
سلیمانی
رہبر انقلاب اسلامی ایران: امریکہ ایران میں ناکام ہو چکا ہے اور اب تلافی کرنے کی کوشش کر رہا ہے
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بدھ 8 جنوری کو قم میں ہزاروں افراد کے ساتھ ایک ملاقات میں پہلوی دور میں ایران کو امریکی مفادات کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انقلاب کا سرچشمہ اس قلعہ کے دل سے پھوٹا اور امریکیوں کو سمجھ نہیں آئی، امریکی دھوکہ کھا گئے، وہ سوئے رہے، غافل رہے، امریکیوں کی یہ حسابی غلطی ہے۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس کے بعد سے لے کر آج تک ان چند دہائیوں کے دوران امریکیوں نے ایران کے مسئلہ میں اکثر غلطیاں کی ہیں اور غلط اندازے لگائے ہیں، انہوں نے تاکید کی کہ میری اس بات کے مخاطب زیادہ تر وہ سامعین ہیں جو امریکی پالیسیوں سے مرعوب ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن کی پروپیگنڈہ میڈیا وار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا پروپیگنڈہ کا کام جھوٹ بولنا اور حقیقت اور رائے عامہ کے افکار کے درمیان فاصلہ رکھنا ہے۔ آپ مضبوط ہو رہے ہوں، وہ شور کرتا ہے، آپ کمزور ہو رہے ہیں، وہ کمزور ہو رہا ہے، مگر پبلسٹی کرتا ہے کہ وہ مضبوط ہو رہا ہے۔ تم ناقابل تسخیر ہو جاؤ، وہ کہتا ہے میں تمہیں دھمکیاں دے کر تباہ کر دوں گا! یہ پروپیگنڈہ ہے جس سے کچھ لوگ متاثر ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے تبلیغی اور ثقافتی اداروں، براڈکاسٹنگ منسٹری (ریڈیو و ٹیلیوژن) اور سائبر اسپیس ورکرز کا بنیادی اور اہم کام دشمن کی حاکمیت کے جھوٹے بھرم کے راز فاش کرنا ہے، اسے توڑنا ہے، دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنانا ہے تاکہ وہ رائے عامہ پر اثرانداز نہ ہوسکیں، یہ وہ کام ہے جو اسوقت قم والوں نے کیا تھا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ امریکہ کے ساتھ نہ مذاکرات پر آمادہ ہیں اور نہ ہی بات چیت پر تیار ہیں، یورپی ممالک بھی امریکہ کی طرح ہیں، کیا فرق ہے؟ آپ نے ان سے تعلق کیوں رکھا، جیسا کہ ان کے سفارت خانہ ہیں، امریکہ کا بھی سفارت خانہ رکھنا چاہیے، بالکل نہیں! فرق یہ ہے کہ یہاں امریکہ نے قبضہ کیا تھا، اسے اس کے تسلط سے نکالا گیا، اس کی ایران اور انقلاب سے نفرت "کینہ شتری" (اونٹ کا کینہ) جیسی نفرت ہے، وہ آسانی سے ہار نہیں مانے گا، امریکہ یورپی ممالک سے مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں یورپی ممالک ایرانی عوام کے وفادار دوست نہیں ہیں، لیکن یہ اس سے بہت مختلف ہے، امریکہ نے اسلامی انقلاب کے ساتھ ایک بہت بڑی دولت، ایک بہت بڑا سیاسی اور اقتصادی خزانہ کھو دیا ہے اور پھر اس نے ان چالیس سال میں ایران کو اسلامی انقلاب سے چھڑانے اور دوبارہ اپنے کنٹرول میں لانے میں بہت محنت کی مگر ناکام رہا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی بغض ایک دوسرے ممالک کی رنجش سے مختلف بلکہ بہت مختلف ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے درمیان فرق کرنے کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ایران میں ناکام ہو چکا ہے، اور وہ اس ناکامی کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے وہ ہر طرح سے دشمنی کر رہا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ پالیسیوں میں، مثال کے طور پر، ملکی معیشت کی %8 نمو (پیش گوئی) ہے، تو بعض لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے! لیکن صدر ایران ایگزیبیشن آف اکنامک ایکٹیوسٹ میں گئے، وہاں ماہرین نے نہ صرف کہا بلکہ ثابت کیا کہ ہم بیرونی ممالک کے بغیر 8٪ فیصد ترقی دے سکتے ہیں۔ اور صدر نے انکی ہی بات دہرائی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ثقافتی اور اقتصادی مسائل، افراط زر، پیداوار، کرنسی کے مسائل اور حجاب کے مسائل کے بارے میں فیصلہ کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ امریکی مطالبات اور امریکی موقف کو اہمیت دیں اور نہ ہی صیہونیوں کے موقف پر کان دھریں، وہ صرف ملکی مفادات اور اسلامی جمہوریہ بنانے کے مفادات کا خیال رکھیں۔
انہوں نے صیہونی حکومت کے بارے میں صدر ایران کے دو ٹوک موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے صیہونی حکومت کے بارے میں ہمارے محترم صدر کے بے باک اور جرأت مندانہ موقف نے عوام کو خوش کیا، انہوں نے صیہونی حکومت اور امریکہ کی حرکات و سکنات دونوں کے بارے میں واضح اور فیصلہ کن موقف اختیار کیا جو بہت اچھا ہے۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے، اس معاملے میں ملکی حکام کو ہوشیار رہنا چاہیے کہ وہ ان لوگوں کے مطالبات کو تسلیم نہ کریں جو ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ کے دشمن ہیں اور ایران کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے دنیا کے کسی بھی خطے میں صیہونی ظلم کے خلاف مزاحمت پر ایران کی حمایت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت زندہ ہے اور نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ روز بروز مضبوط ہوگی، اور ہم مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں، غزہ میں مزاحمت، مغربی کنارے کی مزاحمت، لبنان میں مزاحمت، یمن میں مزاحمت، ہر اس جگہ جہاں خبیث صیہونی حکومت کی بدنیتی پر مبنی ظلم پر مزاحمت ہوگی، ہم اس کی حمایت کریں گے۔
شناخت ماه رجب
رجب، قمری کیلنڈر کا ساتواں مہینہ اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، جس میں جنگ و خونریزی ممنوع ہے۔ یہ مہینہ کئی اہم واقعات کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے، جیسے بعثتِ رسول اکرم ﷺ اور حضرت علی علیہ السلام کی ولادت۔ اسلامی کیلنڈر میں اسے خاص مقام حاصل ہے۔ لفظ "رجب" عربی لفظ "ر ج ب" سے نکلا ہے، جس کے معنی "عزت دی گئی" اور "بزرگی والا" ہیں۔ اس نام کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ قدیم زمانے سے عرب اس مہینے کو عزت و احترام دیتے اور اس میں جنگ سے پرہیز کرتے تھے۔ رجب کے دیگر نام بھی ہیں، جیسے رجب الفرد، رجب المضَر، رجب الاصم، رجب المرجب، رجب الحرام، منصل الأسنة، اور منصل الألّ۔ ان میں سے ہر نام اس مہینے کی کسی خاص خصوصیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ مثلاً، رجب الفرد اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ دیگر حرمت والے مہینوں (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، اور محرم) سے الگ ہے، اور رجب المضَر اس لیے کہ قبیلہ مُضَر اسے خصوصی احترام دیتا تھا۔
رجب حرمت والے مہینوں میں شامل ہے لیکن یہ دیگر حرمت والے مہینوں سے الگ واقع ہوتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں سال کا آغاز رجب سے ہوتا تھا، اور کبیسہ مہینہ جمادی الآخرہ کے بعد اور رجب سے پہلے ہوتا تھا۔ جاہلی دور میں عربوں کے ہاں رجب کو بہت زیادہ عزت دی جاتی تھی۔ اس مہینے میں جنگ، خونریزی، قتل، لوٹ مار، اور حملے حرام سمجھے جاتے تھے۔ رجب کے دوران کئی موسمی بازار بھی لگتے تھے، جیسے صحار کا بازار جو رجب کی پہلی تاریخ کو شروع ہوتا تھا، اور دَبا کا بازار جو آخر ماہ تک جاری رہتا تھا۔ اسلام کے ظہور کے بعد اس مہینے کی اہمیت میں اضافہ ہوا اور اس کی مذہبی حیثیت کو مزید تقدس ملا۔
جامع مسجد قيروان
جامع مسجد قیروان ایک بڑی مسجد ہے جسے مسجد عقبہ بن نافع بھی کہا جاتا ہے، عقبہ کے نام سے منسوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس مسجد کی بنیاد رکھنے والا اسلامی سپاہ سالار اور فاتح عقبہ تھا، جس کا اصل نام عقبہ بن نافع بن عبدالقیس اموی فہری تھا۔ اس نے تیونس کو فتح کرنے کے بعد سنہ ۸۰ ہجری میں اس مسجد کی بنیاد رکھی اس طرح ۶۷۰ عیسوی میں شہرِ قیروان میں یہ مسجد مکمل ہوئی۔اور یوں یہ مقام مغربی عرب میں قدیمی درسگاہ بن گیا۔ اس مسجد کا مینارہ اب تک کا سب سے قدیم مذہبی مینارہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے عام طور پر تیونسی اور دیگر عرب، اسلامی تہواروں کو نہایت عقیدت اور جوش وجزبے کے ساتھ اسی جامع مسجد میں مناتے ہیں، جیسے رمضان المبارک کی شب ہائے نزول قرآن، وقدر کی محفلیں، ختم قرآن کی محافل اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے کیئے جانے والے پروگرامز بھی اسی میں منعقد کیئے جاتے ہیں۔ یہ مسجد تیونس کی اہم اور بڑی مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اس مسجد کا مجموعی تعمیر شدہ رقبہ ۹۷۰۰ مربع میٹر پر محیط ہے اور یہ لمبائی میں ۱۲۶ میٹر اور چواڑائی میں ۷۷ میٹر ہے، اسی طرح نماز پڑھنے کی جگہ بھی بہت وسیع وعریض ہے، اس میں سنگ مرمر سے بنے ہوئے دسیوں خوبصورت ستون بھی ہیں، اس میں ایک بڑا قبہ بھی موجود ہے جو محراب کے بالمقابل ہے اسی قبہ کے مقابل میں ایک اور قبہ بھی موجود ہے ۔ اس مسجد میں ایک وسیع وعریض صحن بھی موجود ہے، جو نہایت ہی خوبصورت ہے اوراس کے ارد گرد دلکش کوریڈورزہیں جو اس صحن کی خوبصورتی کو دوبالا کرتے ہیں، جس میں مختلف ادوار وجود میں آنے والی انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے مشاہر کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ فن تعمیر کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے، اس کے ساتھ ہی یہ اپنی خوبصورتی کے اعتبار سےاسلامی دنیامیں ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مسجد عالم اسلام کی بہت پرانی مساجد اورمآذن میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کی تین منزلین ہیں، اور ان کی اونچائی (31.5) میٹر ہے۔ مسجد کا منبر اسلامی دنیا کا قدیم ترین اور نادر ترین منبر ہے، یہ ایک مضبوط لکڑی (ٹیک کی لکڑی) سے نہایت عمدہ طریقہ اپناتے ہوئے بنایا گیا ہے،جو فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اسے تیسری صدی ہجری یعنی نویں صدی عیسوی میں بنایا گیا۔
اس مسجد میں ایک پرانی زیارت گاہ (مقبرہ) بھی ہے جس کی تاریخ پانچویں صدی ہجری (گیارہویں میلادی) بتائی جاتی ہے ۔
فتوحات اور جہادمیں مصروف ہونے کی وجہ سے اس مسجد کی تعمیر میں پانچ سال لگے، اس کی ابتدائی عمارت انگور سے بنی ہوئی سائبان کی طرح تھی اور اس کے کالم کھجور کے درختوں کے تنوں سے بنے ہوئے تھے ،
ابتداء میں اس مسجد کو مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرز پر تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا، لیکن بعد میں اس میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے پرانی صورت کو محفوظ ررکھنے کی کوشش کی گئی ، لیکن ہشام بن عبدالملک نے مسجد کی شمالی دیوار کے وسط میں ایک خوبصورت مینار تعمیر کروایا، اور یزید بن حاتم نے 348 ء میں مسجد کو مینار اور اس کی محراب سمیت مکمل طور پر منہدم کردیا ، تاکہ اس شکل کو دوبارہ تعمیر کیا جاسکے۔ چنانچہ اس وقت جو شکل موجود ہے وہ ہشام کی تعمیر کردہ مسجد ہی ہے۔
پھر زیادۃ اللہ ا بن الاغلب نے اس کی محراب کو منہدم کرکے بعد میں اس میں تبدیلیاں کیں کیونکہ یہ قبلہ سے تھوڑا سا ہٹ گئی تھی، اور دیوار نے امام جماعت کی جانب واقع جگہ کو مکمل ڈھانپ لیا ہے اور مقتدین امام جماعت کو دیکھنے سے قاصر تھے۔ اس نے صحیح قبلہ کی سمت میں سفید سنگ مرمر سے نیا محراب تعمیر کروایا گیا، اور اس کی چھت کو اونچا کرکے ایک گنبد بھی بنایا گیا۔
محقیقین، طلباء، اور ناظرین اس عظیم درسگاہ کی پرشکوہ اور شاندار عمارت کی خوبصورتی کو دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔قیروان کو مسلمانوں کی فتح کے بعد بنائی ہوئی تہذیبوں میں سے بصرہ، کوفہ (عراق)، اور فسطاط (مصر) کے بعد چوتھی اہم تہذیب شمار کیا جاتا ہے۔ اور اس کی تعمیر کی جگہ کو اس کے فاتح عقبہ ابن نافیع کا ایک زبردست انتخاب سمجھا جاتا ہے، جسے بحیرہ روم کے ساحل سے دور صحراء کی جانب اس لیے بنایا گیا تاکہ اسے اس وقت کی بازنطینی فوج کے بحری حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
فیمنزم کا طوفان اور پس پردہ عوامل! از رہبر انقلاب
عورت کی آزادی کے پیچھے خطرناک محرکات!
عورت کے سلسلے میں اس وقت دنیا میں جو ہنگامہ بپا ہے، فیمینزم یا تانیثیت کا مسئلہ، عورت کے حقوق کا مسئلہ، خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کا مسئلہ، یہ سب ظاہری پہلو ہیں، ان کے پیچھے بہت سی پالیسیاں ہیں، خطرناک محرکات ہیں۔
عورت کی مالی خودمختاری اور اسکی حقیقت!
انھوں(مغرب) نے عورت کی آزادی اور عورت کی مالی خود مختاری کی بات اٹھائی کہ عورت مالی اعتبار سے خود مختار ہونی چاہیے یا اسے آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ اس کا ظاہر تو اچھا تھا لیکن اس کا باطن کیا تھا؟ اس کا باطن یہ تھا کہ ان کے کارخانوں کو مزدور کی ضرورت تھی، مرد مزدور کافی نہیں تھے، وہ عورتوں کو مزدوری کے لیے لانا چاہتے تھے اور وہ بھی مردوں سے کم اجرت پر، یہ اس کی حقیقت تھی۔
حقوقِ نسواں اور ہماری زمہ داری!
ہم مسلمان کی حیثیت سے، ہمیں “عورت” کے مسئلے میں بولنا چاہیے، بات کرنی چاہیے، اپنی رائے اور منطق پیش کرنا چاہیے، اپنے درمیان اس منطق کو رائج کرنا اور اس منطق کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے اور آج یہ کام انجام پانا چاہیے۔
عہد زندگی ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای
اضطراب کے عوامل
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب طاعون جیسی وبائی بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں تو زیادہ تر اضطراب اور خوف کی وجہ سے لوگ مر جاتے ہیں اور ان میں سے چند ایک حقیقت میں اس مرض کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔
عام طور پراطمئنان اوراضطراب فرد اور معاشرے کی حفاظت اور بیماری اور انسانیت کی خوشی اور غم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اسی وجہ سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اضطراب اور اس سے نجات کے طریقے، اور سکون کیسے حاصل کیا جائے کے موضوع پر لکھا گیا ہے، اور انسانی تاریخ بدقسمت حالات سے بھری پڑی ہے کہ سکون حاصل کرنے کے لیے اور کس طرح انسان ہر غیر قانونی طریقے سے چمٹ جاتا ہے، جیسے کہ منشیات کا عادی ہونا وغیرہ
لیکن قرآن مجید ایک مختصر آیت کے ذریعے مختصر ترین راستہ دکھاتا ہے، لیکن بڑے معنی کے ساتھ:
أَلا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
اس معنی کو واضح کرنے اور اضطراب کے عوامل کو جاننے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
اول : اضطراب ایک بار ہوتا ہے کیونکہ تاریک مستقبل کے بارے میں جو کچھ انسان کے ذہن میں گردش کرتا ہے، اور خود سے نعمات کی دوری کاخوف، یا دشمنوں کے ہاتھوں اسیر ہو جانا، یا کمزوری اور بیماری، یہ سب انسان کو تکلیف دیتے ہیں، لیکن اللہ پر ایمان، قادرِ مطلق، برگزیدہ، نہایت رحم کرنے والا، وہ خدا جو اپنے بندوں کی رحمت کی ضمانت دیتا ہے.. یہ ایمان اضطراب اور اضطراب کے اثرات کو مٹا سکتا ہے اور ان واقعات کے سامنے اسے تسلی دے سکتا ہے اور اسے یقین دلا سکتا ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ لیکن آپ کے پاس ایک اللہ ہے جوقبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوم: ایک دفعہ انسان کا ذہن اپنے تاریک ماضی میں مشغول ہو جاتا ہے اور وہ اپنے کئے ہوئے گناہوں اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی وجہ سے بے چین ہو جاتا ہے، لیکن یہ کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ صفات انسان کو اعتماد بخشتی ہیں اور اسے مزید اطمینان بخشتی ہیں اور آپ اس سے کہتے ہیں: میں اپنے سابقہ برے کاموں کی اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور خلوص نیت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
سوم : فطری عوامل کے سامنے یا دشمنوں کی کثرت کے سامنے انسان کی کمزوری اپنے اندر ایک اضطراب کی تصدیق کرتی ہے اور یہ کہ ان لوگوں کا مقابلہ جہاد کے میدان میں یا دوسرے میدانوں میں کیسے ہوسکتا ہے؟
لیکن اگر وہ خدا کو یاد کرتا ہے، اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت پر بھروسہ کرتا ہے... اس مطلق طاقت جس کے سامنے کوئی دوسری طاقت نہیں ٹھہر سکتی، تو وہ اپنے دل کو تسلی دے گا، اور اپنے آپ سے کہے گا: ہاں، میں اکیلا نہیں ہوں، بلکہ اس کے سائے میں ہوں۔
چہارم : دوسری طرف، اضطراب کی اصل وہ چیز ہو سکتی ہے جو انسان کو نقصان پہنچاتی ہو، جیسے کہ زندگی کی بے مقصدیت یا اس کی بے مقصدیت کا احساس، لیکن خدا پر ایمان رکھنے والا جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ زندگی کا مقصد اخلاقی اور مادی کی طرف بڑھنا ہے۔ اور یقین رکھتا ہے کہ تمام حادثات اس فریم ورک میں آتے ہیں، محسوس نہیں کریں گے کہ یہ بے مقصد ہے اور اس عمل میں پریشان نہیں ہوتا ہے۔
پنجم: دوسرے عوامل میں سے بعض اوقات انسان کو مقصد تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ مشقتیں اٹھانا پڑتی ہیں، لیکن اسے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو اس کے اعمال کا جائزہ لے اور اس جستجو کے لیے اس کا شکریہ ادا کرے، اور یہ عمل اسے بہت تکلیف دیتا ہے، اس لیے وہ اس حالت میں رہتا ہے ۔
ششم : بدگمانی ایک اور عارضہ ہے جو بہت سے لوگوں کو ان کی زندگیوں میں متاثر کرتی ہے اور ان کے لیے تکلیف اور پریشانی کا باعث بنتی ہے، لیکن خدا پر یقین اور اس کی مکمل مہربانی اور اس پر نیک ایمان انفرادی مومن کے افعال میں سے ہیں جو عذاب کی کیفیت کو دور کر دیتے ہیں۔ اور اس کی طرف سے اضطراب اور اسے اطمینان اور استحکام کی حالت سے بدل دے۔
ہفتم: دنیا کی محبت اضطراب کے اہم ترین عوامل میں سے ہیں اور لباس میں کسی خاص رنگ کی عدم موجودگی یا روشن زندگی کے کسی اور پہلو کی صورت حال انسان کو اس حالت میں مبتلا کر سکتی ہے بے چینی جو دنوں اور مہینوں تک رہ سکتی ہے۔
لیکن خدا پر یقین اور مومن کا زہد، معیشت، اور مادی زندگی کے پنجوں میں روک تھام اور اس کے روشن مظاہر سے وابستگی اس انتشار کی کیفیت کو ختم کرتی ہے اور جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: "یہ دنیا تیرا میرے لیے ٹڈی کے منہ میں ایک کاغذ سے زیادہ آسان ہے جو ٹڈی کے منہ میں چبائی جاتی ہو۔
ہشتم : ایک اور اہم عنصرموت کا خوف ہے، اور چونکہ موت صرف بڑھاپے کی عمر میں نہیں آتی، بلکہ تمام سالوں میں، خاص طور پر بیماری اور جنگوں اور دیگر عوامل کے دوران، پریشانی تمام افراد کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ لیکن اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ موت کا مطلب فنا اور ہر چیز کا خاتمہ ہے (جیسا کہ مادیت پسندوں کا خیال ہے) تو افراتفری اور اضطراب اپنی جگہ پر ہے اور انسان کو اس موت سے ڈرنا چاہیے جو تمام امیدوں، تمناؤں اور عزائم کو ختم کر دیتی ہے۔ لیکن خدا پر ایمان ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ موت اس زندگی سے وسیع اور بہتر زندگی کا دروازہ ہے، اور ایک ایسا دروازہ ہے جس سے گزر کر انسان ایک وسیع خلا میں جاتا ہے، اس لیے اس وقت تشویش کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
اضطراب کے عوامل صرف ان مذکورہ عوامل تک محدود نہیں ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے عوامل ہیں، لیکن ان کے تمام ماخذ وہی ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔
مؤلف: امام حسین ع او آر جی
شهید سلیمانی صدائے وحدت و عدالت تھے
جمعہ، 13 دی 1398 کو ایک عظیم سانحے کی خبر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ امریکہ نے سردار حاج قاسم سلیمانی کو بغداد ایئرپورٹ کے راستے میں ابو مہدی المہندس اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا۔ یہ دہشتگردی کا حملہ، جو آپریشن آذرخش کبود کے نام سے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر انجام پایا، امریکہ کے اندر بھی مخالفتوں کا باعث بنا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مذمتوں کی شدت میں اضافہ ہوا، اور سردار کے چاہنے والوں نے اندرون و بیرون ملک خودجوش انداز میں ان کی یاد میں تقریبات منعقد کیں۔ مختلف ممالک میں ایران کے سفارت خانوں میں یادگاری رجسٹر کھولے گئے تاکہ لوگ اس اندوہناک قتل پر اپنے تاثرات قلمبند کر سکیں، اور ان کے غضب سے بھرپور جذبات تاریخ کا حصہ بن جائیں۔
اس مناسبت سے، سردار شہید قاسم سلیمانی کی پانچویں برسی کے موقع پر، ایکنا نے عراقی مصنف، تجزیہ کار، اور صحافی صلاح الزبیدی سے ایک خصوصی گفت و شنید کی۔
عراقی ماہر نے خطے میں شہید حاج قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: "شہید سردار سلیمانی اور ابو مہدی المہندس اُن قربانی دینے والے عظیم سپاہیوں کی مثال تھے جو دہشت گرد اور استکباری طاقتوں کے مقابلے میں سینہ سپر ہوئے، جن کا مقصد خطے کو تباہ کرنا تھا۔"
انہوں نے مزید کہا: "ان دونوں شہداء کا خطے میں امن و امان کے قیام میں بنیادی کردار تھا۔ ان کی دانشمندانہ قیادت نے داعش اور تکفیری قوتوں سے لڑائی میں کلیدی کردار ادا کیا، جن کا مقصد عراق، شام، اور پورے خطے کو غیر مستحکم کرنا تھا۔"
عراقی مصنف نے مزید کہا: "حاج قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کا کردار صرف عسکری میدان تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں خطے کی اقوام اور قومی قوتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا بھی شامل تھا۔ ان کی جدوجہد نے دہشت گردی کے خاتمے اور ان مظلوم اقوام کو دوبارہ امن فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار تھیں۔"
انہوں نے مزید کہا: "ان دو عظیم شہداء کی کوششوں نے استکباری اور قبضہ گیر منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متحد محاذ بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور مزاحمت کے محور کی حیثیت کو خطے اور عالمی سطح پر ایک ناقابلِ پیش گوئی قوت کے طور پر مضبوط کیا۔"
الزبیدی نے قدس کے مسئلے اور فلسطینی مزاحمت کو تقویت دینے میں شہید حاج قاسم سلیمانی کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "قدس شہید حاج قاسم سلیمانی کے لیے ایک مرکزی اور بنیادی مسئلہ تھا، اور ان کی جدوجہد کا محور یہی مسئلہ تھا۔"
نئے اسلامی تمدن کی تشکیل، مسلمانوں میں اتحاد پر منحصر
بنگلہ دیش اسلامک فاؤنڈیشن کے سربراہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ جدید اسلامی تہذیب مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر منحصر ہے، کہا: انسانیت تمام علوم کو سیکھنے کی طاقت رکھتی ہے اور ہم انسان ایسی مخلوق ہیں جو فطری طور پر تہذیب کی تعمیر کا رجحان رکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایک جدید اور مہذب دنیا کی تعمیر کرنی چاہیے۔ آئیے اسلامی قانون کے دائرہ کار میں اس کی کوشش کریں۔
"نئی اسلامی تہذیب کی تشکیل کے تقاضے" عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں اہل بیت علیہم السلام ورلڈ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے شرکت اور خطاب کیا۔
یہ سیمینار بنگلہ دیش میں ایرانی کلچر ہاوس اور رہبر انقلاب کے نمائندہ دفتر کی میزبانی میں منعقد ہوا۔
سیمینار میں بنگلہ دیش کی اہم علمی شخصیات نے حصہ لیا۔
بنگلہ دیش میں ایران کے ثقافتی اتاشی سید رضا میرمحمدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر، ڈھاکہ میں ایرانی ثقافتی مرکز نے جدید اسلامی تہذیب پر توجہ مرکوز کرنے والے علمی اجلاسوں کے سلسلے کا منصوبہ بنایا ہے، اور یہ کانفرنس اس سلسلے کا دوسرا پروگرام ہے، اور تیسری کانفرنس بھی آنے والے دنوں میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں منعقد ہوگي۔
اہل بیت(ع) ورلڈ اسمبلی کے سکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے بھی کہا کہ پوری انسانی تاریخ میں بہت سی تہذیبیں ظہور پذیر ہوئیں اور ایک مدت کے بعد زوال پذیر ہوئیں۔ ان تہذیبوں میں چین، ہندوستان، یونان، روم، جنوبی امریکہ، مصر، ایران وغیرہ کی قدیم تہذیبیں ہیں۔ دریں اثناء مسلمانوں نے بھی اپنے لیے تہذیب کی ایک تاریخ رکھی ہے اور اسلام بنیادی طور پر موجودہ دور میں اپنے اصولوں اور بنیادوں پر ایک نئی اور پائیدار تہذیب کی تشکیل کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ نئی اسلامی تہذیب، مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر منحصر ہے۔
بنگلہ دیش کی اسلامک فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالسلام خان نے بھی اپنے خطاب میں کہا: "انسانیت تمام علوم کو سیکھنے کی طاقت رکھتی ہے، اور ہم انسان ایسی مخلوق ہیں جو فطری طور پر تہذیب کی تعمیر کا رجحان رکھتے ہیں۔" لہٰذا ہمیں اسلامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک جدید اور مہذب دنیا کی تعمیر کے مشن پر کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: "ایک نئی اسلامی تہذیب کی تعمیر کے لیے ہمیں سب سے پہلے اتحاد کو ترجیح دینا ہوگی۔اقتدار حاصل کرنے کے لیے اتحاد ضروری ہے اور اتحاد سے ہم اپنے دشمنوں پر قابو پا سکتے ہیں اور ایک نئی اسلامی تہذیب کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔
صیہونی مخالف محاذ مضبوط بنانے میں شہید قاسم سلیمانی کا کردار
جب انتہاپسند صیہونی آبادکار، مقبوضہ بیت المقدس کے محلے شیخ جراح میں مسلمان فلسطینی شہریوں کو اذیت پہنچانے میں مصروف تھے اور ان کا ایک اور گروہ مسجد اقصی کی بے حرمتی کرنے کے بعد "پرچم ریلی" نامی جعلی تقریب منعقد کرتے ہوئے مسلمان فلسطینیوں کے محلوں پر حملہ ور ہو رہا تھا تو اس دوران غزہ میں حماس کے ملٹری شعبے شہید عزالدین قسام بریگیڈز کے سربراہ محمد الضیف نے صیہونی حکمرانوں کو دھمکی آمیز پیغام بھیجا اور یہ فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم کے خلاف پہلا جارحانہ اقدام ثابت ہوا۔ اکثر ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس پیغام میں پہلی بار "محاذوں کے اتحاد" یا "میدانوں میں وحدت" کی تعبیر بروئے کار لائی گئی تھی۔ اس کے ایک سال بعد، 2022ء میں جب غاصب صیہونی رژیم نے غزہ میں اسلامک جہاد فلسطین کے مراکز کو نشانہ بنایا تو اس تنظیم نے بھی اسے "میدانوں میں وحدت" کی جنگ قرار دیا۔ یہ تعبیر درحقیقت شہید قاسم سلیمانی کی میراث تھی اور ان کی شہادت کے بعد زبان زد عام ہو گئی۔
اندرونی اتحاد سے میدانوں میں اتحاد تک
شہید قاسم سلیمانی نے ہر میدان میں اتحاد کی حکمت عملی اختیار کی۔ وہ جس میدان میں بھی داخل ہوتے تھے سب سے پہلے وہاں اندرونی وحدت ایجاد کرتے تھے اور تمام طاقتوں کو ہم آہنگ کرتے تھے۔ لبنان میں بھی شہید قاسم سلیمانی نے حزب اللہ کو ملک کے دیگر گروہوں اور جماعتوں سے اتحاد کی ترغیب دلائی جس کے نتیجے میں حزب اللہ ملک کی ایک محبوب جماعت بن کر ابھری۔ اس سے پہلے لبنان میں یورپی ممالک بہت سرگرم تھے اور اپنی حمایت یافتہ جماعتوں اور گروہوں کی ترویج کرنے میں مصروف تھے۔ دوسری طرف اہلسنت جماعتوں نے بھی اہلسنت عوام کو طاقتور بنانے کی کوشش کی۔ لیکن شہید قاسم سلیمانی کی حکمت عملی کے نتیجے میں اسلامی مزاحمت نے ان تمام گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور لبنان کی تمام سیاسی قوتیں اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے خلاف متحد ہو گئیں۔
فلسطین میں بھی شہید قاسم سلیمانی نے ایک مشترکہ ہیڈکوارٹر تشکیل دیا اور ایسے دسیوں مزاحمتی گروہوں کو ایک جگہ جمع کر دیا جو اس سے پہلے انفرادی طور پر اسرائیل کے خلاف نبرد آزما تھے۔ اس اتحاد کا پہلا نتیجہ 2014ء میں 51 روزہ جنگ میں ظاہر ہوا جب غاصب صیہونی رژیم نے پوری طاقت سے اسلامی مزاحمت پر غلبہ پانے کی کوشش کی لیکن آخر میں اسے اپنی شکست تسلیم کرنا پڑی۔ شہید قاسم سلیمانی نے یہی حکمت عملی شام میں بھی اختیار کی اور وہاں شام کی مسلح افواج، جو انتشار کا شکار ہو چکی تھیں، کو آپس میں متحد کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شام میں عوامی رضاکار فورس تشکیل دی جسے "دفاع الوطنی" کا نام دیا گیا جس کا مقصد وطن کے دفاع میں شام آرمی کی مدد کرنا تھا۔ شہید قاسم سلیمانی نے عراق میں بھی مختلف قبیلوں اور اقلیتوں کے درمیان اتحاد ایجاد کیا اور انہیں تکفیری دہشت گروہ داعش کے خلاف متحد کیا۔
متحد گروہوں میں رابطہ قائم کرنا
شہید قاسم سلیمانی نے افغانستان، عراق، شام، لبنان اور فلسطین میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کے درمیان اندرونی اتحاد قائم کرنے کے بعد انہیں ایکدوسرے سے مربوط کرنے پر کام کیا اور ان کے درمیان مضبوط تعلق برقرار کر دیا جس کے نتیجے میں وہ ایک متحدہ تنظیم کی صورت اختیار کر گئے۔ ان مختلف گروہوں کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے کا سنہری موقع وہ وقت تھا جب شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا قبضہ ہو چکا تھا۔ اس دوران مغربی طاقتوں نے عرب دنیا میں اسلامی بیداری کی لہر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے شام اور عراق میں اپنے کٹھ پتلی عناصر مسلط کرنے کوشش کی لیکن شہید قاسم سلیمانی کی گہری بصیرت اور عظیم حکمت عملی کے نتیجے میں دشمن کی یہ سازش ناکام ہو گئی اور تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
میدانوں میں اتحاد، اسلامی مزاحمت کی ذاتی خصوصیت
شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد زبان زد عام ہونے والی تعبیر "میدانوں میں اتحاد" کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل ہر رکن قوت دوسری رکن قوتوں کے بارے میں بھی سوچے اور اس کے مسائل کو اپنے مسائل تصور کرے۔ لہذا جب ان میں سے کوئی ایک خطرے سے روبرو ہو تو دیگر رکن قوتیں بھی جسد واحد کی طرح اس پر خاموش تماشائی نہ بنیں اور اس کے دفاع میں اہم اور موثر کردار ادا کریں۔ طوفان الاقصی آپریشن نے اسلامی مزاحمتی بلاک کے زندہ ہونے اور اس کا جسد واحد ہونے کا اظہار کیا۔ غزہ کی پٹی پر غاصب صیہونی رژیم کی وحشیانہ جارحیت اور بربریت کے آغاز سے ہی دیگر اسلامی مزاحمتی گروہوں نے فلسطین کے حق میں اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ یہ اقدامات دراصل اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھے جو شہید قاسم سلیمانی نے میدانوں میں اتحاد کے عنوان سے متعارف کروائی تھی۔
اسی حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج غاصب صیہونی رژیم ایک سال سے زیادہ جارحیت اور بربریت کے باوجود غزہ اور لبنان میں شکست خوردہ اور ناکام نظر آتا ہے۔ ماضی میں صیہونی حکمرانوں نے ہمیشہ درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے محدود پیمانے پر جنگیں کی ہیں اور طویل المیعاد جنگ سے گریز کیا ہے۔ لیکن اس بار وہ ایک طویل المیعاد جنگ میں داخل ہونے پر مجبور ہوئے ہیں جس کی بنیادی ترین وجہ اسلامی مزاحمتی گروہوں میں اتحاد کے باعث اس خطرے کی شدت ہے جسے وہ محسوس کر رہے ہیں۔ صیہونی رژیم دراصل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اسے اپنی بقا کو خطرہ محسوس ہوا ہے۔ یہ خطرہ شہید قاسم سلیمانی کی میدانوں میں اتحاد پر مبنی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ اسلامی مزاحمتی بلاک کو شدید ضربیں لگی ہیں لیکن اس کا وجود باقی ہے اور وہ بدستور زندہ اور بیدار ہے۔ اسی حقیقت نے امریکی اور غاصب صیہونی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔
امام علی نقی (ع) کی زندگی پر اجمالی نظر
اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا. اللہ کا ارادہ بس یہی ہے ہر طرح کی ناپاکی کو اہل بیت ! آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
آئمہ معصومین علیھم السلام کی حیات طیبہ کا مطالعہ درحقیقت دراصل دین کی صحیح سمجھ اور راہ حق میں کی جانے والی کوششوں کے بارے میں ہے چونکہ ہم ہر میدان میں چاہے وہ اعتقادی، فقہی اخلاقی یا سیاسی ہو ہر میدان میں انکے ہمیشہ رہ جانے والے اثرات ہیں۔
ہمارا مقصد یہ ہے کہ امام علی نقی علیہ السلام کی حیات طیبہ کا جائزہ لیں اور تاریخ کی ان بے مثال اور تاریخ کی درخشاں حقیقت سے اپنی بساط کے مطابق روشنی ڈالیں امام کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔آپ کو امام ھادی بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی ولادت با سعادت مدینے کے ایک محلہ صربا میں 15 ذی الحجہ 212ھ کو ہوئی۔آپ کی والدہ کا نام سمانہ خاتون تھا۔
آپکی تربیت اپنے والد گرامی امام محمد تقی (جواد) علیہ السلام کے ذریعے ہوئی انہی کے سایہ میں بڑے ہوئے۔
امام جواد علیہ السلام کو لوگ اپنا پیشوا و رہبر مانتے تھے حالانکہ اس زمانے میں سیاسی طور پر ولایت علی اور اہل بیت کی مکمل طور پر مخالفت تھی لیکن کسی کی جرات نہیں تھی کہ امام کی منزلت و مرتبت لوگوں کی نظر میں کم کر سکے۔
عباسی خلیفہ مامون کی بنی عباس کے سرکردہ افراد کے سامنے امام کی حمایت میں سخت گفتگو کرنا تاریخی دریچوں کو واضح طور پر نمایاں کرتی ہے۔
مامون نے جب اپنی بیٹی کی شادی امام جواد علیہ السلام سے کرنے کا ارادہ کیا جب امام کی عمر فقط 9 سال تھی تو بنی عباس میں ہلچل مچ گئی اور وہ مامون پر اعتراض کرنے لگے۔
امام ھادی علیہ السلام کی ذاتی خصوصیات
امام ھادی علیہ السلام مقدس سلسلہ امامت کی ایک کڑی ہیں۔آپ علیہ السلام بندگی اور عبودیت کا ایک بہترین نمونہ ہیں آپ روشن فکر اور آزادی کیلئے لڑنے والے مجاہدین اور ظالم کے خلاف قیام کرنے والوں کیلئے بہترین نمونہ تھے۔
جن علماء و دانشمندوں نے آپ کے بارے میں لکھا انہوں نے آپکی سیرت طیبہ اور آپ کی علمی فضائل اور برکات پر ضرور روشنی ڈالی۔
ابو عبداللہ جنید نے امام کے بارے میں کہا:
بخدا آپ اپنے زمانے کے زمین پر بہترین مرد اور افضل ترین شخصیت تھے۔
امام علیہ السلام کا سخت ترین دشمن بھی صحیح طور پر آپ کی عظمت اور بلند قدر و منزلت کا معترف تھا۔ یہ بات اس کے وہ خط ہیں جو اس نے امام کر لکھے۔
یہاں اختیار کیلئے فقط ان خطوں کا حوالہ ذکر کئے دیتا ہوں تا کہ اگر کوئی ملاحظہ کرنا چاہتا ہو تو پڑھ سکتے ہیں۔
(شذرات الذہب جلد ۳ ص۱۲۹ نقل از امام ھادی مصنفہ علی محمد دخیل)
امام ھادی کے چند القابات:
نقی، عالم، فقیہ، امین، طیب
اعلام الوری
امام کی اور بھی بہت سی فضیلتیں اور خصوصیات ذکر ہوئی ہیں تمام کو یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں۔
امام کی سیاسی جدوجہد
امام علیہ السلام یہ جانتے تھے کہ معاشرہ کسی قسم کی مسلح جھڑپ کا متقاضی نہیں ہے اسی لیے امام نے اس سلسلے میں کوئی کوشش نہیں کی لیکن اس کے باوجود عباسی خلفاء ان سے سیاسی رہبری کے اعتبار سے خوف کرتے تھے۔
وقت کے ظالم اور متکبر حکمراں جو فساد کی جڑ اور اپنی عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے تھے انہیں لوگوں کی پروہ نا تھی۔
بر خلاف اس کے امام کا رابطہ لوگوں سے رہتا امام کا لوگوں کی نظر میں بڑا مقام و مرتبہ تھا۔امام ہمیشہ علوی تحریکوں کی حمایت کرتے اور سیاسی و نظریاتی تحریکوں میں نشونما میں مدد کرتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ حکمران امام کی اس مقبولیت سے خائف تھے۔امام کی سیاسی زندگی کا آغاز محمد بن ابن ہارون الرشید کی حکومت کے آخری ایام تھے۔
معتصم نے (جو کہ آئمہ کرام سے خوف محسوس کرتا تھا) 225 ہجری میں امام کو مدینہ سے بغداد بلا لیا۔اور سکونت اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔
امام ھادی علیہ السلام مشکل دور میں اپنے والد گرامی کے زیر سایہ زندگی گزار رہے تھے کہ سایہ پدر نا رہا اور مشکل دور میں اکیلے ہی اب دور امامت میں مشکل حالات کو برداشت کرنا تھا۔
امام ہادی علیہ السّلام اور متوکل عباسی
واثق کی موت کے بعد 232 ہجری کو متوکل عباسی تخت نشین ہوا۔یہ علویوں کا شدید دشمن تھا۔
اس نے امام حسین علیہ السلام کی ضریح مبارک کو گرانا
اجتماعی و سماجی حیثیت کو ختم کرنا
تحقیر کرنا
علویوں کا اقتصادی بائکاٹ
بیت المال کے وظیفے روکنا
امام ھادی پر سخت دباؤ
امام کے قتل کی سازش
اسکے علاؤہ اور بھی نا قابل فراموش جرائم ہیں جو اس نے انجام دیے۔نیز اس نے امام علی علیہ السلام کے روزے پر جانے والوں کیلئے سخت سزا رکھی ہوئی تھی۔
امام ہادی ع سامرہ میں
یہاں پر متوکل نے مختلف حربے استعمال کر کے امام کو ستایا
کبھی امام کو شھید کرنے کی کوشش کی جاتی
کبھی گھر کی تلاشی
کبھی تہمت لگا کر محل میں لے جاتے
اور بھی بہت کچھ
لیکن ہمیشہ امام کو خدا نے ان سب سے محفوظ رکھا اور دشمن پر برتری دی۔
علوی تحریکیں
تمام مسلمانوں پر اور بلخصوص آل ابو طالب پر جب مصیبتوں کا دباؤ شدید ہوا تو ان کی جانب سے مسلح تحریکیں شروع ہو گئیں اور بہت اور بھی عوامل متوکل کی حکومت کے خلاف مہیا ہو گئے خود ارباب اختیار میں بھی پھوٹ پڑھ گئی جو اندرون نظام تھے متوکل کے قتل کے بھی یہی عوامل بنے۔
متوکل کا انجام
متوکل نے کھلم کھلا آل ابو طالب کی مخالفت کی اور بہت برے طریقے سے پیش آتا رہا بلآخر حکومت میں پھوٹ پڑ گئی اور محل کے اندر ہی جب وہ شراب کے نشے میں مست تھا قاتلانہ حملے میں مارا گیا حملے میں اس کا بیٹا منتصر بھی شریک تھا قتل کے بعد منتصر کی بیعت کی ہوئی۔
منتصر کا آل ابو طالب کے ساتھ رویہ
اس نے علویوں کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھا اور ان کے اموال و املاک اور فدک کو واپس کر دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ امام علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے حرموں کی زیارت کیلئے جائیں اور رہائش کی اجازت بھی دی منتصر نے 248 میں وفات پائی۔
آخری باتجو بھی امام علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کرے وہ بخوبی جان لے گا کہ امام ہمیشہ حکومت کی طرف سے تکلیفیں سختیاں اور قید و بند کی مشکلات سے دو چار رہے۔
امام کو اپنے نانا کے شہر سے نکل کر سامرہ جانے پر مجبور کیا گیا تاکہ آپ معاشرتی و سیاسی سرگرمیاں نا کر سکیں۔یوں امام کا ایک لمبا عرصہ عباسی دارالخلافہ سامراء میں گزرا۔
امام ہادی علیہ السلام سامراء میں 10 سال اور چند ماہ ٹھہرے اور خلیفہ معتز کی خلافت میں 41 سال عمر شریف پانے کے بعد 3 رجب المرجب 254 ہجری کو شہادت پائی آپ کا مزار مبارک سامراء میں ہے۔
فرزند رسول حضرت امام علی نقی علیہ السلام
حضرت امام محمد تقی(ع) شیعوں کے نویں امام ہیں آپؑ کی والدہ ماجدہ حضرت سبیکہ(س) اورآپؑ کے والد بزرگوار حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام ہیں آپؑ کی کنیت ابوجعفر ثانی اور مشہور القاب جواد، ابن الرضا اور تقیؑ ہیں۔
مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت باسعادت سنہ ۱۹۵ ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی، لیکن آپؑ کی ولادت کے دن اور مہینے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
مورخین نے آپ (ع) کی تاریخ ولادت شب جمعہ 19 رمضان المبارک کی شب، بیان کی ہے اور بعض دوسروں نے لکھا ہے کہ امام (ع) پندرہ رمضان المبارک کو پیدا ہوئے. تا ہم شیخ طوسی کتاب "المصباح" میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا یوم ولادت 10 رجب المرجب سنہ 195 ہجری ہے۔ (بحار الانوار، ج 50، ص 1 تا 14)
بابرکت مولود:
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ولادت سے پہلے بعض واقفیہ یہ کہتے تھے کہ حضرت علی بن موسیٰ رضا (ع) کی نسل باقی نہیں رہے گی اور ان کے بعد ان کی نسل میں سلسلہ امامت منقطع ہو جائے گا۔ یہی سبب ہے جس وقت امام محمد تقیؑ کی ولادت ہوئی حضرت امام رضاؑ نے فرمایا: ’’ هذا المولود الذي لم يولد مولود أعظم بركة على شيعتنا منه‘‘(یہ وہ مولود ہے جس سے زیادہ بابرکت مولود ہمارے شیعوں کے لئے اب تک دنیا میں نہیں آیا)۔ (کلینی، الکافی، ج1 ص321)
ابن اسباط اور عباد بن اسمعیل نیز ابویحیٰ صنعانی کہتے ہیں:’’ إنا لعند الرضا عليه السلام بمنى إذ جبئ بأبي جعفر عليه السلام قلنا: هذا المولود المبارك ؟ قال: نعم، هذا المولود الذي لم يولد في الاسلام أعظم بركة منه ‘‘ ( ہم حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ساتھ تھے جب ابو جعفر کو ان کے پاس لایا گیا۔ ہم نے عرض کیا: کیا وہ بابرکت مولود یہی ہے؟ فرمایا: ہاں! یہی وہ مولود ہے جس سے زيادہ برکت والا اسلام میں پیدا نہیں ہوا)۔ (مجلسی، بحار الانوار، ج50، ص20و23و35۔ شیخ مفید، الارشاد ص 279۔ کلینی رازی، الكافي ج1 ص321)
ازدواج اور اولاد:
امام جوادؑ کی شادی سنہ 215 میں مامون عباسی کی بیٹی ام فضل سے ہوئی یہ شادی مامون کی درخواست پر ہوئی اس شادی سے امامؑ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی اور آپ کی تمام اولادیں آپؑ کی دوسری زوجہ مکرمہ سمانہ مغربیہ سے ہوئیں۔( قمی، منتہی الامال، ج2، ص235)
شیخ مفید علیہ الرحمہ کی روایت کے مطابق حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی اولاد کی تعداد چار ہیں جن کے نام امام علی نقیؑ، موسیٰ مبرقعؑ،فاطمہ اور امامہ ہیں۔( مفید، الارشاد، ج2، ص284)
امامت:
کم سنی میں امامت کے حوالے سے ہونے والے اعتراضات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد سے پہلی مرتبہ اہل تشیع کو ایک نئے مسئلے کا سامنا تھا اور وہ مسئلہ کم سنی میں امام جواد علیہ السلام کی امامت کا مسئلہ تھا. کیونکہ امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے وقت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سات برس کے تھے اور اسی عمر میں ہی مرتبہ امامت پر فائز ہوئے. چونکہ اس سے پہلے ائمہ طاہرین علیہم السلام کے بارے میں ایسا مسئلہ پیش نہیں آیا تھا لہذا امام جواد علیہ السلام نے خود ہی کئی مرتبہ اس شبہے کا ازالہ فرمایا. ابراہیم بن محمود کہتے ہیں: ’’میں خراسان میں امام رضا علیہ السلامی کی خدمت میں حاضر تھا. اسی وقت امام (ع) کے ایک صحابی نے سوال کیا: اگر آپ کو کوئی حادثہ پیش آئے تو ہم کس سے رجوع کریں؟امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے بیٹے محمد سے.اس وقت امام علیہ السلام کی عمر بہت کم تھی اور امام علیہ السلام نے ممکنہ شبہے کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: خداوند متعال نے حضرت عیسی علیہ السلام کو میرے محمد (محمد تقی الجواد) کی موجودہ عمر سے بھی کم عمری میں نبی بنا کر بھیجا اور ان کو ایک نئی شریعت قائم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی جبکہ میں اپنے بیٹے کو اسلام کی مستحکم شدہ شریعت کی برپائی اور حفاظت کے لئے متعارف کررہا ہوں. (بحارالانوار، ج 50، ص 34، ح 20.)
حضرت امام علی رضا علیہ السلام امام محمد تقی (ع) کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
کلیم بن عمران کہتے ہیں: میں نے امام رضا علیہ السلام سے عرض کیا: اللہ تعالی سے التجا کریں کہ آپ کو اولاد نرینہ عطا فرمائے. امام علیہ السلام نے فرمایا: میری قسمت میں ایک ہی بیٹا ہے جو میرا وارث ہوگا.جب امام جواد علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے تو امام رضا علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے مخاطب ہوکر فرمایا: خداوند متعال نے مجھے ایسا فرزند عطا فرمایا ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کی طرح دریاؤں کو شکافتہ کرنے والا ہے اور حضرت عیسی بن مریم کی طرح ہے جس کی ماں مقدس ہے اور پاک و طاہر متولد ہوا ہے۔ میرا یہ فرزند ناحق مارا جائے گا اور آسمان والے اس پر گریہ و بکاء کریں گے اور اللہ تعالی اس کے دشمن پر غضبناک ہوگا اور بہت تھوڑا عرصہ بعد اس کو دردناک عذاب سے دوچار فرمائے گا. (بحار الانوار، ج 50، ص 15، ح 19)
کرامات:
صاحب تفسیرعلامہ حسین واعظ کاشفی کا بیان ہے کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی کرامات بے شمارہیں (روضة الشہدا ص ۴۳۸) میں بعض کا تذکرہ مختلف کتب سے کرتا ہوں ۔
۱ ۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضرہو کرعرض کیا کہ ایک مسماة (ام الحسن) نے آپ سے درخواست کی ہے کہ اپنا کوئی جامہ کہنہ دیجیے تاکہ میں اسے اپنے کفن میں رکھوں آپ نے فرمایا کہ اب جامہ کہنہ کی ضرورت نہیں ہے روای کا بیان ہے کہ میں وہ جواب لے کرجب واپس ہوا تومعلوم ہواکہ ۱۳ ۔ ۱۴ دن ہو گئے ہیں کہ وہ انتقال کرچکی ہے۔
۲ ۔ ایک شخص (امیہ بن علی) کہتا ہے کہ میں اورحماد بن عیسی ایک سفرمیں جاتے ہوئے حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے تاکہ آپ سے رخصت ہولیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم آج اپنا سفرملتوی کردو، چنانچہ میں حسب الحکم ٹہرگیا، لیکن میراساتھی حماد بن عیسی نے کہا کہ میں نے ساراسامان سفرگھرسے نکال رکھا ہے اب اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ سفرملتوی کردوں، یہ کہہ کروہ روانہ ہوگیا اورچلتے چلتے رات کو ایک وادی میں جا پہنچا اوروہیں قیام کیا، رات کے کسی حصہ میں عظیم الشان سیلاب آ گیا،اوروہ تمام لوگوں کے ساتھ حماد کوبھی بہا کر لے گیا (شواہدالنبوت ص ۲۰۲) ۔
فرامین:
۱۔ ’’ مَنْ خَطَبَ إلَيْكُمْ فَرَضيتُمْ دينَهُ وَ أمانَتَهُ فَزَوِّجُوهُ، إلّا تَفْعَلُوهُ تَكْنُ فِتْنَةٌ فِى الأرْضِ وَ فَسادٌ كَبير‘‘ ( جس نے تم سے [بیٹی یا بہن کا] رشتہ مانگا اور تمہیں اس کا دین پسند آیا تو وہ رشتہ قبول کرو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تمہارا یہ عمل روئے زمان پر عظیم برائی کا سبب بنے گا)۔
۲۔ ’’مَنْ أتَمَّ رُكُوعَهُ لَمْ تُدْخِلْهُ وَحْشَةُ الْقَبْرِ ‘‘(جو شخص اپنی نماز کا رکوع مکمل اور صحیح طور پر انجام دے وہ قبر میں وحشت سے دوچار نہ ہوگا)۔
۳۔’’إنَّ اللّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَخْتارُ مِنْ مالِ الْمُؤْمِنِ وَ مِنْ وُلْدِهِ أنْفَسَهُ لِيَأجُرَهُ عَلى ذلِكَ ‘‘(بے شک خداوند متعال مؤمن کے مال و اولاد میں سے بہترین مال اور فرزند منتخب کرکے لے لیتا ہے تا کہ انہیں اس کے بدلے اجر عظیم عطا فرمائے)۔
شہادت:
عباسی خلیفہ معتصم نے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو مدینہ سے بغداد بلوایا؛ امام علیہ السلام ۲۸ محرم الحرام سنہ ۲۲۰ کو بغداد پہنچے اور اسی سال ذیقعدہ کے مہینے اسی شہر میں شہید ہوگئے ، البتہ بعض ماخذ میں ہے کہ آپ ؑ نے پانچ یا چھ ذی الحج یا بعض میں آیا ہے کہ ذیعقدہ کی آخری تاریخ کو شہادت پائی۔