کے حوالے سے رہبرِ شہیدِ انقلاب کے بیانات کو دوبارہ سامنے لایا گیا ہے، جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لڑکیاں نہ صرف معاشرے کا اہم حصہ ہیں بلکہ وہ اس کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی اسلامی شناخت، عفت و حیا اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھیں۔
رہبرِ شہیدِ انقلاب نے واضح کیا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیم، سماجی خدمات، سیاست، صحافت اور دیگر میدانوں میں آگے بڑھنے کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر کوئی لڑکی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، تدریس کے شعبے میں آنا چاہتی ہے یا سماجی و سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتی ہے تو اسے مکمل حق حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ اسلامی حدود، خصوصاً عفت و حجاب کی پابندی ضروری قرار دی گئی ہے۔ ان کے مطابق مردوں کی طرح خواتین بھی معاشرے کے مسائل کے بارے میں ذمہ داری محسوس کریں اور ان کے حل میں حصہ لیں۔
بیانات میں لڑکیوں کو حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت کو اپنانے کی تلقین کی گئی ہے، تاکہ وہ اپنی شخصیت اور شناخت کو مضبوط بنا سکیں۔ اسی طرح خواتین کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ اسلامی خاتون کے اعلیٰ کردار کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور ایک مثبت مثال قائم کریں۔
رہبرِ شہیدِ انقلاب نے تعلیم کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو پڑھائی، تحقیق، دینی شعور اور سیاسی بیداری پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق یونیورسٹیاں خواتین کی علمی ترقی کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہیں، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طالبات اور اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں اسلامی ماحول اور اقدار کو فروغ دیں۔
اخلاقی تربیت کو بھی بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ لڑکیوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ خودنمائی اور بے جا نمائش سے بچیں، کیونکہ اس کے معاشرتی اور اخلاقی نقصانات دیرپا ہوتے ہیں، جب کہ عفت و حیا کو ان کی عزت اور شخصیت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، انہیں دشمنوں کی ثقافتی یلغار اور گمراہ کن تبلیغات سے ہوشیار رہنے اور اپنی پاکیزگی و ایمان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
خاندانی نظام کے حوالے سے بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ لڑکیاں والدین کی نصیحتوں کو اہمیت دیں، کیونکہ اکثر اوقات والدین کی رہنمائی ان کے مستقبل کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کو معاشرے اور ملک کے اہم مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے، سیاسی شعور رکھنے اور حالات کا تجزیہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایمان اور نیک عمل ترقی کی بنیاد ہیں۔ لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علم، کردار اور ایمان کے ذریعے نہ صرف اپنی زندگی سنواریں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی حصہ ڈالیں۔ انہیں مستقبل میں ملک کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے خود کو تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
آخر میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں لڑکیاں علم، ایمان، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ کر نہ صرف اپنی شخصیت کو مضبوط بنا سکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو مثبت سمت دے سکتی ہیں۔
ایران: خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں خلل کا ذمہ دار امریکہ ہے
ایک بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران بحری قوانین سے متعلق اقوام متحدہ کے سن ۱۹۸۲ کے کنونشن کا رکن نہیں ہے اس لئے آبنائے ہرمز کے سلسلے میں اس کا فیصلہ ، قانون کی بنیاد پر ہے۔
بیان میں کہا گيا ہے کہ ان حالات میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں کسی بھی طرح کی خلل اندازی اور اس کے نتائج کا ذمہ دار امریکہ ہوگا۔
بیان کے مطابق آبنائے ہرمز، ایران کی ساحلی حدود میں واقع ہے، اس لئے ایران کو قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اس علاقے میں سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ کرنے، بحری گزرگاہ کے تحفظ کو یقینی بنانے اور آبنائے ہرمز کے مخاصمانہ یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کے سد باب کے لئے ضروری اور مناسب اقدامات کرے۔
جنگ ختم نہیں ہوئی، جنگی سازمان اور ہتھیاروں کو از سرنو ترتیب دی جارہی ہے، ترجمان ایرانی فوج
ایرانی فوج کے ترجمان امیر محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ حقیقت میں ابھی ختم نہیں ہوئی اور مسلح افواج اپنی تمام دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل اور مزید مستحکم بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے آخری دنوں تک دشمن نے کئی بار زمینی حملے کی دھمکیاں دیں، لیکن ایرانی زمینی فوج کی تیاری اور مضبوط دفاعی انتظامات کے باعث وہ کبھی سرحدوں کے راستے کوئی کارروائی نہ کر سکا۔
انہوں نے جنگی میدان میں زمینی فوج کے کردار اور کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے جنگ کے دوران ہر محاذ پر ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔ فوجی کمان اور انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹوں سے واضح تھا کہ دشمن حملے کی تیاری کر رہا ہے، اسی لیے جنگ سے پہلے ہی فوج کے تمام یونٹس مکمل تیاری کی حالت میں تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ زمینی فورسز نے جنگ کے دوران کئی اہم کارروائیاں کیں، جن میں دشمن کے ٹھکانوں پر فجر اور فتح میزائلوں سے کامیاب حملے بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے زمینی فوج نے مسلسل نگرانی اور دفاعی اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں دشمن آخر تک زمینی حملے کی ہمت نہ کر سکا۔ سپاہ پاسداران کے ساتھ مل کر زمینی فورسز کی مشترکہ تیاری نے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا۔
امیر اکرمینیا نے فضائیہ کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی جنگی طیاروں نے خطے میں دشمن کے مختلف مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں اربیل، کویت اور قطر میں قائم ٹھکانے شامل تھے۔ ایک امریکی میڈیا رپورٹ میں اس کارروائی کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے، جہاں ایرانی ایف-5 طیارے شدید دفاعی حصار عبور کرکے امریکی اڈے تک پہنچ کر اسے نشانہ بنایا۔ فضائیہ نے جنگ کے آخری دن تک دشمن کے مختلف مقامات پر ڈرون حملے جاری رکھے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوبی اصفہان میں دشمن کی دراندازی کے موقع پر زمینی فوج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی طیارہ مار گرایا، جس سے دشمن کی کارروائی ناکام ہوگئی۔
ایران جنگ کے اثرات، عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کی معیشت خطرے میں
خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی جھڑپوں کے دوران عرب میڈیا نے مختلف زاویوں سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کا جائزہ لیا ہے، جس سے ایک ایسے پیچیدہ بحران کی تصویر سامنے آتی ہے جس کے معاشی، سیاسی اور تزویراتی اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ان تجزیات میں صرف جنگ کے میدان کے نتائج ہی نہیں بلکہ امریکہ کی عالمی حیثیت، اس کے اعلان کردہ اہداف کی کامیابی یا ناکامی، اور اس تصادم کے علاقائی و عالمی توازن پر اثرات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔
ان رپورٹس کا بڑا حصہ اس جنگ کے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات پر مرکوز ہے، خاص طور پر خلیج فارس کے ممالک کے لیے، جو آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ، توانائی کی تجارت میں خلل اور منڈیوں میں عدم استحکام کے باعث شدید معاشی جھٹکوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اسی دوران بعض میڈیا اداروں نے واشنگٹن اور شخصی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے میں تضادات کو بھی اجاگر کیا ہے اور کہا ہے کہ اعلان کردہ اہداف اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ اور اس کی بحران کو سنبھالنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ کچھ تجزیے عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب کی معیشت پر اس جنگ کے طویل المدتی اثرات کو نمایاں کرتے ہیں۔
ان تمام تجزیات کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ مختلف نقطہ نظر رکھنے کے باوجود عرب میڈیا اس بات پر متفق ہے کہ اس جنگ نے خطے کے سابقہ توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے اور امریکہ کے ساتھ عرب ممالک کے مستقبل کے تعلقات اور حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
المیادین: کیا ٹرمپ خلیج فارس کے ممالک کے نقصانات کی پروا کرتے ہیں؟
المیادین ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے سب سے زیادہ معاشی نقصان خلیج فارس کے ممالک کو پہنچایا ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، تیل و گیس کی برآمدات میں کمی آئی، سیاحت متاثر ہوئی اور خدمات کے شعبے میں جمود پیدا ہوا، جس سے ان ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق خطے کی معیشت کو براہ راست 200 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے، جس میں سے 103 سے 168 ارب ڈالر خلیجی ممالک کے حصے میں آئے ہیں۔ لاکھوں ملازمتیں ختم ہوئیں اور سماجی و معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں ٹرمپ کی بے توجہی کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں: اسرائیل کا دباؤ، خلیجی ممالک کو مالی وسائل کے طور پر دیکھنا، اور ایران کے مقابلے میں ناکامی کو چھپانے کی کوشش۔
الجزیرہ: ٹرمپ دو ناکامیوں کے درمیان پھنس گئے
الجزیرہ نے اپنے تجزیے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے طرز سیاست کو متضاد اور غیر متوقع قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے ایران میں نظام کی تبدیلی کا غیر حقیقت پسندانہ ہدف مقرر کیا، جو حاصل نہ ہو سکا۔
ایران نے نقصانات کے باوجود اپنی داخلی یکجہتی برقرار رکھی اور سیاسی و فوجی سطح پر مزاحمت جاری رکھی۔ جنگ میں ناکامی کے بعد ٹرمپ نے ایک طرف حملوں میں شدت کی دھمکی دی، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق ٹرمپ اب دو ناکامیوں کے درمیان گھرے ہوئے ہیں: جنگ جاری رکھنے کی صورت میں بڑھتے اخراجات اور عالمی ساکھ کو نقصان، یا ایران کے شرائط پر سمجھوتہ، جو امریکی ناکامی کا اعتراف ہوگا۔
العربیہ: امریکہ کی سیاسی ساکھ متاثر
العربیہ نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے بحران کو عالمی سطح تک پہنچا دیا ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
یورپ، چین اور بھارت کو اس صورتحال سے زیادہ معاشی نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ امریکہ کو براہ راست کم نقصان ہوا ہے، تاہم اس کی سیاسی ساکھ متاثر ہوئی ہے کیونکہ وہ اس بحران کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عربی 21: سعودی معیشت کی کمزوریاں بے نقاب
عربی 21 نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جنگ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے سعودی عرب کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس میں تیل و گیس کی برآمدات میں کمی، خوراک کی درآمد میں مشکلات، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان شامل ہے۔
سعودی مرکزی بینک کے مطابق 2025 میں ملک کو 96 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جو مسلسل دوسرا سال ہے۔ اگرچہ تیل کی آمدن زیادہ رہی، لیکن خدمات، مالیاتی لین دین اور دیگر شعبوں میں خسارہ برقرار رہا۔
رپورٹ کے مطابق غیر ملکی خدمات پر اخراجات، سرمایہ کا بیرون ملک اخراج، بیرونی امداد اور تارکین وطن کی جانب سے 58 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اس خسارے کی بڑی وجوہات ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیشگوئی کی ہے کہ یہ خسارہ 2031 تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ اقتصادی شرح نمو بھی کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
امریکہ کی لامحدود خواہشات کے باعث مذاکرات منطقی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے غلط رویّے اور حد سے بڑھی ہوئی خواہشات کے باعث گزشتہ دور کے مذاکرات پیش رفت کے باوجود اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہ کرسکے۔
سید عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے کے فورا بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان ہمیشہ قریبی مشاورت جاری رہی ہے اور دونوں ممالک مختلف امور خصوصاً علاقائی مسائل کے حوالے سے مسلسل دوطرفہ رابطے اور مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ رمضان کے باعث کچھ عرصہ ملاقاتوں میں وقفہ آگیا تھا، تاہم موجودہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اور عمان کے دوروں کے بعد روس کا سفر بھی طے کیا گیا تاکہ اس مدت کے دوران جنگ سے متعلق ہونے والی پیش رفت اور موجودہ صورتحال پر روسی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جاسکے۔
عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے دورے مکمل طور پر دوطرفہ نوعیت کے تھے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، اسی لیے ضروری تھا کہ تازہ ترین پیش رفت اور صورتحال پر پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران بعض تبدیلیاں رونما ہوئیں، تاہم امریکہ کے غلط طرز عمل اور حد سے بڑھی ہوئی شرائط کے باعث مذاکرات گزشتہ دور میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود اپنے اہداف تک نہ پہنچ سکے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان میں ایرانی وفد کی مشاورتیں مثبت رہیں اور یہ دورہ کامیاب رہا، جس میں گزشتہ مراحل کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر گفتگو کی گئی کہ کس راستے اور کن شرائط کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام کی چالیس روزہ بہادرانہ مزاحمت کے بعد ضروری ہے کہ ایران اپنے عوام کے حقوق کا مکمل طور پر دفاع کرے اور قومی مفادات کو یقینی بنائے۔
عمان کے دورے سے متعلق عراقچی نے کہا کہ عمان ایک قریبی اور دوست ملک ہے جس نے حالیہ جنگ میں مثبت موقف اختیار کیا، اور اس لیے ضروری تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے، بالخصوص خلیج فارس کے خطے میں مشترکہ مسائل کو بہتر انداز میں سنبھالنے کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ایران اور عمان دونوں آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں اور اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ آمدورفت ایک عالمی مسئلہ ہے، لہٰذا دونوں ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ مشترکہ مفادات کا تحفظ ہوسکے۔
عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی اقدام میں ایران اور عمان کے مفادات براہ راست وابستہ ہیں، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر وسیع اشتراک نظر پایا جاتا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
