سلیمانی

سلیمانی


ایران کیساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد ٹرمپ بوکھلا گیا ہے اور اس بوکھلاہٹ میں ایران کے ساتھ ساتھ یورپ اور اپنے اتحادیوں کو بھی لتاڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اتحادیوں کے ساتھ اس نے عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔ حالانکہ پوپ نے امن کی بات کی تھی، انسانیت کی بات کی تھی اور جنگوں کی مخالفت میں بولے تھے، لیکن یہ جنگوں کے شوقین ٹرمپ کو یہ اچھا نہ لگا اور اس نے پوپ کو بھی نشانے پر لے لیا۔ یہ وہ موڑ ہے، جہاں پر ٹرمپ امریکہ کیلئے گڑھا کھود رہا ہے۔ اگر ٹرمپ کو فوری طور پر اقتدار سے الگ نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب امریکہ تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا نے کھلے عام امریکہ کو صاف جواب دیدیا ہے اور کسی بھی امریکی ڈکٹیشن پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ خود امریکہ کے انڈر ٹرمپ کی اپنی پارٹی اس کیخلاف ہو گئی ہے اور امریکی صدر کے محاسبے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب آج ٹرمپ نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر وہاں سے ہونیوالی آمدورفت کو روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مذاکرات ناکام کیوں ہوئے؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ اور واضح ہے کہ ایران نے امریکہ سے ڈکٹیشن لینے سے انکار کر دیا ہے۔ جے ڈی وینس کہتے ہیں کہ ایران نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ ’’ایران امریکہ کی بات کیوں مانے؟ اور بات بھی وہ جو ناجائز ہے‘‘۔ ایسی صورتحال میں ایران کا موقف مدلل رہا اور انہوں نے منطق اور دلیل کی بنیاد پر مذاکرات کئے، امریکہ کو آئینہ دکھایا ہے کہ اب دنیا بدل چکی ہے، اب امریکہ سپر پاور نہیں رہا، اور اب دنیا کی تقدیر کے فیصلے واشنگٹن میں نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ میں ہوں گے۔ اب عالم مشرق کا جنیوا تہران بن گیا ہے اور اب قرہ ارض کی تقدیر بدلے گی۔ اب غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں گی اور اب قومیں اور ملک آزاد ہوں گے۔ امریکی طوق اب گلے میں نہیں رہیں گے۔

یہاں تک کہ امریکی اخبار کی ہی رپورٹ ہے کہ عرب ملکوں میں ایران کے ہاتھوں امریکی اڈوں کی تباہی کے بعد عرب حکمرانوں نے بھی سوچنا شروع کر دیا ہے، کہ امریکہ نے تو ان کا دفاع نہیں کیا، وہ امریکہ جو اپنے اڈے نہیں بچا سکا، وہ عربوں کو ایران سے کیا بچائے گا۔ ایران نے نہ صرف اڈے تباہ کئے بلکہ امریکہ کے مہنگے مہنگے دفاعی نظام بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیئے۔ امریکہ کے اٹھارہ طیارے ناکارہ بنا کر رکھ دیئے گئے۔ سپر پاور کا یہ مصنوعی رعب اور دبدبہ ایران نے خلیج فارس میں ڈبو دیا۔ ٹرمپ ایک طرف دعویٰ کرتا ہے کہ اس سے ایرانی نیوی کو سمندر میں غرق کر دیا ہے، اگر ٹرمپ سچ بول رہا ہے، تو آبنائے ہرمز کیوں نہیں کھلوا پا رہا؟ ایران آج بھی مضبوط دفاع رکھتا ہے بلکہ ماضی کی نسبت آج ایران کا دفاع انتہائی مضبوط ہے۔ ایرانیوں کا کہنا ہے کہ اب تک ہم نے پرانے ہتھیار استعمال کئے ہیں، ابھی تو ہمارے پاس ہتھیاروں کی جدید کھیپ بھی موجود ہے اور یہ ہتھیار ایسے ہیں کہ دنیا ایٹم بم کو بھول جائے گی۔ تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران انتہائی خطرناک ہتھیار بنا چکا ہے، اور اس بات کا ادراک امریکی دانشوروں اور سیاستدانوں کو بھی ہو چکا ہے، لیکن ٹرمپ کی بیوقوفیاں امریکہ کو مروا دیں گے۔ ٹرمپ کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے ایران کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اب عرب ممالک سے بھی ایران سے محبت اور خیر سگالی کے پیغامات آ رہے ہیں۔

سعودی عرب میں بھی ایسی باتیں ہو رہی ہیں، جن میں اب بلاک بدلنے پر غور ہو رہا ہے اور حالات اس طرف آ رہے ہیں کہ امریکہ کو چھوڑ کر روس، چین اور ایران پر مشتمل ایک مشرقی بلاک تشکیل دیا جائے اور اس میں ترکیہ، پاکستان، عراق سمیت تمام عرب ممالک شامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے بدلتے ہوئے رویے پر ٹرمپ نے محمد بن سلمان کی توہین بھی کی۔ اگر یہ بلاک معرض وجود میں آتا ہے، جو کہ بہت قریب ہے، تو پیٹرو ڈالر منصوبے سمیت خطے سے امریکی اثرورسوخ ختم ہو جائے گا اور ایران کا ہدف بھی یہی ہے کہ امریکہ کو خطے سے نکالنا ہے اور اس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بہت مدد کی ہے۔ اور یہی ٹرمپ امریکہ کو تنہا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جس پر ٹرمپ کو شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے فوجی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں، بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں اور بحری قزاقی کے مترادف ہے۔ ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ امریکی دھمکیوں کے بعد ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے ایک مستقل نظام نافذ کرے گا، اگر ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور خلیج عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

سکردو بلتستان پاکستان میں قائدِ امت شہید امام خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے عظیم الشان اجتماع، شہر کے سب سے بڑے میونسپل گروانڈ میں منعقد ہوا جس میں لاکھوں عاشقانِ رہبرِ انقلاب نے شرکت کر کے شہدائے مقاومت بالخصوص شہید امام خامنہ ای کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو بلتستان پاکستان میں قائدِ امت شہید امام خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے عظیم الشان اجتماع، شہر کے سب سے بڑے میونسپل گروانڈ میں منعقد ہوا جس میں لاکھوں عاشقانِ رہبرِ انقلاب نے شرکت کر کے شہدائے مقاومت بالخصوص شہید امام خامنہ ای کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ 

 

 

 
مولانا یاسین حسین کا تعلق مقبوضہ کشمیر ضلع بارہمولہ سے ہے، ابتدائی تعلیم مقبوضہ کشمیر کے جامعہ علمیہ امام رضا (ع) میں حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسلامی جمہوری ایران کا رخ کیا۔ مولانا یاسین حسین جامعہ علمیہ امام رضا (ع) کے مسئول اور مجمع اسلامی کشمیر کے بانی ممبر بھی ہیں۔ جامعہ علمیہ امام رضا (ع) کی زیر نظارت جامع مسجد میں امام جمعہ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مولانا یاسین حسین قمی سے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال، چالیس روزہ جنگ میں ایران کی امریکہ و اسرائیل پر فتح و کامیابی، رہبر معظم امام سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کے اثرات اور امریکہ و ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی پر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جس دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سپر پاور کا بھرم ایران نے 40 دن میں ہی خاک میں ملا دیا، اب الحمد اللہ دنیا پر آشکار ہوگیا کہ ایران بھی اپنی استقامت و جوانمردی سے ایک مضبوط طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عرب حکمرانوں کی بیداری کا آخری وقت ہے شاید انکی بیداری کا اس سے بہتر موقع ہاتھ نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے بھی ثابت ہوگیا ہے کہ ایران امن کا خواہاں لیکن امریکہ امن ِعالم کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے اصل چہرے کو پہچنوایا کہ یہ ہرگز قابل اعتماد نہیں ہیں۔ خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔  قارئین 

 ارنا نے پولیٹیکو جریدے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ پوپ لئو چہاردہم نے کہا ہے کہ خود پسندی اور دولت پرستی بہت ہوچکی! اب جنگ بند کی جائے۔

کیتھولک عیسائیوں کے پیشوائے اعظم نے اپنے اب تک کے سخت ترین بیان میں،جھوٹی طاقت کے نشے کی مذمت کی اور کہا کہ یہی نشہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائيل کی جنگ کا باعث بنا ہے۔

 انھوں نے کہا کہ بہت  ہوچکا، اب یہ جنگ بند کی جائے۔

 قابل ذکر ہے کہ پوپ لئو چہاردہم نے پاکستان میں  ایران امریکا مذاکرات شروع ہوتے ہی سینٹ پیٹر چرچ میں، دعائیہ تقریب منعقد کی تھی۔  

 پوپ لئو چہاردہم نے، جو امریکا میں پیدا ہوئے ہیں، اپنی دعا میں امریکا یا ٹرمپ کا نام نہیں لیا، لیکن ان کا انداز اور لہجہ بتارہا تھا کہ وہ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام سے مخاطب ہیں جنھوں نے امریکا کی نام نہاد فوجی برتری کے نشے میں چور ہوکر، مذہبی اصطلاحات کے ساتھ جنگ کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

شیکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر جان مرشمائر نے کہا ہے کہ یہ جنگ امریکی خارجہ پالیسی کی بہت بڑی ناکامی ہے اور امریکا کی سیاست اور معیشت پر اس کے بہت سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

 ارنا کے مطابق جان مرشمائر نے العربی الجدید نے کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ جنگ ہار چکی ہے، ہارے ہوئے پتے سے کھیل رہی ہے، اور اس جنگ کا بند ہوجانا اس کے صدر کے فائدے میں ہے۔  

انھوں نے ٹرمپ حکومت اور ایران کے درمیان سمجھوتے کے حصول کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ اندازہ لگانا کہ دونوں کے درمیان سمجھوتہ ہوجائے گا بہت مشکل ہے لیکن جو بات کھل کر سامنے آچکی ہے وہ یہ ہے کہ ایران جنگ جیت چکا ہے۔

 امریکا کے ممتاز دانشور اور تجزیہ نگار پروفیسر مرشمائر نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اس جنگ کا فاتح امریکا نہیں ایران ہے۔

 پروفیسر مرشمائر نے کہا کہ ٹرمپ نے  اسرائیل کے لئے یہ جنگ شروع کی ہے اور اس کے بعد یہ جنگ المیئے میں تبدیل ہوگئی۔ اس کو  امریکی عوام بھی جانتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکیوں کا ماننا ہے کہ اس المیئے کے لئے  اسرائیل کی سرزنش ہونی چاہئے۔

پروفیسر مرشمائر نے کہا کہ آخر کار یہ جنگ اور اس سے وجود میں آنے والے المیئے امریکا اسرائیل روابط کے نقصان پر منتج ہوں گے۔  

سپاہ پاسداران انقلاب کے 59ویں بیان میں درج ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحری فورس اعلان کرتی ہے کہ دشمن ملکوں کے بعض حکام کے جھوٹے دعووں برخلاف، آبنائے ہرمز منظم کنٹرول، اسمارٹ منیجمنٹ اور خاص قوانین کے تحت، غیرفوجی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلا ہوا ہے۔

لیکن اگر کسی جنگی جہاز نے کسی بھی عنوان یا بہانے کے ساتھ، آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کی، تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے اس جہاز کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا۔

اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچنے والا وفد، مذاکرات کے بعد تہران واپس آرہا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، پاکستان کے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، پاکستانی فوج کے سربراہ سید عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی ایرانی وفد کے روانہ ہوتے وقت ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

اس وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سمیت اعلی سطح کے عہدے داروں اور ماہرین اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی

حوزه نیوز ایجنسی|جنگ کے حامی پیچھے ہٹنے پر تیار نظر نہیں آتے۔ آج کوئی ایسا شخص نہیں جو اس حقیقت سے آگاہ نہ ہو کہ مغربی ایشیا کا خطہ انتہائی حساس صورتحال سے گزر رہا ہے اور کسی بھی وقت ایک ہلکی سی چنگاری جنگ کی آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف "بے نتیجہ انقلابوں" نے خطے کو ایک نئی مشکل کا شکار کر دیا ہے۔ آمرانہ حکومتی نظاموں کے خلاف انجام پانے والی کوششوں کا بے فائدہ ثابت ہو جانے سے عوام کے اندر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اور حتی بعض یورپی ممالک اپنی آمدن اور سرمائے کی فراہمی یا جنگ کی آگ بدستور جلے رہنے یا منظم انداز میں دہشت گردی کو دوبارہ تشکیل دینے یا خطے میں اپنی مسلسل ناکامیوں کو قبول نہ کرنے کی خاطر ہمیشہ کی طرح خطے میں اپنے ڈکٹیٹر اتحادیوں کو اسلحہ فروخت کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ اس بارے میں تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکہ خطے خاص طور پر سعودی عرب میں مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
 
دوسری خبر یہ ہے کہ امریکہ اور فرانس سعودی عرب کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس فیصلے کا مقصد ایران کے مقابلے میں سعودی عرب کی حفاظت بیان کیا ہے! جبکہ اقتصاد کے شعبے میں نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصاد اسٹنگ لیٹز جیسے معروف عالمی ماہرین اقتصاد نے خبردار کیا ہے کہ مغرب ایک بار پھر اقتصادی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ واضح ہے کہ مغرب خاص طور پر یورپ ابھی گذشتہ اقتصادی بحران سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر پایا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع ہونے والی تجارتی جنگ اقتصادی بحران کی واپسی کا باعث بن سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تجارتی جنگ کسی کے فائدے میں نہیں ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ اور یورپی ممالک نے اپنی نجات کا راستہ پسماندہ ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے میں تلاش کیا ہے۔ حال ہی میں مغربی ایشیا میں امریکہ کے ایک اعلی سطحی فوجی کمانڈر نے اس آگ کو مزید ہوا دیتے ہوئے کہا ہے: "پینٹاگون نے مئی کے مہینے سے اب تک 14 ہزار مزید فوجی، ایک طیارہ بردار جنگی بیڑہ اور لاکھوں ٹن اسلحہ مشرق وسطی خطے میں پہنچایا ہے تاکہ ایران سے درپیش خطرات کا سدباب ہو سکے۔"
 
یہ امریکی فوجی کمانڈر کہتا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود خطے میں ایران سے درپیش خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بیان اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں دشمن کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کا ایک اور پہلو بھی ہے جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ خطے میں بدامنی پر مبنی اقدامات جاری رکھیں اور یونہی مغربی طاقتوں سے اسلحہ خریدتے رہیں۔ اس بارے میں جس واقعے پر بہت زیادہ تاکید کی جاتی ہے اور اسے بنیاد بنا کر ایران کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے وہ سعودی عرب کی آرامکو تیل تنصیبات پر ہوائی حملے ہیں۔ اگرچہ یمن کے مجاہدین اس کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں اور ایران بھی اس بات پر زور دے چکا ہے کہ وہ جو اقدام بھی انجام دیتا ہے اعلانیہ طور پر اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ حال ہی میں رویٹرز نیوز ایجنسی نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب اب تک آرامکو تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی اپنے دعوے کے قابل قبول ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
 
فرانس کے وزیر دفاع فلورینس پارلے نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد سعودی عرب کو میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا: "آئندہ کچھ دنوں میں یہ پیکج سعودی عرب بھیج دیا جائے گا اور اسے بہت جلد آپریشنل کر دیا جائے گا۔" لیکن یہ مسئلہ صرف ایران اور خطے میں مغربی طاقتوں کے روایتی اتحادی ممالک کو مضبوط بنانے کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ خطے میں چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی ملحوظ خاطر ہے۔ اسی طرح ترکی کی جانب سے مغرب اور نیٹو کو چھوڑ کر جدید اسلحہ خریدنے کیلئے روس کا رخ کرنا بھی اہم ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں خطے میں اپنے اتحادی ممالک کا خود سے دور ہو کر روس کی جانب جھکاو سے بھی خوفزدہ ہیں۔ اگرچہ اس وقت تک مغربی ممالک کا سب سے بڑا مقصد اسلحہ کی فروخت کے ذریعے آمدن کا حصول ہے۔ امریکہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر حتی داعش کی تشکیل نو کی بھی کوشش میں مصروف ہے۔ لہذا امریکہ خطے کو بدستور بدامنی اور عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ جنگ کے ذریعے عالمی سیاست میں داخل ہوا، جنگ کے ذریعے عالمی سیاست میں اپنی موجودگی کو جاری رکھا اور جنگ کے ذریعے زندہ ہے۔ جنگ اور بدامنی کا خاتمہ امریکی سیاست کا اختتام ثابت ہو گا۔

تہران (IRNA) ایک سینیئر ایرانی سیکورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزرنے میں ناکام ہوگيا ہے امریکہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے اس قسم کے من گھڑت دعوے کر رہا ہے۔

ایرانی سیکورٹی ذرائع نے کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز نے گزرنے کے امریکی دعوے کے تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میدان جنگ میں اپنی شکست کو چھپانے کے لیے جو دعوے کر رہا ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

مذکورہ ذریعہ نے مزید کہا کہ ایک بحری جہاز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی بھرپور کوشش ضرور کی تھی لیکن ایران کی مسلح فواج کی سخت وارننگ کے بعد واپس لوٹنے پر مجبور ہوگیا۔