سلیمانی

سلیمانی

امام محمد باقر علیہ السلام کے سلسلہ سے تاریخی کتب بتاتی ہیں کہ آپ نے یکم رجب المرجب بروز جمعہ سنہ ۵۷ ہجری مدینہ میں اس ظاہری دنیا میں آنکھیں کھولیں [۱] اور۷ ذی الحجۃ الحرام سنہ ۱۱۴ ہجری کو ہشام بن عبدالملک کے زمانے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا۔

آپ پہلے وہ امام ہیں جو اپنی ماں اور اپنے والد بزرگوار دونوں ہی کی طرف سے فاطمی و علوی قرار پائے چنانچہ سلسلہ معصوم میں آپ ہی کو یہ افتخار حاصل ہے کہ دادیہال اور نانیہال دونوں ہی طرف سے آپ ہاشمی ہیں [۲]

امام محمد باقرؑ نے عہد طفولی کے چار سال اپنے جد جناب امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گزارے آپ کے سلسلہ سے تاریخ کہتی ہے کہ آپ کمسنی کے باجود کربلا میں موجود تھے چنانچہ ایک حدیث میں آپ فرماتے ہیں : “میں چار سالہ تھا جب میرے جدّ امام حسینؑ کو شہید کیا گیا اور مجھے آپؑ کی شہادت کے ساتھ وہ مصائب یاد ہیں جو ہم پر گزرے [۳]

امام محمد باقر علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت پر ہم تمام عاشقان حیدر کرار و دنیا کے حریت پسندوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے ہماری یہ کوشش ہے کہ آپکی نظر میں اچھے اور نیک انسان کے معیار کو بیان کیا جا سکے ۔ پروردگار کی بارگاہ میں دعاء ہے کہ مالک ہمیں اپنے ائمہ طاہرین علیھم السلام کے تعلیمات کو سمجھنے اور سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کی نظر میں اچھا اور نیک انسان:

آج دنیا میں روز بروز بدلتی قدروں کے حامل معاشرہ میں انسان کے لئے نیکی اور خیر کا مفہوم بھی بدل رہا ہے اور نیک اور اچھے لوگوں کو پرکھنے کا معیار بھی بدل رہا ہے، ہر ایک خود کو بہت بڑا نیک انسان دکھانے کی کوشش کرتا نظر آتا ہےاور دلیل کے طور پر وہ نیکیاں گنانا شروع کر دیتا ہے جو اس نے کی ہیں اور موجود دور میں انہیں نیکیوں کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے ، جیسے کسی اسکول کی تعمیر ،کسی بچے کی فیس کا انتظام کر دینا ، کسی یتیم کی سرپرستی ، کسی اسپتال کی تعمیر وغیرہ ، یقینا یہ سب نیک کام ہیں اور ان سب کو کرنے والا بھی نیکی کو انجام دینے والا نیک انسان ہی کہا جائے گا لیکن یہ ساری چیزیں اسکی اچھائی اور نیکی کا ملاک و معیار نہیں ہیں بلکہ ملاک و معیار امام علیہ السلام نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ اس کار خیر کرنے والے کے دل میں کیا ہے؟ کیا وہ دل میں ان لوگوں سے محبت کا جذبہ رکھتا ہے جو اللہ کے نیک و اطاعت گزار بندے ہیں یا پھر اسکا رہن سہن تو بدمعاشوں کے درمیان ہے اور اللہ کے اطاعت گزار بندوں سے ہمیشہ اسکی ان بن رہتی ہے لیکن دنیا کے ظاہری نیک کاموں میں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے کیا ایسے انسان کو اچھا انسان کہا جا سکتا ہے ؟

امام محمد باقر علیہ السلام ایک حدیث میں اسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ جانو تمہارے اندر کوئی خیر کوئی اچھائی پائی جا رہی ہے یا نہیں تو اپنے دل کے اندر جھانک کر دیکھو اگر یہ دل اللہ کی اطاعت کرنے والوں کی طرف مائل ہو اور اس میں ان لوگوں کی محبت پائی جاتی ہو جو خدا کے اطاعت گزار بندے ہیں اور اس دل میں ان لوگوں سے نفرت ہو جو اللہ کی نافرمانی کرنے والے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ تمہارے اندر خیر و نیکی کا مادہ پایا جاتا ہے اور اللہ تمہیں دوست رکھتا ہے لیکن اگر تم اللہ کی اطاعت کرنے والے بندوں سے بغض و عناد رکھتے ہو اور اہل معصیت اور گناہ گاروں سے محبت کرتے ہو تو جان لو کہ تمہارے اندر کوئی خیر نہیں پایا جاتا اور اللہ بھی تمہیں دوست نہیں رکھتا اور انسان اسی کے ساتھ مانا جاتا ہے جس سے محبت کرتا ہے ‘‘[۴]

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اگر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے اندر کتنی خوبی پائی جاتی ہے تو اپنے دل کو ٹٹولیں اور دیکھیں کہ دل کن لوگوں کی طرف مائل ہے اگر اس دل میں دنیا پرستوں کی محبت پائی جاتی ہے ان لوگوں کی محبت پائی جاتی ہے جنہیں خدا سے مطلب نہیں اللہ کے دین سے مطلب نہیں صرف اپنے وجود سے مطلب ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ہمارے وجود کے اندر وہ سرچشمہ نہیں جس سے نیکیاں پھوٹ کر باہر نکلیں لیکن اگر ہمارا دل اہل اطاعت اور اللہ کے نیک بندوں کی طرف مائل ہے تو اسکا مطلب ہے کہ ہمارے اندر خیر پایا جاتا ہے اب ضروری ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی کو ویسا ہی بنائیں جیسا کہ اللہ کے نیک بندوں نے بنایا ہوا ہے امام محمد باقر علیہ السلام کی یہ حدیث ہمیں ایک کسوٹی دے رہی ہے ہمارے سامنے ایک میزان رکھ رہی ہے ہم اپنے آپ کو تول سکتے ہیں کہ ہمارا جھکاوا کس طرف ہے دنیا میں آج بہت سے لوگ ہیں جو اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ اچھے لوگ ہیں نیک ہیں لیکن اس بات کا معیار کیا ہے کہ ہم خیر پر ہیں ؟ ہمارے دل میں خیر ہے کیا اسکا ثبوت ہمارے وہ نیک کام ہیں جو ہم نے انجام دئے چنانچہ اکثر ہم نیک ہونے کی دلیل اپنے نیک کاموں کو بیان کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا ہم نے وہ کیا۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے اس حدیث میں جو چیز بیان کی ہے اس سے نیک اور اچھے انسان کا معیار سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نیک کاموں پر نہ جاو بلکہ یہ دیکھو تمہارا دل کس کی طرف مائل ہے تمہارا اٹھنا بیٹھنا کہاں ہے تمہاری نشست و برخواست کن لوگوں کے ساتھ ہے تم ان امیروں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہو جو دنیا میں غرق ہیں یا دو منٹ اس غریب کے ساتھ بھی بیٹھنا پسند کرتے ہو جس کے پاس بندگی پروردگار کے سوا کچھ نہیں ہے اب ہم اس حدیث کی روشنی میں اپنا تجزیہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے اندر خیر کی خو پائی جاتی ہے یا ہم شر اور برائی کی طرف مائل ہیں ۔

اگر ہم اچھے اور نیک لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتے انکے لئے کھڑے نہیں ہو سکتے اور بس اپنی نیکیوں کی فکر ہے تو ممکن ہے یہ ہمارے کام نہ آ سکے چنانچہ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’خدا نے جناب شیعب علیہ السلام پر وحی کی میں تمہاری قوم کے ایک ہزار لوگوں پر اپنا عذاب نازل کرونگا اور انہیں ہلاک کر دونگا ان میں سے ساٹھ ہزار وہ ہونگے جو برے اور اشرار لوگوں میں ہوں گے اور چالیس وہ ہونگے جنکا تعلق اچھے اور نیک لوگوں میں ہوگا جناب شعیب علیہ السلام نے عرض کی: ائے میرے پروردگار برے اور نالائق لوگ تو اس لائق ہیں کہ ان پر عذاب ہو لیکن نیک اور اچھے لوگوں پر عذاب کی وجہ کیا ہے ان پر کیونکر عذاب ہوگا؟ خداوند متعال نے جناب شعیب پر وحی کی اس لئے کہ یہ لوگ گناہ کاروں اور معصیت کاروں کے سامنے لاتعلق ہو کر رہتے تھے اور ان کے سامنے اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے تھے‘‘ [۵]

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے ایک اچھا انسان بننے کے لئے جتنا ضروری یہ ہے کہ ہم خود نیکی اور اچھائی کو انجام دیں اتنا ہی ضروری ہے کہ نیک اور اچھے لوگوں کا ساتھ دیں اور برے لوگوں سے اظہار برات کریں۔

اگر اس ملاک و معیار پر دنیا میں عمل ہوتا تو آج ہر طرف برائیوں کا دور دورا نہ ہوتا ظالموں کو ظلم و زیادتی کا موقع نہ ملتا، کسی ایک ملک کو چاروں طرف سے گھیر کر تنہا نہ کیا جاتا، شیخ زکزاکی جیسے مرد مجاہد کے ساتھ زیادتی نہ ہوتی، ہمارے ملک میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی، یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ہم اپنی نیکی تو کرتے رہے لیکن ان برے اور شریر لوگوں کے مقابل نہ کھڑے ہوئے جنہوں نے معاشرے اور سماج میں برائیوں کے چلن کو عام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، ہم بظاہر اچھے کاموں میں مشغول رہے لیکن ان نیک اور اچھے لوگوں کا ساتھ نہ دیا جن پر دنیا میں عرصہ حیات کو تنگ کر دیا گیا ۔

یقینا اگر ہم اپنی ذمہ داری کو ادا کریں اور جس امام کا غم منا رہے ہیں اسکے تعلیمات کو بھی اپنی روح میں اتار لیں اور نیک عمل کے ساتھ نیک لوگوں سے محبت کا اظہار بھی کریں اور بروں سے نفرت بھی کریں تو ہمارا مقام اتنا بلند ہوگا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے اس لئے کہ ایسی صورت میں ہم امام علیہ السلام کی واقعی ولایت پر ثابت قدم رہنے والوں میں شمار ہونگے اور عصر غیبت میں اگر کوئی ولایت اہلبیت اطہار علیھم السلام پر ثابت قدم رہے تو امام علیہ السلام ہی کی حدیث ہے کہ اسکا اجر شہداء بدرو حنین کے ہزار شہیدوں کے برابر ہوگا ۔ [۶]

ظاہر ہے اتنا بڑا اجر یوں ہی نصیب نہیں ہو جائے جب ہم اچھے لوگوں کی محبت میں بولیں گے برے لوگوں کی مخالفت میں کھڑے ہونگے تو کہیں ہمارا بائکاٹ ہوگا ، کہیں ہمیں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے جانا ہوگا، کہیں ہمارے سامنے بندویقیں اور سنگینیں ہوں گی کہیں ہمارے سامنے توپ و ٹینک ہونگے کہیں دار و رسن ہوگی ، لیکن فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ سخت و دشوار ترین حالات میں ہمیں کس طرح ولایت اہلبیت اطہار علیھم السلام پر ثابت قدم رہنا ہے ، کس طرح شیخ زکزاکی ، شہیدحسن نصر اللہ ، سید علی خامنہ ای اور آیت اللہ سیستانی، وشیخ عیسی قاسم جیسے مردان عرصہ علم و عمل کی راہ کو کسی صورت نہیں چھوڑنا ہے کہ انکی راہ پر چل کر انکے مقاصد کی آبیاری کے ذریعہ ہم امام علیہ السلام کی نظر میں خود کو اچھے اور نیک انسان کے طور پر پیش کر سکتے ہیں ورنہ اپنے منھ میاں مٹھو تو سبھی بنتے ہیں ان میں ہم بھی سہی بات تو تب ہے کہ اچھے اورنیک صفت انسان ہونے کی مہر امام معصوم ع کی جانب سے لگ جائے ۔

حوالہ جات:

[۱] طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامۃ، ص۲۱۵قم، موسسۃ البعثۃ، الاولی، ۱۴۱۳ہ‍جری۔، طبرسی، امین الاسلام، اعلام الوری باعلام الہدی، ترجمہ عزیزاللہ عطاردی، ج۱، ص۴۹۸.تہران، کتابفروشی اسلامیہ، دوم، ۱۳۷۷ ہ‍جری شمسی۔

نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۰۴ ہ‍جری۔ طبری، دلائل الإمامہ، ؛ طبرسی، إعلام الورى،

[۲] ۔ شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ محمد باقر ساعدی، ص۵۰۸۔ تہران، انتشارات اسلامیہ، ۱۳۸۰ ہ‍جری شمسی۔

[۳] ۔ یعقوبی، ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمدابراہیم آیتی، تہران، ج۲، ص۲۸۹۔۔ج۲، ص۲۸۹۔ انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۷۸ ہ‍جری شمسی

[۴] ۔ قالَ الاْمامُ أبوُ جَعْفَر محمّد الباقر (عَلَیْہ السلام): إذا أرَدْتَ أنْ تَعْلَمَ أنَّ فیكَ خَیْراً، فَانْظُرْ إلى قَلْبِكَ فَإنْ كانَ یُحِبُّ أهْلَ طاعَهِ اللّهِ وَیُبْغِضُ أهْلَ مَعْصِیَتِهِ فَفیكَ خَیْرٌ، وَاللّهُ یُحِبُّك، وَإذا كانَ یُبْغِضُ أهْلَ طاعَهِ اللّهِ وَ یُحِبّ أهْلَ مَعْصِیَتِهِ فَلَیْسَ فیكَ خَیْرٌ، وَاللّهُ یُبْغِضُكَ، وَالْمَرْءُ مَعَ مَنْ أحَبَّ. اصول كافى: ج ۲، ص ۱۰۳، ح ۱۱، وسائل الشّیعه: ج ۱۶، ص ۱۸۳، ح ۱٫

[۵] ۔ قالَ الاْمامُ الباقر (عَلَیْه السلام): إنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحى إلى شُعَیْب النَّبی(صلى الله علیه وآله وسلم): إنّی مُعَذِّبٌ مِنْ قَوْمِكَ مِائَهَ ألْف، أرْبَعینَ ألْفاً مِنْ شِرارِهِمْ وَسِتّینَ ألْفاً من خِیارِهِمْ. فقال: یارَبِّ هؤُلاءِ الاْشْرار فَما بالُ الاْخْیار؟ فَأوحىَ اللهُ إلَیْهِ: إنَّهُمْ داهَنُوا أهْلَ الْمَعاصى وَ لَمْ یَغْضِبُوا لِغَضَبی.الجواهرالسنّیه: ص ۲۸، بحارالأنوار: ج ۱۲، ص ۳۸۶، ح ۱۲، به نقل از كافى.

[۶] ۔ قالَ الاْمامُ الباقر (عَلَیْه السلام): مَنْ ثَبَتَ عَلى وِلایَتِنا فِی غِیْبَهِ قائِمِنا، أعْطاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اَجْرَ ألْفِ شَهید مِنْ شُهَداءِ بَدْر وَحُنَیْن.

إثبات الهداه: ج ۳، ص ۴۶۷٫

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزۂ علمیہ میں درسِ خارج کے استاد، حجت‌الاسلام احمد عابدی نے ماہِ رجب کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اس مہینے کی فضیلت اور اعمال سے متعلق متعدد روایات کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے مطابق ماہِ رجب عبادت، دعا اور روحانی مواقع سے بھرپور ایک ایسا زمانہ ہے جو انسان کے تعلق کو خداوندِ متعال کے ساتھ مضبوط بناتا ہے۔

بعض روایات کے مطابق ماہِ رجب کو «ماہِ خدا» کہا گیا ہے۔ مثال کے طور پر کتاب مفاتیح اور متعدد روایات میں یہ تعبیر ملتی ہے۔

اسی طرح روایات میں نقل ہوا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: «رجب میرا مہینہ ہے اور شعبان رسولِ خدا ص کا مہینہ ہے»

اور کئی روایات میں ماہِ رجب کو خاص طور پر امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منسوب کیا گیا ہے۔

تاہم اس بحث سے ہٹ کر کہ ماہِ رجب کو ماہِ خدا کہا جائے، یا ماہِ رسولؐ یا ماہِ امیرالمؤمنینؑ، سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ماہِ رجب حرمت والے مہینوں میں سے ہے۔

اس مہینے کے لیے ایک معروف تعبیر «رجبُ الأصمّ» بھی استعمال ہوئی ہے۔ اس کی تشریح میں کہا گیا ہے کہ ماہِ رجب وہ مہینہ ہے جس میں جنگ، خون‌ریزی، جھگڑا اور ہر قسم کی لڑائی ممنوع تھی، یہاں تک کہ لوگ اپنے ہتھیار اور زرہیں بھی ایک طرف رکھ دیتے تھے۔

یعنی اس مہینے میں جنگ و جدال کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور اگر کوئی اس زمانے میں ایسی حرکت کرتا تو اس کا گناہ کہیں زیادہ سنگین سمجھا جاتا تھا۔

بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جس طرح شبِ قدر کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اسی طرح ماہِ رجب میں بھی ایک ایسی رات ہے جو سال کی تمام راتوں سے افضل ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ وہ رات ستائیسویں رجب کی رات ہو۔

عبادت اور ثواب کے اعتبار سے ماہِ رجب بے شمار فضیلتوں کا حامل ہے۔

جس طرح ماہِ رمضان میں ہزار رکعت مستحب نماز کا ذکر ملتا ہے "جسے اہل سنت تراویح کی صورت میں ادا کرتے ہیں، حالانکہ فقہِ شیعہ میں نمازِ تراویح نہیں ہے" اسی طرح ماہِ رجب میں بھی ہزار رکعت مستحب نماز نقل ہوئی ہے۔

فرق یہ ہے کہ ماہِ رمضان کی مستحب نمازوں کا طریقہ زیادہ تر یکساں ہے، جبکہ ماہِ رجب کی نمازیں مخصوص اذکار اور سورتوں کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ماہِ رجب کی پہلی رات ۳۰ رکعت مستحب نماز دو رکعت کر کے نقل ہوئی ہے، جس کی ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد بارہ مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھا جاتا ہے۔

اسی طرح اس مہینے کی کئی راتوں اور دنوں میں خاص نمازیں، مخصوص اذکار اور سورتوں کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔

نمازوں کے علاوہ ماہِ رجب میں وارد ہونے والی دعائیں بھی بہت زیادہ ہیں؛ جیسے عملِ اُمِّ داوود، اعتکاف، اور وہ دعائیں جو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے اس مہینے میں نقل ہوئی ہیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس درجے کی دعائیں حتیٰ کہ ماہِ رمضان میں بھی کم ملتی ہیں۔

یہ بھی نقل ہوا ہے کہ زمانۂ جاہلیت، یعنی اسلام سے پہلے بھی ماہِ رجب کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ یہاں تک کہ اگر دو افراد کے درمیان کوئی اختلاف ہوتا تو ایک دوسرے سے کہتا:“میں ماہِ رجب میں تم پر بددعا کروں گا”۔

یعنی اس مہینے کو اتنا مؤثر سمجھا جاتا تھا کہ دعا یا بددعا کو اس میں فیصلہ کن مانا جاتا تھا، چاہے وہ خیر کے لیے ہو یا شر کے لیے۔

روایات کے مطابق ماہِ رجب میں تمام ائمۂ اطہار علیہم السلام کی زیارت مستحب ہے۔ خاص طور پر امام رضا علیہ السلام کی زیارت پر زور دیا گیا ہے، البتہ دیگر ائمہ کی زیارت بھی اس مہینے میں سفارش شدہ ہے۔

ماہِ رجب میں روزہ رکھنا بھی بہت اہم عمل ہے۔ اس مہینے کے ہر دن کے لیے الگ الگ فضیلت اور اجر بیان ہوا ہے؛ پہلے دن سے لے کر آخری دن تک ہر روز کے لیے مخصوص روایات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ساتویں، آٹھویں اور نویں رجب کے روزوں کی فضیلت پر بھی متعدد احادیث نقل ہوئی ہیں۔

یہ تمام اعمال دینی اقدار اور مقدسات کا حصہ ہیں، کیونکہ یہ انسان کو خداوندِ متعال، معصومین علیہم السلام اور اولیائے الٰہی سے جوڑتے ہیں۔ دعا، ذکر اور روحانی تعلق انسان کی زندگی کو سنوارنے والے بنیادی عوامل ہیں۔

اس کے برعکس صرف علمی مشغولیت—چاہے وہ عقائد اور فقہ ہی کیوں نہ ہو—اگر روحانیت سے خالی ہو تو بعض اوقات انسان کو محض علمی اعتراضات اور تنقید کی فضا میں لے جاتی ہے، جس سے دل میں ایک طرح کی تاریکی پیدا ہو سکتی ہے۔

روایات میں آیا ہے:«العِلمُ هو الحِجابُ الأکبر»

یعنی اگر علم کے ساتھ معنویت نہ ہو تو وہ خود سب سے بڑا پردہ بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں دعا اور ذکر کو اس پردے کو ہٹانے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

ماہِ رجب کی دعاؤں کے بارے میں مختلف کتابوں میں تفصیلی بحثیں موجود ہیں، جیسے مرحوم آیت اللہ شوشتریؒ کی کتاب «الأخبار الدخیلة»۔

اہل سنت کے حوالے سے بھی ذکر ملتا ہے کہ ان کے ہاں دعا کا وہ رواج نہیں جو شیعہ معاشرے میں پایا جاتا ہے، بلکہ وہ زیادہ تر قرآن کی تلاوت پر زور دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بعض اہل سنت جبر کے قائل ہیں، اور جبر کا نظریہ دعا کے اثر کو کم کر دیتا ہے۔

اس کے باوجود، اہل سنت کی بعض کتابوں مثلاً «الأذکار» میں ماہِ رجب کی کئی دعائیں اور استغفار نقل ہوئے ہیں، جو اس مہینے میں ذکر و دعا کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

لہٰذا ماہِ رجب کے اذکار اور دعائیں دینی اقدار کا اہم حصہ ہیں اور ان پر خاص توجہ دینا چاہیے۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں بھی نقل ہوا ہے کہ بعثت سے پہلے جب رسول اکرم ص غارِ حرا میں عبادت کے لیے خلوت اختیار کرتے تھے "جسے «یتحنّث» کہا جاتا ہے" تو حضرت خدیجہ رات بھر دروازہ بند کر کے طلوعِ فجر تک ذکر و ورد میں مشغول رہتی تھیں۔

یہ روایت بتاتی ہے کہ ذکر و ورد صرف اسلام کے بعد نہیں، بلکہ بعثت سے پہلے بھی ان مقدس ہستیوں کے ہاں رائج تھا۔

عام طور پر کسی دعا یا آیت کو جو انسان مسلسل پڑھتا رہے «وِرد» کہا جاتا ہے۔

اسی لیے ماہِ رجب کو ذکر کا مہینہ، ورد کا مہینہ، استغفار کا مہینہ اور مستحب نمازوں کا مہینہ کہا جا سکتا ہے۔

صہیونی سلامتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل درحقیقت فتح کا صرف تاثر دے رہا ہے، جبکہ وہ اندرونی اور بیرونی بحرانوں کے ایک طوفان میں گھرا ہوا ہے، خاص طور پر غزہ کی جنگ کے بعد۔ ان حلقوں کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیل کے لیے اندر سے بتدریج انہدام کی واضح مثال ہے۔ غزہ کی جنگ اور ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد صہیونی حلقوں میں اسرائیل کے بحران اور اس کے انہدام سے متعلق متعدد تجزیے سامنے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں معروف صہیونی سیاسی تجزیہ کار اور اسرائیل کے سابق داخلی سلامتی مشیر اوری گولڈ برگ نے ایک مضمون میں، جسے الجزیرہ نے شائع کیا، اسرائیل کے خاموش اور تدریجی اندرونی انہدام پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ 

طاقت کا وہم، اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی حقیقت:
بہت سے لوگوں کو اسرائیل بظاہر ایک غالب اور فاتح طاقت دکھائی دیتا ہے، ایسی قوت جو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے، دشمنوں کو شدید ضربیں لگا رہی ہے اور مغربی دنیا کی بھرپور سیاسی حمایت سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہے، چاہے ان مغربی ممالک کے عوام اس کے خلاف کیوں نہ ہوں۔ لیکن اس ظاہری خول کے نیچے اسرائیل اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ امریکہ کی قیادت میں ایک بین الاقوامی اتحاد، جس میں قطر، مصر، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں، آہستہ آہستہ غزہ کو اسرائیلی کنٹرول سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ شام اور لبنان میں اپنی توسیع پسندانہ مہمات ترک کرے۔ اسرائیلی کابینہ بظاہر اس عمل کی مخالفت کرتی ہے، مگر حقیقت میں اسے اس دباؤ کو قبول کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اسرائیل اپنے اعلان کردہ جنگی اہداف، یعنی حماس کی مکمل تباہی اور زندہ قیدیوں کی واپسی، حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مغرب کی خاموش پسپائی:
مغربی رہنماؤں کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ اسرائیل خود خطے میں عدم استحکام کا باعث بن چکا ہے۔ اسی لیے ان کے لیے آسان راستہ یہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اور خاموشی سے اپنی حمایت کم کریں، تاکہ اسرائیل خود نئی حقیقت سے ہم آہنگ ہونے پر مجبور ہو جائے۔ خطے کی بدلتی صورتحال نے اسرائیل کے کردار کو کمزور اور طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ وہ غیر مشروط حمایت جو اسرائیل کو کبھی امریکہ اور یورپ سے حاصل تھی، اب گھٹ رہی ہے، اور عرب ممالک کے ساتھ تعاون بھی زوال پذیر ہے۔ برسوں تک فلسطینیوں کو، اخوان المسلمون کی طرح، اسرائیل سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ تصور بدل چکا ہے۔ جہاں کبھی مغربی حکمران حماس کی مذمت اور اسرائیل کو مغربی اقدار کا محافظ قرار دیتے تھے، آج غزہ میں نسل کشی کے ناقابلِ تردید شواہد دیکھ کر وہ خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اب ماضی کی نسبت حماس کے خلاف کم جارحانہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ مغرب اب اسرائیل کو سرد مہری سے جواب دے کر انتظار میں رکھتا ہے تاکہ وہ خود حقیقت کو قبول کرے۔

سفارتی محاذ پر اسرائیل کی شکست:
علاقائی حملوں کے لیے اسرائیل کو بین الاقوامی تعاون درکار ہے، اور اسی حمایت میں کمی کے باعث ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام، لبنان اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی شدت اور تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ اسرائیل اب مزید اسٹریٹجک گہرائی بڑھانے کے قابل نہیں رہا۔ سفارتی محاذ پر اسرائیل واضح طور پر نقصان اٹھا رہا ہے۔ جہاں حماس مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، وہیں اسرائیلی کابینہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اسرائیل کو ایسی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ مثال کے طور پر، اب بین الاقوامی سطح پر یہ تجاویز زیر غور ہیں کہ غزہ میں دو سالہ تباہی کے ملبے کو ہٹانے کے اخراجات خود اسرائیل کو برداشت کرنے چاہئیں۔

اندرونی انتشار اور ادارہ جاتی بحران:
ایک طرف اسرائیل خطے میں اپنی بالادستی کھونے کے قریب ہے، تو دوسری طرف اس کی توانائی اندرونی جھگڑوں میں ضائع ہو رہی ہے، اسرائیل کی روح اور فلسطینی سرزمین پر غیرقانونی قبضے کو مزید گہرا کرنے کے تنازعات میں۔ اسرائیلی معاشرہ اب جغرافیائی سیاست سے ہٹ کر یہودیوں کو لاحق خطرات اور اجتماعی وجود جیسے موضوعات میں الجھ چکا ہے، جبکہ عالمی رائے عامہ اور زمینی حقائق کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہدام کی واضح مثالیں:
حال ہی میں اسرائیلی فضائیہ کا ایک اسکینڈل سامنے آیا کہ مستقبل کے پائلٹس کو سخت تربیتی مرحلے کے بعد ایک خفیہ مقام پر آرام کے لیے بھیجا گیا، مگر انہوں نے ہوٹل کا مقام اہلِ خانہ کو بتا دیا اور بعض نے شراب نوشی بھی کی، یہ سب اپنے کمانڈر کی اجازت سے ہوا۔ اس پر فضائیہ کے سربراہ نے سخت انضباطی کارروائی کا اعلان کیا اور اخلاقی اقدار کی بات کی۔ یہی اصل تضاد ہے: وہ فضائیہ جو غزہ کی تباہی، شہری انفراسٹرکچر کی بمباری اور عالمی سطح پر خوف و غصے کی وجہ بنی، اب اخلاقیات کا درس دے رہی ہے، جبکہ اصل مسئلہ صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ پائلٹس نے بغیر اجازت شراب پی۔

سماجی و ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ:
سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل اپنی اندرونی ہم آہنگی کھو چکا ہے، ویکسین نہ لگنے کے باعث بچے خسرہ اور فلو سے مر رہے ہیں، نوجوان فلسطینی صفائی کرنے والوں اور بس ڈرائیوروں پر حملے کر رہے ہیں، 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی شہری جرائم پیشہ اسرائیلی گروہوں کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں، غزہ جنگ میں شریک فوجی خودکشیاں کر رہے ہیں۔ اسرائیل کا عوامی ذہنی صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے، اسکولوں کی کلاسیں منسوخ ہو رہی ہیں، وزارتِ تعلیم میں 25 اعلیٰ عہدیدار مستعفی ہو چکے ہیں، اور تل ابیب میں عملے کی کمی کے باعث سرکاری ملازمین کو بچوں کے مراکز میں رضاکارانہ کام پر لگایا جا رہا ہے۔ 

کھوکھلا ہوتا ہوا ڈھانچہ:
عدالتی نظام بھی اسی بحران کا شکار ہے، ججوں کی کمی ہے، وزیر انصاف اور چیف جسٹس کے درمیان رابطہ منقطع ہے، اور نتن یاہو کی کابینہ میں دو وزراء بیک وقت نو اہم عہدوں پر قابض ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیل تیزی سے ایک کھوکھلے خول میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس کے ادارے اندر سے ٹوٹ رہے ہیں، اور موجودہ و آئندہ نسلیں ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی جو ادارہ جاتی، مالی اور ثقافتی لحاظ سے اندر سے بکھر چکا ہو گا۔
 
 
 

 صہیونی میڈیا معاریو نے اسرائیلی تجزیہ کار آوی اشکنازی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیکرز گروپ حنظلہ کی جانب سے اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے موبائل فون تک رسائی کے بعد، ایران بلاشبہ اسرائیل اور بالخصوص اس کے داخلی سلامتی کے ادارے کو ایک سخت اور مشکل صورتحال میں ڈالنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

اشکنازی نے اعلان کیا کہ نفتالی بینیٹ ایک ایسی شخصیت ہیں جو شاباک کے وی آئی پی تحفظ کے یونٹ 730 کی حفاظت میں ہیں۔ اس معاملے میں شاباک کی جانب سے خود کو اس رسوائی سے دور رکھنے کی کوششیں کام نہیں آئیں گی۔ شاباک ان تمام شخصیات کے مکمل سیکیورٹی سسٹم کا ذمہ دار ہے جن کی وہ حفاظت کرتا ہے اور اس میں غفلت یا چشم پوشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ڈیوڈ زینی کی سربراہی میں شاباک ناکام ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف بینیٹ کے فون کا نہیں ہے؛ معاملہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ایران مختلف طریقوں سے اسرائیل میں نفوذ کی ایک مربوط کوشش کر رہا ہے اور اسرائیلی اہداف پر حملے کے لیے سائبر اسپیس کا استعمال کر رہا ہے۔

اشکنازی کا کہنا تھا کہ اسرائیل ان تبدیلیوں کو غلط طریقے سے مینیج کر رہا ہے۔ سیکیورٹی ادارے کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا۔۔ آج ایرانی نفتالی بینیٹ کا فون ہیک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؛ کل وہ اسرائیل کے اسٹریٹجک سسٹم کو ہیک کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل صہیونی چینل 12 نے اعتراف کیا تھا کہ ایرانی ہیکرز نے سابق صہیونی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا فون ہیک کر لیا ہے۔ ہیکرز نے ہزاروں نجی نمبرز، تصاویر اور بینیٹ کے داخلی گروپس سے متعلق گفتگو شائع کر دی ہے۔

 ویب سائٹ میری ٹائم ایگزیکٹو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے شاہد-136 کے ذریعے بڑی تعداد میں اور کم لاگت والے خودکش ڈرونز کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا پسٹن انجن والا ون وے اٹیک ڈرون ہے جسے ایرانی اور روسی افواج استعمال کر رہی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر کے یوکرائنی اڈوں، بندرگاہوں، بجلی گھروں اور رہائشی عمارتوں پر داغے گئے ہیں، جن کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ چونکہ شاہد ڈرون اپنی جنگی صلاحیت ثابت کر چکا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنا آسان ہے، اس لیے امریکی بحریہ اور میرین کور نے نئے سرے سے تحقیق و ترقی کے بجائے اس مشہورِ زمانہ ایرانی ڈیزائن شدہ ڈرون کے امریکی ورژن کی جانچ شروع کر دی ہے۔

منگل کے روز، انڈیپینڈنس کلاس کے لٹورل جنگی جہاز یو ایس ایس سانٹا باربرا (LCS-32) نے اپنے ہیلی پیڈ سے شاہد-136 کی طرز کے لوکاس (LUCAS) نامی ڈرون کو لانچ کیا۔ اس ڈیوائس کو ڈرونز کے ایک خصوصی اسکواڈرن ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک نے تیار کر کے روانہ کیا، جسے سینٹرل کمانڈ میں نئے بغیر پائلٹ کے نظام متعارف کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اصل شاہد ڈرون کی طرح، لوکاس کو بھی مختلف پلیٹ فارمز سے کئی طریقوں سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ یو ایس ایس سانٹا باربرا پر استعمال کیے گئے راکٹ کی مدد سے ٹیک آف کر سکتا ہے، یا اسے گاڑی پر نصب کیٹاپلٹ سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ فضا میں پہنچنے کے بعد یہ نگرانی اور ون وے اسٹرائیک سمیت مختلف کام انجام دے سکتا ہے۔ مستقبل میں اس میں ہتھیاروں کی تنصیب اور ہدف کی آٹومیٹک شناخت پر کام جاری ہے، تاہم فی الحال تجربے کے لیے اس میں موجود بارودی مواد غیر فعال رکھا گیا ہے۔

پینٹاگون کے لیے شاہد ڈرون کی کشش اس کی سادگی اور تیاری میں آسانی ہے، یہ وہی خوبیاں ہیں جنہوں نے روسی آپریٹرز کو بھی اس کا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر افسر کرنل نکولس لا نے اس ماہ کے شروع میں ایک بیان میں کہا، ہم اسے ایسی قیمت پر چاہتے ہیں جہاں ہم تیزی سے بڑی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر سکیں۔ یہ صرف ایک مینوفیکچرر کے لیے نہیں بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے کئی مینوفیکچررز بڑے پیمانے پر تیار کر سکیں۔

لوکاس ڈیوائس کو امریکی ڈرون کمپنی اسپیکٹر ورکس نے تیار کیا ہے، جو کہ اصل ایرانی ڈیزائن کی ریورس انجینئرنگ اور چھوٹے پیمانے پر تیار کردہ نقل ہے۔ اس کی دم پر ایک فلیٹ پینل ٹرمینل کا اضافہ اسے سیٹلائٹ کمیونیکیشن لنک فراہم کرتا ہے، جس سے دشمن کے ماحول میں بھی اسے دور سے کنٹرول اور نگرانی کرنا ممکن ہوتا ہے۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسپیکٹر ورکس کی تیار کردہ اس ڈیوائس کی قیمت اصل ایرانی ورژن کے برابر بتائی جا رہی ہے، جو کہ چند ہزار ڈالرز کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔

 ویب سائٹ میری ٹائم ایگزیکٹو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے شاہد-136 کے ذریعے بڑی تعداد میں اور کم لاگت والے خودکش ڈرونز کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا پسٹن انجن والا ون وے اٹیک ڈرون ہے جسے ایرانی اور روسی افواج استعمال کر رہی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر کے یوکرائنی اڈوں، بندرگاہوں، بجلی گھروں اور رہائشی عمارتوں پر داغے گئے ہیں، جن کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ چونکہ شاہد ڈرون اپنی جنگی صلاحیت ثابت کر چکا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنا آسان ہے، اس لیے امریکی بحریہ اور میرین کور نے نئے سرے سے تحقیق و ترقی کے بجائے اس مشہورِ زمانہ ایرانی ڈیزائن شدہ ڈرون کے امریکی ورژن کی جانچ شروع کر دی ہے۔

منگل کے روز، انڈیپینڈنس کلاس کے لٹورل جنگی جہاز یو ایس ایس سانٹا باربرا (LCS-32) نے اپنے ہیلی پیڈ سے شاہد-136 کی طرز کے لوکاس (LUCAS) نامی ڈرون کو لانچ کیا۔ اس ڈیوائس کو ڈرونز کے ایک خصوصی اسکواڈرن ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک نے تیار کر کے روانہ کیا، جسے سینٹرل کمانڈ میں نئے بغیر پائلٹ کے نظام متعارف کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اصل شاہد ڈرون کی طرح، لوکاس کو بھی مختلف پلیٹ فارمز سے کئی طریقوں سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ یو ایس ایس سانٹا باربرا پر استعمال کیے گئے راکٹ کی مدد سے ٹیک آف کر سکتا ہے، یا اسے گاڑی پر نصب کیٹاپلٹ سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ فضا میں پہنچنے کے بعد یہ نگرانی اور ون وے اسٹرائیک سمیت مختلف کام انجام دے سکتا ہے۔ مستقبل میں اس میں ہتھیاروں کی تنصیب اور ہدف کی آٹومیٹک شناخت پر کام جاری ہے، تاہم فی الحال تجربے کے لیے اس میں موجود بارودی مواد غیر فعال رکھا گیا ہے۔

پینٹاگون کے لیے شاہد ڈرون کی کشش اس کی سادگی اور تیاری میں آسانی ہے، یہ وہی خوبیاں ہیں جنہوں نے روسی آپریٹرز کو بھی اس کا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر افسر کرنل نکولس لا نے اس ماہ کے شروع میں ایک بیان میں کہا، ہم اسے ایسی قیمت پر چاہتے ہیں جہاں ہم تیزی سے بڑی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر سکیں۔ یہ صرف ایک مینوفیکچرر کے لیے نہیں بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے کئی مینوفیکچررز بڑے پیمانے پر تیار کر سکیں۔

لوکاس ڈیوائس کو امریکی ڈرون کمپنی اسپیکٹر ورکس نے تیار کیا ہے، جو کہ اصل ایرانی ڈیزائن کی ریورس انجینئرنگ اور چھوٹے پیمانے پر تیار کردہ نقل ہے۔ اس کی دم پر ایک فلیٹ پینل ٹرمینل کا اضافہ اسے سیٹلائٹ کمیونیکیشن لنک فراہم کرتا ہے، جس سے دشمن کے ماحول میں بھی اسے دور سے کنٹرول اور نگرانی کرنا ممکن ہوتا ہے۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسپیکٹر ورکس کی تیار کردہ اس ڈیوائس کی قیمت اصل ایرانی ورژن کے برابر بتائی جا رہی ہے، جو کہ چند ہزار ڈالرز کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔

Saturday, 20 December 2025 04:48

تہران، مرمر محل

تہران کے مرکز میں واقع "مرمر محل" جسے ایران آرٹ میوزیم کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، اپنی دلکش فن تعمیر سے ہنر کے ہر دلدادہ کو اپنی جانب کھینچ لاتا ہے۔ اس محل کی چھت کا قیاس اصفہان کی شیخ لطف اللہ مسجد سے کیا جاتا ہے۔ اس میوزیم کی چند تصاویر پیش خدمت ہیں۔

 
M
 

حقوق نسواں کے بارے ميں جو دنيا کا ابھي تک ايک حل نشدہ مسئلہ ہے، بہت زيادہ گفتگو کي گئي ہے اور کي جاري ہے۔ جب ہم اس دنيا کے انساني نقشے اور مختلف انساني معاشروں پر نظر ڈالتے ہيں ، خواہ وہ ہمارے اپنے ملک کا اسلامي معاشرہ ہو يا ديگر اسلامي ممالک کا يا حتي غير اسلامي معاشرے بھي کہ جن ميں پيشرفتہ اور متمدن معاشرے بھي شامل ہيں، تو ہم ديکھتے ہيں کہ ان تمام معاشروں ميں بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقوق نسواں کا مسئلہ ابھي تک حل نہيں ہوا ہے۔ يہ سب انساني مسائل کے بارے ميں ہماري کج فکري اور غلط سوچ کي نشاني ہے اور اس با ت کي عکاسي کرتے ہيں کہ ہم ان تمام مسائل ميں تنگ نظري کا شکار ہيں۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے تمام بلندو بانگ دعووں،مخلص اور ہمدرد افراد کي تمام تر جدوجہد اور حقوق نسواں اور خواتين کے مسائل کے بارے ميں وسيع پيمانے پر ہونے والي ثقافتي سرگرميوں اور فعاليت کے باوجود اِن دو جنس (مرد و عورت) اور مسئلہ خواتين کہ اِسي کے ذيل ميں مردوں کے مسائل کو ايک اور طرح سے بيان کيا جاتا ہے، کے بارے ميں ايک سيدھے راستے اور صحيح روش کو ابھي تک ڈھونڈھنے سے قاصر ہے۔

شايد آپ خواتين کے درميان بہت سے ايسي خواتين ہوں کہ جنہوں نے دنيا کي ہنرمند خواتين کے ہنري اور ادبي آثار کو ديکھا يا پڑھا ہو کہ اُن ميں بعض آثار فارسي زبان ميں ترجمہ ہوچکے ہيں اور بعض اپني اصلي زبان ميں موجود ہيں۔ يہ سب اِسي مذکورہ بالا مسئلے کي عکاسي کرتے ہيں کہ خواتين کے مسائل اور اِسي کے ذيل ميں ان دوجنس ، مرد وعورت کے مسئلے اور بالخصوص انسانيت سے متعلق مسائل کو حل کرنے ميں بشر ابھي تک عاجز و ناتوان ہے۔ بہ عبارت ديگر؛ زيادتي ، کج فکري اور فکري بدہضمي اور اِن کے نتيجے ميں ظلم و تعدّي، تجاوز، روحي ناپختگي، خاندان اور گھرانوں سے متعلق مشکلات ؛ ان دو جنس۔ مردو زن۔ کے باہمي تعلقات ميں اختلاط و زيادتي سے مربوط مسائل ابھي تک عالم بشريت کے حل نشدہ مسائل کا حصہ ہيں۔ يعني مادي ميدانوں ميں ترقي، آسماني واديوں اور کہکشاوں ميں پيشقدمي اور سمندروں کي گہرائيوں ميں اتني کشفيات کرنے، نفسياتي پيچيدگيوں اور الجھنوں کي گھتيّوں کو سُلجھانے اور اجتماعي و اقتصادي مسائل ميں اپني تمام تر حيران کن پيشرفت کے باوجود يہ انسان ابھي تک اس ايک مسئلے ميں زمين گير و ناتواں ہے۔ اگر ميں ان تمام ناکاميوں اور انجام نشدہ امور کو فہرست وار بيان کروں تو اِس کيلئے ايک بڑا وقت درکار ہے کہ جس سے آپ بخوبي واقف ہيں۔

 

دنيا ميں ’’خانداني‘‘ بحران کي اصل وجہ!

خانداني مسائل کہ جو آج دنيا کے بنيادي ترين مسائل ميں شمار کيے جاتے ہيں ، کہاں سے جنم ليتے ہيں ؟ کيا يہ خواتين کے مسائل کا نتيجہ ہيں يا پھر مردو عورت کے باہمي رابطے کے نتيجے ميں پيدا ہوتے ہيں؟ ايک خاندان اور گھرانہ جو دنيا ئے بشريت کا اساسي ترين رکن ہے، آج دنيا ميں اتنے بحران کا شکار کيوں ہے؟ يعني اگر کوئي بقول معروف آج کي متمدّن مغربي دنيا ميں خاندان کي بنيادوں کو مستحکم بنانے کا خواہ ايک مختصر سا ہي منصوبہ کيوں نہ پيش کرے تو اُس کا شاندار استقبال کيا جائے گا، مرد ، خواتين اور بچے سب ہي اُس کا پُرتپاک استقبال کريں گے۔

اگر آپ دنيا ميں ’’خاندان‘‘ کے مسئلے پر تحقيق کريں اور خاندان کے بارے ميں موجود اس بحران کو اپني توجہ اور کاوش کا مرکز قرار ديں تو آپ ملاحظہ کريں گے کہ ِاس بُحران نے اِن دو جنس يعني مرد وعورت کے درميان باہمي رابطے، تعلّقات اور معاشرے سے مربوط حل نشدہ مسائل سے جنم ليا ہے يا بہ تعبير ديگر يہ نگاہ و زاويہ، غلط ہے۔ اب ہم لوگ ہيں اور مقابل ميں مرد حضرات کے خود ساختہ افکار و نظريات ہيں، تو جواب ميں ہم يہي کہيں گے کہ خواتين کے مسئلے کو جس نگاہ و زاويے سے ديکھا جارہا ہے وہ صحيح نہيں ہے اور يہ بھي کہا جاسکتا ہے کہ مردوں کے مسئلے کو اس زاويے سے ديکھنا بھي غير معقول ہے يا مجموعاً ان دونوں کي کيفيت و حالت کا اِس نگاہ سے جائزہ لينا سراسر غلطي ہے۔

 

 

مرد و عورت کي کثير المقدار مشکلات کا علاج

اس مسئلے کي مشکلات ، زيادہ اور مسائل فراوان ہيں ليکن سوال يہ ہے کہ ان سب کا علاج کيسے ممکن ہے؟ اِن سب کا راہ حل يہ ہے کہ ہم خداوند عالم کے بنائے ہوئے راستے پر چليں۔ دراصل مرد وعوت کے مسائل کے حل کيلئے پيغام الٰہي ميں بہت ہي اہم مطالب بيان کئے گئے ہيں لہٰذا ہميں ديکھنا چاہيے کہ پيغام الٰہي اِس بارے ميں کيا کہتا ہے۔ خداوند عالم کے ’’پيغام وحي‘‘ نے اِس مسئلے ميں صرف وعظ و نصيحت کرنے پر ہي اکتفا نہيں کيا ہے بلکہ اس نے راہ حل کيلئے زندہ مثاليں اور عملي نمونے بھي پيش کيے ہيں۔

آپ ملاحظہ کيجئے کہ خداوند عالم جب تاريخ نبوّت سے مومن انسانوں کيلئے مثال بيان کرنا چاہتا ہے تو قرآن ميں يہ مثال بيان کرتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ’’وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذِيْنَ آمَنُوْا امرَآَتَ فِرعَونَ ‘‘(۱) ۔ (اللہ نے اہل ايمان کيلئے زن فرعون کي مثال بيان فرمائي ہے)۔ حضرت موسي کے زمانے ميں اہل ِ ايمان کي کثير تعداد موجود تھي کہ جنہوں نے ايمان کے حصول کيلئے بہت جدوجہد اور فداکاري کي ليکن خداوند عالم نے ان سب کے بجائے زن فرعون کي مثال پيش کي ہے۔ آخر اِس کي کيا وجہ ہے؟ کيا خداوند عالم خواتين کي طرفداري کرنا چاہتا ہے يا در پردہ حقيقت کچھ اور ہے؟ حقيقتاً مسئلہ يہ ہے کہ يہ عورت (زن فرعون) خدا کے پسنديدہ اعمال کي بجا آوري کے ذريعے ايسے مقام تک جاپہنچي تھي کہ فقط اُسي کي مثال ہي پيش کي جاسکتي تھي۔ يہ حضرت فاطمہ زہر علیھا السلام اور حضرت مريم علیھا السلام سے قبل کي بات ہے۔ فرعون کي بيوي ، نہ پيغمبر ہے اور نہ پيغمبر کي اولاد ، نہ کسي نبي کي بيوي ہے اور نا ہي کسي رسول کے خاندان سے اُس کا تعلق ہے۔ ايک عورت کي روحاني و معنوي تربيت اور رُشد اُسے اس مقام تک پہنچاتي ہے !

البتہ اس کے مقابلے ميں يعني برائي ميں بھي اتفاقاً يہي چيز ہے۔ يعني خداوند متعال جب بُرے انسانوں کيلئے مثال بيان کرتاہے تو فرماتا ہے۔ ’’ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ کَفَرُوا امرَآَتَ نُوحٍ وَّ امرَآَتَ لُوطٍ ‘‘(۲) (اللہ نے اہل کفر کيلئے نوح اور لوط کي بيويوں کي مثال پيش کي ہے)۔ يہاں بھي خدا نے دو عورتوں کي مثال پيش کي ہے کہ جو برے انسانوں سے تعلق رکھتي تھيں۔ حضرت نوح اور حضرت لوط کے زمانے ميں کافروں کي ايک بہت بڑي تعداد موجود تھي اور ان کا معاشرہ برے افراد سے پُر تھا ليکن قرآن اُن لوگوں کو بطور ِ مثال پيش کرنے کے بجائے حضرت نوح و حضرت لوط کي زوجات کي مثال بيان کرتا ہے۔

اہل ايمان کيلئے زن فرعون کي مثال کے پيش کيے جانے کے ذريعے صِنفِ نازک پر يہ خاص عنايت اورايک عورت کے مختلف عظيم پہلووں اور اُس کے مختلف ابعاد پر توجہ کي اصل وجہ کيا ہے؟ شايد يہ سب اِس جہت سے ہو کہ قرآن يہ چاہتا ہے کہ اُس زمانے کے لوگوں کے باطل اور غلط افکار و نظريات کي جانب اشارہ کرے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُس زمانہ جاہليت کے باطل افکار و عقائد آج بھي ہنوز باقي ہيں ، خواہ وہ جزيرۃ العرب کے لوگ ہوں جو اپني بيٹيوں کو زندہ درگور کرديتے تھے يا دنيا کي بڑي شہنشاہت کے زمانے کے لوگ ہوں مثل روم و ايران۔

 

ام کتاب : عورت ، گوہر ہستي

صاحب اثر : حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد علي حسيني خامنہ اي دامت برکاتہ

ترجمہ واضافات : سيد صادق رضا تقوي

مال و ثروت زیادہ ہونے کی نماز
(ضروی نوٹ:روزی میں  اضافہ اس وقت ہوگا ،جب رزق اور روزی حلال طریقے سے حاصل کیا جائے اور پروردگارعالم کی نظرشامل حال رہے۔

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ صرف ان دعاؤں اور سورتوں کے پڑھنے سے آپ کی رزق اور روزی میں اضافہ نہیں ہو گا

بلکہ رزق اور روزی تک پہنچنے کے لئے کوشش بہت موثر ہے، اگر چہ وہ بہت کم  ہی کیوں نہ ہو۔)
جب اپنے کاروبار کی جگہ جانا چاہیں تو پہلے مسجد میں جاکر دو یا چار رکعت نماز پڑھیں اور یہ کہیں: ۔

غَدَوْتُ بِحَوْلِ اللّٰهِ وَقُوَّتِهِ، وَغَدَوْتُ بِلا حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، وَلٰكِنْ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، يَا رَبِّ . اللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، أَلْتَمِسُ مِنْ فَضْلِكَ كَما أَمَرْتَنِي، فَيَسِّرْ لِي ذٰلِكَ وَأَنَا خَافِضٌ فِي عَافِيَتِكَ.
دوسری نماز:
دو رکعتیں ہیں پہلی رکعت میں سوره «حمد» کے بعد،  تین مرتبه «إِنّٰا أَعْطَیْنٰاکَ الْکَوْثَرَ» اور دوسری رکعت  میں سوره «حمد»، کے بعد 

سوره «فلق» تین مرتبہ اور اس کے بعد  سوره «ناس» مرتبہ پڑھی جاتی ہے۔


رزق کی دعائیں
اور وہ "پانچ" دعائیں یہ ہیں:

اول:
معاویة  بن عمّار سے نقل ہے: کہ میں نے امام صادق(علیہ‌السلام)سے درخواست کی کہ میرے لئے رزق کی دعا  تعلیم فرمائیں،  
تو آنحضرت(علیہ السلام) نے یہ دعا مجھے سکھائی اور میں نے رزق میں اضافے  کے لئے اس سے بہتر کچھ نہیں دیکھا۔  
 اللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْ‌فَضْلِكَ الْوَاسِعِ الْحَلالِ الطَّيِّبِ، رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً بَلاغاً لِلدُّنْيا وَالْآخِرَةِ صَبّاً صَبّاً، هَنِيئاً مَرِيئاً مِنْ غَيْرِ كَدٍّ وَلَا مَنٍّ مِنْ أَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ إِلّا

سَعَةً مِنْ فَضْلِكَ الْوَاسِعِ، فَإِنَّكَ قُلْتَ: ﴿وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهِ﴾، فَمِنْ فَضْلِكَ أَسْأَلُ، وَمِنْ عَطِيَّتِكَ أَسْأَلُ، وَمِنْ يَدِكَ الْمَلْأَىٰ أَسْأَلُ.
دوم:
امام باقر(علیه‌السلام) سے روایت ہے: آپ (علیه‌السلام) نے زید شحّام سے فرمایا: رزق مانگنے کے لئےنماز واجب کے سجدہ میں اس دعاء کو  پڑھو:
يَا خَيْرَ الْمَسْؤُولِينَ، وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ، ارْزُقْنِي وَارْزُقْ عِيَالِي مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.
سوم: جناب ابو بصیر سے روایت ہے: انہوں نے کہا: کہ میں نے حضرت امام صادق(علیه‌السلام) سے اپنی حاجت کی شکایت کی 

اور ان سے عرض کیا: کہ مجھے رزق کی دعا سکھا دیں، آپ علیہ السلام نے مجھے یہ دعا سکھائی۔
 جب سے میں نے اسے پڑھنا شروع کیا ہے، میں  کسی کا محتاج نہیں رہا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا: نماز ِشب کے سجدہ کی حالت میں کہو:
يَا خَيْرَ مَدْعُوٍّ، وَيَا خَيْرَ مَسْؤُولٍ، وَيَا أَوْسَعَ مَنْ أَعْطَىٰ، وَيَا خَيْرَ مُرْتَجىً، ارْزُقْنِي وَأَوْسِعْ عَلَيَّ مِنْ رِزْقِكَ، وَسَبِّبْ لِي رِزْقاً مِنْ قِبَلِكَ، إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
مصنف کہتے ہیں: شیخ طوسی  (رح )نے اس دعاء کو کتاب «مصباح» میں نمازِ شب کی آٹھویں رکعت کے آخری سجدے میں ذکر کیا ہے۔
چهارم:
روایت ہے کہ: رسول خدا(صلی‌الله‌علیه‌وآله وسلم) نے اس دعاء کو طلبِ روزی کے لئے تعلیم دی ہے:
يَا رَازِقَ الْمُقِلِّينَ، وَيَا رَاحِمَ الْمَساكِينِ، وَيَا وَلِيَّ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَا ذَاالْقُوَّةِ الْمَتِينِ، صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، وَارْزُقْنِي وَعافِنِي وَاكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي.
پنجم:
جنابِ ابو بصیر نے یہ دعاء حضرت صادق(علیه‌السلام) سےطلبِ  رزق  کے لئے بیان کی ہے
اور فرمایا: یہ علی بن الحسین علیہ السلام کی دعا ہے کہ  آپ علیہ السلام  جب خدا کو پکارتے تو اس طرح پکارتے تھے:
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُسْنَ الْمَعِيشَةِ، مَعِيشَةً أَتَقَوَّىٰ بِهَا عَلَىٰ جَمِيعِ حَوَائِجِي، وَأَتَوَصَّلُ بِها فِي الْحَياةِ إِلَىٰ آخِرَتِي، مِنْ غَيْرِ أَنْ تُتْرِفَنِي فِيها فَأَطْغَىٰ، أَوْ تُقَتِّرَ بِها عَلَيَّ فَأَشْقىٰ، أَوْسِعْ عَلَيَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِكَ، وَأَفْضِلْ عَلَيَّ مِنْ سَيْبِ فَضْلِكَ نِعْمَةً مِنْكَ سابِغَةً وَعَطاءً غَيْرَ مَمْنُونٍ، ثُمَّ لَاتَشْغَلْنِي عَنْ شُكْرِ نِعْمَتِكَ بِإِكْثارٍ مِنْها، تُلْهِينِي بَهْجَتُهُ، وَتَفْتِنُنِي زَهَراتُ زَهْوَتِهِ، وَلَا بِإِقْلالٍ عَلَيَّ مِنْها يَقْصُرُ بِعَمَلِي كَدُّهُ، وَيَمْلَأُ صَدْرِي هَمُّهُ، أَعْطِنِي مِنْ ذٰلِكَ يَا إِلٰهِي غِنىً عَنْ شِرَارِ خَلْقِكَ، وَبَلاغاً أَنالُ بِهِ رِضْوانَكَ، وَأَعُوذُ بِكَ يَا إِلٰهِي مِنْ شَرِّ الدُّنْيا وَشَرِّ مَا فِيها، وَ لَا تَجْعَلْ عَلَيَّ الدُّنْيا سِجْناً، وَلَا فِراقَها عَلَيَّ حُزْناً، أَخْرِجْنِي مِنْ فِتْنَتِها مَرْضِيّاً عَنِّي، مَقْبُولاً فِيها عَمَلِي، إِلَىٰ دَارِ الْحَيَوانِ وَمَساكِنِ الْأَخْيَارِ، وَأَبْدِلْنِي بِالدُّنْيَا الْفانِيَةِ نَعِيمَ الدَّارِ الْباقِيَةِ؛اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَزْلِها وَزِلْزالِها وَسَطَوَاتِ شَياطِينِها وَسَلاطِينِها، وَنَكالِها، وَمِنْ بَغْيِ مَنْ بَغَىٰ عَلَيَّ فِيها . اللّٰهُمَّ مَنْ كادَنِي فَكِدْهُ، وَمَنْ أَرادَنِي فَأَرِدْهُ، وَفُلَّ عَنِّي حَدَّ مَنْ نَصَبَ لِي حَدَّهُ، وَأَطْفِئ عَنِّي نارَ مَنْ شَبَّ لِي وَقُودَهُ، وَاكْفِنِي مَكْرَ الْمَكَرَةِ، وَافْقَأْ عَنِّي عُيُونَ الْكَفَرَةِ، وَاكْفِنِي هَمَّ مَنْ أَدْخَلَ عَلَيَّ هَمَّهُ، وَادْفَعْ عَنِّي شَرَّ الْحَسَدَةِ، وَاعْصِمْنِي مِنْ ذٰلِكَ بِالسَّكِينَةِ، وَأَلْبِسْنِي دِرْعَكَ الْحَصِينَةَ، وَأَحْيِنِي فِي سِتْرِكَ الْوَاقِي، وَأَصْلِحْ لِي حالِي، وَصَدِّقْ قَوْلِي بِفِعالِي، وَبَارِكْ لِي فِي أَهْلِي وَمٰالي.

نماز عشاء کے بعد رزق اور روزی کےلئے دعاء:
اللّٰهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لِى عِلْمٌ بِمَوْضِعِ رِزْقِى، وَإِنَّما أَطْلُبُهُ بِخَطَراتٍ تَخْطُرُ عَلَىٰ قَلْبِى، فَأَجُولُ فِى طَلَبِهِ الْبُلْدانَ، فَأَنَا فِيَما أَنَا طالِبٌ كَالْحَيْرانِ، لَاأَدْرِى أَفِى سَهْلٍ هُوَ أَمْ فِى جَبَلٍ، أَمْ فِى أَرْضٍ أَمْ فِى سَماءٍ، أَمْ فِى بَرٍّ أَمْ فِى بَحْرٍ، وَعَلَىٰ يَدَيْ مَنْ، وَمِنْ قِبَلِ مَنْ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ عِلْمَهُ عِنْدَكَ، وَأَسْبابَهُ بِيَدِكَ، وَ أَنْتَ الَّذِى تَقْسِمُهُ بِلُطْفِكَ، وَتُسَبِّبُهُ بِرَحْمَتِكَ، اللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَاجْعَلْ يا رَبِّ رِزْقَكَ لِى وَاسِعاً، وَمَطْلَبَهُ سَهْلاً، وَمَأْخَذَهُ قَرِيباً، وَلَا تُعَنِّنِى بِطَلبِ مَا لَمْ تُقَدِّرْ لِى فِيهِ رِزْقاً، فَإِنَّكَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِي وَ أَنَا فَقِيرٌ إِلَىٰ رَحْمَتِكَ، فَصَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَجُدْ عَلَىٰ عَبْدِكَ بِفَضْلِكَ، إِنَّكَ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ.

مؤلف فرماتے ہیں: کہ یہ دعاء طلبِ روزى کی دعاؤں میں سے ہے.

مناجاتِ طلب روزی
اللّٰهُمَّ أَرْسِلْ عَلَيَّ سِجالَ رِزْقِكَ مِدْراراً، وَأَمْطِرْ عَلَيَّ سَحائِبَ إِفْضالِكَ غِزَاراً، وَأَدِمْ غَيْثَ نَيْلِكَ إِلَيَّ سِجالاً، وَأَسْبِلْ مَزِيدَ نِعَمِكَ عَلَىٰ خَلَّتِي إِسْبالاً، وَأَ فْقِرْنِي بِجُودِكَ إِلَيْكَ، وَأَغْنِنِي عَمَّنْ يَطْلُبُ مَا لَدَيْكَ، وَداوِ داءَ فَقْرِي بِدَواءِ فَضْلِكَ، وَانْعَشْ صَرْعَةَ عَيْلَتِي بِطَوْلِكَ، وَتَصَدَّقْ عَلَىٰ إِقْلالِي بِكَثْرَةِ عَطائِكَ، وَعَلَى اخْتِلالِي بِكَرِيمِ حِبائِكَ، وَسَهِّلْ رَبِّ سَبِيلَ الرِّزْقِ إِلَيَّ، وَثَبِّتْ قَواعِدَهُ لَدَيَّ، وَبَجِّسْ لِي عُيُونَ سَعَتِهِ بِرَحْمَتِكَ، وَفَجِّرْ أَنْهارَ رَغَدِ الْعَيْشِ قِبَلِي بِرَأْفَتِكَ، وَأَجْدِبْ أَرْضَ فَقْرِي، وَأَخْصِبْ جَدْبَ ضُرِّي، وَاصْرِفْ عَنِّي فِي الرِّزْقِ الْعَوائِقَ، وَاقْطَعْ عَنِّي مِنَ الضِّيْقِ الْعَلائِقَ . وَارْمِنِي مِنْ سَعَةِ الرِّزْقِ اللّٰهُمَّ بِأَخْصَبِ سِهامِهِ، وَاحْبُنِي مِنْ رَغَدِ الْعَيْشِ بِأَكْثَرِ دَوامِهِ، وَاكْسُنِي اللّٰهُمَّ سَرابِيلَ السَّعَةِ وَجَلابِيبَ الدَّعَةِ، فَإِنِّي يَا رَبِّ مُنْتَظِرٌ لِإِنْعامِكَ بِحَذْفِ المَضِيقِ، وَ لِتَطَوُّلِكَ بِقَطْعِ التَّعْوِيقِ، وَ لِتَفَضُّلِكَ بِإِزَالَةِ التَّقْتِيرِ، وَ لِوُصُولِ حَبْلِي بِكَرَمِكَ بِالتَّيْسِيرِ؛ وَأَمْطِرِ اللّٰهُمَّ عَلَيَّ سَماءَ رِزْقِكَ بِسِجالِ الدِّيمِ، وَأَغْنِنِي عَنْ خَلْقِكَ بِعَوائِدِ النِّعَمِ، وَارْمِ مَقاتِلَ الْإِقْتارِ مِنِّي، وَاحْمِلْ كَشْفَ الضُّرِّ عَنِّي عَلَىٰ مَطايَا الْإِعْجالِ، وَاضْرِبْ عَنِّي الضِّيقَ بِسَيْفِ الاسْتِئْصالِ، وَأَتْحِفْنِي رَبِّ مِنْكَ بِسَعَةِ الْإِفْضالِ، وَامْدُدْنِي بِنُمُوِّ الْأَمْوَالِ، وَاحْرُسْنِي مِنْ ضِيقِ الْإِقْلالِ، وَاقْبِضْ عَنِّي سُوءَ الْجَدْبِ، وَابْسُطْ لِي بِساطَ الْخِصْبِ، وَاسْقِنِي مِنْ ماءِ رِزْقِكَ غَدَقاً، وَانْهَجْ لِي مِنْ عَمِيمِ بَذْلِكَ طُرُقاً، وَفاجِئْنِي بِالثَّرْوَةِ وَالْمالِ، وَانْعَشْنِي بِهِ مِنَ الْإِقْلالِ، وَصَبِّحْنِي بِالاسْتِظْهارِ، وَمَسِّنِي بِالتَّمَكُّنِ مِنَ الْيَسارِ، إِنَّكَ ذُو الطَّوْلِ الْعَظِيمِ، وَالْفَضْلِ الْعَمِيمِ، وَالْمَنِّ الْجَسِيمِ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَرِيمُ.

رزق میں توسیع و کثرت کی دعاء:
کتاب «مجتنی»میں سید ابن طاووس(رحمه الله) سے نقل ہے:
اللّٰهُمَّ إِنَّ ذُنُوبِي لَمْ يَبْقَ لَها إِلّا رَجاءُ عَفْوِكَ، وَقَدْ قَدَّمْتُ آلَةَ الْحِرْمانِ بَيْنَ يَدَيَّ، فَأَنَا أَسْأَلُكَ مَا لَاأَسْتَحِقُّهُ، وَأَدْعُوكَ مَا لَاأَسْتَوْجِبُهُ، وَأَتَضَرَّعُ إِلَيْكَ بِما لَا أَسْتَأْهِلُهُ، وَلَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ حالِي وَ إِنْ خَفِيَ عَلَى النَّاسِ كُنْهُ مَعْرِفَةِ أَمْرِي . اللّٰهُمَّ إِنْ كانَ رِزْقِي فِي السَّماءِ فَأَهْبِطْهُ، وَ إِنْ كانَ فِي الْأَرْضِ فَأَظْهِرْهُ، وَ إِنْ كانَ بَعِيداً فَقَرِّبْهُ، وَ إِنْ كانَ قَرِيباً فَيَسِّرْهُ، وَ إِنْ كانَ قَلِيلاً فَكَثِّرْهُ وَ بارِكْ لِي فِيهِ.

رزق اور روزی میں اضافے کےلئے نماز
روایت شده: کوئی مرد رسول خدا(صلی‌الله‌علیه‌وآله وسلم)  کی خدمت اقدس میں آکر کہنے لگا:
یا رسول الله(ص)!

میں عیال‌دار ہوں اور مقروض ہوں اور میری حالت بہت خراب ہے، مجھے کوئی دعاء سکھائیں  تاکہ خدا عزّوجلّ کواس دعاء کے ذریعے پکاروں اور وہ ذات الہی مجھے اتنی روزی عطا کرے کہ میرا قرض ادا ہوجائے اور میں اپنے خاندان کے لئے بھی کوئی راہ حل نکال سکوں۔  
آپ نے فرمایا:

اے خدا کے بندے مکمل درست  وضو کرو،پھر دو رکعت نماز پڑھو اور رکوع و سجود پورا کرنےکے بعد کہو:
يَا ماجِدُ يَا واحِدُ يَا كَرِيمُ، أَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللّٰه، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى اللّٰهِ رَبِّي وَ رَبِّكَ وَرَبِّ كُلِّ شَيْءٍ، وَأَسْأَلُكَ اللّٰهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَسْأَلُكَ نَفْحَةً كَرِيمَةً مِنْ نَفَحَاتِكَ وَفَتْحاً يَسِيراً وَ رِزْقاً واسِعاً أَلُمُّ بِهِ شَعَثِي، وَأَقْضِي بِهِ دَيْنِي، وَأَسْتَعِينُ بِهِ عَلَىٰ عِيَالِي.

دوسری نماز روزى میں برکت کےلئے:
جب آپ اپنے کاروبار کی جگہ جانا چاہیں تو پہلے مسجد میں جائیں اور دو چار رکعت نماز  پڑھیں اور یہ کہیں:
غَدَوْتُ بِحَوْلِ اللّٰهِ وَقُوَّتِهِ، وَغَدَوْتُ بِلا حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، وَلٰكِنْ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، يَا رَبِّ . اللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، أَلْتَمِسُ مِنْ فَضْلِكَ كَما أَمَرْتَنِي، فَيَسِّرْ لِي ذٰلِكَ وَأَنَا خَافِضٌ فِي عَافِيَتِكَ.

تیسری نماز:
دو رکعت نماز اداء کریں پہلی  رکعت میں سوره «حمد»، کے بعد تین مرتبہ کہیں
«إِنّٰا أَعْطَیْنٰاکَ الْکَوْثَرَ»
اور دوسری رکعت میں سوره «حمد»، کےبعدتین مرتبہ، سوره «فلق»  اور سوره «ناس» کی تلاوت کیجئے.
 
ائمہ اطہار علیہم السلام  کی روایات  کے مطابق سوروں  اور دعاؤں کی جوناقابل انکار  تاثیر  خصوصا مال و ثرو ات میں فزایش اور  زندگی میں موجود فقر و تنگ دستی کا خاتمہ ہوگا۔ 

 
رزق و روزی میں اضافے کی دعاء


ختمِ سوره واقعه:
امام سجاد علیه السلام سے روایت نقل ہے کہ: ختم «اذا وقعه» رزق و روزی میں افزایش  کےلئے بہت مفیدہے .
ختم سورہ واقعہ کا طریقہ یہ ہے:
اگر ماہ قمری ماہ کے روز دو شنبه سے شروع کرےتو ہر روز کی تعداد کے لحاظ سے دنوں کی شمار سے پہلے روز سے لے کر چودہویں روز تک "سوره واقعه "کی تلاوت کریں  یعنی مثلا پہلے دن ایک بار، دوسرے دن دو بار اور اسی طرح ... .

پھر ہر روز سوره مبارکه واقعه پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھیں:  
اَللّهُمَّ اِنْ کانَ رِزْقی فِی السَّماءِ فَأنْزِلْهُ وَ اِنْ کانَ فِی الْاَرْضِ فَأخْرِجْهُ وَ اِنْ کانَ بَعیداً فَقَرِّبْهُ وَ اِنْ کانَ قَریباً فَیَسِّرْهُ وُ اِنْ کانَ قَلیلاً فَکَثِّرْهُ وَ اِنْ کانَ کَثیراً فَبارِکْ لی فیهِ وَ أرْسِلْهُ عَلی اَیْدی خِیارِ خَلْقِکَ وَ لا تُحْوِجْنی اِلی شِرارِ خَلْقک. وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ فَکَوِّنْهُ بکِیْنُونِیَّتِکَ وَ وَحْدانِیَّتِکَ، اَللّهُمَّ انْقُلْهُ اِلَیََّ حَیْثُ اَکُونُ وَ لا تَنْقُلْنی اِلَیْهِ یَکُونُ، اِنَّکَ عَلی کُلِّ شَِیْءٍ قَدیرٌ. یا حَیُّ یا قَیُّومُ، یا واحِدُ یا مَجیدُ، یا بَرُّ یا رَحیمُ یا غَنیُّ ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ تَمِّمْ عَلَیْنا نِعْمَتَکَ، وَ هَنِّئْنا کَرامَتَکَ، وَ اَلْبسْنا عافیَتَکَ
اور ان ایام کے دوران  جب بھی جمعرات کا دن واقع ہوجائے اس دن اس دعاء کی تلاوت کیجئے:
یا ماجِدُ، یا واحِدُ، یا جَوادُ، یا حلیمُ، یا حَنّانُ، یا مَنّانُ، یا کَریمُ اَسْألُک تُحْفَةً مِنْ تحَفِکَ تَلُمُّ بها شَعْثی وَ تَقْضی بها دَیْنی وَ تُصْلِحُ بها شَأنی برَحْمْتِکَ یا سَیِّدی .
(رزق و روزی میں اضافے کی دعاء: آیت الله العظمی سید "صادق روحانی” کی تعلیم کردہ دعاؤں سے منتخب)

وسعت رزق کےلئے ختم سوره «واقعه» کا دوسرا طریقہ
ہفتے کے دن سے، ہر شب تین بار "برائے افزایش رزق ""سوره مبارکہ واقعه" کو پڑھیں اور شب جمعہ 8 مرتبہ پڑھیں اور  یہ سلسلہ پانچ ہفتے متواتر اسی طرح جاری رکھیں اور ہر بار پڑھنے سے پہلے یہ دعا پڑھیں  
اَللَّهُمَّ ارْزُقنا رِزْقاً حَلاَلاً طَیِّباً مِنْ غَیْرِ کَدٍّ اِسْتَجِب ْ. دَعْوَتَنَا مِنْ غَیْرِ رَدٍّ وَ اَعُوذُ مِنَ الْفَضِیحَتِین الفَقرا وَالدِّینِ وَاِدْفَعْ عَنِّی هَذَیْنِ بِحَقِّ الامَامِیْن الحسن وِالحُسَین بِرَحْمَتِکَ یاارحم الراحمین.
کہا گیا ہے کہ اس دعاء اور ختم کی تاثیر بہت زیادہ ہے.


مال و ثروت میں افزایش  :
وہ سورے جو روزی  میں افزایش  کا باعث ہیں:
ختم "سوره مبارکه طه" افزایش رزق : کے لئے مجرب ہے:
ہر روز بعد از اذان صبح وقبل از طلوع آفتاب" سوره مبارکه طہ " کو افزایش رزق  کی نیت سے تلاوت کریں تاکہ خدا وند  ایسی جگہ سے رزق آپ کو پہنچائےگا جس کا آپ کو گمان  تک نہ ہو، اگر آپ اس سوره کو طلوع آفتاب کے وقت پڑھیں گے تو آپ کو نئے رزق ملے گا اور اگر آپ اس سوره مبارکہ کو لکھ کر اپنے پاس رکھیں گے تو ہر حاجت رواء اور  کامیاب ہوں گے،
 اور اگر آپ دو افراد کے درمیان صلح کے لئے جائیں تو جانے سے پہلے یہ سوره پڑھیں۔  


رزق میں اضافے کا ذکر:
مرحوم کشمیری نے قاضی کیمیا مرحوم کے حوالے سے کہا:
اگر کوئی رزق میں اضافہ کرنا چاہے تو اس ذکر کا ورد کرے۔
اللّهُمَ اَغنِنِی بِحلالِکَ عَن حَرامِک و بِفَضِلکَ عَمَّن سِواک
کو زیادہ پڑھیں
حضرت استاد بهجت(رح) سے نقل  ہوئی ہے کہ اس ذکر کے ابتداء اور انتہاء میں صلوات پڑھیں مثلاً اگر100 مرتبہ پڑھنا چاہیے تو، ابتداء صلوات بھیجے پھر110 بار ذکر اور آخر میں دوبارہ صلوات  پڑھیں۔
   گشایش رزق و روزیکےلئے هر روز 77 مرتبہ:یا غَفور یا وَدود " کہیں


   افزایش رزق  کی دعاء :
اللهم اَغْنِنِی بحَلالِکَ عَنْ حَرامِکْ و بِطاعَتِکَ عَنْ مَعْصیَتِکْ و بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِواکَ
اس دعاء کو مسلسل پڑھیں اور مسلسل صدقہ بھی دیں.


   افزایش روزی کےلئے یہ ذکر"
 لا إلهَ إلاَّ اللهُ المَلِکُ الحَقُّ المُبینُ.

[ ١٠٠ مرتبہ]، ہرنماز صبح کے بعد مجرب ہے.
    اسی طرح ذکر:
 یَا رَازِق یَا فَتَّاحُ یَا وَهَّابُ یَا غَنِیُّ یَا مغنِی یَا بَاسِط ُ.

[ ١٠ مرتبہ]، ہرنماز صبح کے بعد مجرب ہے.
   افزایش روزی کےلئے یہ ذکر"
"سُبْحَانَ اللهِ العَظیمِ وَبِحَمْدِهِ، أسْتَغفِرُ اللهَ وأُتوبُ إلیهِ وَأسْأَلُهُ مِنْ َفضْلِهِ". 

[ ١٠ مرتبہ] ہرنماز صبح کے بعد مجرب ہے.

ترجمہ: یوسف حسین عاقلی

 الجزیرہ نیوز کے مطابق، دو انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکام کو شہریت منسوخ کرنے کے لیے دیے گئے اختیارات میں اضافے کے باعث برطانیہ میں لاکھوں مسلمان اپنی شہریت سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

یہ رپورٹ برطانیہ کی نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم رنی میڈ ٹرسٹ (Runnymede Trust) اور غیر سرکاری تنظیم ریپریو (Reprieve) نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیرِ داخلہ کے تخمینے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 90 لاکھ افراد قانونی طور پر اپنی شہریت کی منسوخی کے خطرے میں ہیں۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ تعداد ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 13 فیصد بنتی ہے اور شہریت منسوخی کے یہ اختیارات غیر متناسب طور پر ان برادریوں کو متاثر کرتے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ طریقۂ کار جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والی برادریوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہا ہے اور یہ اختیارات مسلم معاشروں کے لیے ایک "منظم خطرہ"  بن چکے ہیں۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت برطانوی شہریت اس صورت میں بھی منسوخ کی جا سکتی ہے کہ کسی فرد کا کسی دوسرے ملک سے کوئی حقیقی تعلق نہ ہو، بشرطیکہ اسے اس ملک کی شہریت کے لیے اہل سمجھا جائے۔

رپورٹ کے مطابق، وہ افراد جن کے روابط پاکستان، بنگلہ دیش، صومالیہ، نائجیریا، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے ہیں، سب سے زیادہ کمزور اور خطرے سے دوچار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہر پانچ غیر سفید فام افراد میں سے تین افراد کو اپنی شہریت کھونے کا خطرہ لاحق ہے، جبکہ سفید فام برطانوی شہریوں میں یہ شرح پانچ میں سے ایک ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ 2010ء سے اب تک "عوامی مفاد" سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر 200 سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے، جن کی بھاری اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

اس رپورٹ کو تیار کرنے والی دونوں تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہریت منسوخی کا عمل فوری طور پر روکا جائے، برطانوی شہریت کے قانون میں متعلقہ شق کو ختم کیا جائے اور جن افراد کی شہریت ان اختیارات کے تحت منسوخ کی گئی ہے، ان کے حقوق بحال کیے جائیں۔/