سلیمانی
ایران نے امریکہ کی تجویز کا جواب دے دیا
مجوزہ منصوبے کے مطابق، مذاکرات کے اس مرحلے میں پوری توجہ خطے میں جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی تازہ ترین تجویز پر اسلامی جمہوریہ ایران کا جواب پیر کے روز پاکستان کے ذریعے ارسال کر دیا گيا ہے ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے پہلے کئی بار اعلان کیا تھا کہ ایران کا جواب ، امریکہ کی تجاویز پر غور و خوض، مکمل جائزے اور حتمی نتیجے تک پہنچنے کے بعد، ارسال کیا جائے گا۔
ایرانی جواب کے مطابق ، مذاکرات کے اس مرحلے میں توجہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے موضوع پر مرکوز ہوگی۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر کی رہبر معظم انقلاب اسلامی سے ملاقات
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای سے ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی مجموعی دفاعی تیاریوں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ میں ایرانی فوج، پاسدارانِ انقلاب، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سکیورٹی و بارڈر فورسز، وزارت دفاع اور بسیجی رضاکاروں کی تیاریوں کا جائزہ شامل تھا۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کے تمام دستے دفاعی، جنگی حکمتِ عملی، عسکری منصوبہ بندی اور ضروری ہتھیاروں و سازوسامان کے لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکہ یا صہیونیوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی “اسٹریٹجک غلطی” یا جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا فوری، شدید اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مسلح افواج اور تمام رزمندگانِ اسلام کی جانب سے رہبر معظم انقلاب کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کی ہدایات پر مکمل عمل کرتے ہوئے آخری سانس تک انقلابِ اسلامی کے نظریات، ایران کی سرزمین، قومی خودمختاری، قومی مفادات اور ایرانی عوام کے دفاع کے لیے پرعزم رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر کو اپنے “جارحانہ عزائم” پر پچھتانا پڑے گا۔
ملاقات کے دوران رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی مسلح افواج کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے جاری “تیسری مسلط جنگ” کے تناظر میں دشمن کے خلاف اقدامات کے تسلسل اور مؤثر حکمتِ عملی کے لیے نئی ہدایات جاری کیں۔
ایران کی عاشورائی تہذیب کے مقابلے میں ٹرمپ کی شکست
دشمن کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت شروع کرنے کی وجوہات جاننے کے لیے دو چیزوں پر توجہ ضروری ہے: ایک ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور امریکہ اور دوسرا نیتن یاہو اور اسرائیل۔ ان میں سے ہر ایک اپنے مخصوص اہداف رکھتا ہے۔ ٹرمپ غرور، تکبر اور جھوٹی خوداعتمادی کا شکار ہو چکا تھا جس کی بنیادی وجہ، طاقت کے حصول کے لیے امریکی حکومت کے مخصوص انداز میں پوشیدہ ہے۔ دوسری طرف غاصب صیہونی رژیم کا وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو گذشتہ تقریباً 20 سال سے امریکہ میں ایسا احمق صدر تلاش کرنے میں مصروف تھا جو اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں کا ساتھ دیتے ہوئے ایران پر فوجی جارحیت کا آغاز کرے۔ چونکہ وہ بہت اچھی طرح اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ایران، سیاسی ارادے کے ساتھ ساتھ فوجی اور اقتصادی طاقت کے لحاظ سے بھی اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اپنے تمام تر دعووں کے باوجود براہ راست طور پر ایران سے دوبدو جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ لہذا بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے اندرونی حالات کی غلط تصویر پیش کر کے اور یہ دعوی کر کے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر اور اعلی فوجی قیادت ختم کر دی جائے تو آسانی سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے، ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر راضی کر لیا۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی محاذ کھول کر عملی طور پر امریکہ کے قومی مفادات کو اسرائیل کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ البتہ یہ سوال بھی جنم لے چکا ہے کہ کیا "ایپسٹن جزیرے" نامی اسکینڈل میں ٹرمپ نے بھی کوئی غلط حرکتیں کر رکھی ہیں اور کیا اسرائیلی حکام کے پاس ٹرمپ کی بھی کوئی تصاویر یا ویڈیوز موجود ہیں جنہیں بروئے کار لا کر صیہونی حکمرانوں نے ٹرمپ پر دباو ڈال رکھا ہے؟
امریکی اور صیہونی دشمن کے ایران سے متعلق غلط اندازے یہ تھے کہ وہ سوچ رہے تھے کہ چار دن کے اندر اندر ایران کا کام ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے لیکن جس حقیقت کا انہیں بعد میں علم ہوا، اور بہت سے سیاسی اور فوجی تجزیہ کاران اور ماہرین حتی مغربی ماہرین نے بھی اس کا اعتراف کیا، وہ یہ تھی کہ انہوں نے ایرانی قوم اور ایرانی تہذیب کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اس عظیم اور شیرین فتح کی بنیادی وجہ عوام کا مستحکم ارادہ اور قومی وحدت تھی جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے حوصلے بلند رکھے اور انہیں قوت قلب عطا کی۔ اس وحدت نے دشمنوں کو ایران کا طاقتور چہرہ دکھایا اور فتح کا حقیقی سبب بنا۔ امریکی اور صیہونی دشمن ابتدا سے ہی ایرانی قوم اور حکومت کے بارے میں شدید غلط فہمی کا شکار تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع سے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ اسے توقع ہے کہ ایران کی مسلح افواج، حکومت اور عوام بہت جلد خوف زدہ ہو کر ہتھیار پھینک دیں گے اور مجھ سے مذاکرات کے لیے منت سماجت شروع کر دیں گے۔ لیکن اسے یہ دکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ ایرانی ہر گز خوف زدہ نہیں ہوئے۔ یہ درحقیقت دشمن کی ایران سے متعلق وہی لاعلمی اور جہالت ہے جس کا ہم نے تذکرہ کیا ہے۔ دشمن، ایرانی قوم کے نظریات و افکار، حب الوطنی، اعلی اہداف، اور اس تہذیب سے لاعلم تھا جو گذشتہ 7 ہزار سال پر محیط ہے اور اس سرزمین کی تہذیب و تمدن تشکیل دیتی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز کر کے دنیا والوں پر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ ایرانی قوم اور ایران کی مسلح افواج ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں اور ان کا موازنہ کسی اور سے نہیں کیا جا سکتا۔
اس وقت دنیا والوں کے ساتھ ساتھ مغربی حکمران اور ماہرین بھی اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ ایرانی قوم کے نظریات اور عقائد اسلام کی بنیاد پر استوار ہیں۔ ایرانی قوم ایک عاشورائی تہذیب کی مالک قوم ہے جو دین کا دفاع کرنے اور اس مقصد کے لیے جان نچھاور کرنے کو اپنے لیے فخر سمجھتی ہے۔ یہ شہادت اور مزاحمت پر مبنی سوچ ہے جو جنگ کے میدان میں فتح اور کامیابی کا باعث بنتی ہے۔ یہ سوچ اور عقائد، دشمن کے لیے ہر قسم کے اسلحے سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہیں۔ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دو ماہ سے زائد عرصے تک ایرانی عوام مسلسل ملک کی حفاظت اور مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کرنے کے لیے ملک بھر میں ریلیاں نکال رہے ہیں۔ ان کی تعداد کروڑوں پر مشتمل ہے اور انہوں نے استقامت، مزاحمت، شجاعت اور سیاسی بصیرت کی اعلی مثال قائم کر دی ہے۔
اس وقت مغربی حکمران سمجھ گئے ہیں کہ ایران سے اس زبان میں بات نہیں کی جا سکتی جس زبان میں وہ دنیا کے دیگر ممالک سے بات کرتے ہیں۔ امریکہ نامی ملک کی کل تاریخ 500 سال سے زیادہ پر محیط نہیں ہے جبکہ اس میں سے بھی 250 سال خانہ جنگی اور قتل و غارت میں بسر ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ایران کی عظیم قوم ہے جس کی تاریخ 7 ہزار سال پر محیط ہے اور یہ تاریخ تہذیب و تمدن، علم اور انسانیت سے بھری پڑی ہے۔ لہذا مغربی حکمران اب اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ وہ فوجی طاقت اور دھونس کی بنیاد پر ایرانی قوم کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنی آخری تقریر میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ہم امام حسین علیہ السلام کے پیروکار ہیں اور "مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا" ہمارا لائحہ عمل ہے۔
تحریر: حجت اللہ سلطانی (وینزویلا میں ایران کے سابق سفیر)
ایران: آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے کا واحد راستہ، جنگ اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ہے
ارنا کے نامہ نگار کے مطابق، "امیر سعید ایروانی" نے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے ایک گفتگو میں کہا: امریکہ اور بحرین نے مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کی صورتحال پر ایک انتہائی ناقص، یکطرفہ اور سیاسی طور پر اشتعال انگيز قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکہ و بحرین دعوی کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کی آزادی کی حمایت کرنا ہے اور انہوں نے ایران کے خلاف کچھ بے بنیاد الزامات بھی لگائے ہیں، جبکہ زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ کے اقدامات اس کے اعلان کردہ اہداف سے واضح تضاد رکھتے ہیں اور امریکیوں نے صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور عدم استحکام کو گہرا کرنے کا ہی کام کیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کا موقف واضح ہے : آبنائے ہرمز کے سلسلے میں واحد پائیدار حل، جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے ۔ اس کے برعکس، امریکہ "بحری تجارت کی آزادی" کی آڑ میں سلامتی کونسل میں ایک ناقص اور سیاسی طور پر اشتعال انگيز قرارداد کا مسودہ پیش کر رہا ہے تاکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے اور غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دے سکے، نہ کہ بحران کو حل کر سکے۔
سعید ایروانی نے مزید کہا: اس قرارداد کے مسودہ کے ذریعے بین الاقوامی بحری تجارت کی حمایت کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اس کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سمیت امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے۔
جان پر کھیل کر بچوں کو نجات دینے پر ایرانی نرس کو خراج پیش
عراق میں ایران کی ثقافتی کونسل کے حوالے سے جاری بیان میں، ایران کے ثقافتی مشیر نے ندا سلیمی کے نام اپنے پیغام میں انہیں مسلم خواتین کی جرات کی ایک بے نظیر مثال قرار دیا اور تاکید کی کہ آپ کی یہ عالمی نوعیت کی قربانی، جس کے ذریعے آپ نے انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کے جذبے کے تحت معصوم بچوں کی جان بچائی، ہمیشہ کے لیے ایک مثالی نمونہ رہے گی۔ یہ قابلِ قدر اقدام ایک دوست اور قدر دان قوم کی جانب سے اعلیٰ ترین ستائش کا مستحق ہے۔
ندا سلیمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس خوفناک واقعے کے لمحات کو بیان کرتے ہوئے کہا: ان نازک لمحات میں خوف انسان پر غالب آجاتا ہے، لیکن جس چیز نے مجھے حرکت میں لایا وہ ان تین نومولود بچوں کے لیے احساسِ ذمہ داری تھا۔ وہ اللہ کی امانت تھے جن کی پیدائش کو ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا اور ان کی مائیں آپریشن تھیٹر میں تھیں۔ جب میں نے ان کے معصوم چہروں کو دیکھا تو ایک لمحے میں محبت نے خوف پر قابو پالیا اور میں نے انہیں گود میں لے کر بچانے کا فیصلہ کیا۔
اس فداکار نرس نے اس سوال کے جواب میں کہ جب یہ بچے بڑے ہوں گے تو آپ ان کے لیے کیا پیغام دیں گی، کہا: میں انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ تم اللہ کی طرف سے زندگی کا تحفہ ہو۔ کبھی نہ بھولو کہ زندگی ایک معجزہ ہے جسے محبت اور ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مستقبل میں مفید اور خدمت گزار انسان بنیں گے اور جس طرح ہم نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا، وہ بھی مشکل وقت میں اپنے ہم وطنوں اور امت مسلمہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
سلیمی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ نرسنگ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ میں کامیابی صرف فنی مہارت پر منحصر نہیں بلکہ انسانیت کا فن اور محبت سے بھرپور دل رکھنا بھی ضروری ہے۔ ایک کامیاب نرس وہ ہے جو مریض کی تکلیف کے تاریک ترین لمحات میں اس کے دل میں امید کی روشنی پیدا کرے۔
اس آن لائن نشست میں مختلف اسپتالوں اور صحت مراکز کے منتخب نرسوں اور منتظمین، یونیورسٹی اساتذہ اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی اور اس نرس کے بہادرانہ اور ایثار پر مبنی عمل کو سراہتے ہوئے ان کے لیے محبت اور قدردانی کا اظہار کیا، اور انہیں ایک باوقار اور باعمل مسلم خاتون کا مثالی نمونہ قرار دیا۔/
بحری فورس نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو ضبط کر لیا
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے ایک کمانڈو دستے نے ایران کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک آئل ٹینکر کو ضبط کرلیا۔
بحریہ کے کمانڈو فورس نے ایران کا تیل غیرقانونی طریقوں سے لے جانے کی کوشش کرنے والے اس جہاز کو ضبط کرکے ایران کے آبی حدود میں منتقل کردیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ یہ جہاز ایران کے تیل کی برآمدات اورعوام کے مفادات کو متاثر کرنا چاہتا تھا جسے ایران کے عدالتی حکم کے مطابق، ضبط کرلیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری فورس نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں ایران کے اقتدار اعلی اور قومی اور عوامی مفادات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
ایرانی بحریہ کے میزائل اور ڈرون طیاروں نے امریکی دشمن کے دانت کھٹے کئے
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ایک بیان میں ایران کی آبی سرحدوں کے پاس دشمن کی جانب سے جارحیت کے بارے میں بتایا گيا ہے کہ بحریہ نے مختلف میزائلوں، ڈرون طیاروں اور راکٹوں سے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، جنہوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب اور ایرانی ساحل کے قریب ایرانی تیل بردار جہاز پر حملہ کیا تھا۔
بیان میں زور دیا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد، جارح امریکی جنگی جہازوں نے اپنا رخ بدل لیا اور وہ اور علاقہ چھوڑ دیا۔
اس سے قبل خاتم الانبیاء سنٹرل کمان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جارح، دہشت گرد اور بحری قزاق امریکی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی آل ٹینکر پر حملہ کیا جو جاسک کے علاقے میں ایران کے ساحل سے آبنائے ہرمز کی طرف جا رہا تھا اسی طرح آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک اور ایرانی بحری جہاز کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کےقریب حملے کا نشانہ بنایا۔
بیان کے مطابق امریکی فوج نے اسی دوان خلیج فارس کے جنوب کے کچھ ممالک کے تعاون سے خمیر، سیرک بندرگاہوں اور جزیرہ قشم کے ساحلوں پر غیر فوجی مقامات پر فضائی حملے کئے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر کی جانے والی جوابی کارروائی میں، آبنائے ہرمز کے مشرق اور چابہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی بحری جنگی جہازوں پر حملہ کر دیا اور انہیں قابلِ ذکر نقصان پہنچایا۔
بیان میں خبردار کیا گيا ہے کہ مجرم اور جارح امریکہ اور اس کے حامی ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ کی طرح طاقتور اور بغیر کسی تردید کے، ہر قسم کی جارحیت اور حملے کا تباہ کن جواب دے گا۔
حزب اللہ کی جوابی کارروائی کے خوف سے10 لاکھ صیہونی آبادکار پناہ گاہوں میں چھپ گئے
حزب اللہ لبنان نے جمعے کے روز مقبوضہ سرزمینوں کی جانب 20 میزائل داغے جس کے خوف سے 10 لاکھ سے زیادہ صیہونی پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔
صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حزب اللہ کے ایک میزائلی حملے میں نہاریا علاقے میں واقع ایک عمارت تباہ ہوگئی اور ایک صیہونی آبادکار بھاگتے وقت زخمی ہوگیا۔
حزب اللہ نے اس کے علاوہ ڈرون حملوں سے غاصب اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں لبنان اور صیہونی حکومت کی سرحد کے قریب تین صیہونی فوجی زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
مقبوضہ سرزمینوں سے موصولہ ویڈیو فوٹیج میں، اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹروں کو متعدد زخمیوں کو منتقل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ کے ڈرون حملوں کے سامنے صیہونی فوج بے بس ہوگئی ہے یہاں تک کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے لبنان کی استقامتی تنظیم کے ڈرون طیاروں کو صیہونی حکومت کے لیے سنجیدہ خطرہ قرار دیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج سے کوئی ترکیب نکالنے کی اپیل کی ہے۔
اس کے علاوہ حزب اللہ کے مجاہدوں نے جمعے کے روز جنوبی لبنان میں واقع بیوت السیاد قصبے میں زبردستی داخل ہونے والے دو اسرائیلی ٹینکوں کو تباہ کردیا۔
ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا رابطہ؛ علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر گفتگو
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے میں جاری تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور خطے میں جاری سیاسی و سکیورٹی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ بات چیت اور سفارتکاری کا راستہ جاری رہنا چاہیے اور خطے کے ممالک کے درمیان تعمیری اور مثبت تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان تعاون سے پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور خطے میں کشیدگی اور تناؤ کے امکانات کو روکا جاسکتا ہے۔
فضائی حدود کسی جارحانہ حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی عرب
سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ ریاض اپنے فضائی حدود کو کسی بھی قسم کی جارحانہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
تفصیلات کے مطابق سعودی ذرائع نے سعودی چینل الحدث کو بتایا کہ عربستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود کو کسی بھی حملہ آور یا جارحانہ آپریشن میں استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعوی کیا تھا کہ سعودی عرب اور کویت نے امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں، تاہم سعودی حکام نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا۔
اسی حوالے سے سعودی چینل العربیہ نے بھی ایک سعودی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود کو کسی جارحانہ فوجی کارروائی کی حمایت کے لیے فراہم نہیں کیا اور نہ ہی اس کی اجازت دی گئی ہے۔
سعودی ذریعے نے مزید کہا کہ ریاض اس وقت صورتحال کو ٹھنڈا کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور وہ پاکستان کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنا اور کسی سمجھوتے تک پہنچنا ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ حلقے نامعلوم مقاصد کے تحت سعودی عرب کے موقف کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ ریاض کی پوزیشن کے بارے میں ایک گمراہ کن تصویر قائم کی جاسکے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
