سلیمانی
نام نہاد بین الاقوامی تنظیم عفو (Amnesty International) امویوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کا تسلسل ہے
امام خمینی قدس سرہ الشریف نے کہا: "انہوں نے ہمیں یہ سمجھایا کہ ظالم کے مقابل اور ظلم و جور کی حکومت کے سامنے نہ عورتوں کو ڈرنا چاہیے اور نہ مردوں کو۔ یزید کے مقابل حضرت زینب سلام اللہ علیہا کھڑی ہوئیں اور انہوں نے بنی امیہ کو اس انداز سے ذلیل کیا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی ذلت کبھی نہیں دیکھی تھی۔
اور وہ تقاریر جو راستے میں اور کوفہ و شام میں کی گئیں اور وہ منبر جس پر حضرت امام سجاد علیہ السلام تشریف لے گئے اور یہ بات واضح کر دی کہ معاملہ صرف حق اور ناحق کی آمنے سامنے جنگ کا نہیں تھا بلکہ ہمیں بدنام کیا گیا تھا؛ (وہ لوگ) حضرت سید الشہداء علیہ السلام کو اس طرح پیش کرنا چاہتے تھے گویا وہ اس وقت کی حکومت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کے مقابل کھڑے ہو گئے ہوں۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام نے یہ حقیقت مجمع کے سامنے آشکار کی اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بھی اسی طرح یہ فریضہ انجام دیا۔
آج ہمارا ملک بھی اسی طرز پر ہے۔ تنظیم عفو بین الاقوامی (Amnesty International) جسے میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ دراصل «بین الاقوامی جعل کی تنظیم» اور «بین الاقوامی جھوٹ کی تنظیم» ہے، اس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں وہی تہمتیں جو صدرِ اسلام میں اسلام، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی اولاد اور پیروکاروں پر لگائی جاتی تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہمارے ملک پر عائد کی گئی ہیں۔
وہی جھوٹ جو یزید کے پیروکار پھیلایا کرتے تھے آج یہی نام نہاد تنظیم عفو بین الاقوامی اسی قسم کے جھوٹ پھیلا رہی ہے۔
انسان کو شرم آتی ہے کہ وہ کہے ہم ایسے ملکوں میں اور ایسی دنیا میں زندگی کر رہے ہیں جہاں یہ ان کے جیسے ذرائع ابلاغ ہیں اور یہی ان جیسی عفو کی بین الاقوامی تنظیمیں اور دیگر ادارے ہیں۔"
(25 مہر 1361/ 17 اکتوبر 1982ء، صحیفۂ امام، جلد 17، صفحہ 52)
کیریبین کے قزاق، تیل کے لٹیرے
منشیات صرف بہانہ ہے تیل اصل نشانہ ہے
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف فوجی کاروائی کا اصل مقصد منشیات کی روک تھام اعلان کیا ہے اور وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو پر منشیات اسمگلنگ کرنے والے مافیا کا سربراہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے لیکن 2024ء کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حریف اور امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی صدر صرف وینزویلا کے تیل کے پیچھے ہے۔ اکثر سیاسی ماہرین اور تجزیہ کار بھی اسی بات پر زور دے رہے ہیں۔ کملا ہیرس نے ایکس پر اپنے پیغام میں ٹرمپ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری پر مبنی اقدام کو "غیرقانونی" اور "نامعقول" قرار دیا ہے۔ اس ڈیموکریٹک لیڈر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اصل مقصد تیل ہے لیکن ٹرمپ منشیات اور جمہوریت کو بہانہ بنا کر اپنی کاروائی کا جواز پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر وینزویلا میں تیل کے ذخائر پر قبضے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا میں موجود تیل کے ذخائر تک رسائی چاہتا ہے۔ یاد رہے وینزویلا میں پایا جانے والا تیل بھاری ہے جسے زمین سے باہر نکالنے کے بھاری اخراجات ہیں لیکن اس کے باوجود وینزویلا دنیا کا تیل برآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران جب کیریبین سمندر میں امریکہ کی جنگی کشتیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا، تب بھی وینزویلا روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل چین، یورپی ممالک اور حتی امریکہ کو برآمد کر رہا تھا۔ درحقیقت یوں دکھائی دیتا ہے کہ وینزویلا میں تیل کے ذخائر اور کنویں اب تک کی امریکی فضائی بمباری اور حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔
وینزویلا میں امریکہ کی فوجی مداخلت پر عالمی ردعمل
دنیا کے کئی ممالک میں وینزویلا پر امریکی فوجی جارحیت اور صدر نکولاس مادورو کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے منعقد ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرے حتی تمام یورپی ممالک اور امریکہ میں بھی منعقد ہوئے ہیں اور بعض ذرائع ابلاغ کے بقول گذشتہ دو دنوں میں عظیم ترین بین الاقوامی مظاہرے بن چکے ہیں۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں امریکہ کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ ہوا جس میں امریکی پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔ اسی طرح کے مظاہرے ایتھنز میں بھی منعقد ہوئے اور مظاہرین نے وینزویلا کے عوام کی حمایت کا اعلان کیا۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی مظاہرین نے امریکہ کی خارجہ سیاست کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے۔ اسی طرح انہوں نے وینزویلا اور فلسطین کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ اٹلی میں بھی امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔
غیرقانونی مداخلت
خود امریکہ کے اندر بہت سے سیاسی حلقوں اور عوام نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی فوجی جارحیت کو ناجائز اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے کالم میں اس بارے میں لکھا: "اگر گذشتہ صدی میں امریکہ کی خارجہ پالیسی سے کوئی اہم سبق حاصل کیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ حتی کمزور ترین رجیم کی سرنگونی کی کوشش حالات خراب ہو جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں 20 سال تک ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا جبکہ لیبیا میں ایک ڈکٹیٹرشپ ختم کر کے وہاں انتشار اور انارکی پھیلا دیا۔ 2003ء میں عراق کی جنگ کے افسوسناک نتائج نے بدستور امریکہ اور مشرق وسطی کو متاثر کر رکھا ہے۔" اس امریکی اخبار نے مزید لکھا کہ ٹرمپ نے اب تک وینزویلا کے خلاف اقدامات کا کوئی قابل قبول جواز پیش نہیں کیا ہے۔
دوسری طرف برطانوی اخبار گارجین نے بین الاقوامی قانون کے چند ماہرین سے بات چیت شائع کی ہے جنہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولاس مادرور کی گرفتاری کو اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جیفری رابرٹسن، سیرالئون میں اقوام متحدہ کی جنگی جرائم کی عدالت کے سابق سربراہ، نے کہا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 4 کے تبصرے 2 کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا: "حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ جارحیت کے جرم کا مرتکب ہوا ہے اور یہ ایسا جرم ہے جسے نورن برگ کی عدالت نے سب سے بڑا جرم قرار دیا ہے۔" کنگسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ایلویرا ڈومینگو ریڈوینڈو نے بھی امریکی اقدام کو دوسرے ملک کے خلاف طاقت کا غیرقانونی استعمال قرار دیا ہے۔
اسلوبِ حیاتِ علیؑ؛ قرآنی اور اسلامی زندگی کا کامل نمونہ
علیؑ کے آنے کی سب کو خوشی نہیں ہوتی وہ بت شکن ہے بتوں کو برا ہی لگتا ہے!
تیرہ رجب المرجب، مولودِ کعبہ، مظہرِ فضل و کمال، سرچشمۂ عدل و انصاف، پیکرِ صبر و ثبات، امانتوں کے امین، شجاعت و شہامت، عزم و استقامت اور عبادت و اطاعتِ خدا اور رسولؐ کی زندہ مثال ، اسدُاللہ الغالب، غالب کل غالب و مطلوب کل طالب ،صاحب المفاخر و المناقب، مولی الکونین امام المشرقین والمغربین، امام المتقین، سید الوصین،امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولادتِ باسعادت و با برکت کے موقع پر تمام محبانِ امامت و ولایت کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔
کس قدر باعثِ سعادت ہے کہ ہم وارث و جانشین ختم المرسلین ،امیر المؤمنین ،امامِ متقین حضرت علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ سے زندگی کے ہر گوشے میں رہنمائی حاصل کریں—اطاعت و عبادت میں اخلاص، سیاست میں دیانت، عدل میں استقامت، مہربانی میں وسعت، محبت میں خلوص اور اخلاق میں بلندی۔ یقیناً حضرت علی علیہ السلام تمام بنی نوع انسانی کے لئے بہترین رول ماڈل ہیں آپ ؑ کا اسلوبِ حیات ہر دور کے مسلمانوں اور چاہنے والوں کے لیے کامل نمونہ اور روشن مینار ہے۔
قرآنِ مجید کی روشن آیات اور معصومینؑ سے منقول روایاتِ معتبرہ کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ جو شخص قرآنی و اسلامی طرزِ حیات اختیار کرنے کا خواہاں ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کا درس امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے حاصل کرے۔
بغیرِ حب علی ؑ، لطف ِزندگی کیا ؟ یہ زندگی تو ملی ہے برائے عشقِ علی ؑ
سید المرسلین ،رحمت العالمین ،خاتم النبین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کی نظر میں جو بھی حضرت علیؑ کا شیعہ بنا اور ان کے نقشِ قدم پر چلا، وہی کامیاب و کامران ہوا اور اسی کے لیے جنت کی بشارت ہے۔
''شیعة علّی ھم الفائزون''علیؑ کے شیعہ ہی کامیاب ہیں۔ (کنوز الحقائق صفحہ ٨٢- مجمع الزوائد : ج٩ ص ١٣١- فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ : ج٢ ص ١١٧ ص ١١٨-بشارت مصطفی : ص ١٩٧)
پس ہر مسلمان خاص کرعلی ابن ابیطالب علیہ السلام کے شیعوں اور محبوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امام علی علیہ السلام کے اسلوبِ زندگی کو سمجھے، پہچانے اور اپنے گفتار و کردار میں اسے عملی جامہ پہنائیں۔اس لئے کہ علی ؑ کے شیعہ ہونے کا مفہوم محض دعویٰ نہیں، بلکہ علیؑ کے نقشِ قدم پر قدم رکھنا اور عملی طور پر ان کی پیروی کرنا ہے۔
ہم اہلِ بیتؑ سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اہل بیت اطہار علیہم السلام کی مرضی کے مطابق نہیں چلتے ! شیعہ ہونا ایک بھاری اور ذمہ داری سے بھرپور مقام و مرتبہ ہے۔ اگر ہم واقعی امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے شیعہ بننا چاہتے ہیں اور امت کے پدرِ مہربان کی اطاعت کا عزم رکھتے ہیں، تو ہمیں اپنی اور اپنے لواحقین کی تعلیم و تربیت کے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو پر خاص توجہ دینا ہوگی۔
یہ پہلو درحقیقت ہمارے زمانے کا بھی امتحان ہے اور اس دنیا میں انسان کے لیے ہمیشہ سے جاری آزمائش بھی—اور وہ یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جامعُ الاضداد ہو۔ یعنی اس کے دل میں امید اور خوف، رجاء اور خشیت، محبت اور احتیاط ایک دوسرے کے ساتھ متوازن ہوں۔ نہ امید اتنی غالب ہو کہ انسان غفلت میں مبتلا ہو جائے، اور نہ خوف اس قدر چھا جائے کہ انسان مایوسی کا شکار ہو جائے۔ یہی وہ توازن ہے جو خداوندِعالم اپنے بندوں سے طلب کرتا ہے، اور یہی سیرتِ علویؑ کا نمایاں درس ہے۔
ذیل میں امامِ المتقین حضرت علی علیہ السلام کے اسلامی طرزِ حیات کی چند اہم اور بنیادی خصوصیات کا اجمالی ذکر کیا جاتا ہے:
1- حلال روزی اور رضائے الٰہی کا حصول
امام علیؑ کی زندگی کی سب سے نمایاں خصوصیت حلال روزی اور رضائے الٰہی ہے۔ آپؑ نے کبھی حرام کو اپنے دامن سے نہ لگایا اور جب بھی دو ایسے راستوں کے درمیان قرار پائے جن دونوں میں خدا کی رضا تھی، تو ہمیشہ کٹھن اور دشوار راستے کو اختیار فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کو رسولِ خدا ﷺ کا امین اور معتمد سمجھا جاتا تھا اور ہر نازک موقع پر آپؑ ہی سے مدد لی جاتی تھی۔
مولا ئے کائنات حضرت علی ؑ کی یہ سیرت موجودہ دور میں تمام مسلمانوں کو خاص کرعلی ؑ کے چاہنے والوں سے مخاطب ہے کہ وہ حلال روزی کمانے کے لیے اسلامی اور علوی اصولوں پر مبنی کاروبار، نوکری، زراعت یا دستکاری جیسے جائز ذرائع اپنائیں، سود، دھوکہ دہی، ملاوٹ، رشوت، جوا اور دیگر حرام کاموں سے پرہیز کریں، نیت خالص رکھیں، محنت سے کمائیں، شفافیت برتیں، اور حقوق العباد کا خیال رکھیں؛ یہ تمام طریقے رزق حلال کو یقینی بناتے ہیں اورخداو رسول ؑ اور اہل بیتؑ رسول ؑ کی خشنودی و رضا کا باعث بنتے ہیں۔
2- حق کی حمایت اور باطل سے عدمِ مصالحت
اسلوبِ علویؑ میں حق کی حمایت اور باطل سے عدمِ مصالحت ایک اٹل اصول ہے۔ آپؑ نے کبھی عدل کے مقابل کسی مصلحت کو قبول نہ کیا اور نہ ہی ظالم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا۔ آپؑ کا فرمان آج بھی تاریخ کے سینے پر نقش ہے کہ حق کے دشمن کے مقابلے میں نہ نرمی ہے اور نہ کمزوری۔ یہی قاطعیت حکومتِ علویؑ کا امتیاز بنی، اگرچہ یہی عدل دنیا پرستوں کو ناگوار گزرا۔اور یہ نہایت ہی معروف جملہ ہے کہ : قتل علی فی محراب المسجد لشدۃ عدلہ محراب؛محراب مسجد میں علی علیہ السلام کو ضربت، شدت عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔۔۔لہذاتاریخ ہمیشہ اس بات کی گواہ رہے گی کہ حق کی حمایت حضرت علی ؑ کی سیرت کا بنیادی حصہ رہاہے، وہ ایک مثالی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ انصاف، حقوق انسانی اور سچائی کا ساتھ دیا، اور اپنے اعمال سے دوسروں کو نصیحت کی۔
3- سیاستِ علویؑ کی بنیاد رضائے خداوندی
سیاستِ علویؑ کی بنیاد رضائے خداوندی پر استوار تھی۔ نہ شمشیر کی دھمکی آپؑ کو خوف زدہ کر سکی اور نہ نیزوں کی چمک آپؑ کے عزم کو متزلزل کر پائی، کیونکہ آپؑ کا سہارا یقینِ محکم اور توکلِ کامل تھا۔ وہ سیاست جو خدا کی رضا سے جڑی ہو، کبھی خوف و ہراس کا شکار نہیں ہوتی۔
۴- عدل و انصاف
عدل و انصاف حضرت امام علیؑ کی زندگی کی روح تھا۔ حضرت علیؑ کی نگاہ میں عدالت اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایک فریضۂ الٰہی اور ناموسِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ انسان اپنے سامنے ظلم و ستم ہوتے دیکھے اور خاموش تماشائی بن کر کھڑا رہے۔ ان کے نزدیک ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ظلم کے خاتمے اور عدل و انصاف کے فروغ کے لیے سعی و کوشش کرے۔
حضرت علیؑ قانون کے نفاذ میں خاندان پرستی یا ذاتی تعلقات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ چنانچہ جب آپؑ کے سگے بھائی جنابِ عقیلؑ نے بیت المال سے اضافی رقم کا مطالبہ کیا تو آپؑ نے اصول و انصاف کی خاطر سختی سے انکار کر دیا۔ آپؑ کا اعلان تھا کہ اگر یہ مال میرا ذاتی بھی ہوتا تب بھی میں مساوات سے کام لیتا، چہ جائیکہ یہ اللہ کا مال ہے۔ یہی عدل علویؑ تھا جو تقویٰ کے سب سے قریب تر تھا۔
۵- محروموں اور مظلوموں سے ہمدردی
حضرت امیرالمؤمنینؑ کا دل ہمیشہ محروموں اور مظلوموں کے ساتھ دھڑکتا تھا، اور آپؑ اپنی پوری زندگی میں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔آپؑ عوام کے درد کو اپنا درد سمجھتے تھے اور اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ حاکم شکم سیر ہو اور رعایا بھوکی۔ آپؑ کی شبیں فاقہ میں گزرتیں مگر معاشرے کے کمزور طبقے کے چہروں پر مسکراہٹ باقی رہے—یہی ہمدردی علویؑ تھی۔
۶- سادگی اور قناعت پسندی
باوجود اس کے کہ آپؑ کے پاس حلال ذرائع سے آمدنی موجود تھی، سادگی اور قناعت آپؑ کا شعار رہی۔ اقتدار ہو یا گوشہ نشینی، زندگی کا رنگ ایک ہی رہا۔ نہ محلات بنے، نہ خزانے جمع ہوئے، بلکہ پیوند لگا لباس اور خالی ہاتھ ہی آپؑ کی دنیاوی میراث تھی۔
۷-اطاعت و عبادت میں بندگی مجسم پیکر
عبادت کے میدان میں امام علیؑ بندگی کا مجسم نمونہ تھے۔ آپؑ نماز کو امانتِ الٰہی سمجھتے اور وقتِ نماز لرز اٹھتے، کیونکہ یہی شعورِ عبادت انسان کو حقیقی بندگی کے مقام تک پہنچاتا ہے۔
حتی آپؑ کی انگوٹھی کے نگین پر کندہ کلمات بھی توحید، استغفار اور عزتِ الٰہی کا درس دیتے تھے، تاکہ انسان ہر لمحہ خدا کو یاد رکھے۔ اسی طرح آپؑ کے نزدیک نیک اولاد دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھی—ایسی اولاد جو خدا کی اطاعت گزار ہو اور والدین کے لیے ذخیرۂ آخرت بنے۔
۸-اولاد سے محبت، شفقت اور باہمی ہمدردی
موجودہ دور میں اولاد کی تربیت کے لیے تربیتی اصولوں پر عمل، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال، اخلاقی اور روحانی اقدار، کھلا اور دوستانہ ماحول، اور تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کی تیاری ضروری ہے تاکہ بچے مضبوط معاشرے کے معمار بن سکیں، عصرِ حاضر میں بچوں کی اخلاقی تعلیم وتربیت کے لئےحضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی تعلیمات و ہدایات کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، آپ ؑ نے اپنی سیرتِ تابندہ کے ذریعے محبت، شفقت اور باہمی ہمدردی کو تربیتِ اولاد کی اساس قرار دیا اور اس امر کو واضح فرمایا کہ باپ محض نظم و سختی کا مظہر نہ ہو، بلکہ اولاد کے لیے جائے امان، پشت پناہ اور حوصلہ بخش رفیق بھی ہو۔ آپؑ کے گفتار و کردار نے معاشرے کو یہ درس دیا کہ علم کی جستجو اور اخلاقِ فاضلہ کی پرورش ہی انسان کی حقیقی عظمت کی ضامن ہے۔
آج کے پُرآشوب دور میں بھی حضرت علیؑ کی حیاتِ مبارکہ والدین، بالخصوص والدکے لیے ایک زندہ اور ہمہ گیر نمونہ ہے، جو آئندہ نسلوں کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر میں رہنمائی کا روشن مینار ثابت ہو سکتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ امام المتقین ، امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کا طرزِ زندگی محض تاریخ کا ایک باب ہی نہیں بلکہ ہر دور کے انسانوں خاص کر مسلمانوں اور علی ؑ کے شیدائیوں کے لیے زندہ دستورِ حیات ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو اگر دل و عمل میں روشن ہو جائے تو انسان ہی نہیں بلکہ پوراملک و معاشرہ بھی سنور سکتاہے۔
سب سے بڑی یہی تو فضیلت علیؑ کی ہے سیرت جو ہے نبی کی وہ سیرت علی ؑکی ہے۔
بے شبہ کٹ رہی ہے عبادت میں زندگی جب تک نگاہ شوق میں صورت علیؑ کی ہے۔
جو عاشق رسولؐ ہے وہ عاشق علی ؑہے حب نبی کے ساتھ محبت علی کی ہے۔
منہ سے نکل ہی جاتا ہے مشکل میں یا علیؑ ہر دور میں جہاں کو ضرورت علیؑ کی ہے۔
منابع و ماخذ
الارشاد، ص ۲۵۵
المناقب، ج ۳، ص ۱۱۰٫
اسطوانه الحرس
نهجالبلاغه، الخطب: ۲۴
نهجالبلاغهْ، خ ۲۲
سوره مائده، آیه ۸؛ سوره انعام، آیه ۱۵۲٫
نهجالبلاغهْ،، خ ۱۲۴
حلیهْ الاولیاء، ج ۱، ص ۷۱
نهجالبلاغهْ،، نامه: ۴۵
المناقب ابن شهر آشوب، ج۲، ص۹۵
المناقب، ج۲، ص ۱۲۴؛ الاحزاب، آیه ۷۲
الخصال، ص ۱۹۹٫
تفسیرالصافی، ج۴، ص ۲۷
تحریر: مولانا سید تقی عباس رضوی کلکتوی
مغربی معاشرے میں خاندانی مسائل اوران کا حل
ماضی میں باپ خاندان کے اندر نظم و ضبط اور ذمہ داری جیسی بنیادی قدروں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری نبھایا کرتا تھا۔ وہ خصوصاً اپنے بچوں کو اس قابل بناتا تھا کہ جب وہ گھریلو ماحول سے باہر قدم رکھیں تو زندگی کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ پھر یہی بچے اساتذہ کے سپرد کیے جاتے تھے، جو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اصولوں، سماجی قوانین اور نظم و ضبط کی پابندی کرانے میں باپ ہی کا سا کردار ادا کرتے تھے۔ اس طرح گھر میں باپ کی ذمہ داریاں اور معاشرے میں استاد کا کردار، عورت کی فطری اور بنیادی ذمہ داریوں کے ساتھ مل کر ایک متوازن اور مکمل خاندانی نظام تشکیل دیتے تھے۔
لیکن آج یہ توازن بُری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ گھر ہو یا سکول، دونوں میدانوں میں باپ کا کردار کمزور پڑتا جا رہا ہے، اور تربیت کا پورا بوجھ صرف ماں کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ یہی عدمِ توازن مغربی معاشروں میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کے اندر پیدا ہونے والے گہرے نفسیاتی بحران اور اخلاقی انحرافات کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
فرانس ہی کی مثال لیجیے کہ جہاں علیحدگی اختیار کرنے والے والدین کے ۸۰ فیصد بچے صرف اپنی ماؤں کے ساتھ رہتے ہیں، جبکہ ۱۶فیصد اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھتے، اور ۱۶ فیصد ایک ماہ میں ایک بار سے بھی کم اپنے پاب سے ملاقات کر پاتے ہیں۔ (ماخذ: "جدل النسوية والذكورية"، ص115)
مغربی معاشروں میں اگر باپ کا کردار ہے بھی تو یہ صرف مالی اخراجات کی ادائیگی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اوریا پھر بچوں سے ہفتہ وار وہ مختصر ملاقاتیں جن میں باپ کے لیے تربیت کا بنیادی کردار ادا کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وہاں ایک اصطلاح بھی عام ہو چکی ہے کہ "اتوار والے باپ" یعنی وہ باپ جو صرف اتوار کی چھٹی کے موقع پر بچوں سے ملتے ہیں، اور یہ ملاقات بھی محض چند تفریحی سرگرمیوں تک محدود رہتی ہے کسی روزمرہ تربیت کا حصہ نہیں ہوتی۔مزید یہ کہ جن خاندانوں میں ماں اور باپ دونوں گھر میں موجود ہوتے ہیں، وہاں بھی باپ اکثر عملی طور پر تربیتی ذمہ داریوں سے دور ہی رہتا ہے۔
آج مغربی معاشرے میں ایک خاص خاندانی ماڈل کو ’’جدید نظریات‘‘ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں ماں کو بچوں کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کی ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا ہے جس میں خوراک اور لباس سے لے کر صحت و اخلاق کی نگرانی تک، اسباق کی پیروی سے لے کر اساتذہ اور اسکول انتظامیہ سے رابطے تک، حتیٰ کہ بچوں کو اسکول لانے لے جانے اور روزمرہ ضروریات کی خریداری تک ہر ذمہ داری ماں کے کاندھوں پر ہی ڈال دی گئی ہے۔
اس کے برعکس، باپ اپنے بچوں کے لیے محض چند لمحے اور معمولی سی توجہ کا موقع نکال پاتا ہے حتی کہ وہ اگر گھر میں بھی موجود ہو بھی تو بھی عموماً شام کو ٹی وی کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر فٹبال میچ دیکھنے میں مشغول رہتا ہے۔
یہ صورتِ حال صرف ان گھروں تک محدود نہیں جہاں باپ باہر ملازمت کرتا ہے اور ماں گھر پر ہوتی ہے، بلکہ اُن خاندانوں میں بھی یہی منظر نظر آتا ہے جہاں میاں اور بیوی دونوں تقریباً یکساں وقت کے ساتھ بیرونِ خانہ ملازمت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود عورت ہی اپنے بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے اپنا باقی ماندہ وقت وقف کرتی ہے۔ مغرب میں ایسی عورت کو "ڈبل ذمہ داری اٹھانے والی ماں" کہا جاتا ہے۔
مزید تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ ماں اور بچوں کے درمیان یہ حد سے زیادہ انحصار اور لگاو صرف ابتدائی عمر تک محدود نہیں رہتا جیسا کہ اسلام میں ہے کہ بچے کا فطری تعلق ابتدائی بچپن تک ماں سے زیادہ ہوتا ہے بلکہ اس کے برعکس مغربی معاشروں میں یہ تعلق جوانی تک جاری رہتا ہے۔ اس رجحان کو "حد سے زیادہ پرورش کرنے والی ماؤں "کہا جاتا ہے، جو شدید نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوں کی پرورش و نگہداشت میں عورت کا مرکزی کردار کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ہمیشہ سے چھوٹے بچوں کی پرورش کا حق اور فطری طورپر یہ اہلیت عورت کے پاس رہی ہے، اور یہی خاندان کے توازن کا ایک حصہ تھا۔ مگر اس کے باوجود پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ گھر کی اقدار اس حد تک عورت کے رحم و کرم کے تابع ہوجائیں جیسا کہ آج کے مغربی معاشرے میں نظر آ رہا ہے۔
لہٰذا اصل مسئلہ دو بنیادی باتوں میں پوشیدہ ہے:
اوّل: جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا، بچوں کی نگہداشت کا یہ سلسلہ بچپن سے بڑھ کر نوجوانی اور جوانی کی عمر تک پھیل جانا۔
دوم: خاندان اور معاشرے میں مرد و عورت کے کرداروں کا بنیادی طور پر بدل جانا۔ یعنی دونوں نے اپنے اپنے روایتی اور فطری کردار ترک کر کے نئے کردار اختیار کر لیے ہیں اور یہ سب مکمل صنفی مساوات کے نام پر کیا گیا۔
مندرجہ بالا گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مغربی معاشرے میں خاندانی مسائل کی وجہ بچوں کی پرورش کا فقدان نہیں بلکہ باپ اور ماں کے تربیتی کرداروں میں توازن کا بگڑ جانا ہے۔ باپ کے کردار کو غیر تربیتی بنا دینا، ماں کی سرپرستی کو فطری حدود سے آگے بڑھا دینا، اور فطری خاندانی ڈھانچے کو صنفی برابری کی آڑ میں توڑ دینا ۔ان سب عوامل نے ایک ایسی نسل پیدا کر دی ہے جو نفسیاتی مسائل اور شدید اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔
لہٰذا یہ ضروری ہے کہ باپ کی ذمہ داری کو صرف اخراجات کی فراہمی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے تربیت کا بنیادی ستون تسلیم کیا جائے۔کیونکہ خاندان کے اندراس کے فطری کرداروں میں دوبارہ توازن قائم کرنا ہی بچوں اور معاشرے کی نفسیاتی و سماجی صحت کی بحالی کی واحد مؤثر راہ ہے۔
شیخ مصطفیٰ الہجری
مولود کعبہ ایک اصول پسند سیاستدان
ایک اچھے سیاستدان کی بنیادی خصوصیات میں انصاف پسندی، امانت داری، پرہیزگاری، اخلاقِ حسنہ، علم و بصیرت، حق گوئی، احساسِ ذمہ داری، مشاورت، تواضع، عوام دوستی، غریب پروری، قانون کی پاسداری، ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا، سستا اور فوری انصاف، تحمل مزاجی، وعدہ وفا، مضبوط قوتِ ارادی، بروقت و برمحل فیصلہ سازی اور قائدانہ صلاحیت شامل ہیں۔ اگر تاریخِ انسانی میں ان تمام اوصاف کو کسی ایک شخصیت میں کامل صورت میں تلاش کیا جائے تو وہ بلا شبہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انسانیت کی سب سے جامع اور کامل شخصیت ہیں۔ آپ کی عظمت کا احاطہ نہ تاریخ کرسکی ہے اور نہ قیامت تک ممکن ہوگا۔ مولودِ کعبہ ہونے کے ناطے 13 رجب المرجب کی مناسبت سے حضرت علی علیہ السّلام کی سیاسی حیات کے چند روشن پہلو پیش کرنا اس تحریر کا مقصد ہے۔
آپ عدل و انصاف میں "صوت العدالۃ الانسانیۃ"، علم و بصیرت میں "انا مدینۃ العلم و علی بابھا، انا دار الحکمۃ و علی بابھا" آپ علم و حکمت کا دروازہ ہیں۔ تحمل مزاجی میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کا حق خلافت چھن جانے اور آپ کے در اقدس کو نذر آتش کرنے کے باوجود آپ نے پچیس سال تک گوشہ نشینی اختیار کی اور کبھی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہ طرزِ عمل Political Tolerance کی اعلیٰ مثال ہے۔ احساس ذمہ داری میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کے سامنے جب کھانا لایا جاتا تو فرماتے کہ میں کیسے سیر ہوکر کھانا کھاؤں، شاید حجاز اور یمامہ میں کوئی ایک لقمے کے لیے ترس رہا ہو۔ غریب پروری میں راتوں کو اپنے پیٹھ پر غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کے گھروں تک ہر شب خوراک پہنچاتے تھے، حدیث نبوی کی رو سے "اقضی الناس علی" یعنی بہترین فیصلہ کرنے والے علی علیہ السلام ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کی امانت داری کے لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ رات کے وقت آپ چراغ روشن کرکے امور حکومتی انجام دینے میں مصروف عمل تھے، اتنے میں ایک شخص آپ سے ملنے آیا تو آپ نے اس چراغ کو گل کرکے ذاتی چراغ کو روشن کیا۔
احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ آپ گمنام طریقے سے کوفے کی گلیوں میں گھومتے تھے، تاکہ وہاں کے غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کی داد رسی کی جاسکے۔ حکومتی امور میں آپ کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ جب مصر کے حالات خراب ہوگئے تو آپ نے حضرت مالک اشتر کو وہاں کا گورنر بنایا۔ اسے ایک خط تھمایا، جو بعد میں عہدنامہ مالک اشتر کے عنوان سے مشہور ہوا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ ہے: اپنے دل میں لوگوں کے لیے محبت پیدا کرو، کیونکہ وہ یا تو تمہارے دینی بھائی ہے یا تمہارے ساتھ انسانیت میں مشترک ہے۔ آپ کی سادہ زیستی کا یہ عالم تھا کہ پرانے صاف ستھرے پیوند شدہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا اے مولا، اگر آپ نیا لباس زیب تن کرتے تو آپ کی شخصیت کے مطابق ہوتا۔ فرمایا: یہ لباس دل کو فروتنی عطا کرتا ہے، تکبر سے محفوظ رکھتا ہے اور پرہیزگاروں کے لیے یہی کافی ہے۔
اگرچہ آپ سب سے زیادہ دانا اور عقلمند تھے، لیکن حکومتی امور میں آپ بسا اوقات لوگوں سے مشورہ بھی لیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے حکومتی کاموں کی خاطر ایک خاص مقام سے افراد کے چناؤ سے پہلے چند تجربہ کار لوگوں کو بلاکر وہاں کے لوگوں کی امانت داری اور اجتماعی امور میں ان کی کارکردگی کے حوالے سے استفسار کیا۔ ان سے رائے لینے کے بعد فرمایا: جو بھی بغیر کسی مشورے کے کسی ذمہ داری کو اپنے ذمہ لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو تباہی کے داہنے تک پہنچا دیتا ہے۔ مساوات کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ آپ مسجد سے نکلے تو ایک عمر رسیدہ فقیر لوگوں سے کچھ مانگ رہا تھا۔ لوگوں نے اہانت آمیز لہجے میں کہا کہ مولا! یہ شخص مسیحی ہے۔ امام علیہ السلام نے ان کی اس بات سے سخت ناراض ہوکر فرمایا: جب یہ جوان تھا تو تم لوگوں نے ان کی طاقت سے استفادہ کیا ہے۔ جب یہ کمزور ہوگیا ہے تو تم لوگ اسے چھوڑ دیتے ہو۔ یہ فرما کر بیت المال سے اس کا خرچہ دینے کا حکم دیا۔
بنابریں حضرت علی بن ابی طالبؑ کی شخصیت محض ایک مذہبی یا تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ آپ تاریخِ انسانی میں دانش پر مبنی سیاست (Wisdom-based Politics) کا نادر نمونہ ہیں۔ آپ کی سیاست اقتدار کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ حق، عدل، اخلاق اور انسانیت کے قیام کے لیے تھی۔ حضرت علیہ السّلام کی سیاست کا بنیادی ستون اصول پسندی تھا نا کہ مصلحت۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سیاست اگر اصول سے خالی ہو تو فریب بن جاتی ہے۔ آپ نے کبھی بھی حق کو مصلحت پر قربان نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے معاویہ جیسی مکار سیاست کا سہارا نہیں لیا، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وقتی طور پر یہ طرزِ سیاست کامیاب ہوسکتی ہے۔ آپ کا مشہور فرمان ہے: اگر دینی اصول مانع نہ ہوتے تو میں سب سے بڑا سیاست دان ہوتا۔ یہ جملہ حضرت علی علیہ السلام کی دانشمندانہ سیاست کی واضح دلیل ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کے نزدیک حکومت غنیمت نہیں، ذاتی حق نہیں، خاندانی میراث نہیں بلکہ الٰہی امانت ہے۔ اسی لیے خلافت قبول کرتے وقت فرمایا: اگر حق کا قیام اور باطل کا خاتمہ مجھ پر لازم نہ کیا جاتا تو میں حکومت قبول نہ کرتا۔ یہ فکر جدید سیاسی فلسفے میں Public Trust Theory سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاست کا مرکز عدلِ مطلق تھا۔ عدل ایسا کہ خلیفہ اور عام شہری برابر، مسلمان اور غیر مسلم قانون کے سامنے مساوی، امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے عہد خلافت میں ایک یہودی کے ساتھ زرہ کا مقدمہ قاضی شریح کے پاس پہنچا۔ آپ کے پاس گواہ نہ ہونے کے باعث فیصلہ یہودی کے حق میں ہوا، مگر علی علیہ السلام نے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ جس پر یہودی نے متاثر ہوکر آپ کی خلافت کو خلافت الہیہ قرار دے کر زرہ آپ کو واپس لوٹا دیا۔ یہ رویہ آپ کو Rule of Law کا بانی ثابت کرتا ہے۔
حضرت علی علیہ السّلام طاقت کو تلوار یا فوج سے نہیں، بلکہ اخلاقی اتھارٹی سے حاصل کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک ظلم وقتی طور پر طاقتور ہوتا ہے، مگر عدل دائمی طاقت رکھتا ہے۔ اسی لیے آپ فرماتے تھے: حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ یہ جملہ سیاسی حکمت کا شاہکار ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی دیانت داری کا اعلیٰ ترین نمونہ حضرت عقیلؑ کا واقعہ ہے۔ بھائی ہونے کے باوجود بیت المال سے زائد دینے سے انکار کیا۔ دہکتی ہوئی سلاخ تھامنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ رشتہ قانون سے بالاتر نہیں، سیاست میں قرابت داری کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تصور آج کے دور میں Anti-Corruption Governance کی بنیاد ہے۔ حضرت علی علیہ السلام اشرافیہ نواز سیاست کے سخت مخالف تھے۔
آپ کی سیاست عوام دوست، غریب نواز اور کمزور طبقے کی محافظ تھی۔ آپ خود راتوں کو اناج اٹھا کر یتیموں اور بیواؤں کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔ یہ محض ہمدردی نہیں، بلکہ Social Justice Policy تھی۔ حضرت علی علیہ السلام کا خط مالک اشتر کے نام دنیا کا ایک عظیم سیاسی و انتظامی منشور ہے۔ اس میں انسانی حقوق، گورننس، عدالتی شفافیت، فوجی اخلاقیات، عوامی فلاح و بہبود سب کچھ موجود ہے۔ آج بھی اقوامِ متحدہ اور جدید سیاسی مفکرین اسے Ideal Governance Charter مانتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے جنگ بھی اصولوں کے تحت لڑی۔ آپ خود سے جنگ کا آغاز نہیں کرتے تھے۔ زخمی پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی سیاست اخلاقی سیاست (Ethical Politics) کہلاتی ہے۔
مسجد میں حضرت علی علیہ السلام کی شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ سچی سیاست اکثر مظلومیت پر ختم ہوتی ہے، مگر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکر جارج جرداق نے کہا: "قتل علی لشدۃ عدلہ" علیہ السلام کو ان کے شدید عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ بنابریں حضرت علی علیہ السلام فقط سیاست دان نہیں، بلکہ سیاست کے استاد بھی ہیں۔ آپ کی سیاست ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، ذریعہ ہے۔ اصول کامیابی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ عدل سیاست کی روح ہے۔ اگر آج کی دنیا حضرت علی علیہ السّلام کی سیاست سے صرف چند اصول ہی اپنا لے تو ظلم کا خاتمہ، عدل و انصاف کا بول بالا اور انسانیت محفوظ ہوسکتی ہے۔
نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان 10 بنیادی فرق
ایران کے سابق سفیر اور سینئر سفارت کار نے نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ نیابتی نہیں بلکہ ایک حقیقی مزاحمتی قوت ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے نمائندے کے مطابق، شہید سردار قاسم سلیمانی کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب بدھ کی شام تہران میں واقع شہید آوینی فیکلٹی میں منعقد ہوئی۔
اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے سابق سفیر برائے ترکیہ اور سابق سفارت کار محمد فرازمند نے 12 روزہ جنگ اور محورِ مزاحمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے بعد ہم خطے میں ایک منظم بیانیہ سازی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کے تحت یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ محورِ مزاحمت اور ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور امریکہ و صہیونی رژیم جب چاہیں ایران پر حملہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ محورِ مزاحمت اور نیابتی قوت میں اصل فرق کیا ہے، اور کہا کہ انہوں نے یہ بات رائج کرنے کی کوشش کی کہ حزب اللہ، الحشد الشعبی اور انصاراللہ ہماری نیابتی قوتیں ہیں، حالانکہ یہ درست نہیں۔ یہ نیابتی نہیں بلکہ مزاحمتی قوتیں ہیں۔ اس سابق سفارت کار نے نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان کم از کم 10 بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں:
1۔ مزاحمتی قوت کا بنیادی ہدف صہیونی قبضے اور امریکہ کے علاقائی منصوبے کے خلاف مزاحمت ہے، جبکہ نیابتی قوت کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔
2۔ مزاحمتی قوت کرائے کی نہیں ہوتی، اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی کرائے کے جنگجو تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ کرائے کے جنگجو، جیسے ویگنر گروپ، صرف پیسے کے لیے لڑتے ہیں۔
3۔ مزاحمتی قوت عدل، حق طلبی اور تسلط کے انکار پر مبنی بیانیہ رکھتی ہے۔
4۔ مزاحمتی قوت نظریاتی اور بامقصد ہوتی ہے، جبکہ نیابتی قوتیں جیسے داعش آرمان پسند نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کے پاس انسانی اقدار نہیں ہوتیں۔
5۔ مزاحمتی قوت اپنے سیاسی جغرافیے میں منصوبہ رکھتی ہے اور عوامی حمایت کی حامل ہوتی ہے۔
6۔ مزاحمتی قوت اپنے ہی ملک کی حکومت اور عوام کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتی، جبکہ نیابتی قوت ایسا کرتی ہے۔
7۔ نیابتی قوت کا اپنے بیرونی حامیوں سے رابطہ منقطع ہوتے ہی وجود ختم ہو جاتا ہے، لیکن مزاحمتی قوت ایسا نہیں ہوتی۔
8۔ مزاحمتی قوت علیحدگی پسند نہیں ہوتی بلکہ علیحدگی پسندی کے خلاف جدوجہد کرتی ہے؛ اس کی مثال عراقی کردستان میں ہونے والا علیحدگی کا ریفرنڈم ہے جس کے خلاف الحشد الشعبی نے کردار ادا کیا۔
9۔ مزاحمتی قوت فرقہ وارانہ یا نسلی نہیں ہوتی بلکہ ہمہ گیر اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہوتی ہے۔
10۔ مزاحمتی قوت کا کمانڈر خودمختار ہوتا ہے اور باہر سے احکامات نہیں لیتا۔
محمد فرازمند نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کی برسی پر سب سے بہتر کام یہ ہے کہ ہم مزاحمت کے بیانیے کو مضبوط کریں اور جعلی روایات کا مؤثر جواب دیں۔ خطے کی حالیہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ریاض، دوحہ اور مسقط سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جو بے مثال ہیں۔ 2017 میں جب خلیجی ممالک نے قطر کا محاصرہ کیا اور یہ ملک ایران اور ترکیہ کی مدد سے بچ نکلا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بہت سے لوگ منتظر تھے کہ امارات کوئی غلطی کرے تاکہ سعودی عرب اس کا جواب دے۔ کیونکہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب، امارات کے القائی بیانیوں کے زیرِ اثر یمن کی جنگ، جمال خاشقجی کے معاملے اور دیگر کئی سنگین غلطیوں کا مرتکب ہوا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خلیج فارس میں ہمارا جنوبی ہمسایہ (امارات) خطے میں اسرائیل کے منصوبوں کا عملی آلہ بن چکا ہے، جس کی تازہ مثال صومالی لینڈ کا معاملہ ہے۔
جذب رحمت الهی میں استغفار کا اثر
استغفار کے آثار میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔ حضرت صالحؑ اپنی قوم کو عذابِ الٰہی سے ڈراتے تھے، لیکن وہ کہتے تھے کہ جس عذاب کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اسے ہم پر لے آؤ۔ اس پر آپؑ نے فرمایا: «قَالَ يَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» (النمل: 46) یعنی تم بھلائی سے پہلے برائی (عذاب) کی جلدی کیوں کرتے ہو؟ تم اللہ سے استغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے؟
قرآنِ کریم کی آیات میں اعمال کے اثرات کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آیات کے صدر (آغاز) اور ذیل (اختتام) پر غور کیا جائے۔ بہت سی آیات میں جہاں آغاز میں استغفار کا ذکر ہے، وہاں اختتام میں مغفرت کے ساتھ ساتھ رحمتِ الٰہی کا بھی بیان آیا ہے: "وَ اسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (البقرہ: 199) اور ایک دوسری آیت میں فرمایا: "وَ اسْتَغْفِرِ اللّهَ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا" (النساء: 106)
اب سوال یہ ہے کہ استغفار اور رحمتِ الٰہی کے درمیان کیا تعلق ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ انسان اور اللہ کی رحمت کے درمیان ایک پردہ بن جاتے ہیں۔ جب یہ پردہ اور رکاوٹ ہٹ جاتی ہے تو رحمتِ الٰہی نازل ہوتی ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ اگر بندے تک اللہ کی رحمت اور رزق کے نزول کے راستے کو ایک دالان فرض کیا جائے تو گناہ اور نافرمانی اس راستے کو بند کر دیتی ہے۔ لہٰذا استغفار صرف گناہوں کی معافی نہیں، بلکہ اگر خیر اور رحمت کے پہنچنے میں کوئی رکاوٹ موجود ہو تو وہ بھی دور کر دیتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے دعائے کمیل میں اشارہ فرمایا: "اَللّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَيِّرُ النِّعَمَ" اے اللہ! وہ گناہ معاف فرما دے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں۔
بعض آیات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ استغفار کے بعد انسان اللہ کی خاص رحمت (رحمتِ رحیمیہ) کو پاتا ہے: "وَ مَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّهَ يَجِدِ اللّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا" (النساء: 110) یعنی جو کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔
ایک اور آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ بندے کا اپنا استغفار اور رسولِ اکرم ﷺ کا اس کے حق میں استغفار کرنا، اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا سبب بنتا ہے: "فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا" (النساء: 64) یعنی اگر وہ اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان پاتے۔/
امام محمد تقی علیہ السلام کی سیاسی سیرت
امام محمد تقی علیہ السلام کا نام "محمد" اور کنیت "ابو جعفر" اور لقب "جواد" تھا۔ وہ 195 ہجری قمری میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپکے والد امام علی رضا علیہ السلام اور والدہ گرامی "سبیکہ" خاتون تھیں جو حضرت ماریہ قبطیہ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ مکرمہ کی نسل سے تھیں۔
شیعیان خاص طور پر علویان جنکی سربراہی ائمہ معصومین علیھم السلام کے ہاتھوں میں تھی بنی امیہ کے دور حکومت اور منصور عباسی اور مہدی عباسی کی حکومت میں شدید ترین حالات سے روبرو تھے۔ شیعہ تحریکیں مسلسل اور یکے بعد دیگرے اٹھتی تھیں اور حکومت کی جانب سے کچل دی جاتی تھیں۔ شیعہ ہونا بہت بڑا جرم بن چکا تھا جسکی پاداش میں قید کر دینا، قتل کر دینا، تمام اموال کا ضبط کر لینا اور انکے گھروں کو مسمار کر دینا حکومت کا قانونی حق بن چکا تھا۔ ائمہ معصومین علیھم السلام بھی تقیہ کی حالت میں تھے اور شیعیان کے ساتھ انکے روابط مخفیانہ طور پر انجام پاتے تھے۔
لیکن امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعد جب ائمہ معصومین علیھم السلام کی زیر نگرانی سیاسی فعالیت کے نتیجے میں شیعیان ایک حد تک طاقتور ہو چکے تھے، وہ اس قابل ہو گئے تھے کہ اظہار وجود کر سکیں اور انکی تعداد بھی کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔ لہذا شیعیان کئی سال تک ائمہ معصومین علیھم السلام سے کھل کر اظہار عقیدت کرنے کی طاقت سے محروم ہونے کے بعد اب ایسے مرحلے تک پہنچ چکے تھے کہ ائمہ معصومین علیھم السلام کی اجتمای منزلت اس حد تک بلند ہو چکی تھی کہ خلفای بنی عباس اعلانیہ طور پر ان سے اپنی دشمنی کا اظہار کرنے سے کتراتے تھے۔ دوسری طرف بنی عباس ائمہ معصومین علیھم السلام کو اپنے حال پر بھی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے تاکہ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مرضی سے جو چاہیں انجام دی سکیں۔ لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ ائمہ معصومین علیھم السلام کو اپنے قریب رکھیں تاکہ انکی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھ سکیں۔
چنانچہ مامون عباسی نے امام علی رضا علیہ السلام کو مدینہ سے طوس آنے پر مجبور کر دیا۔ یہی چیز علویان کے اجتماعی اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بنی۔ امام علی رضا علیہ السلام خراسان میں مستقر ہوئے اور آپ اور اپکے فرزند امام محمد تقی علیہ السلام کے وکلاء کا نیٹ ورک اسلامی سرزمین کے کونے کونے تک پھیل گیا۔ شیعیان اس قابل ہو گئے کہ ہر سال حج کے موقع پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں امام جواد علیہ السلام سے براہ راست ملاقات کر سکیں۔
امام محمد تقی علیہ السلام کے ماننے والے بغداد، مدائن، عراق اور مصر تک پھیل گئے اور خراسان اور ری دو بڑے شیعہ مراکز کے طور پر ظاہر ہوئے۔ شیعیان امام جواد علیہ السلام کے وکلاء کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کے علاوہ حج کے موقع پر خود امام علیہ السلام سے بھی ملاقات کرتے رہتے تھے اور ان سے براہ راست رابطہ قائم رکھتے تھے۔ قم شیعوں کے بڑے اور اصلی مراکز میں سے ایک تھا۔ قم کے شیعوں نے بھی امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار کر رکھا تھا۔ دوسری طرف قم کے لوگ مامون عباسی کی حکومت کی مخالفت کا بھی اظہار کرتے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مامون عباسی نے علی ابن ھشام کی سربراہی میں قم پر فوجی حملے کا حکم دے دیا لیکن اسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح فارس، اہواز، سیستان اور خراسان میں مختلف شیعہ گروہ وجود میں آئے جو امام جواد علیہ السلام سے مکمل رابطے میں تھے۔
مامون عباسی جو بنی عباس کا سب سے زیادہ چالاک اور دوراندیش حکمران تھا خود کو علم اور آزادی بیان کا حامی ظاہر کرتا تھا جسکا مقصد اقتدار پر اپنے قبضے کو باقی رکھنا اور ایسے حقائق کو مسخ کرنا تھا جو بنی عباس کی سیاسی بقا کیلئے خطرہ تھے۔ مامون عباسی امام محمد تقی علیہ السلام کے دوران امامت میں حکمفرما تھا اور انکی زندگی کا بڑا حصہ مامون کے دوران حکومت میں گزرا۔ مامون عباسی نے شیعہ تفکر پر مکمل غلبہ پانے کیلئے امام علی رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام کے دوران امامت میں بہت سے اقدامات انجام دیئے۔ اس نے کوشش کی کہ گذشتہ حکمرانوں کے رویے کے برعکس ائمہ معصومین علیھم السلام کے ساتھ نئے انداز سے پیش آئے اور انہیں اپنے زمانے کے نامور دانشور اور علماء حضرات کے ساتھ علمی مناظروں کی دعوت دیتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ امام علی رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام جنکی عمر بھی کم تھی کو کسی طرح علمی میدان میں شکست سے دوچار کر سکے۔ مامون عباسی ائمہ معصومین علیھم السلام کی علمی شخصیت کو خدشہ دار کر کے تشیع کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کی سازشوں میں مصروف تھا۔
امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی بنی عباس کی شیعہ مخالف سازشیں جاری رہیں۔ مامون عباسی کا طریقہ یہ تھا کہ اس نے ہر شخص پر ایک جاسوس مقرر کر رکھا تھا اور یہ کام وہ اپنی کنیزوں سے لیا کرتا تھا۔ وہ جسکی جاسوسی کرنا چاہتا تھا اسے اپنی ایک کنیز تحفے کے طور پر پیش کرتا تھا، یہی کنیز اسکے بارے میں تمام معلومات مامون عباسی تک پہنچاتی رہتی تھی۔ لہذا امام محمد تقی علیہ السلام کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے مامون عباسی نے انکی شادی اپنی بیٹی ام الفضل سے کروا دی جیسا کہ امام علی رضا علیہ السلام کے دور میں بھی انکی شادی اپنی دوسری بیٹی ام حبیبہ سے کروا چکا تھا۔
امام محمد تقی علیہ السلام کا وجود بابرکت جو چھوٹی عمر ہونے کے باوجود امامت کے منصب پر فائز تھے اور قیادت کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے نظام حاکم کیلئے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ مامون عباسی اہل تشیع کی جانب سے بغاوت سے سخت خوفزدہ تھا لہذا انہیں اپنے ساتھ ملانے کیلئے مکاری اور فریبکاری سے کام لیتا تھا۔ اس مقصد کیلئے اس نے امام علی رضا علیہ السلام کو عمر میں خود سے کہیں زیادہ بڑا ہونے کے باوجود اپنا ولیعہد بنایا اور انکے نام کا سکہ جاری کیا اور اپنی بیٹی سے انکی شادی کروائی۔ مامون نے امام محمد تقی علیہ السلام سے بھی یہ رویہ اختیار کیا اور 211 ھجری میں انہیں مدینہ سے بغداد بلوا لیا تکہ انکی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھ سکے۔
مامون عباسی چاہتا تھا کہ دھمکیوں اور لالچ جیسے سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے امام جواد علیہ السلام کو اپنا حامی بنائے۔ اسکے علاوہ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ اہل تشیع کو خود سے بدبین نہ ہونے دے اور امام علی رضا علیہ السلام کو شہید کرنے کا الزم بھی اپنے دامن سے دھو سکے۔
امام محمد تقی علیہ السلام اسکی توقعات کے برعکس اپنی تمام سرگرمیاں انتہائی ہوشیاری اور دقیق انداز میں انجام دیتے تھے۔ وہ حج کے بہانے بغداد سے خارج ہو کر مکہ آ جاتے تھے اور واپسی پر کچھ عرصہ کیلئے مدینہ میں رہ جاتے تھے تاکہ مامون کی نظروں سے دور اپنی ذمہ داریاں انجام دی سکیں۔
مامون عباسی کے بعد اسکا بھائی معتصم برسراقتدار آیا۔ اس نے مدینہ کے والی عبدالملک ابن زیاد کو لکھا کہ امام محمد تقی ع اور انکی اہلیہ ام الفضل کو بغداد بھجوا دے۔ معتصم عباسی کے اقدامات کے باوجود امام محمد تقی علیہ السلام کی محبوبیت میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ حکومت کیلئے جو چیز سب سے زیادہ ناگوار تھی وہ یہ کہ امام جواد علیہ السلام چھوٹی عمر کے باوجود سب کی توجہ کے مرکز بنتے جا رہے تھے اور دوست اور دشمن انکے علم اور فضیلت کے قائل ہو رہے تھے۔ جب امام جواد علیہ السلام بغداد کی گلیوں میں جاتے تھے تو سب لوگ آپکی زیارت کیلئے چھتوں اور اونچی جگہوں پر جمع ہو جاتے۔
اسی طرح بنی عباس کے حکمرانوں کی سازشوں کے باوجود امام محمد تقی علیہ السلام کے اثر و رسوخ میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ معتصم انتہائی پریشان تھا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ امام جواد علیہ السلام انتہائی عقلمندی سے اسکے تمام منصوبوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔ سیستان کا رہنے والا بنی حنیفہ قبیلے کا ایک شخص کہتا ہے: ایک بار امام جواد علیہ السلام کے ساتھ حج پر گیا ہوا تھا۔ ایک دن دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے، معتصم کے دربار کے کچھ افراد بھی موجود تھے۔ میں نے امام جواد علیہ السلام سے کہا کہ ہمارا حکمران اہلبیت ع سے محبت رکھنے والا شخص ہے، اس نے مجھ پر کچھ ٹیکس لگائے ہیں، آپ مجھے اسکے نام ایک خط لکھ دیں تاکہ میرے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرے۔ امام جواد علیہ السلام نے لکھا: بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ اس خط کا حامل شخص تمہارے بارے میں اچھی رائے رکھتا ہے۔ تمہارے لئے فائدہ مند کام یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نیکی سے پیش آو۔
وہ شخص کہتا ہے کہ جب میں سیستان آیا اور حکمران کو خط دیا تو اس نے وہ خط اپنی آنکھوں سے لگایا اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟۔ میں نے کہا کہ تمہارے افراد نے مجھ پر بہت بھاری ٹیکس لگایا ہے، آپ دستور دیں کہ یہ ٹیکس ختم کر دیا جائے۔ اس نے کہا کہ جب تک میں حکمران ہوں تم ٹیکس ادا نہ کرو۔
اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امام جواد علیہ السلام کا اثر و رسوخ کس حد تک تھا۔ امام محمد تقی علیہ السلام نے امامت کی بنیادوں کو مستحکم کیا اور اہلبیت ع کی موقعیت کو حفظ کیا۔ اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء اور دانشور حضرات جیسے یحیی بن اکثم جو ایک بڑی فقیہ تھا، کے ساتھ مناظروں کے ذریعے امام جواد علیہ السلام نے اہلبیت ع کا پیغام سب لوگوں تک پہنچایا۔ بنی عباس کے حکمران کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ امام جواد علیہ السلام کی عظیم شخصیت سے لوگ آشنائی پیدا کریں لہذا انکو شہید کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔
معتصم عباسی نے اپنے ایک وزیر کے ذریعے امام محمد تقی علیہ السلام کو زہر کھلا کر شہید کروا دیا۔ شہادت کے وقت امام جواد علیہ السلام کی عمر 25 سال اور کچھ ماہ تھی۔
شہید راہِ انسانیت قاسم سلیمانیؒ
اکیسویں صدی کا آغاز جس سب سے ہولناک حقیقت کے ساتھ ہوا، وہ دہشت گردی کا وہ عفریت تھا، جس نے ریاستوں کو کمزور، معاشروں کو خوف زدہ اور انسانیت کو یرغمال بنا لیا۔ مذہب کے نام پر قتل، نفرت کو نظریہ اور تشدد کو سیاست بنانے والی تنظیموں نے مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی امن کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا۔ ایسے ہی ایک پُرآشوب اور تاریک عہد میں کچھ شخصیات تاریخ میں محض کردار ادا نہیں کرتیں بلکہ وہ انسانی ضمیر کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ شہید قاسم سلیمانیؒ انہی شخصیات میں شامل تھے، جن کی شہادت کو 2026ء میں چھ برس مکمل ہو رہے ہیں، مگر جن کا نام آج بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انسانی اقدار کی بقاء کے حوالے سے ایک مضبوط حوالہ ہے۔ حاج قاسم سلیمانیؒ کو محض ایک عسکری کمانڈر کے طور پر دیکھنا ان کی شخصیت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ وہ اس نسل کے رہنماؤں میں سے تھے، جنہوں نے طاقت کو اخلاق کے تابع رکھنے کی کوشش کی۔
جب داعش اور دیگر انتہاء پسند تنظیموں نے عراق اور شام میں قتل عام، ثقافتی تباہی اور مذہبی نفرت کا بازار گرم کیا۔ عبادت گاہیں، بازار، تعلیمی ادارے اور تاریخی ورثہ ان کی درندگی کا نشانہ بنے، تو یہ صرف ایک علاقائی بحران نہیں رہا بلکہ انسانی تہذیب کے وجود پر حملہ بن گیا۔ ایسے میں قاسم سلیمانی کی قیادت میں سامنے آنے والی مزاحمت کا مقصد محض عسکری غلبہ نہیں بلکہ انسان کی جان، عزت اور شناخت کا تحفظ تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاج قاسم سلیمانیؒ کا امتیاز یہ تھا کہ وہ اسے صرف بندوق کی جنگ نہیں سمجھتے تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ اگر دہشت گردی کے نام پر شہری آبادی، عورتوں، بچوں اور کمزور طبقات کی جانیں بے وقعت ہو جائیں تو ایسی جنگ خود دہشت گردی کی ایک نئی شکل بن جاتی ہے۔ اسی لیے ان کی حکمتِ عملی میں مقامی سماج، مذہبی حساسیتوں اور انسانی جان کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ ان کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا مقصد شہروں کو بچانا، معاشروں کو ٹوٹنے سے روکنا اور ریاستی نظم کو دوبارہ کھڑا کرنا تھا۔
شہید قدس حاج قاسم سلیمانی ؒکی بصیرت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ دہشت گردی کو زندہ رکھنے والے عوامل سیاسی، معاشی اور نظریاتی ہوتے ہیں، اس لیے اس کا مقابلہ بھی ہمہ جہتی ہونا چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت وہ عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی سرگرم رہے۔ مختلف ممالک اور قوتوں کے درمیان رابطہ، باہمی اعتماد اور مشترکہ خطرات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ان کے کردار کا اہم حصہ تھا۔ وہ خاموشی سے اتحاد بناتے اور انتشار کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ فرقہ واریت کو دہشت گردی کی سب سے خطرناک خوراک سمجھتے ہوئے قاسم سلیمانی نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور باہمی احترام پر مسلسل زور دیا۔ ان کا عملی رویہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلکی تقسیم سے اوپر اٹھ کر مشترکہ انسانی اور اسلامی اقدار کو مقدم رکھتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ مختلف مسالک اور قومیتوں میں ان کے لیے احترام پایا جاتا ہے اور انہیں ایک ایسے رہنماء کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو نفرت نہیں بلکہ وحدت کی بات کرتا تھا۔ فلسطین شہید قاسم سلیمانی ؒکی فکر کا ایک مستقل اور گہرا حوالہ تھا۔ ان کے نزدیک فلسطین محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی، جب تک طاقت کے نام پر کی جانے والی ریاستی جارحیت اور مظلوم اقوام کے حقوق کی پامالی پر بھی سوال نہ اٹھایا جائے۔ فلسطینی عوام کے ساتھ ان کی وابستگی دراصل اسی انسانی اصول کی توسیع تھی۔
شہید قاسم سلیمانیؒ کی زندگی کا اخلاقی محور ولایتِ فقیہ سے ان کی غیر متزلزل وابستگی تھی۔ رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ ان کا تعلق محض عسکری نظم و ضبط کا نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی اور مقصد کی یکسانیت کا رشتہ تھا۔ وہ خود کو ہمیشہ نظام کا خادم اور ایک سپاہی سمجھتے رہے، نہ کہ طاقت کا مرکز۔ یہی سوچ انہیں ذاتی مفاد، شہرت اور اقتدار کی خواہش سے دور رکھتی تھی۔ غیر معمولی اثر و رسوخ کے باوجود قاسم سلیمانیؒ کی ذاتی زندگی سادگی کی مثال تھی۔ نہ شاہانہ طرزِ زندگی، نہ نمود و نمائش۔ وہ عام سپاہیوں کے ساتھ بیٹھتے، شہداء کے خاندانوں سے براہِ راست ملتے اور خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ یہ سادگی دراصل ان کی اخلاقی قوت کی علامت تھی۔
3 جنوری 2020ء کو بغداد میں کیا جانے والا امریکی ڈرون حملہ نہ صرف ایک شخص کی ہلاکت تھا بلکہ بین الاقوامی قوانین، ریاستی خود مختاری اور انسانی اقدار کے لیے ایک خطرناک مثال بھی۔ ایک خود مختار ملک کی سرزمین پر ایک اعلیٰ عہدیدار کا ماورائے عدالت قتل اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ جب طاقت قانون سے بالاتر ہو جائے تو سب سے پہلے انسانیت پامال ہوتی ہے۔ اسی لیے اس اقدام کو دنیا کے مختلف حلقوں میں غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر جمہوری قرار دیا گیا۔ آج، چھ برس بعد، شہید قاسم سلیمانیؒ اس لیے زندہ ہیں کہ ان کی جدوجہد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو انسانی اقدار کے ساتھ جوڑتی ہے۔
وہ ہمیں یہ سوال یاد دلاتے ہیں کہ امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، اخلاق اور انسانی وقار کے احترام سے قائم ہوتا ہے۔ انہیں جسمانی طور پر خاموش کیا جا سکتا تھا، مگر اس فکر کو نہیں، جو انسانیت کے دفاع کو اپنا مقصد بنائے۔ ہم انسانیت کے اس عظیم علمبردار اور آپ کے رفقاء بالخصوص شہید ابو مہدی المہندس کو اُن کی چھٹی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ عالم انسانیت کو بالعموم، ملت اسلامیہ، ایرانی عوام اور مقام معظم رہبری سید علی خامنہ ای کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ شہید سلیمانی ؒ اور آپ کے رفقاء بالخصوص شہید ابو مہدی المہندس کے درجات بلند تر فرمائے۔
قیادت کا معیار، ایران کی پہچان ہے
تسنیم نیوز کیساتھ محمد مدثر ٹیپو کا انٹرویو:
تہران میں پاکستان کے سفیر نے بارہ روزہ مسلط کردہ جنگ سمیت مختلف چیلنجز کے مقابلے میں ایران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک موجودہ صلاحیتوں سے زیادہ بہتر استفادہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان گزشتہ برسوں میں بالخصوص حالیہ مہینوں کے دوران قریبی اور بتدریج مضبوط ہوتے تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی، سکیورٹی اور سفارتی حکام مسلسل رابطے میں رہے ہیں اور یہ تعلقات آگے بڑھنے کے عمل میں ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی جارحیت کی پاکستان کی واضح مذمت اور ایران کی حمایت کے بعد، دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب پاکستان کو 2025ء میں بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے تناظر میں افغانستان کے ساتھ بھی سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔ ان تمام پیش رفتوں میں ایران نے ایک علاقائی ثالث کے طور پر مسائل کے حل میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیتوں اور پاکستان کے مشرقی و شمالی ہمسایوں کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے، تسنیم نیوز نے تہران میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر ٹیپو سے گفتگو کی ہے۔ اسلام ٹائمز کے قارئین کے لئے اس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
تسنیم: اس وقت ہم تہران میں پاکستان کے سفارت خانے میں موجود ہیں اور جمہوریہ اسلامی پاکستان کے سفیر جناب محمد مدثر ٹیپو کے ساتھ ایک انٹرویو کے لیے حاضر ہیں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنا وقت دیا۔
محمد مدثر: میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں۔ آپ کی یہاں تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ ایران اور پاکستان کی بندرگاہوں کے درمیان مسابقت نہیں، بلکہ تعاون کا معاملہ ہے۔
تسنیم: جنابِ سفیر، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم موجودہ صلاحیتوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ تاہم شمال-جنوب اور مشرق-مغرب راہداریوں کے تناظر میں تعاون بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ گوادر بندرگاہ کو ایران کی بندرگاہوں سے جوڑا جا سکتا ہے؟ اور کیا گوادر اور چابہار کے درمیان مبینہ مسابقت کو باہمی تکمیل اور تعاون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔؟
محمد مدثر: گفتگو کے آغاز میں، میں شبِ یلدا کے موقع پر پوری ایرانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ ایران کے لیے ایک تہذیبی لمحہ ہے، جس کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں اور جو ایمان، محبت اور مہربانی کی تجدید کی علامت ہے۔ کل پاکستان کے معزز صدر نے ایران کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے ایرانی عوام کے نام اسی مناسبت سے پیغام بھیجا، جو ہمارے باہمی تعلقات کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ میں بھی اسی پیغام کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔
میرا خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور جیسا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اتفاق کیا ہے، اسے 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، اگرچہ اس میں کچھ وقت لگے گا، کیونکہ تجارت لاجسٹکس، سپلائی چین، ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی ڈھانچوں سے جڑی ہوتی ہے، لیکن سیاسی عزم اس حوالے سے بہت مضبوط ہے۔ راہداریوں کا معاملہ بھی انتہائی اہم ہے۔ علاقائی روابط میں ایران کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ ہم ایران-اسلام آباد-ترکیہ ریلوے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کرنے جا رہے ہیں اور اس سے بڑے پیمانے پر ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اسی طرح علاقائی رابطوں کے تناظر میں ہم اس وقت ایران کے ساتھ چابہار اور گوادر کے درمیان تعاون پر مشاورت کر رہے ہیں۔ میری نظر میں یہاں مسابقت کا نہیں بلکہ تعاون کا معاملہ ہے۔ دونوں ممالک کے اپنے اپنے فوائد اور صلاحیتیں ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری عوام، صنعتیں، حکومتیں اور ضابطہ جاتی ادارے مل کر کام کریں، تاکہ سمندری، ریلوے اور زمینی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
بیرونی دباؤ کے باوجود ایران-پاکستان معاشی تعاون میں پیشرفت:
تسنیم: ایران اور پاکستان کے معاشی تعاون میں بعض بیرونی طاقتوں کے دباؤ اور اثراندازی کی کوششیں دیکھی گئی ہیں۔ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن اسکی واضح مثال ہے۔ اسکے علاوہ بارٹر ٹریڈ اور آزاد تجارتی معاہدے (FTA) سے متعلق پیشرفت کی خبریں بھی ہیں۔ اصل رکاوٹیں کیا ہیں اور کیا دونوں ممالک مشترکہ اقدامات کے ذریعے ان بیرونی دباؤ کو کم کرسکتے ہیں۔؟
محمد مدثر: پاکستان اپنی خارجہ، سلامتی اور معاشی پالیسیوں کے فیصلے مکمل خودمختاری کے ساتھ کرتا ہے۔ اعداد و شمار اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ تعاون رکا ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف پچھلے دو برسوں میں سیاسی اور سفارتی روابط غیر معمولی حد تک مضبوط اور ہمہ گیر رہے ہیں۔ دنیا ایک پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی جگہ ہے، جہاں ہر ملک کو اپنے اپنے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، لیکن ایران اور پاکستان کے تعلقات واقعی منفرد ہیں۔ ہمارے پاس باقاعدہ فورمز ہیں، جن کے ذریعے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان-ایران تجارتی فورم منعقد ہوا، جس میں سیکڑوں کمپنیوں نے شرکت کی، جو اپنی نوعیت کا پہلا بڑا فورم تھا۔ ایران-پاکستان آزاد تجارتی معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ آج آپ کی آمد سے پہلے میں ایک بڑے ایرانی تاجر سے ملا تھا۔ حالیہ مہینوں میں کاروباری دلچسپی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں تک آزاد تجارتی معاہدے کا تعلق ہے، اس پر کافی حد تک اتفاق ہوچکا ہے اور اب صرف مناسب وقت کا انتظار ہے۔
تسنیم: یہ مناسب وقت کب آسکتا ہے؟ کیا قریب ہے یا دور۔؟
محمد مدثر: بہت قریب ہے۔ میں درست تاریخ تو نہیں بتا سکتا، لیکن ذاتی رائے میں تقریباً تین ماہ کے اندر یہ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔ اس سے پہلے ہم نے بارٹر ٹریڈ کے لیے بھی ضابطہ جاتی فریم ورک طے کر لیا ہے، جس کے تحت پاکستانی تاجر ایران کے ساتھ اشیاء کے تبادلے کی بنیاد پر تجارت کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں پاکستان اور ایران دونوں طرف سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں اور ہم ایرانی فریق کے ساتھ مل کر اس نظام کو عملی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ دیگر شعبوں میں بھی تعاون جاری ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان کے وزیر مواصلات نے تہران کا دورہ کیا اور ایران کی وزیرِ راہ و شہری ترقی سے مفید ملاقات کی۔ ہم نے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا ہے، جس پر اب سنجیدگی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ دس برسوں میں نمایاں ترقی دیکھنے کو ملے گی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے، جو میرے نزدیک ایک شاندار موقع ہے۔ اگرچہ اس خطے میں چیلنجز موجود رہیں گے، لیکن میں ہمیشہ مواقع پر توجہ دیتا ہوں۔ دونوں ممالک کی تجارتی برادریاں پہلے ہی قریبی روابط قائم کرچکی ہیں۔ چیمبرز آف کامرس، تجارتی فورمز اور کاروباری کونسلیں باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہی ہیں، تاکہ رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔
تسنیم: آپ نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مشترکہ سرحد کا ذکر کیا، جو تعاون کا ایک موقع بھی ہوسکتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ چیلنج بھی بن جاتی ہے، مثلاً سرحدی سلامتی اور مشترکہ سرحدی علاقوں میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں۔ سفارتی مذمت کے علاوہ، ان مسائل سے نمٹنے کیلئے کون سے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں جو دونوں قوموں کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔؟
محمد مدثر: میرا خیال ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں حکومتیں ان چیلنجز کی نوعیت کو بخوبی سمجھتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ خطہ ایسے حالات سے متاثر ہے، جو بیرونی عوامل کے زیر اثر رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ یہی عوامل علاقائی پیچیدگیوں اور زمینی حقائق کو جنم دیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں وسیع تر اسٹریٹجک چیلنجز کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بہت اچھا رہا ہے، اعتماد کی ایک مضبوط فضا قائم ہوئی ہے اور ہمارے ادارے باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ آپ خود ان کوششوں کے ٹھوس نتائج دیکھ چکے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ مزید بہتر ہم آہنگی پیدا ہوگی اور ان مسائل سے نمٹنے کے مؤثر طریقے سامنے آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کے چینلز بدستور موجود ہیں:
تسنیم: آئیے ایک اہم علاقائی مسئلے یعنی افغانستان پر بات کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں، توقعات کے برخلاف، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ اور جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد حالات مختلف ہوں گے۔ کیا افغانستان یا کابل کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ ان حالیہ کشیدگیوں کی بنیادی وجہ کیا ہے۔؟
محمد مدثر: سب سے پہلے میں ایک بنیادی اصول واضح کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان خطے میں امن، ترقی اور سلامتی کا خواہاں ہے۔ یہ علاقہ ایک شاندار تاریخ اور بے پناہ معاشی مواقع کا حامل ہے، اس لیے عوام کو قریب لانا انتہائی ضروری ہے۔ ہماری سب سے بڑی اور بنیادی تشویش ہمیشہ دہشت گردی رہی ہے اور اس کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت۔ گزشتہ سال پاکستان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، اس لیے یہ تشویش بالکل جائز اور حقیقی ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے نائب وزیراعظم نے تین مرتبہ کابل کا دورہ کیا، وزیر داخلہ بھی وہاں گئے اور مختلف سطحوں پر وسیع مذاکرات کیے گئے، تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ رابطے کے تمام چینلز اب بھی کھلے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ افغانستان پاکستان کے جائز تحفظات کو سنجیدگی سے لے گا، تاکہ دونوں ممالک مل کر امن اور ترقی کے لیے کام کرسکیں۔
علاقائی امن کیلئے ایران کی کوششیں مخلصانہ اور قابلِ قدر ہیں:
تسنیم: ایران اور پاکستان دونوں بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں اور انکی سلامتی بڑی حد تک افغانستان کے استحکام سے جڑی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کے قیام میں ایران کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ نیز علاقائی امن کیلئے مختلف اقدامات، جیسے استنبول اجلاس اور خاص طور پر ہمسایہ ممالک کا فریم ورک، آپکے نزدیک کس حد تک مؤثر ہیں۔؟
محمد مدثر: جی ہاں، ہم واقعی ایران کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ ایران مغربی ایشیا میں ایک نہایت اہم ملک ہے اور اس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، جیسے پاکستان کی بھی ایران کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے۔ تینوں ممالک کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ امن، سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جس کا ہم نے خیرمقدم کیا۔ گزشتہ ہفتے افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور روس کے خصوصی نمائندوں کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جو نہایت تعمیری تھا۔ ایران نے اس عمل میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ حتی بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران بھی ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے قبول کیا، اگرچہ بھارت نے رد کر دیا۔ یہ بات خطے میں امن کے لیے ایران کی سنجیدہ فکر کو ظاہر کرتی ہے۔
تسنیم: موجودہ حالات میں آپ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے مستقبل کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا پاکستان کے نزدیک تعلقات کی بحالی کیلئے کوئی پیشگی شرط موجود ہے۔؟
محمد مدثر: میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے تحفظات کو دور کیا جائے، یہ نہایت ضروری ہے۔
تسنیم: یہ تحفظات کیا ہیں۔؟
محمد مدثر: بنیادی طور پر افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی، یہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔
تسنیم: آپ ان تعلقات کے مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ مسئلہ کسی مخصوص مدت میں حل ہوسکتا ہے۔؟
محمد مدثر: ہم مذاکرات کر رہے ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ زمینی صورتحال کس سمت جاتی ہے۔
تسنیم: ایک اور اہم علاقائی مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ہے۔ کیا دونوں ممالک کے درمیان سرکاری یا غیر سرکاری، اعلانیہ یا خفیہ رابطے موجود ہیں، تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔؟
محمد مدثر: پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ تصادم خطے میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہے، اس لیے اسے کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش ضروری ہے۔ پاکستان ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے، جو امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دے۔
تسنیم: ایران کے پاکستان اور بھارت دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایران اس معاملے میں مؤثر ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔؟
محمد مدثر: بھارت کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے دوران ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے قبول کیا۔ ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور ہم ان کوششوں کو سراہتے ہیں۔
پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں آزاد ہے
تسنیم: پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور امریکہ کیساتھ بھی، خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود پاکستان توازن کیسے قائم رکھتا ہے۔؟
محمد مدثر: پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک فیصلوں میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔ ہم عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ بھی، جو ہمیں خطے میں امن کے فروغ کے لیے ایک منفرد مقام فراہم کرتے ہیں۔
تسنیم: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے بیرونی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔؟
محمد مدثر: نہیں، میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ پاکستان مکمل طور پر خودمختار ہے اور اس منصوبے کے مستقبل پر بات چیت جاری ہے۔
تسنیم: فلسطین اور غزہ کا مسئلہ بھی ایک بڑا علاقائی چیلنج ہے۔ پاکستان کا مؤقف کیا ہے۔؟
محمد مدثر: پاکستان ہر اس تجویز کی حمایت کرتا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ اور غزہ میں امن و استحکام لائے اور جنگ کا خاتمہ کرے۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔
تسنیم: غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے پاکستان کا کیا مؤقف ہے۔؟
محمد مدثر: جب بھی بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کا منشور یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، پاکستان اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ ایران پر حملے کے وقت بھی پاکستان نے سب سے پہلے ایران کے حقِ دفاعِ خود کو تسلیم کیا۔
تسنیم: ایران کے خلاف حالیہ جنگ سے کیا سبق حاصل ہوا۔؟
محمد مدثر: سفارت کاری اب بھی مسائل کا بہترین حل ہے۔ جنگیں انتہائی مہنگی اور تباہ کن ہوتی ہیں۔ ہمیں ایک ایسے خطے اور دنیا کی ضرورت ہے، جو امن سے بھرپور ہو۔
تسنیم: یہ پیغام کس کے لیے ہے۔؟
محمد مدثر: سب کے لیے۔
تسنیم: کیونکہ ایران سفارتکاری کے راستے پر تھا، مگر اچانک اس پر حملہ ہوا۔؟
محمد مدثر: اسی لیے میں اصولوں کی بات کرتا ہوں، سفارت کاری ہی اصل راستہ ہے، جنگ ہر لحاظ سے تباہ کن ہوتی ہے۔
تسنیم: کیا آپ بارہ روزہ جنگ کے دوران ایران میں موجود تھے۔؟
محمد مدثر: حقیقت یہ ہے کہ میں ایک اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان گیا ہوا تھا۔ اسی رات میری پرواز تھی کہ جنگ شروع ہوگئی، لیکن جیسے ہی جنگ بندی کا اعلان ہوا، میں فوراً زمینی راستے سے ایران واپس آگیا۔ ارادہ، عوام کی صلاحیت اور قیادت کا معیار، ایران کی پہچان ہے۔
تسنیم: آپ نے اس صورتِحال کو کیسے دیکھا، خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ آپکے ساتھی تہران میں موجود تھے۔؟
محمد مدثر: میرا خیال ہے ایران یقیناً ایک نہایت مضبوط اور مزاحم ملک ہے، ایران کی تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے اور اس نے اپنی تاریخ میں بے شمار اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ صاف بات کروں تو اگر آپ میری ذاتی رائے پوچھیں، تو میں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کوئی ملک اس قدر مضبوط، اس قدر متحرک اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے اس قدر پُرعزم ہوسکتا ہے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ملک میں زندگی معمول کے مطابق جاری تھی اور کہیں یہ احساس نہیں تھا کہ نظام یا معاشرتی زندگی میں کوئی بڑی رکاوٹ آگئی ہو۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ بہت بڑا چیلنج تھا۔
12 روزہ جنگ ایک طرح سے بڑی آفت جیسی تھی، لیکن یہی چیز ایران کی شناخت ہے: ایران کا عزم، مشکلات کے مقابلے میں عوام کی صلاحیت اور قیادت کا معیار۔
تسنیم: جب ہم اس سال کے اختتام کے قریب پہنچ رہے ہیں، تو تہران میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے آپکے نزدیک ایرانی معاشرے اور عام لوگوں، یعنی صرف سیاسی سطح پر نہیں، کا عمومی احساس کیا ہے۔؟ خاص طور پر اس لیے کہ جنگ ہوچکی تھی اور بیرونِ ملک کچھ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ حالات ابھی بھی بہت کشیدہ ہیں۔ کیا لوگوں میں احساسِ تحفظ ہے یا عدم تحفظ۔؟ آپکا مجموعی تاثر کیا ہے۔؟
محمد مدثر: میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ایران چھ ہزار سالہ تاریخ رکھتا ہے اور اس نے بڑے بڑے معرکے، شدید تصادمات اور بے شمار چیلنجز برداشت کیے ہیں۔ یہی چیزیں ایران کی فطرت اور شناخت بناتی ہیں۔ ایران نے اپنی تاریخ، شناخت، ثقافت، تہذیب اور زبان کو محفوظ رکھا اور یہ ایرانی عوام، ایرانی قوم اور ایرانی سماج کے بلند معیار کی علامت ہے۔ اسی لیے میرا اس قوم پر بہت مضبوط یقین ہے۔ میرے لیے یہ ایک منفرد اعزاز ہے کہ میں ایسے وقت میں پاکستان کا سفیر بن کر ایران میں موجود ہوں، جب عالمی ماحول بہت پیچیدہ ہے۔ میں نے ایرانی قیادت، عام ایرانی شہریوں اور ایرانی اداروں کے ساتھ تعامل کیا ہے اور دیکھا ہے کہ وہ کس قدر دور اندیش ہیں اور اپنے اصولوں پر مضبوطی سے قائم ہیں۔
ایران کی ہمسایہ ممالک سے تعامل کی پالیسی کامیاب رہی:
تسنیم: خطے کے بعض ممالک پاکستان نہیں بلکہ دیگر میں پہلے یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ایران خطے کیلئے خطرہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں اور خاص طور پر حالیہ مہینوں میں، اسرائیل کے اقدامات اور فلسطینیوں، لبنانیوں، ایرانیوں، قطریوں اور دیگر کیخلاف اسکے جرائم کے بعد، یہ ادراک آہستہ آہستہ بدل رہا ہے کہ حقیقی خطرہ کہیں اور سے ہے۔ اس سے ایران اور عرب ممالک، نیز پاکستان جیسے غیر عرب ممالک کے درمیان تعاون بڑھ سکتا ہے۔ آپ اس تبدیلی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اور خطے میں امن و استحکام کیلئے ایران پاکستان تعاون میں کیا امکانات ہیں۔؟
محمد مدثر: اگر آپ گزشتہ دو سال میں ایران کی خارجہ پالیسی دیکھیں تو میرے خیال میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعامل کی پالیسی کے فائدے اور ثمرات واضح طور پر سامنے آگئے ہیں۔ ایران نے بہت فعال انداز میں اپنے ہمسایوں، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، پاکستان اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ تعلقات اور رابطے بڑھائے ہیں اور یہ ایرانی قیادت کی گہری بصیرت کی علامت ہے۔ جہاں تک پاکستان اور ایران کے تعاون کی بات ہے، آپ نے یہ تعاون چار روزہ جنگ میں بھی دیکھا اور بارہ روزہ جنگ میں بھی اور مجھے پورا یقین ہے کہ مستقبل میں یہ تعاون مزید مضبوط اور گہرا ہوگا۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان اور ایران کے عوام اپنے ممالک کی عظیم صلاحیتوں کو زیادہ بہتر سمجھیں اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ میں اس موقع پر دونوں ممالک کے وسیع عوامی حلقوں سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سیاحت بہت اہم ہے، فنون، ادب اور ثقافت بہت اہم ہیں۔ یہ وہ شعبہ ہے، جس پر ہمیں توجہ دینی چاہیئے۔ ہمیں کلیشوں پر ہرگز یقین نہیں کرنا چاہیئے، کلیشے ایک منظم اور مقصدی کوشش کے ذریعے بنائے جاتے ہیں۔ ایران کو اس کی حقیقی صلاحیتوں اور اس کی قوت و مزاحمت کی بنیاد پر دیکھنا چاہیئے، نہ کہ ان میڈیا بیانیوں کے ذریعے جو وسیع اور منظم انداز میں مسلط کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پاس بھی بے پناہ صلاحیتیں اور امکانات ہیں اور ان دونوں جنگوں نے واضح کر دیا کہ ہمارا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
تسنیم: آپ کئی برس سے ایران میں سفیر کی حیثیت سے موجود ہیں۔ دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کیلئے آپ کن بنیادی عناصر کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں؟ آپ نے سیاحت کی بات کی اور ہم اقتصادی روابط پر بھی گفتگو کرچکے ہیں۔ آپکے نزدیک وہ سب سے اہم امور کون سے ہیں، جن پر دونوں ممالک کے اہلِ فکر اور عام لوگوں کو توجہ دینی چاہیئے۔؟
محمد مدثر: میرے نزدیک سب سے اہم چیز یہ ہے کہ معاشروں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ بڑھے، ثقافت، تاریخ اور ہماری مشترکہ جدوجہد کو بہتر طور پر سمجھا جائے۔ جامعات کے درمیان تعاون، میڈیا کے درمیان رابطہ، اور شہروں کی سطح پر زیادہ تعامل اور یقیناً باہمی اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہم ایک انتہائی پیچیدہ عالمی ماحول میں رہتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم خطرات کو واضح طور پر پہچانیں اور آنے والی نسلوں کو تیار کریں، تاکہ وہ اس تعلق کی نوعیت کو سمجھ سکیں، جو دونوں ممالک کو مستقبل میں اختیار کرنی چاہیئے۔ لہٰذا اعتماد، زیادہ تعامل، عوام سے عوام کے رابطے کو گہرا کرنا اور اس بات پر مسلسل توجہ رکھنا کہ بیرونی عناصر دہشت گردی کے ذریعے اس تعلق کو متاثر نہ کرسکیں، یہ سب نہایت ضروری ہیں۔
تسنیم: جنابِ سفیر، آپکا وقت دینے اور ہمارے ساتھ رہنے کا بہت شکریہ۔
محمد مدثر: شکریہ۔ بہت شکریہ، یہ میرے لیے بڑا اعزاز تھا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
