سلیمانی
معاہدہ نہ بھی ہوا تو بھی امریکہ جنگ ختم کرکے نکل جائے گا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے ایک نیا اور حیران کن دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اب واشنگٹن جلد ہی اس جنگی مشن کو ختم کرنے جا رہا ہے، چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران پر حملے کے نتائج بیان کرتے ہوئے ایک بار پھر عجیب و غریب اور غیر معمولی دعوے کیے اور کہا کہ ایران کی حکومت تبدیل ہوچکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو عصر حجر میں واپس دھکیل دیا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بے بنیاد دعووں کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہمارا مشن بہت جلد مکمل ہوجائے گا، دو سے تین ہفتوں کے اندر ہم ایران کو چھوڑ دیں گے، اور ممکن ہے اس سے پہلے کوئی معاہدہ بھی طے پا جائے۔
ٹرمپ نے مزید دعوی کیا کہ ہم یہ آپریشن اس صورت میں بھی ختم کر دیں گے اگر کوئی معاہدہ نہ ہو۔ امریکہ بغیر معاہدے کے بھی جنگ روک دے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث خطے میں امریکی اور صہیونی مفادات شدید دباؤ میں ہیں اور واشنگٹن پر جنگ روکنے کے لیے داخلی و خارجی سطح پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی جنگی دلدل سے نکلنے کی کوششیں؛ ایران کے مسلسل حملے، 32 روز میں 5644 میزائل و ڈرون داغے گئے
، ایران کی جانب سے امریکی۔صہیونی جارحیت کے جواب میں بھرپور اور مسلسل جوابی کارروائیاں جاری ہیں، اور یہ آپریشن اب 33ویں روز میں داخل ہوچکا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دلدل سے نکلنے کے لیے بے بسی اور بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر چین اور پاکستان نے بھی جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کر کے ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ترک خبر رساں ایجنسی کی جانب سے بدھ کی صبح تک جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے گزشتہ 32 دنوں کے دوران کم از کم 5644 میزائل اور ڈرون اسرائیل اور عرب ممالک میں دشمن کی تنصیبات کی سمت فائر کیے، جبکہ اسی مدت میں دو جنگی طیاروں کے ذریعے ایک حملہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام متعدد بار واضح کرچکے ہیں کہ ان حملوں کا ہدف عرب ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور امریکی مفادات ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات میں رپورٹ ہوئے، اس کے بعد بالترتیب کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب اور اردن کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ عمان سب سے کم نشانہ بننے والا ملک بتایا گیا۔
اسی تناظر میں خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے 26 مارچ کو دعوی کیا تھا کہ خطے کے ممالک کی سمت پانچ ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون فائر کیے گئے۔
ایرانی قوم کی استقامت، عاشورا واقعے کا عصر حاضر میں تکرار
حجتالاسلام والمسلمین سید احمد موسوی، متولی مسجد حنّانہ نجف نے ایکنا سے گفتگو میں امریکی–صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: ایران کے عوام اور رہبر نے امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئے زمانے کے یزید یعنی ٹرمپ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور یہ راستہ بدستور جاری ہے۔
اس انٹرویو میں مسجد حنّانہ نجف کے متولی کے بیان کا متن درج ذیل ہے: إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا؛ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا
جب وہ تم پر اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے، اور جب آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں اور دل گلے تک آ پہنچے، اور تم اللہ کے بارے میں مختلف گمان کرنے لگے؛ وہاں اہلِ ایمان آزمائش میں ڈالے گئے اور سخت اضطراب سے دوچار ہوئے۔
آج مجرم امریکہ اور غاصب صہیونی عناصر خلیج فارس کے ان عرب ممالک کے ساتھ مل کر، جو خود کو مسلمان کہتے ہیں، ایران کے خلاف جنگ شروع کر چکے ہیں، اور رمضان کی اس جنگ کو ایک ماہ گزر چکا ہے۔
یہ جنگ بالکل جنگِ احزاب کی مانند ہے، جب مشرکین اور کفار نے ہر طرف سے نبی اکرم ﷺ پر حملہ کیا اور مدینہ میں محاصرہ کر لیا، لیکن بالآخر فتح نبی اکرم ﷺ کی ہوئی۔ آج بھی کامیابی غیور ایرانی قوم کی ہوگی جو میدان میں موجود ہے اور اسلام کے درخت کو اپنے پاک ترین انسانوں، بالخصوص اپنے بہادر اور غیور رہنما کے خون سے سیراب کر رہی ہے۔
یزید بن معاویہ نے امام حسینؑ سے کہا تھا کہ یا تو بیعت کرو یا قتل کر دیے جاؤ گے۔ : ألا وإن الدعي بن الدعي قد ركز بين اثنتين السلة أو الذلة و هیهات من الذّلّة؛
امام حسینؑ نے جواب دیا: خبردار! اس بدکار کے بیٹے بدکار نے مجھے دو چیزوں کے درمیان رکھا ہے: تلوار یا ذلت، اور ذلت ہم سے بہت دور ہے (ہیہات منا الذلة)۔
آج بھی زمانے کے یزید یعنی ٹرمپ نے شہید رہنما کے سامنے یہی بات رکھی، اور انہوں نے بھی یہی جواب دیا: "ہیہات منا الذلة۔
ایران کے عوام اور جبهۂ مقاومت نے بھی اپنے شہید رہنما کی پیروی کرتے ہوئے ٹرمپ کو ٹھکرا دیا اور کہا: "ہیہات منا الذلة۔ ہیہات منا الذلة۔"
یاد رہے کہ حجتالاسلام والمسلمین سید احمد موسوی، متولی مسجد حنّانہ نجف، عید الفطر کے بعد سے ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات میں شرکت کر رہے ہیں۔
ایران کا دفاع واجب شرعی ہے
آوا نیوز کے حوالے سے آیت اللہ محمد باقر فاضلی بہسودی، جو افغانستان کے شیعہ مراجع تقلید میں شمار ہوتے ہیں، نے اعلان کیا کہ قرآنِ کریم کی آیات کے مطابق امریکہ اور صہیونی رژیم کے خلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کا دفاع مسلمانوں پر " شرعی واجب" ہے۔
انہوں نے مصر کی مجلسِ علماء الازہر کے حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جبکہ امریکہ اور صہیونی رژیم برسوں سے اسلامی سرزمینوں، خصوصاً فلسطین میں قتل و غارت اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے ہیں، توقع یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے دینی ادارے ان ممالک کی حمایت کریں جو ان جارحیتوں کے خلاف کھڑے ہیں، نہ کہ ان کے دفاع کی مذمت کریں۔
اس مرجعِ تقلید نے سورۂ حج کی آیت 39 کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی کہ قرآنِ کریم نے مظلوموں کو دفاع کی اجازت دی ہے اور ان کی نصرت کا وعدہ بھی کیا ہے۔
آیت اللہ فاضلی بہسودی نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت صرف علماء کے فتوے یا ذاتی رائے تک محدود نہیں، بلکہ اس کی بنیاد قرآن کے صریح حکم میں ہے، اور ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق ذمہ دار ہے۔
انہوں نے ایران کے فوجی کمانڈروں اور سائنسی شخصیات کے قتل کو بھی دشمنانِ اسلام کی کھلی جارحیت قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات کے مقابلے میں دفاع اور مزاحمت ایک فطری اور جائز عمل ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں بعض سنی دینی اداروں کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے اقدامات کی مذمت نہ کرنا، اور اس کے برعکس ایک اسلامی ملک کے دفاع پر تنقید کرنا، مسلمانوں کے درمیان تشویش اور افسوس کا باعث بن رہا ہے۔
امریکہ نے اپنی حماقت سے دنیا کے تمام لوگوں کو "آبنائے ہرمز" سے محروم کردیا: جنرل فدوی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر کے مشاور ٹیم کے سربراہ جنرل علی فدوی نے کہا ہے کہ امریکہ یہ تصور کر بیٹھا تھا کہ ایران کو تباہ کرسکتا ہے لیکن کوئی بھی معمولی ہدف بھی حاصل نہیں کرسکا۔
جنرل علی فدوی نے کہا کہ امریکہ نے غلط اندازوں کے تحت کچھ اہداف معین کیے تھے جنہیں اپنے زعم میں 3 سے 5 دن میں حاصل کیا جانا تھا لیکن ان میں سے ایک ٹارگیٹ بھی پورا نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے مغربی ماہرین نے بھی امریکہ کی شکست کی تصدیق کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ایران کو تباہ کرسکتے ہیں لیکن ان کی اس غلطی کے نتیجے میں دنیا کے عوام آبنائے ہرمز سے محروم ہوگئے۔
فارما فیکٹری پر صیہونی حکومت کا وحشیانہ حملہ/ سخت سزا دی جائے گی: وزیر خارجہ عراقچی
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں ایران کی ادویات بنانے والی ترقی یافتہ فیکٹری پر صیہونی حملے کی خبر دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیر خارجہ عراقچی نے لکھا ہے کہ جنگی مجرم اسرائیل نے کھلے عام اور پوری بے شرمی کے ساتھ ادویات بنانے والی کمپنیوں پر بمباری شروع کردی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ صیہونیوں کی نیت واضح ہے لیکن دشمن ایران کو نہتے فلسطینی شہریوں کی طرح سمجھ بیٹھے ہیں۔
وزیر خارجہ نے انتباہ دیا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج جارحیت کرنے والوں کو سخت سزا دیں گی۔
ایران پر جارحیت میں ملوث آئی ٹی کمپنیاں، ہماری جوابی کارروائی کے نشانے پر ہیں: سپاہ پاسداران انقلاب کا انتباہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے شہری مراکز، عام شہریوں اور سول شخصیات پر حملہ نہ کرنے پر مبنی ہمارے انتباہات کو نظرانداز کیا لہذا اب کے بعد ICT اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرگرم تمام امریکی کمپنیاں جن کا ایران میں قتل عام کی ڈیزائننگ اور ٹارگیٹ کلنگ میں مرکزی کردار رہا ہے، ہماری جوابی کارروائی کے زد پر ہوں گی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ان کمپنیوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے اس میں سرگرم کارکنوں اور اطراف میں رہنے والے شہریوں کو تجویز دی ہے کہ اپنی جان محفوظ رکھنے کے لیے ان کمپنیوں کے دفاتر سے کم از کم 1 ہزار میٹر کی دوری برقرار رکھیں۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ تمام کمپنیاں جنہوں نے مذکورہ دہشت گردانہ اقدامات میں مرکزی کردار ادا کیا ہے، انہیں ضرور نشانہ بنایا جائے گا۔
اس انتباہی بیان میں آیا ہے کہ ایران پر ہر جارحیت اور ہر قاتلانہ حملے کی صورت میں بدھ، پہلی اپریل شام 8 بجے سے درج ذیل کمپنیاں، ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی زد میں آئيں گی۔
1. sisco
2. HP
3. Intel
4. Oracle
5. microsoft
6. Apple
7. Google
8. Meta
9. IBM
10. DEL
11. Plantier
12. Nvidia
13. GP. Morgan
14. Tesla
15. GE
16. Spire Solution
17. G42
18. Boeing
امریکی و صہیونی اہداف پر برق رفتار حملے؛ دشمن کے درجنوں ڈرون تباہ
جنگ کے بتیسویں روز بھی ایران کی مسلح افواج نے امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور مختلف محاذوں پر دشمن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران کی بحریہ نے امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف ایک بھاری حملہ کیا جس میں دشمن کو شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تازہ حملوں میں ایرانی میزائلوں کی ایک نئی لہر تل ابیب کی جانب داغی گئی جس کے بعد تل ابیب، اس کے جنوبی علاقوں اور مغربی کنارے کی شمالی بستیوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
صہیونی میڈیا کے مطابق صرف دس منٹ کے اندر ایران کی جانب سے تل ابیب پر دو میزائل حملے کیے گئے اور مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسی دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے عمومی علاقے میں دشمن کا ایک جدید MQ‑9 ڈرون نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ایران کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مار گرائے گئے امریکی و صہیونی ڈرونز کی مجموعی تعداد 146 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب سپاہ پاسداران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کی مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پینٹاگون کے دعوے کے برعکس ایک ماہ گزرنے کے باوجود ایران کی حملہ آور صلاحیت میں کمی نہیں آئی بلکہ حملے پہلے سے زیادہ منظم، مربوط اور شدید ہوگئے ہیں۔
خطے میں امریکی اڈوں پر حملے جاری، مزید فوج ہلاک و زخمی
خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق کویت کی وزارتِ بجلی نے تصدیق کی ہے کہ ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹ پر حملے کے نتیجے میں ایک بھارتی مزدور ہلاک جبکہ پلانٹ کو شدید نقصان بھی ہوا ہے۔
کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ملک کی فضائی حدود میں 14 بیلسٹک میزائل اور 12 ڈرون کی نشاندہی کی گئی۔ بعض حملوں کا ہدف مسلح افواج کا ایک کیمپ تھا جس کے نتیجے میں 10 فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک نجی لاجسٹک کمپنی کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے مالی نقصان ہوا تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رپورٹس کے مطابق کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سعودی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں واقع ایک امریکی اڈے کی جانب پانچ بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ جس کے بعد شہریوں کو ہنگامی الرٹ سسٹم کے ذریعے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا۔
دوسری جانب بحرین میں بھی کم از کم سات دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
عراق میں ایک ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ بغداد ایئرپورٹ کے مغرب میں واقع امریکی لاجسٹک سپورٹ کیمپ (ویکٹوریا بیس) کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہاں سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
مزید اطلاعات کے مطابق اربیل میں الحریر امریکی اڈے کو بھی ایک میزائل نے نشانہ بنایا جبکہ شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں واقع الرميلان کے علاقے میں امریکی اڈے کے قریب بھی شدید دھماکے کی خبر دی گئی ہے۔
امارات میں امریکی فوجیوں کی خفیہ رہائشگاہ اور ریڈار مرکز کو نشانہ بنایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کا اعلان
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی فوجیوں کی خفیہ رہائشگاہ نیز ریڈار اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا ہے۔
فوج کے 48ویں بیانیے میں بتایا گیا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو امارات میں نصب دشمن کے ریڈار اسٹیشنوں اور مراکز کو ڈھونڈ نکال کر، میزائلوں اور جنگی ڈرون طیاروں سے نشانہ بنا دیا گیا۔
اس بیان میں آیا ہے کہ ان حملوں میں دہشت گرد امریکی فوج کے اہل کاروں پر بھی خودکش ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا جو ایک خفیہ رہائشگاہ میں روپوش تھے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
