سلیمانی

سلیمانی

تہران (IRNA) بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے ملکی سرحدوں کے دورے کے دوران کہا ہے کہ زمینی جنگ دشمن کے لیے زیادہ خطرناک، مہنگی اور ناقابل تلافی ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر دشمن کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ایرانی افواج ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایران کی بری فوج کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ملک کی سرزمین کے چپے چپے کی حفاظت مکمل چوکسی اور تیاری کے ساتھ کی جا رہی ہے، اور مسلح افواج کے جوان، افسران اور کمانڈرز ملک کی سرحدوں پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے موجود ہیں۔

انہوں نے یقین دلایا کہ قوم بہادر جوان محاذ جنگ پر مضبوطی اور حوصلے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے دشمن کو زمینی محاذ پر بھی شکست دیں گے۔

بریگیڈیئر جنرل جہانشاہی نے مزید کہا کہ عوام کی یکجہتی، استقامت اور حمایت ہی ایران کی کامیابی اور دشمن کی شکست کی اصل طاقت ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی قوم اپنے جوانوں کی قربانیوں کی بدولت ہمیشہ سربلند اور مضبوط رہے گی۔دورے کے دوران انہوں نے مختلف صوبوں میں جنگ کے شہداء کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کی۔    

سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر اپنے ایک مختصر پیغام میں اسپیکر محمد باقر قالی باف کا کہنا تھا کہ بعض رپورٹوں کے مطابق ایران کے دشمن خطے ایک ملک کی حمایت سے، ایرانی جزیروں میں سے ایک پر قبضہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج دشمن تمام نقل و حرکت ہماری کی گہری نگرانی کر رہی ہیں۔  

ایران کے اسپیکر نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو اس کا ساتھ دینے والے خطے کے اس ملک کے بنیادی ڈھانچے کا مکمل صفایا کردیا جائے گا۔  

 بری فوج کے کمانڈر امیر بریگیڈیئر جنرل جہان شاہی نے ملک کی سرحدوں کے دورے کے دوران کہا کہ ایران کے ہر انچ جغرافیے کی حفاظت پوری ہوشیاری اور تیاری کے ساتھ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طاقتور مسلح افواج ایران کی ہر سرحد پر موجود ہیں اور دشمن کے ساتھ براہ راست مقابلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کی نقل و حرکت کو لمحہ بہ لمحہ اور انتہائی باریکی سے مانیٹر کیا جا رہا ہے اور ہر ممکنہ صورتحال کے لیے ہر وقت اور ہر مقام پر تیاری موجود ہے۔

امیر جہان شاہی نے زور دے کر کہا کہ دشمن کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ زمینی جنگ اس کے لیے زیادہ خطرناک، زیادہ مہنگی اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی موجودگی، ثابت قدمی اور اتحاد ہی ایران کی بڑی کامیابی اور دشمن کی شکست کا راز ہے۔

ان کے مطابق، ایران اپنے فرزندوں کی قربانیوں کی بدولت مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور آئندہ بھی سربلند رہے گا۔

 ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے رہبر معظم آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کی اجازت اور مشورے سے محمد باقر ذوالقدر کو قومی سلامتی کونسل کا نیا سربراہ منتخب کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران میں فضائی حملہ کرکے گذشتہ دنوں شہید کردیا تھا۔ جس کے بعد یہ عہدہ خالی تھا۔

، ہندوستان بھر میں ایران کی حمایت اور امداد کے لیے عوامی سطح پر غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مرد و خواتین، نوجوان و بزرگ، حتیٰ کہ بچے بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایران کی مدد کے لیے مالی و مادی تعاون فراہم کر رہی ہے۔

ہندوستان سے ایران کے لیے محبت و ایثار کی لہر، عوام نے دل کھول کر امداد کا سلسلہ تیز کر دیا

ذرائع کے مطابق، جن افراد کے پاس زیورات موجود ہیں وہ انہیں عطیہ کر رہے ہیں، جبکہ دیگر لوگ اپنے قیمتی سامان حتیٰ کہ گھریلو برتن تک امداد کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر نقد رقوم بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ بچوں نے بھی اس کارِ خیر میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے اپنے جیب خرچ اور گلکوں میں جمع رقم عطیہ کی ہے، جو ان کے خلوص اور جذبۂ ہمدردی کی عکاسی کرتا ہے۔

 انھوں نے کہا کہ سپاہ پاسداران کے سبھی شعبے طاقت و توانائی کی اوج  نیز مکمل آمادگی کی  حالت میں ہیں۔

 جنرل کرمی نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور ملک کے دیگر دشمنوں کو ان کی ہر دھمکی اور جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔

 انھوں نے کہا کہ ہم سبھی رہبر معظم انقلاب کی بصیرت کےقائل اور قدرداں ہیں اور مسلحانہ دہشت گردی کی مذمت میں 12 جنوری کو عوام کی میدان میں پرشکوہ موجودگی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

  جنرل کرمی نے کہا کہ صوبہ خوزستان میں تعینات سپاہ کے بری شعبے کے مجاہد جوانوں کے حوصولے بہت بلند اور ارادے بہت محکم ہیں اور وہ مکمل آمادگی اور چوکسی کی حالت میں ہیں۔

ارنا کے مطابق اقوام متحدہ کے جنیوا ہیڈکواٹر میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب مندوب رضا دہقانی نے کہا کہ ایران کی اپنے پڑوسیوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن جن ملکوں نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف حملے کے لئے استعمال ہونے کی  اجازت دی ہے، وہ اپنے اس اقدام کے نتائج کے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔

انھوں نے یہ یاد دہانی  کراتے ہوئے کہ ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی فوجی  جارحیت پانچویں ہفتے میں داخل ہوچکی ہے، کہا کہ ایران میں عام شہریوں  اور غیر فوجی مراکز پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں میں ہر روز بے گناہ عوام، عورتوں اور  بچوں کی ایک تعداد اپنی جان سے ہاتھ دھو رہی ہے۔  

 اقوام متحدہ کے جنیوا ہیڈکواٹر میں ایران کے نائب مندوب نے کہا کہ بین الاقوامی روابط میں جارحیت اور طاقت کا استعمال رائج نہیں ہونا چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی طاقت کو بین الاقوامی قوانین کی جگہ لینے کا حق نہیں ہے۔

اطالوی اخبار کے عسکری صحافی جیانلوکا دی فیو نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام میں کمزوری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور یہ نظام ایران کے بھاری میزائل اور ڈرون حملوں کے سامنے اپنی مؤثریت کھو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں پاسداران انقلاب کی جانب سے جدید اور طاقتور ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایسے میزائل بھی استعمال ہو رہے ہیں جو دفاعی نظام کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اطالوی اخبار کے مطابق اسرائیل نے اپنے آرو دفاعی نظام کے استعمال میں کمی کر دی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو بڑی تعداد میں آنے والے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم بظاہر اس کے میزائل ذخائر محدود ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کی پہلی لہر کو روکنے کے لیے اسرائیل نے 80 سے زائد انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے، جبکہ ایک سابقہ جنگ میں ابتدائی مرحلے پر یہ تعداد تقریباً 50 تھی۔

مزید کہا گیا ہے کہ ان میزائلوں کی تیاری کا عمل سست اور محدود ہے، اور صرف اسی مقدار کو دوبارہ تیار کرنے میں تقریباً تین سال لگ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آرو میزائلوں کی کمی کے باعث اسرائیلی فوج اب بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ "فلاخن داود" نظام استعمال کر رہی ہے، تاہم یہ نظام بڑے پیمانے پر حملوں کو روکنے میں ناکام ہورہا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انٹرسیپٹر ہتھیاروں کی کمی پر امریکی محکمہ دفاع میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے، جبکہ خلیج فارس کے ممالک بھی اس صورتحال پر فکرمند ہیں۔

اخبار کے مطابق امریکا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنے جہازوں پر جدید میزائل دفاعی نظام نصب کر رہا ہے، جن میں تھاڈ، اس ایم 3 اور پیٹریاٹ پاک 3 شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی 36 گھنٹوں میں امریکی افواج نے 80 سے زائد تھاڈ اور 150 دیگر میزائل استعمال کیے، جو ان کے کل ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ان میزائلوں کی سالانہ پیداوار 40 سے زیادہ نہیں، جس کے باعث استعمال ہونے والے ذخیرے کی بھرپائی میں 2030 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

ایران میں رجیم کی تبدیلی کے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا امریکی و اسرائیلی معرکہ ابتدا میں بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے تک پہنچا، پھر دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی سمت لڑھکتا ہوا بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں سمٹ آیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پورے یورپ اور حتیٰ کہ چین کو بھی مدد کے لیے پکارا جا چکا ہے۔ اسی طرح امریکی دھمکیاں بھی سٹاک مارکیٹ کی طرح  ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئی ہیں۔ بوکھلائی ہوئی دھمکیوں اور متعدد متضاد و بے ربط بیانات کے باعث امریکہ میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ ٹرمپ جنگ پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس اپنی ساکھ بچانے اور جنگ سے کسی صورت باعزت نکلنے کا واحد راستہ جنگ کو پھیلانا ہے، جس کا وہ پہلے ہی جیت چکنے کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو بھی ایرانی میزائل حملے کی سائٹ پر جا کر یورپ کو ایرانی میزائلوں کی رینج سے خبردار کرتے نظر آتے ہیں۔

امریکہ کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈائریکٹر جو کینٹ نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، اور جنگ بنیادی طور پر اسرائیلی مفادات اور لابی کے دباؤ کی وجہ سے شروع ہوئی۔ ایران پر حملے کا آغاز اس کی آئینی اور اعلیٰ سیاسی قیادت کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر سفارتکاری جاری تھی۔ اس اقدام کے ذریعے امریکہ نے عالمی قوانین سے ماورا اپنا جنگلی اور غیر مہذب چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور اب ٹرمپ یہی تقاضا یورپ سے بھی کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کا ایران میں وینزویلا طرز کے آپریشن کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ اب ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ واضح کریں کہ اس جنگ کے آغاز کے اصل مقاصد کیا تھے اور کانگریس کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ کیا اس جنگ سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ پہلے سے طے کیا گیا تھا؟ کیا انہیں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے تیل کی عالمی منڈی پر اثرات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی تھی؟ ان تمام اہم سوالات کے جواب میں ٹرمپ کی جانب سے اب تک صرف مبہم، غیر مربوط اور ٹال مٹول پر مبنی بیانات ہی سامنے آئے ہیں۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو جس ایران کو خطرہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، اس نے دیگر تمام مہذب اقوام کی طرح نیوکلیئر پروگرام پر پچھلے معاہدے کی پاسداری کی، جسے ٹرمپ نے اپنی پچھلی مدت میں یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ ایران نے اسلامی شریعت کے تحت ایٹمی ہتھیار بنانا ناجائز قرار دے رکھا ہے اور ایٹمی پروگرام کو صرف توانائی کے متبادل کے طور پر استعمال میں لانا چاہتا ہے، جس کی ضمانت کے طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو نگرانی کا موقع بھی دیا گیا۔ اس جارحیت سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی کبھی بند نہیں کیا ہے۔ ایران دیگر آزاد اقوام کی طرح ٹیکنالوجی کے حصول میں اپنی خود مختاری اور جائز حقوق کا قائل ہے اور امریکہ کی دھونس کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔

ٹرمپ ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے میدان میں امریکہ کو دنیا کا بلاشرکتِ غیرے لیڈر اور عالمی تنازعات میں حرفِ آخر کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، اور یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ پوری دنیا ٹیکنالوجی کے معاملے میں اس کی محتاج ہے۔ اپنی صدارتی مہم کے دوران اس نے واضح طور پر کہا تھا کہ مضبوط امریکی معیشت کا دارومدار اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کے انہی معاہدوں پر ہے جو دیگر ممالک، خصوصاً عرب ریاستوں کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت امریکی ٹیکنالوجی اور اسلحے کے یہ "بت" اسلامی سرزمینوں پر حکمرانوں نے سجا بھی رکھے تھے۔

کسی بھی ملک کی جانب سے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنا اسے امریکی تسلط پسندی کے اسی مائنڈ سیٹ، اس کی عالمی کشمکش اور دیگر آزاد اقوام کے خلاف تجاوز کا حصہ بنا دیتا ہے۔ ایک بار اس دائرے میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلنا آسان نہیں رہتا، اور پاکستان اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے جو آج تک اس فیصلے کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ یہ دراصل امریکہ کی سکیورٹی چھتری تلے آ کر خود اسی کے ہاتھوں بے دفاع ہو جانے کے مترادف ہے۔ ایسی صورتحال جس میں  ریاستیں نہ صرف اپنی خودمختاری کھو دیتی ہیں بلکہ جارحیت کی مذمت تک کا اختیار بھی عملاً سلب ہو جاتا ہے۔ 

مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر اسرائیل نامی پہلے ناجائز اڈے کو امام خمینیؒ نے مسلمانوں کے قلب میں پیوست خنجر قرار دیا تھا اور امتِ مسلمہ کو اس کے مقابلے میں جہاد کی راہ دکھائی تھی۔ ایران کا ہدف مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ اور فلسطین کا اختیار فلسطینی عوام کے سپرد کرنا ہے، جسے اس نے ہمیشہ ایک واضح اور اعلان شدہ مقصد کے طور پر پیش کیا ہے اور جس کے لیے وہ اپنی سب سے بڑی سے بڑی قربانی بھی پیش کر چکا ہے۔

تحریر: تصور حسین شہزاد

يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا إِن تَ۷نصُرُوا اللَّهَ يَنصُركُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم