سلیمانی

سلیمانی

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین ہیومن رائٹس سوسائٹی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سید محمد الموسوی کا قتل فقط ایک المناک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایسے تسلسل کا حصہ ہے جس میں جیلوں میں تشدد کا شکار افراد کی لاشیں معاشرے کو ڈرانے کے لیے بطور پیغام استعمال کی جاتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ جرم دراصل خوف و ہراس پھیلانے، عوامی ارادے کو توڑنے اور انتقام و جبر کے ذریعے معاشرے کو خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ انجمن کے مطابق، سید الموسوی کی نہایت پرتشدد انداز میں موت ایک مکمل جرم ہے، جو سنگین بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے لیے فوری، آزاد اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہیں۔

انجمن نے کہا کہ بحرین میں بعض سرکاری اداروں، حتیٰ کہ عدالتی نظام کو بھی جبر و تشدد کی پالیسیوں کو جواز دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل اس خطرناک طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد ناقد آوازوں کو خاموش کرنا اور جیل، تشدد یا موت کے خوف کے ذریعے پورے معاشرے کو مرعوب بنانا ہے، جبکہ وہاں بنیادی قانونی ضمانتیں بھی شدید کمزور ہو چکی ہیں۔

بحرین ہیومن رائٹس سوسائٹی نے بحرینی حکام سے مطالبہ کیا کہ اس جرم کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور معتبر بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دی جائے، جبری لاپتہ افراد کی فوری معلومات فراہم کی جائیں، جیلوں میں تشدد اور بدسلوکی کا سلسلہ بند کیا جائے، تمام ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور خودسرانہ طور پر گرفتار تمام افراد کو رہا کیا جائے۔

ارنا کے فارن پالیسی گروپ کے مطابق، مجرمانہ امریکی صیہونی جارحیت کے دوران آج صبح، 4 اپریل بروز ہفتہ، تقریباً 08:30 پر، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی سائٹ کے احاطے کی باڑ سے ایک پروجیکٹائل سے ٹکرا گیا۔

 اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی دھماکے کی لہر اور جھٹکے سے پاور پلانٹ کی ایک طرف کی عمارت کو نقصان پہنچا اور بدقسمتی سے پاور پلانٹ کی سیکورٹی مامور ایک کارکن شہید ہوگیا۔

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ واقعے سے پلانٹ کے اہم حصوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور پلانٹ کا آپریشن متاثر نہیں ہوا۔

 حالیہ مسلط کردہ جنگ کے دوران بوشہر ایٹمی بجلی گھر پر یہ چوتھا حملہ ہے۔

واضح رہے ک بوشہر جوہری پاور پلانٹ پوری طرح فعال ہے اور قابل ذکر مقدار میں تابکار مواد کی موجودگی کی وجہ سے، اسے کسی بھی قسم کا شدید نقصان ایک بڑے جوہری حادثے کا سبب بن سکتا ہے جس سے پورے خطے کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

۔

موجودہ بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف حکومتوں کے مابین امن اور تعلقات کو منظم کرنا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ذمہ داری کا حصہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اس عالمی ادارے کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی لیکن ابتدا سے ہی بالخصوص گزشتہ چند برسوں کے دوران اس بین الاقوامی ادارے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں اور اس کی اصل وجہ غیرجانبداری سے دور اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل کا رویہ ہے۔

بین الاقوامی حقوق کی نگاہ میں، جارحیت ایک سنجیدہ قانون شکنی ہوتی ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر 4-2 کے مطابق، کسی بھی ملک کی ارضی سالمیت اور سیاسی استقلال پر حملہ غیرقانونی ہے۔

لیکن جب بات ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور وینزویلا و غیرہ کی آئی تو معیار بدلتے دکھائی دیے۔

اس جیسے دیگر قوانین اور اصول موجود ہیں جن پر عملدرامد اور ان کے نفاذ کی نگرانی عالمی برادری کے لیے ضروری ہے لیکن اب ان معاملات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے جا رہے ہیں کہ کیا دنیا بھر کے ملکوں کی سلامتی کی ضمانت ان قوانین کے ذریعے ممکن بھی ہے یا نہیں؟

سلامتی کونسل نے اپنی خاموشی سے ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے جس کی تازہ ترین مثال ایران پر کھلے عام اور وحشیانہ جارحیت ہے۔

اس قسم کی حرکتیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دنیا بھر کی ضمیر پر ایک ٹہوکے کی طرح ہیں کہ کیا اقوام متحدہ کا تعلق تمام ممالک سے ہے یا پھر چند گنے چنے ملکوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس ادارے کی تشکیل دی گئی ہے؟

اس سوال کا جواب آئندہ نسلیں، ہم سے ضرور مانگیں گی۔  

موجودہ بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف حکومتوں کے مابین امن اور تعلقات کو منظم کرنا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ذمہ داری کا حصہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اس عالمی ادارے کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی لیکن ابتدا سے ہی بالخصوص گزشتہ چند برسوں کے دوران اس بین الاقوامی ادارے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں اور اس کی اصل وجہ غیرجانبداری سے دور اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل کا رویہ ہے۔

بین الاقوامی حقوق کی نگاہ میں، جارحیت ایک سنجیدہ قانون شکنی ہوتی ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر 4-2 کے مطابق، کسی بھی ملک کی ارضی سالمیت اور سیاسی استقلال پر حملہ غیرقانونی ہے۔

لیکن جب بات ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور وینزویلا و غیرہ کی آئی تو معیار بدلتے دکھائی دیے۔

اس جیسے دیگر قوانین اور اصول موجود ہیں جن پر عملدرامد اور ان کے نفاذ کی نگرانی عالمی برادری کے لیے ضروری ہے لیکن اب ان معاملات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے جا رہے ہیں کہ کیا دنیا بھر کے ملکوں کی سلامتی کی ضمانت ان قوانین کے ذریعے ممکن بھی ہے یا نہیں؟

سلامتی کونسل نے اپنی خاموشی سے ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے جس کی تازہ ترین مثال ایران پر کھلے عام اور وحشیانہ جارحیت ہے۔

اس قسم کی حرکتیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دنیا بھر کی ضمیر پر ایک ٹہوکے کی طرح ہیں کہ کیا اقوام متحدہ کا تعلق تمام ممالک سے ہے یا پھر چند گنے چنے ملکوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس ادارے کی تشکیل دی گئی ہے؟

اس سوال کا جواب آئندہ نسلیں، ہم سے ضرور مانگیں گی۔  

 اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی نے فوج کی تمام فورسز کو حالات پر گہرائی کے ساتھ اور لمحہ بلمحہ نظر رکھنے کی ہدایت دی اور دشمنوں کی جارحانہ حرکتوں کا بروقت مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔

انہوں نے زور دیکر کہا کہ اگر وطن عزیز پر زمینی جارحیت کی گئی تو دشمن کے ایک بھی فوجی کو زندہ نکلنے دیا نہیں جائے گا۔

میجر جنرل امیر حاتمی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وطن پر سے جنگ کا سایہ ختم ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بات قابل قبول نہیں کہ [جنگ میں ملوث] خطے کے بعض علاقے محفوظ رہیں اور ہمارے عوام عدم تحفظ کا شکار ہوں۔

جنگ کا پینتیسواں روز امریکی افواج کے لیے ممکنہ طور پر سب سے مشکل دن قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس سے پہلے بھی امریکی نقصانات کم نہیں تھے، تاہم جمعہ کے دن کی صورتحال مختلف رہی۔

تفصیلات کے مطابق ایک ایف-15 جنگی طیارہ ایران کے جنوب مغربی علاقے میں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔ اسی طرح ایک اے-10 جنگی طیارہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہوا، جبکہ ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، جو ایف-15 کے پائلٹس کی تلاش اور ریسکیو آپریشن میں مصروف تھا، اسے بھی نشانہ بنایا گیا۔ بعض امریکی ذرائع ابلاغ نے مزید فضائی اثاثوں کو نشانہ بنائے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک گرائے گئے طیارے کے عملے میں سے ایک کو ایران سے نکال لیا گیا ہے، تاہم اگر یہ دعویٰ درست بھی مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے اہلکار کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی امریکی پائلٹ کی گرفتاری ایک اہم عسکری کامیابی ہو سکتی ہے، تاہم اس دن کے واقعات میں اس سے بھی زیادہ اہم پہلو موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تقریر کے تقریباً ایک دن بعد پیش آیا، جس میں انہوں نے جاری جنگ کے حوالے سے امریکہ کی کامیابیوں اور برتری کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔

امریکی صحافی فریڈ کاپلان نے ٹرمپ کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اسے ایک اہم خطاب قرار دیا ہے، تاہم درحقیقت یہ ایک غیر مؤثر بیان ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی دباؤ اور غصے کا شکار دکھائی دے رہے تھے اور بعض اقدامات کو غیر معمولی انداز میں پیش کر رہے تھے، جبکہ حالیہ واقعات کے بعد ان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ایک اور اہم پہلو کے طور پر مقامی آبادی کے ردعمل کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں لوگوں نے سادہ ہتھیاروں کے ذریعے ان فضائی ذرائع پر فائرنگ کی جو تلاش اور ریسکیو آپریشن کے لیے آئے تھے۔ اگرچہ اس فائرنگ کو عسکری لحاظ سے مؤثر قرار نہیں دیا گیا، تاہم اسے عوامی سطح پر مزاحمت اور اتحاد کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو کسی ممکنہ زمینی کارروائی کی صورت میں شدید ردعمل کی نشاندہی کرتا ہے۔

یورپی ممالک نے ایران کے معاملے میں امریکی دباؤ میں آ کر ڈپلومیسی کے مواقع ضائع کئے جس کے نتائج اب یورپ کے سامنے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ میں یورپی ممالک نے امریکہ کے ساتھ تعاون سے انکار کیا ہے تاہم آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپی ممالک معاشی طور پر بہت حد تک متاثر ہورہے ہیں۔ اگر آج یورپ کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جو کچھ اس براعظم پر ہوا، وہ اچانک بحران کا نتیجہ نہیں، بلکہ پچھلے برسوں میں کیے گئے سلسلہ وار غلط فیصلوں، اور ایران کے ساتھ دشمنی اور خصومت کا نتیجہ ہے۔ یہ فیصلے، جو اس وقت دانشمندانہ لگتے تھے، اب اپنی قیمت چکا رہے ہیں۔ یورپ آج بالکل اسی وقت کا حساب دے رہا ہے جب اس کے پاس مختلف راستہ اختیار کرنے کا موقع تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

ایران کے ایٹمی مسئلے میں یورپ کی تاریخی غلطی

ایران کے ایٹمی مسئلے میں یورپ کے پاس موقع تھا کہ وہ صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک حقیقی ثالث بن کر ڈپلومیسی کو آگے بڑھائے اور ایک پائیدار معاہدے میں مددگار ثابت ہو۔ یورپ میں سیاسی اور تجرباتی سطح پر یہ صلاحیت موجود تھی، مگر عملی طور پر یورپ نے یہ راستہ ترک کر دیا اور اس نے امریکی خواہش کے مطابق اقدامات کیے، خصوصا ڈونلڈ ٹرمپ کے احکام پر عمل کیا جنہوں نے بار بار ثابت کیا کہ وہ نہ قواعد کے پابند ہیں اور نہ اپنے اتحادیوں کے لئے وفاداری رکھتے ہیں۔

یورپی ممالک کی اصل غلطی یہاں سے شروع ہوئی کہ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ ٹرمپ کے ساتھ رہیں تو کم قیمت ادا کریں گے یا کسی طرح کا فائدہ حاصل کریں گے۔ اسی وجہ سے، جب ڈپلومیسی کو بڑھانے کی ضرورت تھی، یورپ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کی سمت میں کام کیا۔ یہاں تک کہ اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، جس کا مقصد واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی دکھانا تھا۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ نہ صرف بحران حل نہیں ہوا بلکہ پیچیدہ تر ہوگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ٹرمپ نے کبھی یورپ کی اس ہم آہنگی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے بار بار یورپ کو ذلیل کیا، ان پر الزام لگایا کہ وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور حتیٰ کہ ایسے دھمکیاں بھی دیں جو اتحادیوں کی تاریخ میں کم نظیر ہیں۔ ٹرمپ کی نظر میں یورپ ایک مستقل شریک نہیں بلکہ وقتی آلہ ہے، جسے جب ضرورت ہو استعمال کیا جاتا ہے اور پھر کنارے رکھ دیا جاتا ہے۔

اقتصادی اور دفاعی اثرات

ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی یورپ کے لیے اس غلطی کے اثرات واضح ہوگئے۔ سب سے پہلا اور فوری دھچکا اقتصادی تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کے بہاؤ میں خلل نے یورپی معیشتوں کو شدید متاثر کیا۔ وہ ممالک جو توانائی کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، اچانک قیمتوں میں اضافے، غیر یقینی صورتحال اور داخلی دباؤ کا سامنا کرنے لگے۔ یہ وہ نتائج تھے جن کی پیش گوئی مشکل نہیں تھی، مگر سنجیدگی سے نہیں لیے گئے۔ اسی دوران، ایک اور یوکرین کے مسئلے نے سر اٹھایا۔ امریکہ اب ایک نئی جنگ میں مصروف ہوچکا ہے اور اس کی توجہ تبدیل ہوگئی ہے، جس سے یورپ کو یوکرین کے حوالے سے کم مدد ملی اور وہ خود کو ایک سیکورٹی بحران میں پایا جس کا انتظام کرنے کے لیے واشنگٹن پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ، نیٹو کے حوالے سے بھی سوالات جنم لینے لگے ہیں۔ جب ٹرمپ نے امریکہ کی ممکنہ شمولیت یا عہدوں میں کمی کی بات کی، تو یورپ کا پورا سیکورٹی ڈھانچہ داؤ پر لگ گیا۔ وہ نیٹو جسے یورپ کی سیکورٹی کا ستون سمجھا جاتا تھا، اب خود ایک تشویش کا باعث بن گیا۔ یورپ نے اس ڈھانچے میں کئی سالوں کی سرمایہ کاری کی تھی، مگر اب وہ آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہا ہے۔

یورپی ممالک کی اسٹریٹجک غلطی

یہ تمام عوامل ملانے سے ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ یورپی ممالک نے ایران کے معاملے میں سنگین اور غلط اندازے لگائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ٹرمپ کے کھیل میں شامل ہوکر اپنے مفادات برقرار رکھ سکتے ہیں اور تنازعات سے بچ سکتے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ مقصد حاصل نہیں کرسکے اور خود بحران میں پھنس گئے۔ یہ کوئی عام غلطی نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک غلطی کا ہے۔ یہ فیصلہ صرف ایک معاملے پر اثرانداز نہیں ہوا، بلکہ یورپ کی عالمی سطح پر حیثیت، معیشت، سیکورٹی، خارجہ پالیسی اور داخلی اتحاد کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ایران اس دوران ایک فیصلہ کن عنصر کے طور پر موجود رہا، جسے یورپ نے نظر انداز کیا۔

یورپ نے سوچا تھا کہ دباؤ اور امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی سے ایران کو پیچھے ہٹایا جاسکتا ہے، مگر نتیجہ بالکل الٹا نکلا۔ ایران نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی اور بحران کے اخراجات زیادہ تر یورپ اور اس کے اتحادیوں پر آئے۔ اب یورپ ایک ایسے بحران کے سامنے ہے جس میں ہر عنصر چیلنجنگ ہے۔ اقتصادی دباؤ، سیکورٹی کی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی سطح پر سیاسی ساکھ میں کمی۔ یہ تمام امور ایک غلط انتخاب کی نشاندہی کرتے ہیں؛ انتخاب جو بظاہر آسان لگتا تھا، مگر اب اس کی پیچیدگی واضح ہوگئی ہے۔

یورپ اور دیگر عالمی کھلاڑی کے لیے سبق

آخر میں، اس سوال کا جواب کہ یورپ کس چیز کی قیمت ادا کر رہا ہے؟ پیچیدہ نہیں۔ یورپ فیصلہ سازی کی خودمختاری کھونے کی قیمت ادا کر رہا ہے، ڈپلومیسی کے مواقع نظرانداز کرنے کی قیمت ادا کر رہا ہے، اور سب سے اہم، اس کھیل میں اس شخص پر اندھے اعتماد کرنے کی قیمت ادا کر رہا ہے جس نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ قابل اعتماد نہیں۔ یہ اہم سبق ہے نہ صرف یورپ کے لیے بلکہ ہر عالمی کھلاڑی کے لیے جو سمجھتا ہے کہ غیر مستحکم طاقتوں پر انحصار کرکے طویل مدتی مفادات یقینی بنائے جاسکتے ہیں۔ عالمی سیاست میں اسٹریٹجک غلطیوں کی دیر یا جلد قیمت چکانی پڑتی ہے۔ یورپ آج اسی کی قیمت ادا کر رہا ہے۔

News ID 1938740

 گذشتہ روز ایران میں امریکی جنگی جہاز گرنے کے بعد پائلٹ کو بچانے کے لیے آنے والے ہیلی کاپٹرز خود حادثات کا شکار ہوگئے۔ امریکی میڈیا نے حادثات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی فضاؤں میں نشانہ بننے والے امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے متعدد اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

امریکی چینل CBS News نے اس واقعے کی نئی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ایف-15 جنگی طیارے کے پائلٹ کو بچانے کے لیے بھیجا گیا تھا اور جمعہ کے روز متعلقہ علاقے میں موجود تھا۔ اسی دوران اس ہیلی کاپٹر کی جانب فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں اس کے متعدد عملے اور اہلکار زخمی ہوگئے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ ہیلی کاپٹر ایف-15 کے حادثے سے متعلق تلاش اور امدادی کارروائی انجام دے رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا، اور تازہ رپورٹس کے مطابق حملے کے باعث اس کے کچھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع عملی طور پر اس مقام سے آگاہ نہیں جہاں ایف-15 جنگی طیارہ گرائے جانے کے بعد اس کا دوسرا پائلٹ لاپتا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے امریکی ایوان نمائندگان کی مسلح افواج کمیٹی کو اطلاع دی ہے کہ طیارہ گرائے جانے کے بعد لاپتا ہونے والے دوسرے فوجی کی صورتحال تاحال واضح نہیں ہوسکی۔

خاتم الانبیا سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پلوں، پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر سخت انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ان دھمکیوں پر عمل کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

کرنل ذوالفقاری نے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج پوری قوت کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے تمام اقتصادی، توانائی اور ایندھن سے متعلق اثاثے خطے میں نشانہ بنائے جائیں گے بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم اور وسیع مراکز کو شدید اور دندان شکن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ترجمان نے خطے کے ممالک کو بھی خبردار کیا کہ اگر وہ نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں فوری طور پر اپنے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بند اور امریکی فورسز کو نکلنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ امریکی اڈوں کی موجودگی ان ملکوں کو براہ راست خطرے میں ڈال رہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ کو اپنے میزائل ذخائر میں کمی کا سامنا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے جاپان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ 2.35 ارب ڈالر کے 400 'ٹام ہاک' کروز میزائلوں کی فراہمی وقت پر نہیں کر سکے گا۔ اس تاخیر کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اپنے میزائلوں کا ایک بڑا حصہ موجودہ جنگ کے دوران استعمال کر چکا ہے، جس کی وجہ سے اب وہ دوسرے ممالک کے آرڈرز پورے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے دعوے سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔

اسرائیل کے اخبار ہآرٹز نے صہیونی فوج کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کبھی بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس مقصد کے لیے پورے لبنان پر قبضہ کرنا پڑے گا جو کہ اس جنگ کا ہدف ہی نہیں ہے۔

دراین اثناء اسرائیل پر ایران اور مقاومتی محاذ کے حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے ایران کے حالیہ میزائل حملے کے بعد ہونے والے نقصانات کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، تل ابیب کے 9 مختلف علاقوں میں ایرانی میزائلوں کے ٹکڑے گرے ہیں جس سے عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

مقامی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، جس کے بعد اب مقبوضہ علاقوں میں شدید خوف اور اضطراب پایا جاتا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ ایران کی بنیادی تنصیبات پر امریکی- صیہونی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی طرح کا فوجی دباؤ ڈال کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایران کے شہر کرج میں ایک شہری پل پر امریکی حملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر انجام پا رہے ہیں لہذا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

مائو ننگ نے زور دیکر کہا کہ چین بنیادی تنصیبات اور شہری علاقوں پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی حرکتوں کے نتیجے میں نہ صرف ایرانی فریق کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا نہیں جاسکتا ہے بلکہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے جنگ بندی، سیاسی اور سفارتی راہ حل اور آبنائے ہرمز اور دیگر بحری شاہراہوں کے محفوظ رہنے پر زور دیا۔