سلیمانی
ایران میں سُپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والے ادارے کا مختصر تعارف
ایران میں سب سے طاقتور ادارے کا نام مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) ہے۔ یہ درحقیقت ریاستی قیادت کی نگرانی اور رہنمائی کے لیے ایک علمی و مشاورتی ادارہ ہے۔ اس کی ذمہ داری مختلف کمیشنوں اور انتظامی شعبوں کے ذریعے اپنے فرائض انجام دینا ہے۔ اس کے ارکان عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی ذمہ داری اسلامی نظام میں اعلیٰ ترین قائد (سُپریم لیڈر) یعنی رہبر کا انتخاب کرنا، اس کی شرعی و قانونی شرائط کی نگرانی کرنا اور ضرورت پڑنے پر اسے منصب سے معزول کرنے کا اختیار رکھنا ہے۔ اس ادارے کی بدولت ایران میں قیادت علم سے جنم لیتی ہے اور حکمت سے پروان چڑھتی ہے۔ یہ ادارہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے کہ ریاست کی اعلیٰ قیادت ایسے افراد کے انتخاب کے ذریعے ہونی چاہیئے جو علم اور بصیرت کے حامل ہوں۔ مختصر طور پر کہا جائے تو مجلس خبرگانِ رہبری وہ منتخب آئینی مجلس ہے جو ریاست کی اعلیٰ قیادت کے انتخاب، اس کے احتساب اور اس کی نگرانی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
اس کا تاریخچہ کچھ یوں ہے کہ 10 دسمبر 1982ء کو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کے انتخابات منعقد ہوئے جن میں مجموعی طور پر 83 افراد منتخب ہوئے، اور ان منتخب اراکین نے 15 اگست 1983ء کو اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا۔ یہ مجلس اس سیاسی و فکری روایت کی نمائندہ تھی جس میں اقتدار کو محض قوت کا مظہر سمجھنے کے بجائے ذمہ داری اور امانت سمجھا جاتا ہے۔ اس مجلس کا قیام اس تصور کی عملی تعبیر تھا کہ قیادت عقل، دیانت داری اور بصیرت کی بنیاد پر منتخب ہونی چاہیئے۔ سن 1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور امام خمینی کی قیادت میں اسلامی حکومت کی عوامی قبولیت کے بعد آئین کے معماروں نے طویل غور و فکر کے بعد یہ طے کیا کہ ریاستی ڈھانچے میں ایک ایسا منصب قائم کیا جائے جو مقامِ رہبری (اعلیٰ منصبِ قیادت) کہلائے اور ایک ایسی مجلس تشکیل دی جائے جو اس منصب کے انتخاب اور نگرانی کی ذمہ دار ہو، جسے مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کہا گیا۔
دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مجلس اس نظریے پر تشکیل پائی ہے کہ اقتدار و اختیارات کا ہتھیار اس کے سُپرد کرنا چاہیئے کہ جو علم و حکمت کا امین ہو۔ اسی لئے ایران کے نظامِ حکومت کو سمجھنے والے ماہرین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ مجلس تدبیر کرنے والے، زندہ ضمیر، باشعور، تجربہ کار اور اپنی ذمہ داری نبھانے والوں کی مجلس ہے۔ اس کے مختلف کمیشن اور انتظامی شعبے ماہرین کے زیرِ نگرانی مسلسل سرگرم رہتے ہیں اور ریاستی نظم و نسق کے اہم پہلوؤں پر غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ مجلس ریاست کو ایک زندہ نظام کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کے نزدیک ریاست کے مختلف ادارے اس کے اعضا کی مانند ہوتے ہیں۔ جب ہر عضو اپنا کام دیانت اور مہارت سے انجام دے رہا ہو تو پورا نظام متوازن اور مستحکم رہتا ہے۔
اس مجلس کے ڈھانچے میں بنیادی طور پر دو اہم ستون ہیں: مجلس کی صدارت یعنی ہیئتِ رئیسه (انتظامی قیادت) اور اس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (مجالسِ تحقیق و جائزہ)۔ اس مجلس کے ہر دور کے آغاز میں ایک عارضی صدارت قائم کی جاتی ہے جسے ہیئتِ رئیسهٔ سنی (عارضی عمر کی بنیاد پر منتخب صدارت) کہا جاتا ہے۔ اس میں سب سے معمر رکن صدر بنتا ہے اور دیگر ارکان مجلس کے انتظامی امور سنبھالتے ہیں۔ یہ عارضی صدارت افتتاحی اجلاس کی کارروائی چلاتی ہے اور پھر مستقل صدارت کے انتخاب کا انتظام کرتی ہے۔ اس انتظام میں ایک خاص نظم اور وقار نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے جہاں جہاں قانون کی روشنی ہو وہاں فیصلہ معتبر ہوتا ہے اور جہاں نظم کی فضا ہو وہاں اجتماع مضبوط ہوتا ہے۔
مستقل صدارت جسے ہیئتِ رئیسهٔ دائم (مستقل مجلسِ انتظام) کہا جاتا ہے خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے۔ اس میں ایک صدر، دو نائب صدر، دو منشی اور دو منتظم شامل ہوتے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف مجلس کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں بلکہ مجلس کے انتظامی، مالی اور تنظیمی امور کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ اس منصب کی ذمہ داری اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قیادت محض اختیار کا نام نہیں بلکہ احتساب کا بھی نام ہے۔ مجلس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (تحقیقی و مشاورتی مجالس) اس کے فکری اور عملی بازو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں آئین کی دفعہ 108 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 108 (قانون سازی سے متعلق مجلس)، مالی و انتظامی کمیشن یعنی کمیسیون امور مالی و اداری (مجلسِ مالی و انتظامی امور)، اور آئین کی دفعات 107 اور 109 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 107 و 109 (اہلیتِ قیادت کے جائزے کی مجلس) شامل ہیں۔ ان کمیشنوں کی فعالیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اجتماعی فیصلے جذبات کے بجائے تحقیق اور تدبر سے کیے جاتے ہیں۔
مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کی بنیادی ذمہ داریاں تین اہم امور کے گرد گھومتی ہیں: انتخابِ رہبر (اعلیٰ قائد کا انتخاب)، عزلِ رہبر (قائد کو منصب سے ہٹانے کا اختیار) اور نظارت بر رہبر (قائد کی نگرانی)۔ رہبر کا انتخاب ایک نہایت اہم اور حساس ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے ذریعے ریاست کے اعلیٰ ترین منصب کے لیے ایک ایسے فرد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو علم، تقویٰ اور بصیرت کا حامل ہو۔ اسی طرح آئین کے مطابق اگر رہبر اپنی مقررہ شرائط کھو دے تو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کے عزل کے بارے میں فیصلہ کرے۔ مجلس خبرگان رہبری کے وجہ سے ایران میں اقتدار کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے اسے احتساب کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کا منصب بلند ضرور ہے لیکن قانون اس سے بلند تر ہے، اور سُپریم کمانڈر کے اختیارات وسیع ضرور ہیں لیکن اس منصب کی ذمہ داری اس سے بھی وسیع تر ہے۔
مجلس خبرگان رہبر کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی بھی کرتی ہے، جسے نظارت بر رہبر (قیادت پر نگرانی) کہا جاتا ہے، تاکہ ریاستی نظام اپنی اصل روح کے مطابق چلتا رہے۔ یہاں نگرانی کا عمل کسی مخالفت یا جاسوسی کی علامت کے بجائے استحکام، احتساب اور اعتماد کی ضمانت ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مجلس خبرگان کے نمائندوں کے لیے چند بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں جن میں فقاہت (دینی قانون میں مہارت)، سیاسی و سماجی بصیرت، تقویٰ، دیانت اور اخلاقی شائستگی شامل ہیں۔ ان شرائط کا مقصد یہ ہے کہ اس مجلس میں ایسے افراد شامل ہوں جو علم اور کردار دونوں میں نمایاں ہوں۔ بطورِ خلاصہ اس مجلس کا تعارف یہ ہے کہ اس میں فیصلے کھوکھلی رائے کے بجائے گہری غور و فکر، عمیق بحث و مباحثے اور تدبر سے کئے جاتے ہیں، اس میں اختیار اخلاق سے جڑا ہوتا ہے، اور یہاں قیادت صرف ایک الہی و عوامی امانت ہوتی ہے۔
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
ایران میں سُپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والے ادارے کا مختصر تعارف
ایران میں سب سے طاقتور ادارے کا نام مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) ہے۔ یہ درحقیقت ریاستی قیادت کی نگرانی اور رہنمائی کے لیے ایک علمی و مشاورتی ادارہ ہے۔ اس کی ذمہ داری مختلف کمیشنوں اور انتظامی شعبوں کے ذریعے اپنے فرائض انجام دینا ہے۔ اس کے ارکان عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی ذمہ داری اسلامی نظام میں اعلیٰ ترین قائد (سُپریم لیڈر) یعنی رہبر کا انتخاب کرنا، اس کی شرعی و قانونی شرائط کی نگرانی کرنا اور ضرورت پڑنے پر اسے منصب سے معزول کرنے کا اختیار رکھنا ہے۔ اس ادارے کی بدولت ایران میں قیادت علم سے جنم لیتی ہے اور حکمت سے پروان چڑھتی ہے۔ یہ ادارہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے کہ ریاست کی اعلیٰ قیادت ایسے افراد کے انتخاب کے ذریعے ہونی چاہیئے جو علم اور بصیرت کے حامل ہوں۔ مختصر طور پر کہا جائے تو مجلس خبرگانِ رہبری وہ منتخب آئینی مجلس ہے جو ریاست کی اعلیٰ قیادت کے انتخاب، اس کے احتساب اور اس کی نگرانی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
اس کا تاریخچہ کچھ یوں ہے کہ 10 دسمبر 1982ء کو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کے انتخابات منعقد ہوئے جن میں مجموعی طور پر 83 افراد منتخب ہوئے، اور ان منتخب اراکین نے 15 اگست 1983ء کو اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا۔ یہ مجلس اس سیاسی و فکری روایت کی نمائندہ تھی جس میں اقتدار کو محض قوت کا مظہر سمجھنے کے بجائے ذمہ داری اور امانت سمجھا جاتا ہے۔ اس مجلس کا قیام اس تصور کی عملی تعبیر تھا کہ قیادت عقل، دیانت داری اور بصیرت کی بنیاد پر منتخب ہونی چاہیئے۔ سن 1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور امام خمینی کی قیادت میں اسلامی حکومت کی عوامی قبولیت کے بعد آئین کے معماروں نے طویل غور و فکر کے بعد یہ طے کیا کہ ریاستی ڈھانچے میں ایک ایسا منصب قائم کیا جائے جو مقامِ رہبری (اعلیٰ منصبِ قیادت) کہلائے اور ایک ایسی مجلس تشکیل دی جائے جو اس منصب کے انتخاب اور نگرانی کی ذمہ دار ہو، جسے مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کہا گیا۔
دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مجلس اس نظریے پر تشکیل پائی ہے کہ اقتدار و اختیارات کا ہتھیار اس کے سُپرد کرنا چاہیئے کہ جو علم و حکمت کا امین ہو۔ اسی لئے ایران کے نظامِ حکومت کو سمجھنے والے ماہرین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ مجلس تدبیر کرنے والے، زندہ ضمیر، باشعور، تجربہ کار اور اپنی ذمہ داری نبھانے والوں کی مجلس ہے۔ اس کے مختلف کمیشن اور انتظامی شعبے ماہرین کے زیرِ نگرانی مسلسل سرگرم رہتے ہیں اور ریاستی نظم و نسق کے اہم پہلوؤں پر غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ مجلس ریاست کو ایک زندہ نظام کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کے نزدیک ریاست کے مختلف ادارے اس کے اعضا کی مانند ہوتے ہیں۔ جب ہر عضو اپنا کام دیانت اور مہارت سے انجام دے رہا ہو تو پورا نظام متوازن اور مستحکم رہتا ہے۔
اس مجلس کے ڈھانچے میں بنیادی طور پر دو اہم ستون ہیں: مجلس کی صدارت یعنی ہیئتِ رئیسه (انتظامی قیادت) اور اس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (مجالسِ تحقیق و جائزہ)۔ اس مجلس کے ہر دور کے آغاز میں ایک عارضی صدارت قائم کی جاتی ہے جسے ہیئتِ رئیسهٔ سنی (عارضی عمر کی بنیاد پر منتخب صدارت) کہا جاتا ہے۔ اس میں سب سے معمر رکن صدر بنتا ہے اور دیگر ارکان مجلس کے انتظامی امور سنبھالتے ہیں۔ یہ عارضی صدارت افتتاحی اجلاس کی کارروائی چلاتی ہے اور پھر مستقل صدارت کے انتخاب کا انتظام کرتی ہے۔ اس انتظام میں ایک خاص نظم اور وقار نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے جہاں جہاں قانون کی روشنی ہو وہاں فیصلہ معتبر ہوتا ہے اور جہاں نظم کی فضا ہو وہاں اجتماع مضبوط ہوتا ہے۔
مستقل صدارت جسے ہیئتِ رئیسهٔ دائم (مستقل مجلسِ انتظام) کہا جاتا ہے خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے۔ اس میں ایک صدر، دو نائب صدر، دو منشی اور دو منتظم شامل ہوتے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف مجلس کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں بلکہ مجلس کے انتظامی، مالی اور تنظیمی امور کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ اس منصب کی ذمہ داری اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قیادت محض اختیار کا نام نہیں بلکہ احتساب کا بھی نام ہے۔ مجلس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (تحقیقی و مشاورتی مجالس) اس کے فکری اور عملی بازو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں آئین کی دفعہ 108 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 108 (قانون سازی سے متعلق مجلس)، مالی و انتظامی کمیشن یعنی کمیسیون امور مالی و اداری (مجلسِ مالی و انتظامی امور)، اور آئین کی دفعات 107 اور 109 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 107 و 109 (اہلیتِ قیادت کے جائزے کی مجلس) شامل ہیں۔ ان کمیشنوں کی فعالیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اجتماعی فیصلے جذبات کے بجائے تحقیق اور تدبر سے کیے جاتے ہیں۔
مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کی بنیادی ذمہ داریاں تین اہم امور کے گرد گھومتی ہیں: انتخابِ رہبر (اعلیٰ قائد کا انتخاب)، عزلِ رہبر (قائد کو منصب سے ہٹانے کا اختیار) اور نظارت بر رہبر (قائد کی نگرانی)۔ رہبر کا انتخاب ایک نہایت اہم اور حساس ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے ذریعے ریاست کے اعلیٰ ترین منصب کے لیے ایک ایسے فرد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو علم، تقویٰ اور بصیرت کا حامل ہو۔ اسی طرح آئین کے مطابق اگر رہبر اپنی مقررہ شرائط کھو دے تو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کے عزل کے بارے میں فیصلہ کرے۔ مجلس خبرگان رہبری کے وجہ سے ایران میں اقتدار کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے اسے احتساب کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کا منصب بلند ضرور ہے لیکن قانون اس سے بلند تر ہے، اور سُپریم کمانڈر کے اختیارات وسیع ضرور ہیں لیکن اس منصب کی ذمہ داری اس سے بھی وسیع تر ہے۔
مجلس خبرگان رہبر کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی بھی کرتی ہے، جسے نظارت بر رہبر (قیادت پر نگرانی) کہا جاتا ہے، تاکہ ریاستی نظام اپنی اصل روح کے مطابق چلتا رہے۔ یہاں نگرانی کا عمل کسی مخالفت یا جاسوسی کی علامت کے بجائے استحکام، احتساب اور اعتماد کی ضمانت ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مجلس خبرگان کے نمائندوں کے لیے چند بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں جن میں فقاہت (دینی قانون میں مہارت)، سیاسی و سماجی بصیرت، تقویٰ، دیانت اور اخلاقی شائستگی شامل ہیں۔ ان شرائط کا مقصد یہ ہے کہ اس مجلس میں ایسے افراد شامل ہوں جو علم اور کردار دونوں میں نمایاں ہوں۔ بطورِ خلاصہ اس مجلس کا تعارف یہ ہے کہ اس میں فیصلے کھوکھلی رائے کے بجائے گہری غور و فکر، عمیق بحث و مباحثے اور تدبر سے کئے جاتے ہیں، اس میں اختیار اخلاق سے جڑا ہوتا ہے، اور یہاں قیادت صرف ایک الہی و عوامی امانت ہوتی ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی منتخب
شہید آیت اللّٰہ سید علی حسینی خامنہ ای کے فرزند آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو نیا ولی فقیہہ نامزد کردیا گیا۔ ایران کی مجلس خبرگان نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان نے ایرانی عوام سے نئے رہبر انقلاب اسلامی سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی مجلس خبرگان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے۔
اسلامی انقلاب کا نیا رہبر مجلس خبرگان رہبری کے ذریعہ مقرر اور متعارف کرا دیا گیا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی ایران کی شریف اور آزاد قوم! خدا کا سلام اور درود تم پر ہو۔
مجلس خبرگان رہبری، عظیم الشان قائد حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی شہادت، دیگر گرانقدر شہداء خصوصاً مسلح افواج کے عالی مرتبت اور جان نثار کمانڈروں اور شہر میناب کے مدرسہ شجرہ طیبہ کے طلباء کی شہادت کی تسلیت پیش کرتے ہوئے اور جنگی مجرم امریکہ اور خبیث صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے، ملتِ شریف ایران کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ اس مجلس نے، انقلابی اسلامی کے دانشور اور حکیم رہبر کی شہادت اور ملکوتی عروج کی خبر پھیلنے کے فوری بعد، شدید جنگی حالات اور اس عوامی ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہ راست دھمکیوں اور مجلس خبرگان رہبری کے سیکرٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے باوجود جس کے نتیجے میں اس مجموعے کے چند ملازمین اور سیکیورٹی ٹیم شہید ہو گئے، نظام اسلامی کے رہبر کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کی اور آئین اور مجلس خبرگان کے داخلی ضابطہ اخلاق میں درج اپنے فرائض کے مطابق، غیر معمولی اجلاس منعقد کرنے اور نئے رہبر کے تعارف کے لیے ضروری تدابیر اور انتظامات کو اپنے کام میں شامل کر لیا،
چنانچہ اس مجلس کے معزز اراکین جو ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں، ان کے اجتماع کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور ضروری ہم آہنگی کی گئی تاکہ آئین کے آرٹیکل 111 میں عارضی کونسل کے قیام کے لیے دانشمندانہ پیش بینی کے باوجود، ملک قیادت کے خلا کا شکار نہ ہو۔
مجلس خبرگان رہبری، عصر غیبت حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) میں ولایت فقیه کے بلند مرتبے اور جمہوری اسلامی نظام میں قیادت کی اہمیت کا احترام کرتے ہوئے، امامین انقلاب کی 47 سالہ حکیمانہ اور عزت، استقلال اور اقتدار کے اصول پر مبنی حکمرانی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ان الہی اور عوامی رہنماؤں کی یاد کو تعظیم دیتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ اس مجلس نے، دقیق اور وسیع جائزوں اور آئین کے آرٹیکل 108 کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کے بعد، اپنے شرعی فریضے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے اعتقاد کے مطابق، آج کے غیر معمولی اجلاس میں مجلس خبرگان رہبری کے معزز اراکین کے قاطع ووٹ کی بنیاد پر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کو مقدس نظام جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر مقرر اور متعارف کراتی ہے۔
آخر میں، آئین کے آرٹیکل 111 کی عارضی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، تمام شریف ایرانی قوم خصوصاً حوزہ و یونیورسٹی کے نخبگان و دانشوران کو رہبر کی بیعت اور ولایت کے محور کے گرد اتحاد برقرار رکھنے کی دعوت دیتی ہے اور اس ملک اور عظیم قوم پر رب العالمین کے فضل و عنایت کے تسلسل کی بارگاہ الٰہی میں دعا گو ہے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مجلس خبرگان رہبری
18 مارچ 2026ء
☫ مجلس خبرگان رہبری کا سیکرٹریٹ
25 کروڑ عوام مشکل وقت میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، لیاقت بلوچ
شیعہ نیوز: جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ خطے میں جنگی حالات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے کے بعد جنگ خطے کے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان کے 25 کروڑ عوام مشکل وقت میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے رجیم چینج کے مقصد سے ایران پر حملہ کیا اور وہاں مسلسل بمباری کر کے عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی خودمختاری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور امن کے قیام کے لیے مسلم ممالک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان پر حملے آج بھی جاری ہیں۔ تاہم پاکستان، ایران اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومتیں قیام امن میں ناکام ہو چکی ہیں اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث عوام شدید پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے شکوے ہیں اور وہ احساس محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے، کیونکہ اس معاملے کی وجہ سے عوام خصوصاً نوجوانوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں میں بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، جبکہ قومی شاہراہوں کی تعمیر سمیت بنیادی مسائل پر بھی توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی بنیادوں پر نکالا جانا چاہیے، کیونکہ گولی اور بندوق کے زور پر عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے قومی کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی جدوجہد کا مقصد صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے
ایران نے اب تک 82 امریکی و اسرائیلی ڈرونز تباہ کر دیئے
شیعہ نیوز: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 حملہ آور ڈرون مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کے مربوط دفاعی نیٹ ورک کے ذریعے تباہ کر دیے گئے۔ تسنیم کے مطابق، ایرانی فوج نے اعلامیہ نمبر 16 میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جدید ڈرونز کی مختلف اقسام، جن میں MQ-9 Reaper، Hermes drone اور Orbiter drone شامل ہیں، کو مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کے مربوط نیٹ ورک نے تباہ کر دیا۔ اعلامیے کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 13 جدید ڈرون ایرانی فوج اور سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کے زمینی دستوں اور فضائی دفاعی نظام کے میزائل اور توپخانے کے ذریعے، جو ملکی مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کی کمان میں کام کر رہے ہیں، شمال مغرب، مغرب، جنوب، اصفہان، کرمان اور تہران کے علاقوں میں نشانہ بنا کر گرائے گئے۔ اسی اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صہیونی دشمن کی جارحیت کے آغاز سے اب تک ایرانی فوج اور سپاہ کے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے گرائے گئے ڈرونز کی تعداد 82 تک پہنچ چکی ہے۔
ہم نہیں سمجھتے تھے کہ ایرانی میزائل اس حد تک ترقی یافتہ ہیں، پینٹاگون سابق مشیر
پینٹاگون کے سابق مشیر ڈوگلاس میک گریگر نے کہا: ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی امریکی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ ایرانی میزائل جدید دفاعی سسٹمز کو عبور کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ اسرائیل کا آئرن ڈوم میزائل سسٹم اچھی طرح سے ناکام ہوچکا ہے۔ اگرچہ امریکہ اسرائیل کی دفاعی مدد کے لیے میزائل چلاتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایرانیوں نے میزائل ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ ترقی کی ہے جس سے ہم ناواقف تھے۔
میک گریگر نے کہا کہ ایرانی ہمیں ڈمی وار ہیڈز کے ساتھ الجھ سکتے ہیں اور اصل میزائل، جو زیادہ خطرناک ہے، ہمارے دفاعی سسٹم کو تباہ کر سکتا ہے۔ میزائل ٹریکنگ کا عمل اچھا نہیں چل رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی میڈیا ہمیشہ کی طرح امریکی اور اسرائیل کی فوجی کارکردگی کی بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دنیا والے اس پر یقین نہیں کریں گے۔
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر سپاہ پاسداران کا حملہ
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق آج صبح ایک آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت سے متعلق بار بار جاری کی گئی تنبیہات کو نظر انداز کیا۔
بیان کے مطابق سپاہ کی بحریہ نے پہلے متعدد وارننگ جاری کیں اور اس تنگ گزرگاہ کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے آمد و رفت سے منع کیا تھا، تاہم ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد ٹینکر کو ایک خودکش ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ پاسداران نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز مکمل کنٹرول میں ہے اور گزشتہ آٹھ دنوں سے یہاں سخت نگرانی جاری ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں امریکی کارروائیوں اور حملوں کے بعد کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایسے آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو دشمن ممالک کے اتحادی ہیں۔
انقلابِ اسلامی اور اسلامی جمہوریہ کے استحکام میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کا کردار
انقلابِ ایران بیسویں صدی کا وہ عظیم سیاسی و روحانی واقعہ تھا جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا رخ بدلا بلکہ استعماری نظامِ فکر کے مقابل ایک نئے نظریاتی ماڈل کو بھی جنم دیا۔ اس انقلاب کی فکری بنیادیں تو امام خمینیؒ کی قیادت میں استوار ہوئیں مگر اس انقلاب کی بقا، استحکام اور تدریجی ارتقا میں جن شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا، ان میں نمایاں نام شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ہی شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد سے کیا۔ جوانی کے ایام میں وہ نہ صرف فکری محاذ پر سرگرم رہے بلکہ جیلوں اور جلاوطنی کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
ان کی شخصیت میں انقلابی جوش، دینی بصیرت اور سیاسی حکمت کا ایسا حسین امتزاج تھا جس نے انہیں انقلاب کے فعال سپاہیوں میں شامل کر دیا۔ ان کی قربت اور فکری ہم آہنگی انہیں امامِ انقلاب، آیت اللہ روح اللہ خمینی کے نزدیک لے آئی اور یہی نسبت بعد ازاں ان کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کا سبب بنی۔ انقلاب کے بعد جب ایران ایک نئے سیاسی و سماجی تجربے سے گزر رہا تھا، اس وقت داخلی انتشار، بیرونی سازشوں اور جنگی دباؤ نے اسلامی نظام کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
ایسے نازک مرحلے پر آیت اللہ خامنہ ای نے مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں، خواہ وہ وزارتِ دفاع کے میدان میں رہنمائی ہو یا خطیبانہ اسلوب میں قوم کی فکری تربیت۔ انہوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے انقلاب کے اصول،استقلال، آزادی اور اسلامی حاکمیت کا ایک ایسا فکری بیانیہ عطا کیا گیا جس نے نوجوان نسل کو نظریاتی استقامت فراہم کی۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ انقلاب کے لیے سب سے بڑا امتحان تھی۔ اس جنگ میں آیت اللہ خامنہ ای نے محض ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک مجاہدِ فکر و عمل کے طور پر کردار ادا کیا۔ ان کی موجودگی محاذِ جنگ پر سپاہیوں کے لیے حوصلے کا سرچشمہ تھی اور ان کے خطابات میں صبر، ایثار اور شہادت کی روح کو تازگی ملتی رہی۔
یہی وہ زمانہ تھا جب انہوں نے “مقاومت” کو ایک نظریہ بنا کر پیش کیا، جو بعد ازاں ایران کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں کا بنیادی ستون بن گیا۔ امام خمینیؒ کے وصال کے بعد جب قیادت کا حساس مرحلہ آیا تو آیت اللہ خامنہ ای کو نظامِ ولایتِ فقیہ کا امین منتخب کیا گیا۔ بطور رہبرِ انقلاب انہوں نے نہایت حکمت کے ساتھ ریاستی اداروں کو متوازن رکھا، نظریاتی خطوط کو محفوظ کیا اور نظام کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ ان کی قیادت کا بنیادی وصف یہ رہا کہ انہوں نے انقلاب کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک مسلسل جاری عمل میں تبدیل کر دیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے “ثقافتی خودکفالت”، “اقتصادی مزاحمت” اور “علمی پیش رفت” جیسے تصورات کو فروغ دیا۔
شہید رہبر معظم کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا علمی و ادبی ذوق بھی تھا۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ مفکر اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تحریروں اور تقاریر میں اسلامی تہذیب کی گہرائی، فارسی ادب کی لطافت اور معاصر سیاسی شعور کی پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ انقلاب کی اصل حفاظت اس کے فکری اور تہذیبی محاذ پر ہوتی ہے نہ کہ صرف عسکری قوت سے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تعلیم، میڈیا اور ثقافت کو انقلاب کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا۔
ان کی قیادت میں ایران نے خود کو ایک مزاحمتی قوت کے طور پر پیش کیا جو عالمی استکبار کے سامنے جھکنے کے بجائے خود انحصاری اور نظریاتی استقامت کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کے بیانات میں “امتِ مسلمہ کی وحدت” اور “مظلوم اقوام کی حمایت” ایک مستقل موضوع کے طور پر موجود رہی ہے۔ یوں وہ نہ صرف ایران بلکہ عالمِ اسلام میں ایک فکری رہنما کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ اگر انقلابِ ایران ایک درخت ہے تو امام خمینیؒ نے اس کا بیج بویا اور آیت اللہ خامنہ ای نے اسے مسلسل آبیاری، نگہبانی اور طوفانوں سے حفاظت کے ذریعے تناور درخت میں بدلنے کی کوشش کی۔
ان کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران نے نظریاتی بقا، سیاسی استحکام اور عالمی سطح پر خودمختار شناخت کو برقرار رکھا۔ اس طرح آیت اللہ خامنہ ای کا کردار محض ایک سیاسی رہبر کا نہیں بلکہ ایک ایسے فکری معمار کا ہے جس نے انقلاب کی روح کو زمانے کے تغیرات کے باوجود زندہ رکھا اور اسے ایک مستقل و پائدار نظام میں ڈھال دیا۔ یہی ان کی سب سے بڑی خدمت ہے کہ انہوں نے انقلاب کو ماضی کی یادگار نہیں بلکہ حال کا شعور اور مستقبل کی امید بنا دیا۔
تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
خامنہ ای کا خدا زندہ ہے
میں آج یہ تحریر اشک بار آنکھوں کے ساتھ لکھ رہا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح کے الفاظ کا چنائو کروں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری دنیا اجڑ چکی ہے۔ زندگی جینے کا مزہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ ایک کے بعد ایک شہادت جس میں شہید اسماعیل ہانیہ ہوں، شہید یحٰی سنوار ہوں، شہید حسن نصر اللہ ہوں اور شہید ہاشم صفی الدین کے ساتھ ابو عبیدہ اور ابو حمزہ جیسے دیگر درجنوں سیکڑوں شہیدوں کی شہادت گذشتہ ڈھائی سال میں ہو چکی ہے اور اب ان تمام شہیدوں کے امام یعنی امام شہیدان حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو چکے ہیں۔ دل اور دماغ دونوں ہی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن یہ ایک کڑوی اور تلخ حقیت ہے جسے قبول کرنا ہوگا۔
آیت اللہ خامنہ ای 86 سال کی عمر میں شہید ہوئے، انہوں نے پوری زندگی اسلام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں باہمی اتحاد اور تعاون کو فروغ دینے کی بیش بہا کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ جب ان کے دفتر پر امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا تو وہ اس وقت بھی اپنے دفتری کاموں میں مصروف تھے۔ وہ زمین پر ولی اللہ تھے۔ وہ ہمیشہ شہادت کے طلبگار تھے۔ وہ صرف ایران کے رہنما یا رہبر نہیں بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے اور ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ان تمام حریت پسندوں کے آئیڈیل تھے جو دنیا میں ظلم کے خاتمہ کی جدوجہد میں کسی نہ کسی طرح شامل ہیں۔ وہ مظلوموں کی امیدوں کا محور تھے۔ وہ فلسطین کی آزادی کے علمبردار تھے۔ انہوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ چاہے وہ زندہ ہو ں یا نہ ہوں آپ لوگ قدس کو آزاد دیکھیں گے اور قدس میں نماز ادا کریں گے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا درد ہمیشہ ہمارے دل میں رہے گا۔ دنیا میں آنے والی نسلیں ہمیشہ آیت اللہ خامنہ ای کی سیرت سے درس حاصل کریں گی۔ لیکن یہ فراق ہم جیسوں سے قابل برداشت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ان کے عاشق ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہیں ۔لیکن یہ کیفیت ہمیں کسی مایوسی کی طرف نہ لے جائے۔ خبردار ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای دنیا کے بہترین اور شریف النفس انسان تھے جس کو دنیا کے بد ترین او ذلیل النفس ٹرمپ نے قتل کیا۔ یہ ٹھیک اسی طرح ہے جیسے سنہ 61 ہجری کی کربلا میں اس وقت دنیا کا بہترین اور شریف النفس انسان امام حسین (ع) دنیا کے بد ترین اور ذلیل النفس یزید اور اس کے حواریوں کے نرغہ میں قتل ہوا تھا۔ یہی امام خامنہ ای کے شایان شان ہے کہ امام حسین (ع) کی طرح دور حاضر کی کربلا میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ شہادت پائیں اور اللہ نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا ہے۔
جب غم سینہ پھاڑ کر نکلتا ہے تو آنکھوں سے بے تحاشہ اشک بھی نکل آتے ہیں، یہ درد آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے لیکن اس درد میں جو بات ہمیں سہارا دیتی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ احد میں جب کفار و مشرکین نے پیغمبر اکرم (ص) کے بارے میں جھوٹی خبر پھیلائی تھی تو قرآن مجید میں سورۃ آل عمران آیت 144 میں اللہ نے فرمایا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر رسول بھی چلے جائیں تو رسول کا خدا تو زندہ ہے۔
آج ہم امام خامنہ ای کی شہادت پر سوگوار تو ہیں اور غمزدہ بھی ہیں لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ جس خدا نے خامنہ ای کو خامنہ ای بنایا یعنی خامنہ ای کا خدا آج بھی زندہ ہے، باقی ہے، دین اسلام باقی ہے، معرکہ حق و باطل باقی ہے۔ جب تک معرکہ حق و باطل باقی ہے تو ہم بھی باقی ہیں۔ پس یہ جملہ کہ جس میں ہم کہتے ہیں کہ خامنہ ای کا خدا زندہ ہے یقینی طور پر دنیا کے مظلوموں کو ایک ڈھارس دیتا ہے اور یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اپنے کام کو جاری رکھیں، مشن سے کوتاہی نہ کریں، سستی نہ کریں، آپس میں اتحاد کو قائم رکھیں، دشمن کا ہر محاذ پر مقابلہ کریں جیسے ہمارے امام خامنہ ای نے کیا ہے۔
یقین رکھیں خامنہ ای کا خدا زندہ ہے، یہ صرف ایک جملہ نہیں، یہ ایک یقین ہے۔ یہ اعلان ہے کہ حق کا رب زندہ ہے، عدل کا رب زندہ ہے، مظلوموں کا سہارا زندہ ہے۔ جب دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اسلحہ خانوں اور میڈیا کی یلغار پر غرور کرتی ہیں، تب اہلِ ایمان یہ کہتے ہیں: خدا زندہ ہے اور جب خدا زندہ ہے تو امید بھی زندہ ہے، فتح بھی زندہ ہے، اور کامیابی بھی یقینی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جدوجہد کا مرکز یہی یقین ہے کہ طاقت کا سرچشمہ ٹینک اور طیارے نہیں بلکہ ایمان، صبر اور استقامت ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی باطل نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا، اسی لمحے اس کے زوال کا آغاز ہوا۔ فرعونوں کی سلطنتیں ہوں یا جدید استعمار کی قوتیں سب کو وقت نے مٹا دیا، کیونکہ خدا کا قانون اٹل ہے: ظلم باقی نہیں رہتا۔
آج اگر امریکہ اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل اپنی عسکری طاقت پر نازاں ہیں، تو انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ طاقت کا غرور سب سے بڑی کمزوری ہوتا ہے۔ جو قومیں انصاف کو پامال کرتی ہیں، معصوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتی ہیں اور اقوامِ عالم کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ ظاہری طاقت کے باوجود اخلاقی شکست سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔ حق کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کی مائیں اکیلی نہیں، غزہ کے بچے بے سہارا نہیں ہیں اور حریت کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ ہر آنسو جو مظلوم کی آنکھ سے گرتا ہے، وہ خدا کی عدالت میں گواہی بنتا ہے اور خدا کی عدالت میں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔
یہ یقین ہمیں سکھاتا ہے کہ مایوسی کفر کے قریب لے جاتی ہے اور امید ایمان کی روح ہے۔ جب اہلِ حق استقامت دکھاتے ہیں تو دشمن کی صفوں میں خوف اترتا ہے۔ آج دنیا بھر میں بیداری کی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ باطل کے بیانیے کمزور ہو رہے ہیں اور حق کی آواز مضبوط ہو رہی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب طاقتور سمجھنے والے کمزور ہو رہے ہیں اور مظلوم سمجھے جانے والے تاریخ کا رخ موڑ رہے ہیں۔ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی بنیاد جبر اور استحصال پر ہے، اور جبر کی بنیادیں ہمیشہ کمزور ہوتی ہیں۔ ان کی ناکامیاں ان کے اپنے فیصلوں، داخلی اختلافات اور اخلاقی دیوالیہ پن سے جنم لے رہی ہیں۔ دنیا کی رائے عامہ بدل رہی ہے، نوجوان نسل سوال اٹھا رہی ہے، اور حق کی حمایت عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے۔ جی ہاں ہمیں یقین ہے کہ خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔ وہ خامنہ ای کا خدا جو شکست نہیں کھاتا، وہ خامنہ ای کا خدا جومظلوموں کو تنہا نہیں چھوڑتا، وہ خامنہ ای کا خدا جو حق کو غالب کرے گا، جی ہاں خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
وہ خدا جس نے اصحابِ فیل کو نابود کیا، اصحابِ پیڈوفائل کو بھی مٹا دے گا
.png)





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
