سلیمانی

سلیمانی

 بین الاقوامی حقوق کے امریکی ماہرین کی بڑی تعداد نے ایک کھلے خط میں اعلان کیا ہے کہ ایران پر امریکی جارحیت جنگی جرم کے مترادف ہے۔

یہ خط مارچ کے مہینے میں امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے ردعمل میں لکھا گیا جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ "صرف تفریح کے لیے" ایران پر حملہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے اس موقف پر کہ امریکہ "جنگوں کے اصولوں" کے تحت نہیں لڑے گا جسے انہوں نے حماقت آمیز قرار دیا تھا۔

امریکی قانونی امور کے ماہرین نے مزید لکھا ہے کہ ایران کے اسکولوں، طبی مراکز اور رہائشی علاقوں پر حملے باعث تشویش ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی مسلمان وکیلوں کے ایک گروہ نے بھی ایران پر حملوں میں شدت لانے اور "ایران کو پتھروں کے دور میں لوٹانے" کے امریکی دعووں کو غیرانسانی اور جنگی جرم قرار دیا ہے۔

 نائب وزیر نقل و حمل ہوشنگ بازوند نے ایران کے کرج شہر میں واقع B1 پل کے بارے میں بتایا کہ اس پل پر تعمیرات کا آخری مرحلہ جاری تھا اور ابھی افتتاح ہوا ہی نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پل بحیرہ کیسپین جانے والے مسافروں کا راستہ اور راستے کی ٹریفک کم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا اور مئی 2026 میں اس کا افتتاح ہونا تھا۔

نائب وزیر نقل و حمل نے زور دیکر کہ اس پل کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی بلکہ پہلے سے بہتر انداز میں اسے بنائیں گے۔

انہوں نے کہا جس طرح سے صوبہ ایلام میں واقع اسٹریٹیجک پل پر امریکی حملے کے بعد اسے فوری طور پر ایرانی ماہرین نے مرمت کردیا اسی طرح اس پل کو بھی فوری طور پر ٹھیک کردیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ B1 پل مغربی ایشیا کا سب سے طویل پل تھا جسے مکمل طور پر ایرانی انجینیئروں نے ڈیزائن اور تعمیر کیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے اس شہری منصوبے پر میزائل حملہ کرنے کے بعد دعوی کیا کہ ایرانی مسلح افواج اس پل کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

بتایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر نے ایپسٹین کیس کو ان کے مطابق سنبھالے نہ جانے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ پیم بانڈی کو ان کے بقول انتہائی اہم اور ضروری نجی عہدے پر منصوب کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر نے دوسری جانب پیم بانڈی کو بقول ان کے ایک بہت بڑی محب وطن اور وفادار دوست قرار دیا۔

ٹرمپ نے دعوی کیا کہ پیم بانڈی کے دور میں امریکہ میں قتل اور جرائم کی شرح گھٹ کر سن 1900 کی سطح پر پہنچ گئی۔

باخبر ذرائع کے مطابق، پیم بانڈی نے ٹرمپ کے سیاسی مخالفوں کے تعاقب اور اپسٹین کیس میں ٹرمپ کی مرضی کے مطابق پردہ پوشی نہ کرکے، ان کی ناراضگی اپنے سر مول لی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کرسٹی نوئم کو امریکی داخلہ سلامتی کی وزارت سے برطرف کردیا تھا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ تعلقات عامہ نے اعلان کیا ہے کہ بحری دستوں نے آج سحر کے وقت وعدۂ صادق 4 کے 91ویں مرحلے میں امریکہ اور صہیونی دہشت گردوں سے وابستہ فوجی و بنیادی ڈھانچے کے مراکز کو جنوبی خلیج فارس کے ممالک میں بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

سپاہ کے مطابق یہ کارروائی مبارک رمز "یا صادِقاً لٰا یُخلِفُ" کے ساتھ انجام دی گئی اور اسے انجینئروں اور جہاد کرنے والوں کے نام منسوب کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران دشمن کے فوجی اور انفراسٹرکچر اہداف پر بڑی تعداد میں قدیر بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ تباہ کن ڈرونز کے ذریعے شدید حملہ کیا گیا۔

سپاہ کے بیان کے مطابق اس آپریشن میں شمالی بحر ہند میں موجود امریکی جارح بحری بیڑے آبراہام لنکن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں اس پر قدیر 380 کے 4 کروز میزائل داغے گئے۔

سپاہ نے مزید بتایا کہ اس کارروائی کے دوسرے مرحلے میں امارات میں دشمن کے ایک اڈے کے باہر موجود امریکی جنگی طیاروں کے پائلٹوں اور فلائٹ انجینئروں کے خفیہ ٹھکانے کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق زمینی اطلاعات اور ایمبولینسوں کی بڑے پیمانے پر آمد و رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

سپاہ پاسداران نے کہا ہے کہ اگلے مرحلے میں امریکی MQ-1 ڈرون یونٹ کے خلاف کویت کے علی السالم اڈے پر بھی شدید حملہ کیا گیا۔

سپاہ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت اس کے بحری نظاموں کی مسلسل نگرانی میں ہے اور دشمن کی معمولی سی حرکت بھی اللہ کے فضل سے سپاہ کے جوانوں کے فیصلہ کن ردعمل کا سبب بنے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی صورتحال میں پیدا ہونے والی بے امنی، امریکہ کی جارحانہ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ فضائی دفاعی دستوں نے وسطی ایران کی فضاؤں میں امریکی جدید ترین جنگی طیارے ایف-35 کو تباہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران نے آج جمعہ کو جاری بیان میں بتایا کہ تباہ ہونے والا جنگی طیارہ امریکی اسکواڈرن لاک ہیڈ۔ مارٹن سے تعلق رکھتا تھا، جسے وسطی ایران میں سپاہ کے جدید دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

سپاہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ جنگی طیارہ زمین پر گر مکمل تباہ ہوگیا۔

بیان کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا امریکی جنگی طیارہ ہے جسے سپاہ کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی کے ساتھ مار گرایا ہے۔

سپاہ پاسداران نے مزید بتایا کہ جنگی طیارہ نشانہ بننے کے بعد شدید دھماکے کے باعث مکمل طور پر بکھر گیا، اسی لیے پائلٹ کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع موجود نہیں۔ دھماکے کی شدت کے باعث پائلٹ کے طیارے سے نکلنے کا امکان بھی کم دکھائی دیتا ہے۔

آج تہران میں میں بھی شہید تنگسیری اور جنگ رمضان کے دیگر شہداء کی مشترکہ تشییع جنازہ منعقد ہوئی، جو میدان انقلاب اسلامی سے معراج شہداء تک جاری رہی۔

تہران میں شہید تنگسیری کی شاندار آخری رسومات، عوام کا سمندر اُمڈ آیا

عوام نے بھرپور اور جوش و جذبے سے شرکت کرتے ہوئے رہبر معظم کے ساتھ تجدید عہد کیا اور شہداء، بالخصوص امت کے شہید رہبر کے مشن سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

شرکاء کی بڑی تعداد نے شہداء کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہو کر ان کو تسلی دی اور ساتھ ہی دشمنوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت، یکجہتی اور مضبوطی کا پیغام بھی دیا۔

تہران میں شہید تنگسیری کی شاندار آخری رسومات، عوام کا سمندر اُمڈ آیا

تہران میں شہید تنگسیری کی شاندار آخری رسومات، عوام کا سمندر اُمڈ آیا

تہران میں شہید تنگسیری کی شاندار آخری رسومات، عوام کا سمندر اُمڈ آیا

الجزیرہ نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کی 15 شقوں پر مشتمل تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا ہے نہ ہی کوئی تجویز یا شرط پیش کی ہے۔

سید عباس عراقچی نے بین الاقوامی تعلقات میں، آمنے سامنے بیٹھ کر مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کو مذاکرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایسی کوئی صورتحال ایران اور امریکہ کے مابین موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے جسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔

سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے بعض اوقت براہ راست یا دوست ملکوں کے ذریعے پیغام بھیجے جاتے ہیں اور ایران ضرورت کے حساب سے بعض کا جواب بھی دیتا ہے۔

وزیر خارجہ نے زور دیکر کہا کہ پیغامات کا تبادلہ محض وزارت خارجہ کے ذریعے انجام پا رہا ہے اور طریقہ کار کا تعین اعلی قومی سلامتی کونسل میں کیا جا چکا ہے۔

سید عباس عراقچی نے امریکی صدر کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایران نے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کا جواب دیا ہے اور کہا کہ ایران نے امریکہ کے مذکورہ پلان کا کوئی جواب نہیں دیا نہ ہی اس پلان پر کوئی شرط رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی 5 شرطوں پر مشتمل فہرست کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ باتیں ذرائع ابلاغ کے اندازے ہیں۔

وزیر خارجہ عراقچی نے زور دیکر کہا کہ ایران جنگ بندی نہیں بلکہ پورے خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے جارحیت کے دوہرائے نہ جانے اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کو ایران کی شرطوں میں سے قرار دیا۔

سید عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات نے ثابت کردیا کہ امریکہ قابل اعتماد فریق نہیں ہے کیونکہ واشنگٹن ماضی میں ہونے والے معاہدوں سے نکل گیا اور مذاکراتی عمل کے بیچ حملہ بھی کر چکا ہے۔

وزیر خارجہ عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس وقت امریکہ پر اعتماد کی سطح صفر کے قریب ہے۔

انہوں واضح کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ڈیڈلائن کو قبول نہیں کرے گا اور اپنے عوام کے حقوق اور ملک کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیں گے۔

سید عباس عراقچی نے دھونس دھمکی کی زبان کو ایران پر بے اثر قرار دیا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا کہ یہ آبی راستہ ایران اور عمان کے بحری حدود میں واقع ہے اور موجودہ حالات کے تحت ایران سے جنگ میں ملوث ملکوں کی جہازرانی کے لیے بند ہے لیکن دوسرے ممالک کے جہازوں کے لیے پرامن طریقہ کار فراہم کردیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے دشمنوں کو خبردار کیا کہ ایران کی دفاعی طاقت معیاری ہے اور ہر طرح کے فوجی اقدام کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے جھڑپوں کی شدت اور وسعت میں اضافے اور باب المندب کے بند ہونے کے امکان کی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ علاقے کے ممالک سے وابستہ ہے اور ایران نے ایسی کوئی درخواست کسی سے نہیں کی ہے۔

سید عباس عراقچی نے زور دیکر کہا کہ علاقے کے ممالک ہی خطے کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیرعلاقائی افواج کی موجودگی نہ صرف سلامتی کا باعث نہیں بلکہ اس سے عدم استحکام کو ہوا ملے گی۔

 ارنا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے  شعبہ رابطہ عامہ نے بتایا ہے کہ حساس اور فوجی مراکز پر حملے کی خبروں پر سخت ترین سنسر کے باوجود، دشمن کے مکالمات نیز سوشل میڈیا کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ، مقبوضہ فلسطین میں غاصب صیہونی حکومت کے رافائل  ملیٹری انڈسٹریز کمپلیکس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 اس رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے فوجی صنعت کے اس کمپلیکس سے آگ کے شعلے بلند ہوتے اور دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

 قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے گزشتہ چند دنوں سے غاصب صیہونی حکومت کی بنیادی تنصیبات، اسلحے کے کارخانوں اور رافائل انڈسٹریز گروپ کی فوجی اور دفاعی مصنوعات اور جدید ترین ڈیفنس سسٹمس کے پیداواری مراکزپر حملوں کی شدت اور وسعت بڑھا دی ہے۔  

حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کے نام اپنے پیغام میں امام خامنہ ای کی شہادت پر ان کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔

پیغام میں رہبر معظم نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کے سب سے سخت دشمنوں، یعنی امریکہ اور صہیونی حکومت کے مقابلے میں ثابت قدمی اور استقامت، شہید امام خامنہ ای کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عظیم رہبر کے دور قیادت میں مزاحمت کا راستہ مسلسل جاری رہا اور اس راستے کی سچائی کی گواہی ان عظیم شہداء نے دی، جن میں حاج قاسم سلیمانی اور سپاہ پاسداران و فوج کے دیگر اعلی کمانڈر شامل ہیں۔

آیت اللہ خامنہ‌ای نے تاکید کی کہ اسلامی مزاحمت کی تاریخ جدوجہد، شجاعت اور قربانی سے بھری ہوئی ہے، جہاں مزاحمتی رہنماؤں نے کسی خوف کے بغیر امت کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ حزب اللہ کے رہنما، شہید شیخ راغب حرب اور سید عباس موسوی سے لے کر سید حسن نصر اللہ اور سید ہاشم صفی الدین تک، اس راہ کے حقیقی اور ثابت قدم نمونے رہے ہیں۔

رہبر انقلاب نے شیخ نعیم قاسم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس حساس دور میں مزاحمت کی قیادت کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ شیخ نعیم قاسم اپنی ہوشیاری، ذہانت اور شجاعت کے ذریعے صہیونی دشمن کو شکست دیں گے اور لبنان کے عوام کو عزت و سعادت واپس دلائیں گے۔

آیت اللہ خامنہ‌ای نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران صہیونی حکومت اور امریکہ کے مقابلے میں مزاحمت کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے تمام مجاہدین کے لیے کامیابی کی دعا بھی کی۔