سلیمانی
دبئی میں یوکرائنی اینٹی ڈرون سسٹم ڈپو تباہ: ترجمان خاتم الانبیا سینٹرل وار ہیڈ کوارٹر
لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ دبئی میں امریکی کمانڈروں اور فوجیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہ مذکورہ امریکی اڈے پر حملے کے وقت یوکرین کا ایک اینٹی ڈرون سسٹم کی ایک کھیپ اور 21 یوکرینی بھی وہاں موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا مذکورہ امریکی فوجی اڈے میں موجود یوکرینی فوجیوں کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے، جو غالباً مارے گئے ہیں۔
ٹرمپ کا ایران کے خلاف ایڈونچر امریکی بالادستی کے دور کا خاتمہ کرسکتا ہے: ایشیا ٹائمز کی رپورٹ
مضمون نگار لیون ہیڈر خبردار کیا ہے کہ بلا وجہ اور بدلتے بہانے سے شروع کی جانے والی یہ جنگ امریکہ کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دے گی جس سے دنیا میں واشنگٹن کی بالادستی ختم ہو جائے گی۔
مضمون نگار کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے جھوٹے اور متضاد بہانوں کے تحت ایران کے خلاف اپنے حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل ہی عمانی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے بلواسطہ مذاکرات میں جوہر معاہدے کی جانب پیشرفت کی خبر دی تھی۔
فاضل تجزیہ نگار کے مطابق امن تک رسائي کے باوجو امریکہ اور اسرائیل نے معاہدے کی سیاسی خشک ہونے سے پہلے ہی اسے سبوتاژ کردیا۔
مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے ایرانی سرزمین پر اپنے حملے کا جواز پیش کرنے کے لیے چھ مختلف اور متضاد وجوہات پیش کی ہیں جن میں ایران کو انتقام جوئی روکنے سے لیکر حکومت تبدیلی اور اس کی دفاعی طاقت کے خاتمے جیسے بہانے شامل ہیں۔
لیون ہیڈر کے مطابق یہ بظاہر تضاد ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اسے جواز فراہم کرنے کے لیے کسی بہانے کی تلاش میں تھا۔
علاقائی ممالک دشمن کو اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ دیں: صدر ایران
سوشل میڈیا ہنڈل ایکس پر صدر ایران کے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہم نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ایران پیشگی حملے نہیں کرے گا، لیکن اپنے انفراسٹرکچر اور اقتصادی مراکز پر دشمن کے حملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیں گے۔
انہوں نے علاقے کے ملکوں پر زور دیا کہ اگر آپ ترقی اور سلامتی کے خواہاں تو تو ایران کے دشمنوں کو اپنے ملکوں کی سرزمین جنگ میں استعمال نہ کرنے دیں۔
اسرائیلی فوج کی نابودی کا عمل تیز کرنے کے منصوبہ پر عمل کر رہے ہیں: اسپیکر قالی باف
رنا کے مطابق، محمد باقر قالیباف نے انگریزی میں لکھا کہ اسرائیلی فوج کے کمانڈر نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ "میں دس سرخ جھنڈے اٹھاؤں گا... اسرائیلی فوج خود ہی نابود ہو جائے گی۔"
انہوں نے مزید کہا کہ کشیدگی بڑھا کر اور ایران کے صنعتی ڈھانچے پر حملہ کر کے اسرائیلی رجیم ان انتباہات کو نظر انداز اور مزید جرائم کا ارتکاب کرکے اپنی شکست خوردہ کابینہ اور فوج کے پست حوصلے پھر سے بلند کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
ایران کے اسپیکر نے مزید کہا کہ تہران نے اپنے جوابی حملوں کی منصوبہ اسرائيلی فوج کی اندرونی شکست و ریخت کا عمل تیز کرنے پر استوار کرلی ہے۔
ارنا کے مطابق اسرائیلی ٹی وی چینل 13 نے رپورٹ دی ہے کہ چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے کابینہ کے اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ فوج اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں خطرے کی بلند ترین سطح کی علامت کے طور پر 10 سرخ جھنڈے اٹھا رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے اس حوالے سے مزید کہا کہ فوج کو اس وقت لازمی سروس میں توسیع کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ ریزرو فوجیوں میں مزید جنگ کا حوصلہ نہیں ہے۔
شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی سوانح حیات
16 جولائی 1939ء کو خراسان صوبہ کے مقدس شہر مشہد میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کے والد کا نام الحاج سید جواد حسینی خامنہ ای تھا، یہ بچہ بعد میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کا جانشین بنا اور ان کے بعد انقلاب اسلامی کا سپریم لیڈر بن گیا، آیت اللہ سید علی خامنہ ای، سید جواد خامنہ ای کے دوسرے بیٹے تھے، آیت اللہ خامنہ ای نے چار سال کی عمر میں مکتب سے تعلیم شروع کی اور قرآن سیکھنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنے والد سے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ 1955ء میں انہوں نے درس خارج جوائن کیا، جو آیت اللہ سید ہادی میلانی دیتے تھے، جوان سید علی صرف 18 سال کے تھے جب انہوں نے ہائیسٹ لیول سٹڈیز شروع کی۔ انہوں نے عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کرنے کا منصوبہ بنایا اور 1957ء میں ایران سے نجف کے لیے نکل پڑے، جہاں انہوں نے آیت اللہ سید محمد حکیم اور آیت اللہ سہرودی سے علم حاصل کیا، انہوں نے نجف کے مشہور علماء کے دروس میں شرکت کی، ان کے اساتذہ میں آیت اللہ محسن الحکیم، آیت اللہ ابوالقاسم خوئی، آیت اللہ سید محمد، مرزا باقر زنجانی اور مرزا حسن بروجردی شامل تھے۔ وہ وہاں رکنا اور ان بہترین اساتذہ سے تعلیم جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن ان کے والد کی رائے تھی کہ وہ مقدس شہر قم میں جدید تعلیم سے مستفید ہوں۔ مزید احوال اس بائیو گرافی ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔
رپورٹ: سید عدیل عباس
اسکول پر حملہ اور حملے کا حکم دینے والوں کو سزا دی جائے: ایران کا مطالبہ
تہران (IRNA) ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے امریکہ اور صیہونی حکومت کی مذمت کیے جانے کے بعد، میناب کے اسکول پر حملہ اور حملے کا حکم دینے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میناب کے شجرہ طیبہ ایلمنٹری اسکول پر امریکی حملے کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معصوم بچے اور اساتذہ جنہیں بے رحمی سے قتل کیا گيا، جارحین کے ظلم بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نسل کشی کی حد میں آنے والے اس جنگی جرم او رانسانی حقوق کی اتنی سنگین خلاف ورزی کرنے والوں اور اس کا حکم دینے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دنیا کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ان بے شمار مثالوں میں سے ایک ہے جن کا ارتکاب، امریکہ اور صیہونی حکومت نے، ایرانی قوم کے خلاف پچھلے 28 روز سے جاری غیر قانونی جنگ کے دوران کیا ہے۔
آپریشن صادق وعدہ 4 کی لہر 84؛ ایندھن بردار طیاروں کا امریکی فلیٹ تباہ
؛ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس آپریشن کے دوران مذکورہ امریکی فضائی اڈے پر کھڑے ایندھن بھرنے والے اور لاجسٹک طیاروں کے پورے فلیٹ کو تباہ کردیا ہے۔
پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے بیان میں کہا گیا ہے: "خطے کے ممالک میں قائم امریکی دہشت گرد حکومت کے فضائی اڈوں کو ایران کے خلاف مسلسل استمعال کیے جانے کے پیش نظر ہماری ایئر اسپیس فورس نے سپاہ پاسداران کے بحریہ کے تعاون سے مشترکہ میزائل آپریشن کے دوران امریکہ کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرتے ہوئے الخرج کے فوجی اڈے کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایاہے جہاں خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا لاجسٹک ایئر فلیٹ تعینات ہے۔
بیان میں کہا گيا ہے کہ آپریشن کے دوران دشمن کے بھاری بھرکم ایندھن بھرنے والے اور معاونت فراہم کرنے والے طیارے تباہ ہوگئے یا شدید نقصان پہنچا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان میں آیا ہے کہ ہماری ایئرواسپس اور نیول فورس کے جوان آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں اسلامی جمہوریہ کی پوزیشنوں کا بھرپور دفاع کرتے رہیں گے، اور خدا کے فضل سے خطے میں دشمن کے شیطانی مراکز پر پوری قوت کے ساتھ حملے جاری رکھیں گے۔
امریکی فوج انسانی ڈھال بناسکتی ہے، عوام دور رہیں، سپاہ پاسداران کا انتباہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے خطے کے ممالک کے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوراً ان علاقوں کو خالی کر دیں جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔
سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بزدل امریکی و صہیونی افواج، جو اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی جرات اور صلاحیت نہیں رکھتیں، مجاہدین اسلام کے حملوں کے خوف سے غیر فوجی مقامات کا سہارا لے رہی ہیں اور معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چونکہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم امریکی دہشت گرد افواج اور صہیونی قابض حکومت کے ان مراکز کو جہاں بھی پائیں، نشانہ بنائیں، اس لیے ہم خطے کے عوام کو تاکید کے ساتھ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ فورا ان مقامات سے دور ہوجائیں جہاں امریکی افواج موجود ہیں، تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔
سپاہ پاسداران نے یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب خطے میں امریکی افواج کے خلاف ایرانی جوابی کارروائیاں تیز ہوگئی ہیں۔
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ دشمن افواج کے ٹھکانے اس کے براہ راست حملوں کی زد میں ہیں۔
ٹرمپ ایران جنگ سے نکل پائے گا؟
اسرائیل، ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کبھی حامی نہیں رہا۔ ایران پر امریکی، اسرائیلی جارحیت سے قبل جاری نیوکلیئر مذاکرات کے دوران، امریکی انتظامیہ میں صہیونی لابی کے اثر و رسوخ کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اداروں کی رپورٹس کے بجائے موساد کی انٹیلیجنس کے اس دعوے سے متاثر ہوئے کہ ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنا کر نظام کی فوری تبدیلی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد اپنے دعوؤں کے برخلاف ایران کے اندر مطلوبہ سطح کی شورش برپا کرنے میں ناکام رہا، جس پر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے ادارے پر برہمی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ، اپنی فطرت کے عین مطابق عالمی قیادت کا کریڈٹ لینے کی خواہش میں، اسرائیل کے ساتھ اس حملے میں شامل ہو گئے۔ جنگی میدان میں درپیش مشکلات کے ساتھ ساتھ امریکی انٹیلیجنس اداروں کی ناکامی بھی نمایاں ہو کر سامنے آنے لگیں، جو دہائیوں کی محنت کے باوجود ایران کے نظریات اور داخلی صورتحال کا درست ادراک حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس سبکی سے بچنے کے لیے امریکی کاؤنٹر ٹیررازم ادارے کے ڈائریکٹر جوکینٹ نے استعفیٰ دیتے ہوئے صاف کہہ بھی دیا کہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ بنیادی طور پر اسرائیلی مفادات اور لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی گئی۔ اسی طرح امریکی انٹیلیجنس ادارے کی سربراہ تلسی گباڈ بھی اس سوال کا جواب دینے میں تذبذب کا شکار رہیں کہ یہ جنگ آخر کس انٹیلیجنس کی بنیاد پر شروع کی گئی، جبکہ خود اداروں نے ایران کو فوری خطرہ قرار نہیں دیا تھا اور صدر کیونکر ادارے کی رپورٹ کے بغیر جنگ میں کود سکتے ہیں۔
جنگ جاری رہی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد، غیر واضح اور بعض اوقات بوکھلاہٹ پر مبنی بیانات نے امریکا کے اندر تشویش کو مزید بڑھا دیا۔ یہ سوال شدت اختیار کر گئے کہ آیا وہ اپنی شروع کردہ جنگ پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔ ان پر دباؤ بڑھا کہ وہ واضح کریں کہ اس جنگ کے اصل مقاصد کیا تھے، کانگریس کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا، کیا اس جنگ سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ پہلے سے طے کیا گیا تھا، اور کیا انہیں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے عالمی تیل منڈی پر اثرات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی تھی۔ اسرائیل کی ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی یہ رہی کہ اس نے اپنے مقرر کردہ اہداف اور اپنی تخمینہ شدہ صورتحال کے مطابق مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے امریکا کو براہِ راست جنگ میں کامیابی سے شامل کر لیا۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ رہبر انقلاب اسلامی پر حملے کی یہ ناجائز کارروائی صرف اسرائیل کے ذریعے کرواتے اور خود پس منظر میں رہتے، جو ان کے گمان میں رجیم کی تبدیلی کا یقینی پیش خیمہ بن سکتی تھی، تو نہ صرف امریکا کی عالمی ساکھ محفوظ رہتی بلکہ وہ آج خود تنازع کا فریق بننے کے بجائے، حسبِ روایت، ثالث کے طور پر سامنے آ سکتے تھے اور ایک اور عالمی تنازع کے خاتمے کا کریڈٹ بھی حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے خود دنیا کو اس کارروائی کی خبر دے کر ایرانی عوام کا مسیحا اور دنیا کے شہنشاہ بننے کا اعلان کرنا بہتر سمجھا۔
دوسری جانب، ایران نے رہبر اور کمانڈروں کی عظیم شہادت کے باوجود ایک بار پھر چٹان کی مانند خود کو سنبھالا، جس نے دنیا کو ایرانی نظام کی مضبوطی پر حیرت زدہ کر دیا۔ اس ناجائز حملے نے ایران کو امریکہ اور اسرائیل دونوں کو ایک ساتھ گھیرنے کا موقع فراہم کیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈے بھی اس کے جائز اہداف کے طور پر سامنے آ گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اپنے اتحادیوں پر حملوں کے امکانات کے حوالے سے مطمئن دکھائی دیتے تھے کہ ایسا نہیں ہوگا، اور اسی اعتماد میں وہ کسی واضح “پلان بی” کے بغیر عجلت میں اس جنگ میں شامل ہو گئے۔ اب جبکہ صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگی اہداف کا واضح تضاد بھی نمایاں ہو رہا ہے۔
ایران نے امریکا کو ایسے حالات میں لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ ایسا راستہ جو اس کے اپنے مفادات سے مطابقت رکھتا ہو۔ جبکہ اسی صورتحال میں اسرائیل خود کو شدید خطرے میں محسوس کر رہا ہے۔ اسرائیل کے جنگی اہداف کے تناظر میں اسے اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران سمیت توانائی کے بڑے اثاثے تباہ ہو جائیں، جبکہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف اس کے اتحادی متاثر ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر معاشی کساد بازاری (ریسیشن) بھی تقریباً یقینی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اسرائیلی دفاعی ماہرین کے مطابق، زمینی کارروائی کے بغیر صرف فضائی حملوں سے موجودہ جنگی ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ خرگ جزیرے پر زمینی فوج اتارنے کا آپشن بھی زیرِ غور رہا، مگر اس کے اپنے شدید خطرات ہیں، جن میں ممکنہ طور پر امریکی فوجیوں کے یرغمال بنائے جانے کا خدشہ بھی شامل ہے۔ ایک ایسی سبکی جس کے لیے امریکا تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت کی علامت کے طور پر آنے والا بحری بیڑا بھی وہاں سے دور ہٹا لیا گیا ہے۔
ان متوازی اور باہم متصادم اہداف کے باعث امریکا، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اب مذاکرات کی طرف مائل نظر آتا ہے تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے اس جنگ سے نکلنے کا راستہ نکالا جا سکے۔ ٹرمپ کے پاس اپنی ساکھ بچانے اور جنگ سے باعزت نکلنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ وہ جنگ کو مزید وسعت دیں، جس کی انہوں نے کوشش بھی کی۔ وہ ایران کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے کر نیٹو حتیٰ کہ چین کو بھی اس جنگ میں شامل ہونے پر اُکسا چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو بھی ایرانی میزائل حملوں کی سائٹ سے یورپ کو مخاطب کر کے انہیں خطرے سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔
امریکا کے لیے یہ راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان سمیت کئی ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے امریکا کا ساتھ دینے پر آمادہ ہیں، جبکہ امریکی افواج کی مزید تعیناتی کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جسے امریکا ممکنہ طور پر جنگی دباؤ اور مذاکراتی حکمتِ عملی دونوں میں بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ گزشتہ ایران، اسرائیل 12 روزہ جنگ کا آغاز بھی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے ہوا تھا، تاہم اس وقت نہ آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ درپیش تھا، نہ امریکی عرب اتحادی براہِ راست دباؤ میں آئے تھے، اور نہ ہی عالمی معیشت پر فوری خدشات منڈلا رہے تھے۔ اس کے باوجود اسرائیل بالآخر یکطرفہ طور پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔
موجودہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور نازک دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ نہ تو جنگ پر مکمل کنٹرول رکھتے نظر آتے ہیں، نہ ہی یورپی اتحادیوں اور نیٹو کو اس بے تکی جنگ میں شمولیت پر پوری طرح قائل کر سکے ہیں۔ عرب اتحادی بھی اپنے ممکنہ نقصانات کے پیشِ نظر اس جنگ کا بوجھ اٹھانے پر آمادہ نہیں، جبکہ اندرونِ ملک عوام اور اپوزیشن کو بھی اس کے واضح اور قابلِ قبول جواز پر قائل نہیں کیا جا سکا۔ ایسے حالات میں بظاہر امریکا کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے مزید وقت درکار ہے، اور اسی مقصد کے تحت مذاکرات کو ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
شکست کو معاہدے کا نام نہ دیں، ترجمان خاتم الانبیاء سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر
خاتم الانبیاء سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا جھوٹا دعوی کرنے کے بجائے اپنی شکست کا اعتراف کریں۔
خاتمالانبیا سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنی شکست کو کسی معاہدے کا نام نہ دے۔
ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ جس اسٹریٹجک طاقت کا امریکا دعوی کرتا تھا، وہ اب اسٹریٹجک شکست میں بدل چکی ہے۔ اگر امریکا واقعی اس صورتحال سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا تو اب تک نکل چکا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ وعدوں اور دباؤ کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے اور آج دنیا میں دو واضح محاذ موجود ہیں: حق اور باطل۔ ان کے مطابق آزاد لوگ صرف میڈیا کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوتے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام صرف طاقت کے ذریعے ممکن ہے اور یہ استحکام ایران کی مسلح افواج کی طاقت سے برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ایران کی مرضی نہ ہو، خطے کی صورتحال پہلے جیسی نہیں ہوسکے گی۔
بیان کے آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا موقف شروع سے یہی رہا ہے کہ وہ ایسے فریق کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گا جو اس کے خلاف اقدامات کا ارادہ رکھتا ہو۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
