سلیمانی

سلیمانی

امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ مہینے ایران کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل گرائے تاہم ان میں سے بڑی تعداد کو ایرانی دفاعی نظام نے ناکارہ بنادیا اور پھٹے بغیر زمین پر گرگئے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران میں امریکی اور اسرائیلی عسکری سازوسامان کے ناکارہ یا نہ پھٹنے والے حصوں کے ذریعے ریورس انجینئرنگ کی کوششوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔

متعدد مغربی اخبارات اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے حساس ٹیکنالوجی کے مطالعے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کی کشیدگی اب صرف براہ راست فوجی تصادم تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ٹیکنالوجی، ہتھیاروں کے حصول اور علاقائی طاقت کے توازن تک پھیل چکی ہے۔

برطانوی ویب سائٹ “آئی پیپر” نے سابق امریکی خفیہ اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ ایران وہ ہتھیار پرکھ رہا ہے جو یا تو پھٹے نہیں یا اس کی سرزمین پر آکر گرے۔ ان میں ٹاماہاک میزائل، MQ‑9 ریپر ڈرون، JASSM میزائل اور GBU‑57 قسم کے بینکر شکن بم شامل ہیں۔

مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عمل میں روس یا چین کی ممکنہ تکنیکی مدد بھی اہم ہے، کیونکہ اس سے امریکی ہتھیاروں کی رہنمائی، جامنگ اور اسٹیلتھ خصوصیات کو سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

اسی سلسلے میں گارڈین کے دفاعی ایڈیٹر ڈین صباغ نے لکھا کہ حالیہ حملوں سے ایران کی فوجی صلاحیت میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑا اور اس کے بہت سے ڈرون اور میزائل نظام اب بھی کام کر رہے ہیں۔

گارڈین میں ہی فواز جرجس نے اپنے جائزے میں کہا کہ ماضی میں ایران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوئی، اور اس دور کی کشیدگی نے ایران کو خطے میں نئے اثرورسوخ کے مواقع دیے ہیں۔

جرجس نے کہا کہ اس ٹکراؤ کے بعد ایران زیادہ پراعتماد ہو کر ابھرا اور اس نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں توانائی لے جانے والے جہازوں کی راہ کو خطرے میں ڈالنے کی اپنی صلاحیت استعمال کی، جس سے اسے اپنے ایٹمی پروگرام سے بڑھ کر ایک اضافی طاقت اور دباؤ کا ذریعہ مل گیا۔

 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے کہا ہے کہ مزاحمتی محاذ آج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور منظم ہوچکا ہے اور اس کے تمام اجزا ایک مضبوط اتحاد کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

جنرل قاآنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں دنیا کی توجہ حزب اللہ اور مزاحمتی محاذ کے دیگر اہم حصوں پر مرکوز ہے، جو میدان میں دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ صہیونی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، اور اب بھی جنوبی لبنان میں اسے شکست و ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

سپاہ قدس کے کمانڈر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ صہیونی حکومت کا مستقبل تاریک ہے اور مزاحمت کی قوت، اتحاد اور استقامت کے سامنے اس کے تمام منصوبے خاک میں ملتے رہیں گے۔

- روس کے صدر نے سینٹ پیٹرزبرگ میں وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا شاندار استقبال کیا۔ ذرائع ابلاغ ان کی ابتدائی گفتگو پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔

مصافحہ اور استقبالیہ بات چیت کے موقع پر وزیر خارجہ عراقچی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی اور صدر ڈاکٹر پزشکیان کا سلام آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں جس پر ولادیمیر پوتین نے کہا کہ گزشتہ ہفتے رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کا خط انہیں موصول ہوا۔

روس کے صدر نے سید عباس عراقچی سے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کے پیغام کے لیے اعماق دل سے میری قدردانی کا پیغام انہیں پیش کیجیے گا۔

ولادیمیر پوتین نے سید عباس عراقچی سے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی سے بتایا جائے کہ روس بھی ایران کی طرح اسٹریٹیجک تعلقات کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

روس کے صدر نے رہبر انقلاب اسلامی کی صحت اور کامیابی کی بھی آرزو کی اور کہا کہ امید ہے کہ نئے رہبر کی ہدایات کے تحت اور اپنے شجاعت اور خودمختاری کے جذبے کی بنیاد پر، ایرانی عوام اس مشکل دور سے گزرتے ہوئے امن حاصل کے ساحل سے ہمکنار ہوں گے۔

 الجزیرہ نے ایک تفصیلی مضمون میں جنگی حالات کے دوران ایران کی معیشت کی مضبوطی کے 8 اہم عوامل کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے کہ ان ذرائع کی بدولت ایران موجودہ صورتحال میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی بندرگاہوں، خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان پر عائد بحری پابندیاں ایران کی معیشت کو ایک بڑے امتحان سے دوچار کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ ایران کس حد تک امریکی دباؤ کو قابو میں رکھتا ہے اور اسے اندرون ملک منتقل ہونے سے روکتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کی معاشی مضبوطی 8 بنیادی ستونوں پر قائم ہے، جن میں تیل کی مقامی پیداوار، ریفائنری اور ایندھن کے مراکز، غذائی تحفظ، پیٹروکیمیکل صنعت، ہمسایہ ممالک سے غیر بحری تجارت، بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں، مشرقی زمینی و ریلوے راستے اور ہنگامی معاشی اقدامات شامل ہیں۔

پہلا عنصر تیل کے شعبے میں مقامی پیداوار کا فروغ ہے۔ ایرانی وزارت تیل کے مطابق اس صنعت میں درکار 80 فیصد سے زائد آلات ملک کے اندر ہی تیار کیے جاتے ہیں، جس سے بیرونی پابندیوں کا اثر کم ہوتا ہے۔

دوسرا اہم عنصر تیل کی ریفائننگ اور مقامی ایندھن کی فراہمی کا تسلسل ہے۔ جون 2025 تک ایران کی ریفائننگ صلاحیت 24 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی تھی اور تمام ریفائنریز مکمل استعداد سے کام کر رہی تھیں، جبکہ ایندھن کی ترسیل بھی بغیر رکاوٹ جاری رہی۔

تیسرا عنصر غذائی تحفظ ہے، خاص طور پر گندم میں خود کفالت ہونا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 50 لاکھ ٹن سے زائد بنیادی اشیاء ذخیرہ تھیں اور کئی ہفتوں بعد بھی ہنگامی ذخائر کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

چوتھا عنصر پیٹروکیمیکل شعبہ ہے، جو غیر تیل برآمدات کا 25 فیصد اور صنعتی پیداوار کا 19 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں یہ شعبہ ملک کی تقریباً نصف غیر ملکی آمدن کا ذریعہ رہا ہے۔

پانچواں عنصر ہمسایہ ممالک کے ساتھ غیر بحری تجارت ہے۔ ایران کی 15 پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت 2023 میں 74 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چھٹا عنصر شمالی ایران میں بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں اور شمال-جنوب راہداری ہے، جو جنوبی بندرگاہوں پر دباؤ کے باوجود متبادل راستے فراہم کرتی ہیں۔

ساتواں عنصر مشرقی زمینی اور ریلوے راستے ہیں، جہاں افغانستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مال برداری میں اضافہ ہوا ہے، جو بحری پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہے۔

آٹھواں عنصر ہنگامی معاشی اقدامات ہیں، جن میں 65 نکاتی پیکج شامل ہے، جس کا مقصد تجارت اور پیداوار کو آسان بنانا ہے، جیسے بنیادی اشیاء کی درآمد کو ترجیح دینا اور صنعتی مشینری کی اجازت دینا۔

رپورٹ میں ماہر اقتصادیات پیمان مولوی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران نے برسوں کی پابندیوں کے دوران اپنی معیشت کو اس انداز میں ڈھال لیا ہے کہ کم از کم پیداوار کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر خوراک کے شعبے میں۔

ایک اور ماہر آیزاک سعیدیان کے مطابق ایران کے پاس 6 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل زمینی سرحدیں ہیں، جو تجارت اور برآمدات کے لیے اہم راستے فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے کی پابندیوں نے ایران کو غیر رسمی تجارتی طریقے اپنانے پر مجبور کیا، جو اگرچہ مہنگے اور خطرناک ہیں، لیکن مختصر مدت میں برآمدات، خصوصاً تیل کی ترسیل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بیرونی انحصار میں کمی کی پالیسی نے بھی ایران کو بعض بنیادی اشیاء کی درآمد کم کرنے میں مدد دی ہے۔

مغرب کا سورج اب محض ڈوب ہی نہیں رہا بلکہ اس کی وہ چمک بھی ماند پڑ چکی ہے جو کبھی دنیا پر اپنی ہیبت اور طاقت کا سکہ جمائے ہوئے تھی۔ ایران پر دباؤ، حملوں اور مسلسل پابندیوں کے باوجود اسے جھکانے میں ناکامی نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ امریکہ کی وہ دھاک، جس کے سہارے وہ عالمی فیصلے مسلط کرتا تھا، اب کمزور پڑ رہی ہے۔ ایران کی مزاحمت نے نہ صرف عسکری سطح پر جواب دیا بلکہ ایک نفسیاتی دیوار بھی گرا دی—وہ دیوار جس کے پیچھے “ناقابلِ شکست سپر پاور” کا تصور کھڑا تھا۔

یہ معاملہ اب کسی ایک ملک یا ایک جنگ کی حدود میں قید نہیں رہا، بلکہ اس نے عالمی طاقت کے پورے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب ایک ایسا ملک، جو برسوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری دھمکیوں کے حصار میں گھرا ہو، نہ صرف ڈٹ کر کھڑا ہو جائے بلکہ جواب دینے کی صلاحیت بھی دکھا دے، تو یہ منظر صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام بن جاتا ہے۔ یہ پیغام یہ ہوتا ہے کہ طاقت کا پرانا پیمانہ ٹوٹ رہا ہے، اور اب فیصلہ صرف اسلحے کی کثرت یا معیشت کے حجم سے نہیں بلکہ عزم، حکمتِ عملی اور استقلال سے بھی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک—چاہے وہ کھل کر اظہار کریں یا خاموشی سے—اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو سمجھ رہے ہیں اور اپنے تعلقات، ترجیحات اور اتحادوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ طاقت اب ایک مرکز سے پھسل کر کئی مراکز میں تقسیم ہو رہی ہے، اور دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کوئی ایک طاقت مطلق حاکم نہیں رہے گی۔

افقِ مشرق پر ابھرنے والی یہ نئی روشنی اب محض ایک ادبی استعارہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چین کی برق رفتار معاشی ترقی، روس کی مستقل عسکری و اسٹریٹجک موجودگی، اور ایران جیسی ریاستوں کی مزاحمتی حکمتِ عملی نے مل کر ایک ایسے عالمی ڈھانچے کی بنیاد رکھ دی ہے جو مغرب کی یکطرفہ برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ صرف طاقت کا بدلتا ہوا نقشہ نہیں بلکہ سوچ اور خوف کے توازن کی تبدیلی بھی ہے۔ وہ زمانہ، جب فیصلے ایک ہی دارالحکومت سے صادر ہوتے تھے اور باقی دنیا انہیں قبول کرنے پر مجبور ہوتی تھی، اب بتدریج پیچھے رہتا جا رہا ہے۔ اس کی جگہ ایک ایسا دور جنم لے رہا ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات، نظریات اور حکمتِ عملیوں کے ساتھ عالمی فیصلوں میں شریک ہو رہی ہیں۔

یہ تبدیلی نہ شور و ہنگامے کے ساتھ آئی ہے اور نہ کسی ایک واقعے نے اسے جنم دیا ہے، بلکہ یہ ایک تدریجی مگر فیصلہ کن عمل کے طور پر سامنے آ رہی ہے جس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت، سفارت کاری اور حتیٰ کہ عوامی ذہنوں تک سرایت کر چکے ہیں۔ طاقت کا وہ تصور، جو برسوں تک ایک ہی مرکز کے گرد گھومتا رہا، اب بکھر رہا ہے۔ اب فیصلے یک طرفہ نہیں رہے، اور نہ ہی کوئی ایک قوت اپنی مرضی کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کی سابقہ حیثیت رکھتی ہے۔ خوف اور دباؤ کا وہ توازن، جو کبھی صرف ایک سمت میں جھکا ہوا تھا، اب تبدیل ہو رہا ہے—اور یہی تبدیلی دنیا کے رویّوں، اتحادوں اور ترجیحات میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں میں ابھرنے والی نئی صف بندیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ ایک نیا عالمی نقشہ ترتیب پا رہا ہے۔ مشرقی طاقتیں صرف معاشی یا عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ فکری اور سیاسی سطح پر بھی اپنی موجودگی منوا رہی ہیں۔ وہ ریاستیں جو کبھی عالمی دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور تھیں، اب نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع کر رہی ہیں بلکہ عالمی فیصلوں میں فعال کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں خود اعتمادی، مزاحمت اور باہمی تعاون جیسے عناصر نمایاں ہو رہے ہیں، جو ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد بن رہے ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک نظام کے زوال کی داستان نہیں بلکہ ایک نئے دور کی تشکیل کا مسلسل عمل ہے۔ مغرب کی وہ شام، جو طویل عرصے تک طاقت، برتری اور فیصلہ سازی کی علامت بنی رہی، اب بتدریج ڈھل رہی ہے، جبکہ مشرق کا افق ایک نئی روشنی سے روشن ہو رہا ہے۔ یہ روشنی صرف عسکری یا معاشی قوت کی نہیں بلکہ خود اعتمادی، استقامت، فکری آزادی اور باوقار مزاحمت کی علامت ہے—ایک ایسا عالمی توازن جنم لے رہا ہے جس میں دنیا ایک سے زیادہ مراکز کے گرد گردش کرے گی اور جہاں فیصلے محض طاقت کے زور پر نہیں بلکہ اشتراک، مفاہمت اور توازن کے اصولوں کے تحت طے ہوں گے۔

اس بدلتی ہوئی تصویر میں ایران کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایران کی ہمت، اس کی مستقل مزاج سیاست، اور دباؤ کے باوجود نہ جھکنے کا عزم اس پورے منظرنامے میں ایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ برسوں کی سخت اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور مسلسل عسکری خطرات—یہ سب ایسے عوامل تھے جو کسی بھی ریاست کو کمزور کر سکتے تھے، مگر ایران نے ان حالات کو اپنی کمزوری کے بجائے اپنی طاقت میں بدل دیا۔ اس نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا بلکہ ایک ایسا سیاسی و فکری بیانیہ بھی قائم کیا جس میں خود انحصاری، مزاحمت اور خود داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

ایران کی یہی استقامت دراصل اس وسیع تر تبدیلی کی علامت بن گئی ہے جو آج دنیا میں رونما ہو رہی ہے۔ اس نے یہ تصور توڑا ہے کہ عالمی دباؤ کے سامنے جھک جانا ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ اس کے برعکس، اس نے ثابت کیا کہ مستقل مزاجی، حکمت عملی اور عوامی حمایت کے ساتھ ایک ریاست نہ صرف اپنا دفاع کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، چاہے کھل کر یا خاموشی سے، اس ماڈل کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے فیصلوں میں اس سے اثر قبول کر رہے ہیں۔

یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرق کے اس ابھرتے ہوئے منظرنامے میں ایران صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک علامت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے—ایک ایسی علامت جو مزاحمت، خود مختاری اور نئے عالمی توازن کی تشکیل کی نمائندگی کرتی ہے۔ مغرب کی ڈھلتی ہوئی شام کے مقابل، مشرق کی یہ نئی روشنی اسی عزم اور استقامت سے اپنی توانائی حاصل کر رہی ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو آنے والے عالمی نظام کی بنیادوں کو تشکیل دے رہا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور صہیونی حکومت کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہو گا۔  

انہوں نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں امریکہ کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی میں توسیع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مکمل جنگ بندی اس وقت ہی معنی رکھتی ہے جب محاصرہ اور عالمی اقتصاد کو یرغمال بنانے کا سلسلہ بند ہو، اور صہیونی حکومت ہر محاذ پر جارحیت روک دے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ فوجی حملوں کے ذریعے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ طاقت آزمائی کے بجائے ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔

ویانا میں روس کے مستقل مندوب میخائیل اولیانوف نے کہا ہے کہ تہران- واشنگٹن مذاکرات کی شکست کے لیے امریکہ اور اس کے جلدبازانہ اور متضاد موقف ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے عدم انعقاد کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹہرایا۔

روس کے مستقل مندوب نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مذاکرات کے لیے مناسب ہماہنگی عمل میں نہیں آئی ہے۔

میخائیل اولیانوف نے امریکی صدر کی سوشل میڈیا پر پیغامات کی بمباری اور متضاد بیانات کے بارے میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے جلدبازانہ اور متضاد موقف کا افراط دیکھا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مذاکرات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں تہران کی عدم شمولیت کی اصل وجہ واشنگٹن سے ملنے والے متضاد پیغامات ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ ایرانی جہازوں نے امریکی بحری بیڑے کے پاس سے گزر کر ٹرمپ کے مبینہ محاصرے کو توڑ دیا ہے۔

ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ ایران کے جہازوں کی "گوسٹ فلیٹ" امریکی جنگی جہازوں کے قریب سے گزر کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ جنگ بندی اور تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ تلاطم پایا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ ان جہازوں کو "گوسٹ فلیٹ" کا نام دیتے ہیں جو امریکی پابندیوں کو نظرانداز اور بائی پاس کرتے ہوئے بین الاقوامی تجارت میں مصروف ہیں۔

 سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے کمانڈر نے خطے کے ممالک کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی زمین، جغرافیہ یا عسکری اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا تو انہیں توانائی کی سلامتی اور تیل کی پیداوار کو خیرباد کہنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق جنرل موسوی نے ایرانی عوام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ حالیہ مسلط کردہ جنگ کو پچاس دن سے زیادہ گزرچکے ہیں اور ان دنوں میں ایرانی عوام نے سڑکوں، میدانوں اور مختلف محاذوں پر موجود رہ کر ثابت کر دیا کہ ایران کی اصل طاقت قوم کا پختہ عزم اور غیر متزلزل حمایت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود کو اس ملت کا ایک معمولی فرزند سمجھتے ہیں اور عوام کے صبر، بصیرت اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں۔

جنرل موسوی نے بتایا کہ سپاہ کی فضائیہ کے جوانوں نے چالیس دن و رات لانچروں پر ڈٹے رہ کر دشمن کی طاقت کے غرور کو توڑا اور موجودہ فوجی خاموشی کے دوران بھی پوری ہوشیاری کے ساتھ دفاعی تیاری برقرار رکھی۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ بندی کے بعد بھی دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر دشمن نے دوبارہ کسی قسم کی جارحیت کی تو ایران کا جواب اس بار زیادہ سخت، فیصلہ کن اور پشیمان کن ہوگا۔

انہوں نے خاص طور پر خلیج کے جنوبی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک اپنی زمین، فوجی اڈے اور سہولتیں امریکہ اور ایران دشمن قوتوں کے حوالے کر رہے ہیں، انہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر ان کی سرزمین سے ایران کے خلاف حملہ کیا گیا تو پورے مشرق وسطی میں تیل کی پیداوار اور توانائی کی سلامتی شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔

اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران دھمکیاں دینے والا ملک نہیں، لیکن اپنی عزت، سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے دفاع میں کبھی بھی پس و پیش نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں، جیسے ملت کھڑی ہے۔

گارڈین کی ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ بعنوان "وائرل فتح: ایران سوشل میڈیا کی جنگ میں ٹیکنالوجی کے دیو ہیکل ملک کو شکست دیتا ہے" میں لکھتا ہے: اگر ایران اسی رفتار سے تباہ کن میزائل تیار کر سکتا جس رفتار سے وہ وائرل میمز بناتا ہے، تو امریکی مرکزی کمانڈ  (سینٹکام) اب تک ہتھیار ڈال چکی ہوتی۔

اخبار نے مزید لکھا ہے: ایران اور امریکہ کی اس کشمکش کا ایک عجیب اور غیر متوقع پہلو یہ ہے کہ ایران، جو ایک قدامت پسند حکومت اور مغربی ثقافت و میڈیا سے مخالفت کے باعث جانا جاتا ہے، اب سوشل میڈیا کی جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے اور اس نے اپنی جنریشن زیڈ کی ٹیکنالوجی سے وابستہ قوتوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے تاکہ طنز و مزاح کے ذریعے ٹرمپ کی حکومت کو نشانہ بنا کر مغربی عوام کو متوجہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ، جو اس وقت نکسن کی طرح مواخذے کے خطرے سے دوچار ہیں، مسلسل غلطیاں کرتے جا رہے ہیں اور انہیں اپنے سوشل پلیٹ فارم پر کی گئی وہ متنازع پوسٹ بھی حذف کرنا پڑی جس میں انہوں نے خود کو مسیح سے تشبیہ دی تھی، اور انہیں عالمی تجارت میں سست روی کی ذمہ داری بھی قبول کرنا پڑی۔

گارڈین نے مزید لکھا کہ ایران کی سوشل میڈیا کارکردگی۔ چاہے وہ اس کے سفارتخانوں کی آن لائن سرگرمیاں ہوں یا پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے ٹوئٹس، سب سے زیادہ حیران کن ہیں۔

یہ اس وقت ہو رہا ہے جب ایران چند ہفتوں سے انٹرنیٹ کی محدودیت یا تاریکی کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اسی تاریکی میں سے ایسی تخلیقی صلاحیت سامنے آ رہی ہے جو مغرب کو ہدف بنا رہی ہے۔ حکومت کے حامی اکاؤنٹس مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ لیگو طرز کی اینیمیشنز نشر کر رہے ہیں جن میں اپسٹین کے کیس کو ٹرمپ کی جنگ سے جوڑا جاتا ہے، یا پھر طنز اور خوداعتمادی کے ذریعے مغرب کی ناکامیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔

نرجس باجغولی، جو Johns Hopkins University  کے اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں مشرقِ وسطیٰ کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران کا مکمل میڈیا نظام مواد کی تیاری اور پیغام رسانی میں ٹیکنالوجی کی بڑی طاقتوں سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہے۔

انہوں نے وضاحت کی: جنگیں دو میدانوں میں لڑی جاتی ہیں، ایک حقیقی جنگ کا میدان اور دوسرا میڈیا کا میدان۔ ایران میڈیا کے میدان، خصوصاً سوشل میڈیا پر عالمی سطح پر نمایاں حد تک برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔