سلیمانی
ایران کی کوششوں کے بعد لبنان میں ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی قوی امکانات
عرب چینل نے ایران کے ایک اعلی سیاسی و سیکورٹی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران کے دباؤ کے نتیجے میں لبنان میں آج رات سے ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی نافذ ہوجائے گی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ جنگ بندی لبنان میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور امن قائم رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔
عرب میڈیا میں ایران کی کوششوں کو اس فیصلے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
امن ہو یا جنگ، ایران اور مقاومتی تنظیمیں ایک جان دو قالب ہیں، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا ہے کہ لبنان میں مکمل اور مستحکم جنگ بندی کا قیام حزب اللہ کی مضبوط مزاحمت اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ طے شدہ معاہدے پر عمل کرے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اور مقاومتی تنظیمیں ایک جان دو قالب ہیں۔ جنگ کا وقت ہو یا جنگ بندی کا، دونوں ہمیشہ متحد رہیں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کو “پہلے اسرائیل” کی پالیسی سے دستبردار ہونا چاہیے۔
40 روز جنگ کے بعد امریکہ مذاکرات پر کیوں مجبور ہوا؟
ایران اور امریکہ کے درمیان چالیس دن تک شدید جنگ کے بعد ٹرمپ تہران کے ساتھ دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر مجبور ہوا۔ یہ جنگ بندی کسی حسن نیت کا نتیجہ نہیں بلکہ 40 روزہ عسکری اور اقتصادی ناکامی کے بعد مغربی اور صہیونی اتحادیوں کو درپیش بحران کا عملی مظہر تھا۔
پاکستان کی فعال ثالثی اور اسلام آباد میں ایک طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد یہ جنگ بندی طے پائی۔ تاہم، سات دن گزرنے کے بعد اس جنگ بندی کی کمزوری اور غیر یقینی صورتحال نمایاں ہوگئی ہے: امریکہ نے ایران کے بندرگاہوں کے سمندری محاصرے کا اعلان کیا، اسلام آباد میں مذاکرات 21 گھنٹے کے بعد بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے اور پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کی تجویز دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی قبول کرنا ایران کے خلاف اپنے فوجی اور اقتصادی مقاصد میں ناکامی اور محدود صلاحیت کا واضح اعتراف تھا۔
ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی
چالیس روزہ جنگ کے دوران ایران نے وعدہ صادق4 آپریشن کے تحت جدید حکمت عملی کے ساتھ میزائل اور ڈرون حملے کئے۔ بیک وقت طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل خرمشہر، فتاح، خیبرشکن، حاج قاسم، سجیل، کروز میزائل اور ہزاروں خودکش ڈرونز شاہد-136، مهاجر-6 اور آرش فائر کیے گئے۔
ان میزائلوں اور ہزاروں ڈرون طیاروں سے اسرائیل، امریکی اڈوں اور امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے اہم اقتصادی مراکز، تیل کی تنصیبات، نواٹیم اور رامون کے ہوائی اڈے، امریکی کمانڈ مراکز اور بحیرہ احمر میں امریکی جنگی جہازوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا مقابلہ کرنے میں دشمن کے جدید دفاعی نظام آئرن ڈوم، ایرو، پیٹریاٹ اور ٹی اے ڈی جیسے کافی حد تک ناکام رہے، جس سے مغرب کی ناقابل شکست ٹیکنالوجی برتری کا تصور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں امریکہ کے روزانہ دفاعی اخراجات کو اربوں ڈالر تک پہنچ گئے۔
اقتصادی بحران اور عالمی دباؤ
چالیس روزہ جنگ صرف فوجی تصادم تک محدود نہیں تھی بلکہ ایک مکمل اقتصادی جنگ بھی تھی۔ عالمی بینک اور CSIS کی رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران اسرائیل کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، جی ڈی پی میں واضح کمی آئی، جبکہ امریکہ کے براہ راست فوجی اخراجات بھی اربوں ڈالر تک جا پہنچے۔ اسی دوران ایران کی جانب سے ہرمز کے اہم آبی راستے کی بندش نے عالمی تیل کی ترسیل کو بھی متاثر کیا۔
اگر جنگ جاری رہتی تو تل ابیب کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا اور امریکہ کو خطے میں اپنے بعض فوجی اڈوں سے انخلا پر مجبور ہونا پڑتا۔ یہی خطرات جنگ بندی پر آمادگی کی ایک بڑی وجہ بنے۔
پاکستان کا مرکزی کردار؛ ایک غیرجانبدار اور مؤثر ثالث
اس صورتحال میں پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک حیثیت کی وجہ سے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات اور اس کی دفاعی صلاحیت نے اسے ایک قابل اعتماد ثالث بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دو مرحلوں پر مشتمل مذاکراتی فریم ورک کے ساتھ جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات میں امریکی نائب صدر جی ڈی ونس، امریکی خصوصی نمائندہ، اور ایرانی اعلی حکام بشمول محمدباقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔ تاہم یہ مذاکرات 21 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔
جنگ بندی کا آٹھواں دن؛ کشیدگی برقرار، خلاف ورزیاں جاری اور دوسرے مرحلے کی تیاری
جنگ بندی کے نفاذ کے آٹھ دن بعد صورتحال اب بھی غیر یقینی اور نازک دکھائی دے رہی ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل خلاف ورزیاں کررہے ہیں اور مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ امریکہ نے ایران کے بندرگاہی راستوں اور ہرمز آبنائے پر سمندری محاصرے کی پالیسی اختیار کی ہے، جس سے صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان حملوں کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ اسرائیلی حکومت نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادھر پاکستان نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تجویز دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آئندہ دنوں میں دوبارہ مذاکرات کے امکان کو تسلیم کیا ہے۔
ماہرین اس جنگ بندی کو ایک عارضی وقفہ قرار دے رہے ہیں، جس میں ایک طرف خطے میں نئی ڈیٹرنس کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف بڑی طاقتیں اپنی پوزیشن دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چالیس روزہ جنگ کے بعد نافذ ہونے والی یہ جنگ بندی دراصل کسی مستقل سیاسی حل کا آغاز نہیں بلکہ فریقین کی تھکن اور دباؤ کا نتیجہ ہے۔
پاکستان نے اس عمل میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے خود کو خطے میں ایک مؤثر سفارتی مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات میں خطے کی سیکیورٹی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور امریکی فوجی اڈے جیسے اہم امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اصل تنازع ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں مستقبل کی سمت کا انحصار آئندہ مذاکرات اور زمینی حقائق پر ہوگا۔
مہر خبررساں ایجنسی دفاعی ڈیسک،
ایران نے 5 علاقائی ممالک سے تاوان جنگ ادا کرنے کا مطالبہ کردیا
امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن عالمی سطح کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بندی کریں جن میں حملہ آوروں کو اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت دینا اور بعض صورتوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف غیر قانونی حملوں میں حصہ لینا بھی شامل ہے۔
خط میں آيا ہے کہ مذکورہ ملکوں کے یہ اقدامات 14 دسمبر 1974 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 (29ویں اجلاس) خلاف ورزی شمار ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب کے خط میں آيا ہے کہ مذکورہ پانچوں ممالک نے عالمی سطح کے غلط اقدامات کے ذریعے ایران کے حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پامال کیا ہے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔لہذا ان ممالک پر یہ بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کو پہنچنے والے مادی اور اخلاقی نقصانات کو مکمل تاوان ادا کریں۔
حزب اللہ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا
مہر خبررساں ایجنسی؛ حسام الدین حیدری: "حزب اللہ کو تنہا نہ چھوڑیں" یہ جملہ بظاہر ایک سیاسی مشورہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک گہری تزویراتی، تاریخی اور تہذیبی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کے چیف ایڈیٹر نے اپنی یاد داشت میں لکھا کہ ایسے وقت میں جب امریکی۔صہیونی محاذ نے ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی جنگ کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لانے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، حزب اللہ نے فوری طور پر میدان میں آ کر مقابلے کا بڑا حصہ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ یہ محض علامتی حمایت نہیں تھی بلکہ اس اقدام نے جنگ کے میدان اور نفسیاتی فضا دونوں میں توازن کو بدل دیا۔
اداریے میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حالات میں جب جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، صہیونی حکومت کے طرز عمل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ تو عالمی اصولوں کی پابند ہے اور نہ ہی جنگ بندی کو سنجیدگی سے لیتی ہے، بلکہ اسے اپنی طاقت بحال کرنے اور دوبارہ حملے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ لبنان پر حملے اور شہریوں کا قتل اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
چیف ایڈیٹر کے مطابق اگر جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا کوئی عملی جواب نہ دیا گیا تو اس کا پیغام پورے خطے میں جائے گا کہ جارحیت کی قیمت زیادہ نہیں اور قوانین کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
اخلاقی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کو ضرورت کے وقت تنہا چھوڑ دینا نہ صرف انسانی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے تزویراتی طاقت بھی کمزور ہوتی ہے۔ حزب اللہ اور لبنان کے عوام نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا تعلق محض وقتی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ خطرات اور مستقبل کی سمجھ پر قائم ہے۔
اداریے میں مزید کہا گیا کہ خطے کے حالیہ تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ جب بھی مزاحمتی محاذ کا کوئی حصہ کمزور ہوا، دباؤ فوری طور پر دوسرے حصوں تک منتقل ہو گیا۔ شام کی صورتحال، حماس پر دباؤ اور حزب اللہ پر حملوں نے بالآخر ایسے حالات پیدا کیے کہ دشمن نے براہ راست ایران کو نشانہ بنانے کی جرات کی۔
لبنان کے عوامی ردعمل کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر وہاں کے لوگ خود کو تنہا محسوس کریں تو یہ احساس بداعتمادی میں بدل سکتا ہے، جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے گا اور خطے میں قائم اعتماد کو کمزور کرے گا۔
آخر میں چیف ایڈیٹر نے زور دیا کہ آج کی دنیا میں سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ تہران کی سلامتی بیروت اور اس کے نواحی علاقوں سے الگ نہیں۔ اس لیے حزب اللہ اور لبنان کا دفاع کوئی جذباتی یا محض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر تزویراتی ضرورت ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت مستقبل میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
شہادتِ امام جعفر صادقؑ، علم و حکمت کا لازوال باب
اسلامی تاریخ میں اہلِ بیتِ اطہارؑ کی ہستیاں علم، تقویٰ اور ہدایت کا سرچشمہ رہی ہیں۔ انہی عظیم شخصیات میں Imam Jafar al-Sadiq کا نام نہایت درخشاں ہے۔ آپؑ نے ایسے دور میں زندگی گزاری، جب امتِ مسلمہ فکری انتشار اور سیاسی کشمکش کا شکار تھی، مگر آپؑ نے اپنی علمی بصیرت اور اخلاقِ حسنہ کے ذریعے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو محفوظ رکھا۔ آپؑ کی شہادت علم و معرفت کے ایک عظیم باب کے بند ہونے کے مترادف ہے۔
ولادت و نسب:
امام جعفر صادقؑ کی ولادت باسعادت 17 ربیع الاول 83 ہجری کو Medina میں ہوئی۔ آپؑ کا نسب پاک رسولِ اکرم ﷺ کے خاندان سے جا ملتا ہے۔ آپؑ کے والد گرامی Imam Muhammad al-Baqir اور دادا محترم Imam Zayn al-Abidin تھے۔ اس پاکیزہ خاندان میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے آپؑ کو بچپن ہی سے علم و معرفت کا ماحول میسر آیا۔
علمی مقام و خدمات:
امام جعفر صادقؑ کو بجا طور پر “امامِ علم” کہا جاتا ہے۔ آپؑ نے تفسیرِ قرآن، حدیث، فقہ، کلام، فلسفہ اور دیگر علوم میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپؑ کے درس میں ہزاروں طلبہ شریک ہوتے تھے اور آپؑ کی علمی مجلس ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپؑ کے شاگردوں میں Abu Hanifa اور Malik ibn Anas جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے، جو آپؑ کے علم و فضل کے معترف تھے۔ فقہِ جعفریہ کی بنیاد بھی آپؑ ہی نے رکھی، جو آج شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپؑ کی تعلیمات نے نہ صرف دینی علوم بلکہ سائنسی اور فکری میدانوں میں بھی اثرات مرتب کیے۔
اخلاق و کردار:
امام جعفر صادقؑ اخلاقِ حسنہ کے اعلیٰ نمونے تھے۔ آپؑ نہایت صابر، شاکر، متواضع اور سخی تھے۔ آپؑ کا طرزِ زندگی سادگی اور عبادت سے بھرپور تھا۔ آپؑ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتے اور لوگوں کو عدل، انصاف اور محبت کا درس دیتے تھے۔ آپؑ کی مجالس میں ہر شخص کو عزت دی جاتی تھی اور آپؑ مخالفین کے ساتھ بھی حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کی شخصیت ہر طبقۂ فکر کے لیے قابلِ احترام تھی۔
سیاسی حالات:
امام جعفر صادقؑ کا دور بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتوں کے درمیان تبدیلی کا زمانہ تھا۔ اس دور میں سیاسی بے چینی اور ظلم و ستم عام تھا۔ آپؑ نے سیاسی میدان میں براہِ راست تصادم کے بجائے علمی اور فکری اصلاح کو ترجیح دی، تاکہ دین کی اصل روح محفوظ رہ سکے۔ آپؑ نے اپنے علم کے ذریعے باطل نظریات کا رد کیا اور لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا۔
شہادت:
25 شوال 148 ہجری کو Medina میں آپؑ کو زہر دے کر شہید کیا گیا۔ آپؑ کی شہادت امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی۔ آپؑ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا، جو آج بھی اہلِ ایمان کے لیے مرکزِ عقیدت ہے۔
نتیجہ:
امام جعفر صادقؑ کی زندگی علم، تقویٰ اور صبر و استقامت کا ایک مکمل نمونہ ہے۔ آپؑ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے امت کو یہ سبق دیا کہ حقیقی کامیابی علم، اخلاق اور اللہ کی اطاعت میں ہے۔ آپؑ کی شہادت کے باوجود آپؑ کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم آپؑ کی سیرت پر عمل کریں اور اپنے معاشرے کو علم و اخلاق سے مزین کریں۔
بے گناہوں کے دفاع پر پاپ کی جرات کو سلام: آیت اللہ اعرافی کا اہم پیغام
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے عالمی کیتھولک چرچ کے رہنما پاپ لیون چهاردہم کے نام ایک اہم مکتوب میں ان کے جرات مندانہ اور انسانی موقف کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ “آپ نے مسیحیت کی حقیقی تعلیمات سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔”
اپنے پیغام میں آیت اللہ اعرافی نے موجودہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں جب ظلم کے خلاف خاموشی طاقتوروں اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعویداروں کی زبان بن چکی ہے، اور کئی عالمی رہنما سیاسی مصلحتوں میں الجھ کر حق گوئی سے گریزاں ہیں، ایسے میں پاپ کا بے گناہوں پر بمباری کی مذمت کرنا ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے اس آواز کو “تاریک دور میں روشنی کی کرن” قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جنہیں مسلمان بھی اولوالعزم انبیاء میں شمار کرتے ہیں، ہمیشہ امن، رحمت اور مظلوموں کے دفاع کا پیغام دیتے رہے ہیں، اور پاپ کا حالیہ موقف اسی الٰہی تعلیمات کی عملی تصویر ہے۔ ان کے مطابق، ویٹیکن صرف ایک مذہبی مرکز نہیں بلکہ انصاف کی آواز بلند کرنے کا پلیٹ فارم بھی بن سکتا ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاپ کے موقف نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دینی ضمیر آج بھی زندہ ہے اور دین انسانی معاشرے میں اخلاقی رہنمائی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظالموں کو عذابِ الٰہی کی یاد دہانی کرانا انبیاء کی مشترکہ سنت رہی ہے، اور یہی روش آج بھی اختیار کی جانی چاہیے۔
خط میں بین المذاہب ہم آہنگی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ قرآن اہلِ کتاب کو مشترکہ اقدار کی طرف بلاتا ہے، اور آج یہ مشترکہ نکتہ انسانیت کا دفاع اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ آیت اللہ اعرافی نے اعلان کیا کہ حوزہ علمیہ قم ویٹیکن کے ساتھ اس سلسلے میں مزید گہرے تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ اس اخلاقی ہم آہنگی کو ایک عالمی تحریک میں بدلا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ انبیائے الٰہی کی مشترکہ تعلیمات—جن میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شامل ہیں—آج بھی انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ ہیں، اور دنیا میں انصاف کی آواز ایک دن ظلم و تشدد پر غالب آئے گی۔
پوپ کی توہین انسانیت پر حملہ ہے: ایرانی پارلیمنٹ کےمسیحی ارکان کا بیان
تہران (IRNA) ایران کی پارلیمنٹ مجلسِ شورائے اسلامی میں عیسائی اقلیتوں آشوری، کلدانی کیتھولک اور ارمنی نمائندوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لئو چہاردہم کی توہین انسانیت کے خلاف اقدام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذہبی رہنماؤں کی توہین اور مقدسات کی بے حرمتی کسی بھی آزاد منش انسان کے لیے قابل قبول نہیں۔
ارنا کے مطابق، ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں اقلیتی نمائندوں شارلی انویهتکیه، آرا شاوردیان اور گقارد منصوریان نے اپنے بیان میں ایران سے متعلق پوپ لئو چہاردہم کے مؤقف کی قدردانی بھی کی۔
بیان میں کہا گیا کہ خدا انسانوں میں امن کے پیغام کو فروغ دینا چاہتا ہے تاکہ پوری دنیا ایک انسانی خاندان کی صورت اختیار کرے۔
پوپ لئو چہاردم کے نام اپنے پیغام میں عیسائی ارکان پارلیمان نے ایران کے خلاف حملوں کے بارے میں پوپ لئو چہاردم کے واضح مؤقف پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکی صدر کے ذریعہ پوپ کی اہانت کی مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ پوپ کی توہین نہ صرف عیسی مسیح کی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ امن، انصاف اور انسانیت کے اصولوں پر حملہ بھی ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ میں شکست قبول کریں، امریکی سابق سفارتکار کا ٹرمپ کو پیغام
ایران کے خلاف جنگ میں اہداف کی حصولی میں ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر پر اندرون ملک اور بیرون ملک دباو میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین اور سیاسی رہنما کسی منصوبہ بندی کے بغیر جنگ شروع کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید کررہے ہیں۔
رِچَـرڈ اسٹیـنگل، جو اوباما دور میں امریکہ کے سفارتکار رچرڈ اسٹینگل نے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا کہ وکٹر اوربان اپنی تمام آمرانہ یوں کے باوجود، آخر میں صحیح قدم اٹھایا اور انتخابی شکست کو قبول کیا، دھاندلی کے جھوٹے الزامات نہیں لگائے، اپنے حریف سے رابطہ کیا اور اسے مبارکباد دی۔
سابق امریکی سفارتکار نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ شکست کو قبول کیجیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ سبق ہے جو امریکی قدامت پسندوں کو وکٹر اوربان سے سیکھنا چاہیے۔
اسرائیل کی جانب سے جنوب لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، متعدد علاقوں پر حملے
جنگ بندی کے باوجود صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان کے جنوبی علاقوں پر حملے جاری ہیں۔
لبنان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جنوبی علاقوں، بشمول العباسیہ، صور، فلسیہ اور القاسمیہ میں اسرائیلی فضائیہ نے متعدد فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔
دوسری جانب، حزب اللہ لبنان نے اعلان کیا کہ گذشتہ روز بقاع میں ایک اسرائیلی جنگی طیارے کو زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ علاوہ ازیں، جنوب لبنان کے صدیقین علاقے میں حزب اللہ نے اسرائیلی ڈرون ہرمیس 450 - زیک کو تباہ کردیا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
