سلیمانی

سلیمانی

27 مارچ 2026ء کو امریکی صدر ٹرمپ نے Future Investment Initiative سرمایہ کاری کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا، جس میں متعدد عالمی لیڈرز، کاروباری شخصیات اور مشہور شخصیات موجود تھیں۔ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “He thought it’d be just another American president that was a loser … He didn’t think he’d be kissing my ass … but now he has to be nice to me.” یعنی محمد بن سلمان نے پہلے نہیں سوچا تھا کہ یہ سب ہوگا، اور ”وہ میری پچھواڑا چاٹ رہا ہوگا“ (crude slang) لیکن اب اسے میرے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا پڑے گا۔ بظاہر یہ جملہ طنز یا مذاق کے طور پر سنا جا سکتا ہے، لیکن سیاسی اور سفارتی تناظر میں یہ ایک واضح اور معقول اشارہ بھی رکھتا ہے۔

فرض کریں کہ کسی کے پاس دوسرے کا کوئی حساس یا نجی راز ہو یا کوئی یا اسکے ساتھ کوئی نجی برا فعل اس کے ساتھ انجام دیا ہو اور وہ اس سے اپنے جائز یا ناجائز کام میں بھرپور حمایت چاہتا ہو۔ اس صورت میں دنیا کے مہذب لوگوں کے سامنے صرف ایک چھوٹا سا اشارہ یا جملہ دے دینا کافی ہے کہ وہ خود بخود سمجھ جائے گا۔ یہاں پہ ٹرمپ ایم بی ایس کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم تمہارے نجی رازوں کو بتانے میں کوئی دیر نہیں لگائیں گے اگر تم نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ صدر ٹرمپ کوئی عام شہری یا محض بات کرنے والا نوجوان نہیں ہیں، بلکہ دنیا کے طاقتور ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ ان کے جملے اکثر مقاصد، اشارے، اور leverage کے حربے کے طور پر ہوتے ہیں۔

نجی معاملات اور leverage عالمی سیاست میں طاقتور رہنما اور ممالک اپنے اتحادیوں یا حلیف ممالک کے ساتھ نجی اور حساس معلومات کو leverage کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کسی رہنما کے ذاتی یا جنسی راز اب صرف ذاتی نہیں رہے بلکہ سیاسی ہتھیار بن گئے ہیں۔ Edward Snowden کے لیکس نے واضح کیا کہ امریکہ نجی شہریوں اور عالمی رہنماؤں کی آن لائن اور مواصلاتی سرگرمیوں میں بھی جاسوسی کرتا ہے۔ CIA کے Vault 7 لیکس اور سفارتی کیبلز نے ظاہر کیا کہ حساس معلومات کس طرح اثرورسوخ اور دباؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ بے تکلف جملہ اس زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اب جب کہ امریکی صدر ٹرمپ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں یورپی ممالک ان کا ساتھ نہیں دے رہے اور عرب ممالک بھی صرف زبانی خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے اس موقع پر یہ گفتگو کرنا ایم بی ایس کے لیے ایک پیغام ہے کہ ہم تمہارے حساس یا نجی معاملات سے آگاہ ہیں، اور تمہیں ہمارے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا۔ یہ ایک دوہری پیغام رسانی رکھتا ہے۔ 
ظاہری سطح پر طنز و مذاق
خفیہ سطح پر leverage کا اشارہ
نجی راز اور عالمی سیاست
تاریخی اور جدید مثالیں بتاتی ہیں کہ Edward Snowden لیکس (2013) اور امریکی NSA سمیت CIA کی نگرانی کے پروگرامز PRISM، XKeyscore، Boundless Informant نے واضح کیا کہ نہ صرف دہشت گردی بلکہ عام شہریوں کی نجی زندگی بھی ٹریک ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر یہ افشا ہوا کہ طاقتور ممالک نجی معلومات کے ذریعے leverage حاصل کرتے ہیں۔

CIA کے ہیکنگ ٹولز، میل ویئر، اور جاسوسی کے طریقے افشا ہوئے۔ اس نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل آلات اور رابطوں پر مکمل نگرانی ممکن ہے۔ عام تجزیہ نگار یہی کہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے پاس امریکی صدر ٹرمپ کے نجی راز موجود ہیں جس کی وجہ سے ٹرمپ مجبور ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسرائیل کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہو جب بھی ٹرمپ نے اسرائیل کو کوئی انکار کی صورت دی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی ٹرمپ کا ایک سکینڈل نجی یا جنسی سامنے آ جاتا ہے اور ٹرمپ نتن یاہو کی زبان بولنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نجی اور ذاتی راز سیاست اور اثرورسوخ کا ہتھیار بن چکے ہیں۔ طاقتور ممالک یا رہنما اپنے اتحادیوں کو leverage میں رکھنے کے لیے حساس معلومات کا استعمال کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی گفتگو کا تجزیاتی منظر
صدر ٹرمپ کی محمد بن سلمان کے لیے بے تکلف جملہ ایک سیاسی حربہ اور اشارہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ 
طنز یا مذاق عوام کے لیے: بے تکلفی، کھلے رویے کا تاثر
خفیہ leverage: محمد بن سلمان کو یہ واضح کرنا کہ ان کے حساس یا نجی راز جاننے کا امکان موجود ہے
اثرورسوخ اور تعاون: عالمی یا امریکی مفادات کے مطابق رویہ رکھنے کی ضرورت
یہ حکمت عملی قدرتی طور پر سیاسی دباؤ، اثرورسوخ، اور leverage کے اصول سے مطابقت رکھتی ہے۔

صدر ٹرمپ کا محمد بن سلمان کے لیے جملہ
محض طنزیہ یا مذاق نہیں، بلکہ عالمی سیاست میں leverage کے حربے کا مظہر ہے۔ نجی، حساس، اور جنسی راز اب عالمی تعلقات اور اثرورسوخ کے ہتھیار بن چکے ہیں، جس کی تازہ مثال ایپسٹین فائلز کا کیس ہے۔ اس ہتھیار کو طاقتور ممالک یا رہنما اپنے حلیفوں کے نجی راز سے واقف رہ کر، انہیں سیاسی اور سفارتی دباؤ میں استعمال کرتے ہیں۔ اس منظر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں عوامی بیانات کے علاوہ، خفیہ معلومات اور نجی راز کے ذریعے بھی اپنی حکمت عملی اور leverage قائم کرتی ہیں۔

تحریر: میثم عابدی

خاتم الانبیا (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر کو خبردار کیا ہے کہ ایران نے اب تک کسی بھی جنگ کا آغاز نہیں کیا ہے لیکن ہر جارحیت کے بعد، پروردگار عالم کی مدد سے، جنگ کے اختتام کا تعین ضرور کیا ہے۔

کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے زور دیکر کہا کہ امریکی صدر کے جرائم، ان کی جنگ پسندی اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ صرف قتل عام اور علاقے اور دنیا میں بدامنی کی شکل میں سامنے آیا ہے جس کے خلاف دسیوں لاکھ امریکی عوام اور دنیا کے دیگر ملکوں کی قومیں سڑکوں پر نکل آئیں۔

انہوں نے امریکی صدر کی خودپسندی، آمرانہ رویے اور غلط اندازوں کو ان کے وہم زدہ دماغ، غرور اور غیرمتوازن شخصیت کی وجہ قرار دیا اور کہا کہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا کے تمام ممالک ٹرمپ کی حرکتوں کے نتیجے میں بدامنی اور مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے جنگ کے مبہم مستقبل کے خلاف امریکی عوام کے مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت نے امریکی صدر کو ایپسٹین کیس میں پھنسا کر اپنی باتیں ان سے منوا رہی ہے تا کہ شائد اپنی قبل از وقت موت سے بچ سکے لیکن اس کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔

خاتم الانبیا (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے زور دیکر کہا کہ اگر چہ ٹرمپ نے غرور اور وہم کے نتیجے میں بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا لیکن اسے بخوبی علم ہے کہ ایران کے شجاع اور باتجربہ عوام اور دلیر مسلح افواج کے مقابلے میں اسے شکست کے علاوہ کچھ ملنے والا نہیں ہے اور اسی لیے دیگر ملکوں کے سربراہوں کے ذریعے جنگ ختم کرانے کی درخواستیں بھیج رہا ہے۔

کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بارہا اعلان کیا جا چکا ہے کہ ایران کسی بھی جنگ کا آغاز نہیں کرتا لیکن دشمن کی جارحیت کے بعد، جنگ کے خاتمے اور خاتمے کے وقت کا فیصلہ ایران کرتا ہے۔

 اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ایک خبر پر ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ غاصب اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس کے کیتھولک چرچ کے سب سے بڑے مذہبی رہنما کو Palm Sunday یا کھجور کے اتوار تیہوار کو منانے سے روک دیا اور انہیں گرجا گھر میں داخل ہونے نہیں دیا۔

اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے اپنے تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ [عیسائی شہریوں نے] Palm Sunday تیہوار، اسرائیل کے ہاتھوں عام شہریوں کی وحشیانہ بمباری کے باوجود ایران کے تہران، تبریز اور ارومیہ شہروں میں منایا۔

1945 سے قبل عیسائیوں کی آبادی مقبوضہ سرزمینوں کے ساڑھے 12 فیصد پر مشتمل تھی جو اب گھٹ کر 1 فیصد رہ گئی ہے۔

صیہونیت اسلام اور عیسائیت کے تمام آثار کو مٹانا چاہتی ہے۔

 اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ حزب اللہ اور ایران کے میزائل حملوں میں شدت کے بعد اسرائیلی کابینہ وزرا کی سیکورٹی کے بارے میں سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر نئی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

اسرائیلی چینل 15 نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے فورا بعد ایک سرکاری سفر کے دوران ایک اسرائیلی وزیر شمالی علاقوں میں حزب اللہ کے میزائل حملے کے قریب آگیا تھا اور سیکورٹی اداروں کے مطابق اس واقعے میں وزیر کی جان کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایک ماہ تک خفیہ رکھا گیا، اور حال ہی میں ایک سینئر اہلکار نے ایک غیرعلانیہ نشست میں اس کی تفصیل بیان کی۔ اس کے بعد سیکورٹی یونٹ نے سفارش کی ہے کہ سرکاری شخصیات کو حساس مقامات پر جانے سے روک دیا جائے اور ان کے سفر صرف انتہائی ضرورت کی صورت میں کیے جائیں۔

اسرائیلی میڈیا نے اتوار کی شام اطلاع دی کہ یروشلم میں کنسٹ کا اجلاس اس وقت معطل کرنا پڑا جب ایران سے آنے والے میزائل حملے کے انتباہی سائرن بجنے لگے۔

رپورٹس کے مطابق کنست کے اراکین سالانہ بجٹ پر بحث کے دوران موجود تھے کہ اچانک سائرن بج اٹھا، جس کے بعد اراکین اجلاس چھوڑ کر پناہ گاہوں کی طرف روانہ ہو گئے۔

رہبرِ معظم انقلاب اسلامی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل علیرضا تنگسیری کی شہادت پر ایک پیغام جاری کیا۔

اپنے پیغام میں آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے کہا کہ سپاہ پاسداران کی بحریہ کے بہادر اور دلیر کمانڈر دریابان علیرضا تنگسیری برسوں کی جدوجہد اور خدمات کے بعد درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ تنگستان کے اس دلیر فرزند، ایران اور اسلام کے اس کمانڈر کی شہادت بوشہر کے بہادر عوام، جنوبی خطے کے نوجوانوں، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور پوری ایرانی قوم کے لیے ایک عظیم اعزاز ہے؛ وہ قوم جو ہمیشہ ایران کی خودمختاری اور بالخصوص خلیج فارس کی آبی حدود کی حفاظت کرتی رہی ہے۔

یہ عظیم قربانی ایران کی بحری طاقت اور مزاحمت کے راستے کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم بنانے کا سبب بنے گی۔

رہبرِ معظم انقلاب نے اس بہادر کمانڈر کی شہادت پر ان کے معزز خاندان، ساتھیوں، بحریہ کے کمانڈروں اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو مبارکباد اور تعزیت پیش کی اور اللہ تعالیٰ سے شہید کے لیے بلند درجات کی دعا کی۔


آج کل کچھ لوگ یہ جملے پھیلا رہے ہیں کہ "بیعت صرف حجتِ خدا کی ہوتی ہے" اور "تقلید صرف مرجع کی ہونی چاہیئے، ولی فقیہ کی نہیں"۔ بظاہر یہ جملے بڑے خوبصورت لگتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہی وہ آدھی سچ اور آدھی جھوٹ والی باتیں ہیں جن کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ولایتِ فقیہ کوئی نیا عقیدہ نہیں بلکہ یہ ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کا تسلسل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اَطِیعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ"۔ جب اطاعتِ اولی الامر واجب ہے، تو سوال یہ ہے کہ زمانۂ غیبت میں امت کو کس کے سپرد کیا جائے؟ کیا امت کو بغیر رہبر کے چھوڑ دیا جائے؟ عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی۔ امام زمانہؑ کی توقیع واضح دلیل ہے: "فَارْجِعُوا فِیهَا اِلٰی رُوَاةِ حَدِیْثِنَا فَاِنَّهُمْ حُجَّتِی عَلَیْکُمْ"۔ یعنی فقہاء امامؑ کی طرف سے حجت ہیں۔ جب فقیہ امامؑ کا نائب ہے تو اس کی اطاعت دراصل امامؑ ہی کی اطاعت ہے۔

پہلا بڑا دھوکہ "بیعت صرف امامؑ کی ہوتی ہے"۔ یہ جملہ سن کر لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کیا آئمہؑ نے اپنے نمائندے مقرر نہیں کیے تھے؟ کیا لوگوں کو ان نمائندوں کی طرف رجوع کا حکم نہیں دیا گیا تھا؟ اگر نائب کی اطاعت جائز نہ ہوتی تو آئمہؑ کبھی اپنے نمائندے مقرر نہ کرتے۔ لہٰذا ولی فقیہ کی اطاعت، امامؑ کے مقابل نہیں بلکہ امامؑ کی اطاعت کا تسلسل ہے۔ دوسرا بڑا دھوکہ "تقلید صرف مرجع کی ہے، ولایت کی نہیں"۔ یہ بھی ایک ادھوری بات ہے۔ تقلید فقہی مسائل کے لیے ہے، جبکہ ولایت اجتماعی نظام کے لیے۔ سوچئے! اگر دشمن حملہ کرے، اگر امت کو سیاسی فیصلے کرنے ہوں، اگر اسلام کے دفاع کا وقت آئے۔ تو کیا ہر شخص اپنی مرضی سے فیصلہ کرے گا؟ یا ایک عادل اور باصلاحیت فقیہ قیادت کرے گا؟ عقل اور شریعت دونوں کہتی ہیں کہ قیادت ضروری ہے، اور یہی قیادت ولایتِ فقیہ ہے۔

دشمن کا اصل ہتھیار پروپیگنڈا ہے۔ یاد رکھیں! جب بھی شیعہ مضبوط ہوتے ہیں، دشمن ان کے درمیان شک اور اختلاف پیدا کرتا ہے۔ دشمن کا طریقہ بہت سادہ ہے، خوبصورت جملے بنا دو، آدھی بات سچ رکھو، آدھی چھپا دو، سوشل میڈیا پر پھیلا دو اور عوام بغیر تحقیق کے شیئر کرتی جائے۔ بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا یونیورسٹی بن چکی ہے، جہاں ہر شخص بغیر علم کے استاد بنا ہوا ہے، اور یہی دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ عوام اس وقت بیوقوف بنتی ہے جب دلیل کے بجائے جذبات سے فیصلہ کرے، تحقیق کے بجائے فارورڈ پر یقین کرے، علماء کے بجائے سوشل میڈیا کو استاد مان لے، یہی وہ کمزوری ہے جس سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔

عوام کو کیا کرنا چاہیئے؟ اگر واقعی امام علیؑ اور امام زمانہؑ سے محبت ہے تو ہر بات کو تحقیق کے بغیر قبول نہ کریں، مستند علماء اور مراجع کی طرف رجوع کریں، سوشل میڈیا کے جملوں کے بجائے علمی دلائل پڑھیں اور یاد رکھیں کہ بصیرت کے بغیر محبت بھی انسان کو گمراہ کر سکتی ہے۔ آخری بات یہ کہ ولایتِ فقیہ، ولایتِ امیرالمؤمنینؑ کا مقابل نہیں بلکہ اسی کا تسلسل ہے۔ جو لوگ اس کے خلاف شکوک پیدا کرتے ہیں، چاہے دانستہ یا نادانستہ، وہ اسی دشمنی کے بیانیے کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں جو ہمیشہ اہل بیتؑ کے ماننے والوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ آج کا سب سے بڑا جہاد تلوار نہیں، بصیرت ہے اور جس قوم میں بصیرت آ جائے، اسے کوئی دشمن شکست نہیں دے سکتا۔

اسلام ٹائمز: 

امریکا بھر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں اور ایران جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر نو کنگز کے عنوان سے احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئیں، جن میں میڈیا رپورٹس کے مطابق 70 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جبکہ منتظمین کے مطابق ملک کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔

ریاست مینی سوٹا میں ہونے والی بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام سے ایران جنگ کے حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس جنگ کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں پر امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے مگر اس کے برعکس انہوں نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔

برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ ایران جنگ غیر آئینی ہے کیونکہ اس کے لیے کانگریس سے اجازت نہیں لی گئی، جبکہ اس تنازع میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں ایرانی شہری جاں بحق ہوئے اور سیکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔

سینیٹر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر خطے میں جنگ کو ہوا دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے باعث لبنان، مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں بھی انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔

مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد نے اینڈ دا وار اور نو کنگز کے نعرے لگائے، جبکہ کچھ مقامات پر اسرائیلی حکومت کے خلاف بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بزرگ افراد نے شرکت کی اور ایران جنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔

رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز بھی امریکا کی مختلف ریاستوں میں مزید 3200 احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں اور منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک ثابت ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ رات امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایران میں اعلی تعلیمی مراکز پر فضائی حملہ کیا تھا جس کے بعد ایران نے جواب میں دشمن کی جامعات کو نشانہ بنانے کی وارننگ جاری کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی جامعات پر حملے کے بعد اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی جامعات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اس کی افواج نے تہران کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر بمباری کر کے ایک مرتبہ پھر ایران کی جامعات کو نشانہ بنایا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ اب سے اسرائیلی جامعات اور مغربی ایشیا میں موجود امریکی جامعات کو اس وقت تک نشانہ بنایا جاسکتا ہے جب تک ایرانی جامعات پر کیے گئے حملوں کا بدلہ نہ لے لیا جائے۔

بیان میں ان جامعات کے عملے، اساتذہ، طلبہ اور اردگرد رہنے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے ان اداروں سے کم از کم ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہیں۔

سپاہ پاسداران کے مطابق اگر امریکی حکومت پیر 30 مارچ کو تہران کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے تک ایک سرکاری بیان میں جامعات پر ہونے والی بمباری کی مذمت کر دے تو اس مرحلے پر صرف دو جامعات کے خلاف تلافی کی کارروائی تک معاملہ محدود رکھا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر دھمکی پر مکمل عمل کیا جائے گا۔

بیان میں سپاہ پاسداران نے خلیج فارس کے جنوبی ممالک سے ایران کے صنعتی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایک مشترکہ فوجی کارروائی کا بھی اعلان کیا۔

سپاہ کی فضائیہ اور بحریہ کے دستوں نے ایک مشترکہ اور ہدفی آپریشن میں امریکہ کی فوجی اور فضائی صنعت سے وابستہ دو بڑی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان میں ایمال (EMAL) اور آلبا (ALBA) کے ایلومینیم کارخانے شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ایمال دنیا کی سب سے طویل ایلومینیم پروڈکشن لائن رکھنے والی فیکٹری ہے جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریبا 1.3 ملین ٹن ہے، جبکہ آلبا فیکٹری میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور شراکت داری موجود ہے اور یہ امریکی فوجی صنعت کے لیے اہم مواد کی تیاری میں کردار ادا کرتی ہے۔

سپاہ پاسداران نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا کہ ایران کا ردعمل اب صرف آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دشمن کی کسی بھی سطح کی جارحیت کے جواب میں اس کی فوجی اور اقتصادی طاقت کو اس سے زیادہ سخت ضرب لگائی جائے گی۔

انگریزی اخبار ڈیلی میل کی جاری کردہ نئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی میزائل حملے کے بعد ایک امریکی آواکس طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ تصاویر، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس  کی ہیں، ایک E-3G طیارے کے تباہ شدہ ڈھانچے کو ظاہر کرتی ہیں، جو امریکی فوج کے نگرانی اور فضائی کمانڈ نظام کا اہم ترین بازو ہے۔ایران کا نشانہ بننے والے جدید امریکی طیارے + تصویر

اطلاعات کے مطابق جمعہ کو کیے گئے حملے کے دوران اس طیارے کو کم از کم چھ بیلسٹک میزائلوں اور 29 ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں 15 کے قریب امریکی فوجی زخمی ہوئے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ایران کا نشانہ بننے والے جدید امریکی طیارے + تصویر

جاری کردہ تصاویر تباہی کی وسیع حد کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں، ہوائی جہاز کا درمیانی حصہ مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کے اندرونی حصے تخریب کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک اور تصویر میں، طیارے کی دم الگ ہو گئی ہے اور رن وے پر گری ہوئی ہے، اس کے ارد گرد ملبہ بکھرا ہوا ہے۔ ایک اور تصویر میں، حفاظتی سوٹ میں امدادی کارکن طیارے کے پروں کے نیچے نظر آ رہے ہیں، جو تباہی کے سطح کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ طیارہ، نمبر 81-0005، مبینہ طور پر امریکی فضائیہ کے 552 ویں ایئر کنٹرول ونگ میں شامل تھا۔ فضائی کارروائیوں کی نگرانی، کمانڈ اور کنٹرول میں اہم کردار ادا کرنے والا E-3 بحری بیڑا پہلے ہی محدود ہے اور طیارے کا نقصان امریکی آپریشنل صلاحیتوں کے لیے ایک سنگین دھچکا شمار ہوتا ہے۔

یاض کے قریب پرنس سلطان ایئر بیس، جو امریکی فوجیوں اور ساز و سامان کی میزبانی کرتا ہے، حالیہ ہفتوں میں کئی حملوں کا نشانہ بنا ہے۔ اس حملے کو خطے میں امریکی فوجی اثاثوں پر سب سے اہم براہ راست حملوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

ایران کا نشانہ بننے والے جدید امریکی طیارے + تصویر

پاسداران انقلاب اسلامی نے آج اتوار 29 اپریل 2026 کو ایک بیان میں اعلان کیا: امریکی دہشت گرد فوج کی دشمنانہ کارروائیوں کے جواب میں اور الخرج اڈے پر ایندھن بھرنے والے طیاروں کی تباہی کے بعد، IRGC ایرو اسپیس فورس کے مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن میں، کم از کم ایک E-3 ، جو آواکس کے نام سے مشہور ہے، تباہ ہوگیا ہے اور اس کے ارد گرد کھڑے دیگر طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ طیارہ میدان جنگ کا یونائٹ میپ بنا کر عملی طور پر فضائي آپریشن کے دوران لڑاکا طیاروں کی اہداف کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔

یہ طیارہ بیک وقت 300 سے زائد اہداف کو روکنے اور لڑاکا طیاروں کو آپریشنل طور پر ہدایت دینے، ہدف کی تقسیم اور انٹرسیپٹ کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس طیارے کی موجودہ قیمت کا تخمینہ تقریباً 530 سے 600 ملین ڈالر فی طیارہ  بتایا جاتا ہے۔    

 خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایران پر زمینی حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زمینی کارروائیوں اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے سے متعلق بار بار دی جانے والی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ منصوبوں کو حقیقت سے عاری قرار دیا۔

ترجمان نے کہا کہ امریکی قیادت نے فوج کی کمان ایسے فرد کے سپرد کر دی ہے جس کے فیصلوں نے امریکی افواج کو بدترین دلدل میں دھکیل دیا ہے اور خطے میں موجود امریکی فوجیوں کو روزانہ کی بنیاد پر سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی افواج تباہ شدہ اڈوں سے پسپا ہو چکی ہیں اورعلاقائی ممالک کے شہری و معاشی مراکز میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، اس کے باوجود وہ اب بھی ایرانی حملوں سے محفوظ نہیں ہیں۔

ابراہیم ذوالفقاری نے زمینی حملے سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج طویل عرصے سے اس طرح کی صورت حال کے لیے تیار اور جواب دینے کے لیے منتظر ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت یا قبضے کی کوشش کی صورت میں حملہ آور افواج کو گرفتاری اور مکمل تباہی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، امریکی کمانڈرز اور فوجی بالآخر خلیج فارس میں شارک مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے۔

امریکی قیادت پر زور دیتےہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور ماضی میں غیر ملکی حملہ آوروں کے ساتھ ہونے والے تجربات سے سبق سیکھیں اور خبردار کیا کہ غلط فیصلے امریکی افواج کے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔

ابراہیم ذوالفقاری نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی عملی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔