سلیمانی
قیادت کا معیار، ایران کی پہچان ہے
تسنیم نیوز کیساتھ محمد مدثر ٹیپو کا انٹرویو:
تہران میں پاکستان کے سفیر نے بارہ روزہ مسلط کردہ جنگ سمیت مختلف چیلنجز کے مقابلے میں ایران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک موجودہ صلاحیتوں سے زیادہ بہتر استفادہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان گزشتہ برسوں میں بالخصوص حالیہ مہینوں کے دوران قریبی اور بتدریج مضبوط ہوتے تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی، سکیورٹی اور سفارتی حکام مسلسل رابطے میں رہے ہیں اور یہ تعلقات آگے بڑھنے کے عمل میں ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی جارحیت کی پاکستان کی واضح مذمت اور ایران کی حمایت کے بعد، دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب پاکستان کو 2025ء میں بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے تناظر میں افغانستان کے ساتھ بھی سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔ ان تمام پیش رفتوں میں ایران نے ایک علاقائی ثالث کے طور پر مسائل کے حل میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیتوں اور پاکستان کے مشرقی و شمالی ہمسایوں کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے، تسنیم نیوز نے تہران میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر ٹیپو سے گفتگو کی ہے۔ اسلام ٹائمز کے قارئین کے لئے اس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
تسنیم: اس وقت ہم تہران میں پاکستان کے سفارت خانے میں موجود ہیں اور جمہوریہ اسلامی پاکستان کے سفیر جناب محمد مدثر ٹیپو کے ساتھ ایک انٹرویو کے لیے حاضر ہیں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنا وقت دیا۔
محمد مدثر: میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں۔ آپ کی یہاں تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ ایران اور پاکستان کی بندرگاہوں کے درمیان مسابقت نہیں، بلکہ تعاون کا معاملہ ہے۔
تسنیم: جنابِ سفیر، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم موجودہ صلاحیتوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ تاہم شمال-جنوب اور مشرق-مغرب راہداریوں کے تناظر میں تعاون بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ گوادر بندرگاہ کو ایران کی بندرگاہوں سے جوڑا جا سکتا ہے؟ اور کیا گوادر اور چابہار کے درمیان مبینہ مسابقت کو باہمی تکمیل اور تعاون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔؟
محمد مدثر: گفتگو کے آغاز میں، میں شبِ یلدا کے موقع پر پوری ایرانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ ایران کے لیے ایک تہذیبی لمحہ ہے، جس کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں اور جو ایمان، محبت اور مہربانی کی تجدید کی علامت ہے۔ کل پاکستان کے معزز صدر نے ایران کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے ایرانی عوام کے نام اسی مناسبت سے پیغام بھیجا، جو ہمارے باہمی تعلقات کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ میں بھی اسی پیغام کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔
میرا خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور جیسا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اتفاق کیا ہے، اسے 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، اگرچہ اس میں کچھ وقت لگے گا، کیونکہ تجارت لاجسٹکس، سپلائی چین، ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی ڈھانچوں سے جڑی ہوتی ہے، لیکن سیاسی عزم اس حوالے سے بہت مضبوط ہے۔ راہداریوں کا معاملہ بھی انتہائی اہم ہے۔ علاقائی روابط میں ایران کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ ہم ایران-اسلام آباد-ترکیہ ریلوے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کرنے جا رہے ہیں اور اس سے بڑے پیمانے پر ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اسی طرح علاقائی رابطوں کے تناظر میں ہم اس وقت ایران کے ساتھ چابہار اور گوادر کے درمیان تعاون پر مشاورت کر رہے ہیں۔ میری نظر میں یہاں مسابقت کا نہیں بلکہ تعاون کا معاملہ ہے۔ دونوں ممالک کے اپنے اپنے فوائد اور صلاحیتیں ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری عوام، صنعتیں، حکومتیں اور ضابطہ جاتی ادارے مل کر کام کریں، تاکہ سمندری، ریلوے اور زمینی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
بیرونی دباؤ کے باوجود ایران-پاکستان معاشی تعاون میں پیشرفت:
تسنیم: ایران اور پاکستان کے معاشی تعاون میں بعض بیرونی طاقتوں کے دباؤ اور اثراندازی کی کوششیں دیکھی گئی ہیں۔ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن اسکی واضح مثال ہے۔ اسکے علاوہ بارٹر ٹریڈ اور آزاد تجارتی معاہدے (FTA) سے متعلق پیشرفت کی خبریں بھی ہیں۔ اصل رکاوٹیں کیا ہیں اور کیا دونوں ممالک مشترکہ اقدامات کے ذریعے ان بیرونی دباؤ کو کم کرسکتے ہیں۔؟
محمد مدثر: پاکستان اپنی خارجہ، سلامتی اور معاشی پالیسیوں کے فیصلے مکمل خودمختاری کے ساتھ کرتا ہے۔ اعداد و شمار اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ تعاون رکا ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف پچھلے دو برسوں میں سیاسی اور سفارتی روابط غیر معمولی حد تک مضبوط اور ہمہ گیر رہے ہیں۔ دنیا ایک پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی جگہ ہے، جہاں ہر ملک کو اپنے اپنے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، لیکن ایران اور پاکستان کے تعلقات واقعی منفرد ہیں۔ ہمارے پاس باقاعدہ فورمز ہیں، جن کے ذریعے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان-ایران تجارتی فورم منعقد ہوا، جس میں سیکڑوں کمپنیوں نے شرکت کی، جو اپنی نوعیت کا پہلا بڑا فورم تھا۔ ایران-پاکستان آزاد تجارتی معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ آج آپ کی آمد سے پہلے میں ایک بڑے ایرانی تاجر سے ملا تھا۔ حالیہ مہینوں میں کاروباری دلچسپی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں تک آزاد تجارتی معاہدے کا تعلق ہے، اس پر کافی حد تک اتفاق ہوچکا ہے اور اب صرف مناسب وقت کا انتظار ہے۔
تسنیم: یہ مناسب وقت کب آسکتا ہے؟ کیا قریب ہے یا دور۔؟
محمد مدثر: بہت قریب ہے۔ میں درست تاریخ تو نہیں بتا سکتا، لیکن ذاتی رائے میں تقریباً تین ماہ کے اندر یہ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔ اس سے پہلے ہم نے بارٹر ٹریڈ کے لیے بھی ضابطہ جاتی فریم ورک طے کر لیا ہے، جس کے تحت پاکستانی تاجر ایران کے ساتھ اشیاء کے تبادلے کی بنیاد پر تجارت کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں پاکستان اور ایران دونوں طرف سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں اور ہم ایرانی فریق کے ساتھ مل کر اس نظام کو عملی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ دیگر شعبوں میں بھی تعاون جاری ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان کے وزیر مواصلات نے تہران کا دورہ کیا اور ایران کی وزیرِ راہ و شہری ترقی سے مفید ملاقات کی۔ ہم نے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا ہے، جس پر اب سنجیدگی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ دس برسوں میں نمایاں ترقی دیکھنے کو ملے گی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے، جو میرے نزدیک ایک شاندار موقع ہے۔ اگرچہ اس خطے میں چیلنجز موجود رہیں گے، لیکن میں ہمیشہ مواقع پر توجہ دیتا ہوں۔ دونوں ممالک کی تجارتی برادریاں پہلے ہی قریبی روابط قائم کرچکی ہیں۔ چیمبرز آف کامرس، تجارتی فورمز اور کاروباری کونسلیں باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہی ہیں، تاکہ رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔
تسنیم: آپ نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مشترکہ سرحد کا ذکر کیا، جو تعاون کا ایک موقع بھی ہوسکتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ چیلنج بھی بن جاتی ہے، مثلاً سرحدی سلامتی اور مشترکہ سرحدی علاقوں میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں۔ سفارتی مذمت کے علاوہ، ان مسائل سے نمٹنے کیلئے کون سے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں جو دونوں قوموں کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔؟
محمد مدثر: میرا خیال ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں حکومتیں ان چیلنجز کی نوعیت کو بخوبی سمجھتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ خطہ ایسے حالات سے متاثر ہے، جو بیرونی عوامل کے زیر اثر رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ یہی عوامل علاقائی پیچیدگیوں اور زمینی حقائق کو جنم دیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں وسیع تر اسٹریٹجک چیلنجز کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بہت اچھا رہا ہے، اعتماد کی ایک مضبوط فضا قائم ہوئی ہے اور ہمارے ادارے باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ آپ خود ان کوششوں کے ٹھوس نتائج دیکھ چکے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ مزید بہتر ہم آہنگی پیدا ہوگی اور ان مسائل سے نمٹنے کے مؤثر طریقے سامنے آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کے چینلز بدستور موجود ہیں:
تسنیم: آئیے ایک اہم علاقائی مسئلے یعنی افغانستان پر بات کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں، توقعات کے برخلاف، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ اور جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد حالات مختلف ہوں گے۔ کیا افغانستان یا کابل کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ ان حالیہ کشیدگیوں کی بنیادی وجہ کیا ہے۔؟
محمد مدثر: سب سے پہلے میں ایک بنیادی اصول واضح کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان خطے میں امن، ترقی اور سلامتی کا خواہاں ہے۔ یہ علاقہ ایک شاندار تاریخ اور بے پناہ معاشی مواقع کا حامل ہے، اس لیے عوام کو قریب لانا انتہائی ضروری ہے۔ ہماری سب سے بڑی اور بنیادی تشویش ہمیشہ دہشت گردی رہی ہے اور اس کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت۔ گزشتہ سال پاکستان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، اس لیے یہ تشویش بالکل جائز اور حقیقی ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے نائب وزیراعظم نے تین مرتبہ کابل کا دورہ کیا، وزیر داخلہ بھی وہاں گئے اور مختلف سطحوں پر وسیع مذاکرات کیے گئے، تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ رابطے کے تمام چینلز اب بھی کھلے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ افغانستان پاکستان کے جائز تحفظات کو سنجیدگی سے لے گا، تاکہ دونوں ممالک مل کر امن اور ترقی کے لیے کام کرسکیں۔
علاقائی امن کیلئے ایران کی کوششیں مخلصانہ اور قابلِ قدر ہیں:
تسنیم: ایران اور پاکستان دونوں بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں اور انکی سلامتی بڑی حد تک افغانستان کے استحکام سے جڑی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کے قیام میں ایران کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ نیز علاقائی امن کیلئے مختلف اقدامات، جیسے استنبول اجلاس اور خاص طور پر ہمسایہ ممالک کا فریم ورک، آپکے نزدیک کس حد تک مؤثر ہیں۔؟
محمد مدثر: جی ہاں، ہم واقعی ایران کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ ایران مغربی ایشیا میں ایک نہایت اہم ملک ہے اور اس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، جیسے پاکستان کی بھی ایران کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے۔ تینوں ممالک کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ امن، سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جس کا ہم نے خیرمقدم کیا۔ گزشتہ ہفتے افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور روس کے خصوصی نمائندوں کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جو نہایت تعمیری تھا۔ ایران نے اس عمل میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ حتی بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران بھی ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے قبول کیا، اگرچہ بھارت نے رد کر دیا۔ یہ بات خطے میں امن کے لیے ایران کی سنجیدہ فکر کو ظاہر کرتی ہے۔
تسنیم: موجودہ حالات میں آپ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے مستقبل کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا پاکستان کے نزدیک تعلقات کی بحالی کیلئے کوئی پیشگی شرط موجود ہے۔؟
محمد مدثر: میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے تحفظات کو دور کیا جائے، یہ نہایت ضروری ہے۔
تسنیم: یہ تحفظات کیا ہیں۔؟
محمد مدثر: بنیادی طور پر افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی، یہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔
تسنیم: آپ ان تعلقات کے مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ مسئلہ کسی مخصوص مدت میں حل ہوسکتا ہے۔؟
محمد مدثر: ہم مذاکرات کر رہے ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ زمینی صورتحال کس سمت جاتی ہے۔
تسنیم: ایک اور اہم علاقائی مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ہے۔ کیا دونوں ممالک کے درمیان سرکاری یا غیر سرکاری، اعلانیہ یا خفیہ رابطے موجود ہیں، تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔؟
محمد مدثر: پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ تصادم خطے میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہے، اس لیے اسے کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش ضروری ہے۔ پاکستان ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے، جو امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دے۔
تسنیم: ایران کے پاکستان اور بھارت دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایران اس معاملے میں مؤثر ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔؟
محمد مدثر: بھارت کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے دوران ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے قبول کیا۔ ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور ہم ان کوششوں کو سراہتے ہیں۔
پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں آزاد ہے
تسنیم: پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور امریکہ کیساتھ بھی، خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود پاکستان توازن کیسے قائم رکھتا ہے۔؟
محمد مدثر: پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک فیصلوں میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔ ہم عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ بھی، جو ہمیں خطے میں امن کے فروغ کے لیے ایک منفرد مقام فراہم کرتے ہیں۔
تسنیم: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے بیرونی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔؟
محمد مدثر: نہیں، میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ پاکستان مکمل طور پر خودمختار ہے اور اس منصوبے کے مستقبل پر بات چیت جاری ہے۔
تسنیم: فلسطین اور غزہ کا مسئلہ بھی ایک بڑا علاقائی چیلنج ہے۔ پاکستان کا مؤقف کیا ہے۔؟
محمد مدثر: پاکستان ہر اس تجویز کی حمایت کرتا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ اور غزہ میں امن و استحکام لائے اور جنگ کا خاتمہ کرے۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔
تسنیم: غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے پاکستان کا کیا مؤقف ہے۔؟
محمد مدثر: جب بھی بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کا منشور یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، پاکستان اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ ایران پر حملے کے وقت بھی پاکستان نے سب سے پہلے ایران کے حقِ دفاعِ خود کو تسلیم کیا۔
تسنیم: ایران کے خلاف حالیہ جنگ سے کیا سبق حاصل ہوا۔؟
محمد مدثر: سفارت کاری اب بھی مسائل کا بہترین حل ہے۔ جنگیں انتہائی مہنگی اور تباہ کن ہوتی ہیں۔ ہمیں ایک ایسے خطے اور دنیا کی ضرورت ہے، جو امن سے بھرپور ہو۔
تسنیم: یہ پیغام کس کے لیے ہے۔؟
محمد مدثر: سب کے لیے۔
تسنیم: کیونکہ ایران سفارتکاری کے راستے پر تھا، مگر اچانک اس پر حملہ ہوا۔؟
محمد مدثر: اسی لیے میں اصولوں کی بات کرتا ہوں، سفارت کاری ہی اصل راستہ ہے، جنگ ہر لحاظ سے تباہ کن ہوتی ہے۔
تسنیم: کیا آپ بارہ روزہ جنگ کے دوران ایران میں موجود تھے۔؟
محمد مدثر: حقیقت یہ ہے کہ میں ایک اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان گیا ہوا تھا۔ اسی رات میری پرواز تھی کہ جنگ شروع ہوگئی، لیکن جیسے ہی جنگ بندی کا اعلان ہوا، میں فوراً زمینی راستے سے ایران واپس آگیا۔ ارادہ، عوام کی صلاحیت اور قیادت کا معیار، ایران کی پہچان ہے۔
تسنیم: آپ نے اس صورتِحال کو کیسے دیکھا، خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ آپکے ساتھی تہران میں موجود تھے۔؟
محمد مدثر: میرا خیال ہے ایران یقیناً ایک نہایت مضبوط اور مزاحم ملک ہے، ایران کی تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے اور اس نے اپنی تاریخ میں بے شمار اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ صاف بات کروں تو اگر آپ میری ذاتی رائے پوچھیں، تو میں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کوئی ملک اس قدر مضبوط، اس قدر متحرک اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے اس قدر پُرعزم ہوسکتا ہے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ملک میں زندگی معمول کے مطابق جاری تھی اور کہیں یہ احساس نہیں تھا کہ نظام یا معاشرتی زندگی میں کوئی بڑی رکاوٹ آگئی ہو۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ بہت بڑا چیلنج تھا۔
12 روزہ جنگ ایک طرح سے بڑی آفت جیسی تھی، لیکن یہی چیز ایران کی شناخت ہے: ایران کا عزم، مشکلات کے مقابلے میں عوام کی صلاحیت اور قیادت کا معیار۔
تسنیم: جب ہم اس سال کے اختتام کے قریب پہنچ رہے ہیں، تو تہران میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے آپکے نزدیک ایرانی معاشرے اور عام لوگوں، یعنی صرف سیاسی سطح پر نہیں، کا عمومی احساس کیا ہے۔؟ خاص طور پر اس لیے کہ جنگ ہوچکی تھی اور بیرونِ ملک کچھ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ حالات ابھی بھی بہت کشیدہ ہیں۔ کیا لوگوں میں احساسِ تحفظ ہے یا عدم تحفظ۔؟ آپکا مجموعی تاثر کیا ہے۔؟
محمد مدثر: میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ایران چھ ہزار سالہ تاریخ رکھتا ہے اور اس نے بڑے بڑے معرکے، شدید تصادمات اور بے شمار چیلنجز برداشت کیے ہیں۔ یہی چیزیں ایران کی فطرت اور شناخت بناتی ہیں۔ ایران نے اپنی تاریخ، شناخت، ثقافت، تہذیب اور زبان کو محفوظ رکھا اور یہ ایرانی عوام، ایرانی قوم اور ایرانی سماج کے بلند معیار کی علامت ہے۔ اسی لیے میرا اس قوم پر بہت مضبوط یقین ہے۔ میرے لیے یہ ایک منفرد اعزاز ہے کہ میں ایسے وقت میں پاکستان کا سفیر بن کر ایران میں موجود ہوں، جب عالمی ماحول بہت پیچیدہ ہے۔ میں نے ایرانی قیادت، عام ایرانی شہریوں اور ایرانی اداروں کے ساتھ تعامل کیا ہے اور دیکھا ہے کہ وہ کس قدر دور اندیش ہیں اور اپنے اصولوں پر مضبوطی سے قائم ہیں۔
ایران کی ہمسایہ ممالک سے تعامل کی پالیسی کامیاب رہی:
تسنیم: خطے کے بعض ممالک پاکستان نہیں بلکہ دیگر میں پہلے یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ایران خطے کیلئے خطرہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں اور خاص طور پر حالیہ مہینوں میں، اسرائیل کے اقدامات اور فلسطینیوں، لبنانیوں، ایرانیوں، قطریوں اور دیگر کیخلاف اسکے جرائم کے بعد، یہ ادراک آہستہ آہستہ بدل رہا ہے کہ حقیقی خطرہ کہیں اور سے ہے۔ اس سے ایران اور عرب ممالک، نیز پاکستان جیسے غیر عرب ممالک کے درمیان تعاون بڑھ سکتا ہے۔ آپ اس تبدیلی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اور خطے میں امن و استحکام کیلئے ایران پاکستان تعاون میں کیا امکانات ہیں۔؟
محمد مدثر: اگر آپ گزشتہ دو سال میں ایران کی خارجہ پالیسی دیکھیں تو میرے خیال میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعامل کی پالیسی کے فائدے اور ثمرات واضح طور پر سامنے آگئے ہیں۔ ایران نے بہت فعال انداز میں اپنے ہمسایوں، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، پاکستان اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ تعلقات اور رابطے بڑھائے ہیں اور یہ ایرانی قیادت کی گہری بصیرت کی علامت ہے۔ جہاں تک پاکستان اور ایران کے تعاون کی بات ہے، آپ نے یہ تعاون چار روزہ جنگ میں بھی دیکھا اور بارہ روزہ جنگ میں بھی اور مجھے پورا یقین ہے کہ مستقبل میں یہ تعاون مزید مضبوط اور گہرا ہوگا۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان اور ایران کے عوام اپنے ممالک کی عظیم صلاحیتوں کو زیادہ بہتر سمجھیں اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ میں اس موقع پر دونوں ممالک کے وسیع عوامی حلقوں سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سیاحت بہت اہم ہے، فنون، ادب اور ثقافت بہت اہم ہیں۔ یہ وہ شعبہ ہے، جس پر ہمیں توجہ دینی چاہیئے۔ ہمیں کلیشوں پر ہرگز یقین نہیں کرنا چاہیئے، کلیشے ایک منظم اور مقصدی کوشش کے ذریعے بنائے جاتے ہیں۔ ایران کو اس کی حقیقی صلاحیتوں اور اس کی قوت و مزاحمت کی بنیاد پر دیکھنا چاہیئے، نہ کہ ان میڈیا بیانیوں کے ذریعے جو وسیع اور منظم انداز میں مسلط کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پاس بھی بے پناہ صلاحیتیں اور امکانات ہیں اور ان دونوں جنگوں نے واضح کر دیا کہ ہمارا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
تسنیم: آپ کئی برس سے ایران میں سفیر کی حیثیت سے موجود ہیں۔ دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کیلئے آپ کن بنیادی عناصر کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں؟ آپ نے سیاحت کی بات کی اور ہم اقتصادی روابط پر بھی گفتگو کرچکے ہیں۔ آپکے نزدیک وہ سب سے اہم امور کون سے ہیں، جن پر دونوں ممالک کے اہلِ فکر اور عام لوگوں کو توجہ دینی چاہیئے۔؟
محمد مدثر: میرے نزدیک سب سے اہم چیز یہ ہے کہ معاشروں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ بڑھے، ثقافت، تاریخ اور ہماری مشترکہ جدوجہد کو بہتر طور پر سمجھا جائے۔ جامعات کے درمیان تعاون، میڈیا کے درمیان رابطہ، اور شہروں کی سطح پر زیادہ تعامل اور یقیناً باہمی اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہم ایک انتہائی پیچیدہ عالمی ماحول میں رہتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم خطرات کو واضح طور پر پہچانیں اور آنے والی نسلوں کو تیار کریں، تاکہ وہ اس تعلق کی نوعیت کو سمجھ سکیں، جو دونوں ممالک کو مستقبل میں اختیار کرنی چاہیئے۔ لہٰذا اعتماد، زیادہ تعامل، عوام سے عوام کے رابطے کو گہرا کرنا اور اس بات پر مسلسل توجہ رکھنا کہ بیرونی عناصر دہشت گردی کے ذریعے اس تعلق کو متاثر نہ کرسکیں، یہ سب نہایت ضروری ہیں۔
تسنیم: جنابِ سفیر، آپکا وقت دینے اور ہمارے ساتھ رہنے کا بہت شکریہ۔
محمد مدثر: شکریہ۔ بہت شکریہ، یہ میرے لیے بڑا اعزاز تھا۔
ایران نے اپنے تین سیٹیلائیٹس کو کامیابی سے فضا روانہ کردیئے
اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے تین سیٹیلائٹس کامیابی سے فضا کی جانب روانہ کردیئے۔
تینیوں سیٹیلائٹس کو سایوز ب 2۔1 راکٹ کے زریعے روانہ کیا گیا۔
ایران نے اپنے سیٹیلائٹس بھیجنے کے لئے روسی خلائی اسٹیشن استوچنی کو انتخاب کیا تھا جہاں سے آج تہران کے مقامی وقت کے مطابق 4 بج کر 48 منٹ پر یہ راکٹ کامیابی سے خلائی مدار کی جانب روانہ ہوگیا۔
شہید سلیمانی کا ہدف اسلامی وحدت کی بنیاد پر اسلامی تمدن کا احیاء تھا
سردار قلوب شہید حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی کے موقع پر ایران میں مقیم افغانی باشندوں کی ثقافتی اور سماجی فاؤنڈیشن کی جانب سے مشہد میں دوسری بین الاقوامی کانفرنس "الغالبون، مکتب شہید سلیمانی، مزاحمت کا راستہ اور روایت" کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایرانی اور غیر ملکی شخصیات اور رہنماؤں سمیت افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
بحرین کے شیعہ رہنما کے نمائندے شیخ "عبداللہ الدقاق" نے شہید حاج قاسم سلیمانی کے منفرد مقام کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی کہ حاج قاسم سلیمانی تین بنیادی افعال کی مربوط کڑی تھے۔ ایک طرف انہوں نے اپنے تزویراتی ویژن سے افق کو صحیح طور پر دیکھا تو دوسری طرف وفادار اور بہادر انسانی وسائل کی تربیت اور تنظیم کے ذریعے مزاحمت کے جسم کو مضبوط کیا اور بالآخر مزاحمتی محور کے ممالک کی تمام سہولیات اور صلاحیتوں کو مقبوضہ سرزمینوں کو آزاد کرانے اور قوموں کی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
شیخ دقاق نے مزاحمتی کمانڈروں کے خلاف استکبار کی شدید دشمنی کی وجہ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ حاج قاسم سلیمانی، ابومہدی المہندس اور دیگر مزاحمتی رہنماؤں کو قتل اور شہید کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس گہرے تہذیبی اور اسٹریٹجک وژن کے حامل تھے۔ ایک ایسا وژن جس نے دشمن کی مساوات میں خلل ڈالا اور تسلط کی بنیادیں ہلا دیں۔
مزاحمتی مکتب کی قرآنی جڑوں پر تاکید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکتب شہید حاج قاسم سلیمانی نے حکمت عملی کے تجزیے، انسانی وسائل کی تربیت اور ولایت کو قبول کرتے ہوئے، نجات کے الہی وعدے کو پورا کرنے اور مزاحمتی محاذ کی فتح کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا ہے۔
اس نشست کے دوسرے مہمان اور مقرر لبنان میں حزب اللہ کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ حسن علی البغدادی نے راہ خدا میں شہادت یا جنگ میں فتح کو مزاحمتی جنگجوؤں کے لیے دو ممکنہ نشیب و فراز قرار دیا اور کہا کہ "قاسم سلیمانی"، شهید "سید حسن نصرالله"، شهید "توسلی"، شهید "حسینی"، شهید "ابومهدی المهندس" و شهید "محمد عبدالکریم جماری" جیسے عظیم شہداء کا نقصان ہوا اور ان شہیدوں نے مزاحمت کے عزم اور ارادے میں کچھ کمی نہیں دکھائی ہے، اس لئے مزاحمت اپنی سرزمین، عزت اور شناخت کا دفاع کرے گی اور دشمن کو جہاں اس سے کم سے کم توقع بھی ہو اسے کچل دے گی۔
البغدادی نے کہا کہ "صیہونی دشمن مزاحمتی قوتوں کو شہید کر کے اپنے لیے ایک "فریبانہ فتح" اور "فریبانہ نتیجہ" حاصل کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل تسلط اور دباؤ کے ذریعے جنگ میں جو کچھ کھو چکے ہیں اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک "نیا مشرق وسطی"، "خطے کے وسائل کو تاراج کرنے،" "خطے کی تقسیم" اور "اسلام سے مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن آخر کار مزاحمت ہی نے یہ جنگ جیت لی۔
بعض لوگ قرآنی وارننگ پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟
حجت الاسلام علیرضا قبادی، سماجیات اور مذہبی امور کے محقق، نے ایک یادداشت میں، جو انہوں نے ایکنا کو فراہم کی ، "قرآنِ کریم میں سوالیہ اسلوب"کے موضوع کو مرکز بنا کر سورۂ مدثر میں موجود قرآنی سوالات کے پسِ پردہ معارف کو بیان کیا ہے، جسے ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سورۂ مدثر کا آخری سوال استفہامِ تعجبی یا توبیخی کے اسلوب میں اس طرح بیان ہوا ہے:
«فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ؟» (تو انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ نصیحت اور تنبیہ (قرآن) سے منہ موڑ رہے ہیں؟) (سورۂ مدثر، آیات ۴۹ اور ۵۰)
قرآنِ کریم چونکہ تذکیر اور انذار کا سرچشمہ ہے، اس لیے یہ توقع تھی کہ کفار یا مشرکین قرآن کی نصیحت اور تنبیہ سننے کے بعد متنبہ ہوتے، نہ کہ اس سے منہ موڑ لیتے۔ لیکن اس کے برعکس ان کا رویہ حیرت انگیز بلکہ قابلِ ملامت ہے۔
یہ روی گردانی اس لیے بھی باعثِ تعجب اور توبیخ ہے کہ قرآنِ کریم کی نصیحت اور تنبیہ کوئی بے بنیاد یا بے اثر انذار نہیں ہے۔ مزید یہ کہ قرآن ان کے اس اعراض کو ایک معمولی بے رخی قرار نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک خاص اور نہایت معنی خیز تشبیہ کے ذریعے بیان کرتا ہے، جو تعجب اور ملامت دونوں پہلو رکھتی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
«كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ» (گویا وہ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں)«فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ» (جو کسی شیر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہوں)
یہ تشبیہ واضح کرتی ہے کہ قرآنِ کریم سے ان کا فرار اور بے اعتنائی نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ سخت قابلِ ملامت بھی ہے۔ اس کے بعد قرآن ان کی طرف سے پیش کی جانے والی بہانہ سازیوں اور بے جا توقعات کو رد کرتا ہے اور ان کے اس طرزِ عمل کی اصل جڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
قرآن کے مطابق ان کے پند نہ قبول کرنے اور قرآن سے منہ موڑنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ یا تو وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، یا پھر ان کا ایمان ایسا نہیں جو آخرت کے خوف اور جواب دہی کے احساس کے ساتھ جڑا ہو۔
اس گفتار کا اختتام ہم امام ہادیؑ کی بارگاہِ قدسی میں سلام کے نذرانے کے ساتھ کرتے ہیں:
«السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُبَيِّنُ لِلْحَلالِ مِنَ الْحَرامِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْوَلِيُّ النَّاصِحُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الطَّرِيقُ الْواضِحُ»
آج دنیا کی اہم ضرورت، ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام ہے
،رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے یورپ میں اسٹوڈنٹس کی اسلامی انجمنوں کی یونین کی سالانہ نشست کے نام اپنے ایک پیغام میں اسلامی ایران کے جوانوں کی جدت طرازی، شجاعت اور ایثار کے سبب امریکا کی فوج اور خطے میں اس کی شرمناک اولاد کے بھاری حملے کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خبیث اور برائی پھیلانے والے منہ زوروں کی تلملاہٹ کی اصل وجہ ایٹمی مسئلہ نہیں بلکہ دنیا میں غیر منصفانہ نظام اور تسلط پسندانہ نظام کے تحکم سے مقابلے کے پرچم کا بلند ہونا اور ایران اسلامی کی جانب سے ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام کی طرف قدم بڑھانا ہے۔
رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عزیز جوانو!
اس سال آپ کے ملک نے، ایمان، اتحاد اور خود اعتمادی کی برکت سے دنیا میں ایک نئی حیثیت اور نیا وقار حاصل کیا ہے۔ امریکا کی فوج اور خطے میں اس کی شرمناک اولاد کے بھاری حملے، اسلامی ایران کے جوانوں کی جدت طرازی، شجاعت اور ایثار کے سبب مغلوب ہو گئے۔ ثابت ہو گيا کہ ایرانی قوم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایمان اور عمل صالح کے سائے میں خبیث اور ظالم سامراجیوں کے مقابلے میں ڈٹ سکتی ہے اور اسلامی اقدار کی طرف دعوت کو پہلے سے کہیں بلند آواز میں دنیا تک پہنچا سکتی ہے۔
ہمارے کچھ سائنسدانوں، کمانڈروں اور عزیز عوام کی شہادت کا گہرا غم، پرعزم ایرانی جوان کو نہ تو روک سکا ہے اور نہ روک پائے گا۔ ان شہیدوں کے اہل خانہ خود اس کارواں کو آگے بڑھانے والوں میں شامل ہیں۔
ایٹمی مسئلے اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کی بات نہیں ہے، بات موجودہ دنیا میں غیر منصفانہ نظام اور تسلط پسندانہ نظام کے تحکم سے مقابلے اور ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام کی طرف قدم بڑھانے کی ہے۔ یہ وہی بڑی دعوت ہے جس کا پرچم اسلامی ایران نے لہرایا ہے اور جس نے خبیث اور برائی پھیلانے والے منہ زوروں کو برہم کر دیا ہے۔
آپ اسٹوڈنٹس اور خاص کر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے کندھوں پر اس عظیم ذمہ داری کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اپنے دلوں کو خدا کے حوالے کر دیجیے، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیے اور انجمنوں کو اس سمت میں آگے بڑھائيے۔
اللہ آپ کے ساتھ ہے اور مکمل فتح آپ کے انتظار میں ہے، ان شاء اللہ
سیّد علی خامنہ ای
مکتبِ اہل بیتؑ خواتین کو خاندان اور سماج کے درمیان انتخاب پر مجبور نہیں کرتا: مدیر جامعۃ الزہراء (س) قم
جامعۃ الزہرا سلاماللہعلیہا کی مدیرہ محترمہ سیدہ زہرہ برقعی نے مکتبِ اہل بیت علیہم السلام میں عورت کے کردار کو جامع، متوازن اور تمدن ساز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مکتب میں عورت کی شناخت ایمان، عقلانیت، عطوفت، مادری کردار اور سماجی ذمہ داری کے ہم آہنگ امتزاج پر قائم ہے، نہ کہ کسی ایک محدود دائرے تک۔
انہوں نے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ میں ایمان صرف ذاتی یا باطنی معاملہ نہیں بلکہ عورت کے طرزِ زندگی، فیصلوں اور سماجی رویّوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی طرح عقلانیت ایمان کے مقابل نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے عورت بصیرت کے ساتھ درست فیصلے کرتی اور معاشرتی اقدار کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔
سیدہ زہرہ برقعی نے مادری کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ میں مادری محض گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ ایک گہرا، تمدن ساز فریضہ ہے۔ نسل کی تربیت صرف علم یا مہارت کی منتقلی نہیں بلکہ توحیدی، اخلاقی اور ذمہ دار انسانوں کی تشکیل کا عمل ہے، جس میں ماں کا کردار بنیادی اور ناقابلِ بدل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کا مستقبل درحقیقت ماؤں کے ہاتھوں تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سماجی ذمہ داری عورت کے ایمان سے جدا نہیں۔ مکتبِ اہل بیتؑ میں عورت کی سماجی موجودگی مقصدی، اخلاقی اور باوقار ہوتی ہے، جو عفت و کرامت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح اور اخلاقی سرمائے کے استحکام میں معاون بنتی ہے۔ اس نظرئیے میں عورت نہ خاندان سے کٹتی ہے اور نہ سماج سے الگ ہوتی ہے بلکہ دونوں کے درمیان درست توازن قائم رکھتی ہے۔
مدیر جامعۃ الزہرا سلاماللہعلیہا نے سیدہ فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کی سیرت کو عورت کے لیے مثالی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیرۂ فاطمی خاندان اور سماج کے درمیان حکیمانہ توازن کی روشن مثال ہے۔ حضرت فاطمہؑ نے مکمل گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ سماجی شعور، حق طلبی اور عدل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا اور اپنی اولاد کو بھی اسی شعور کے ساتھ پروان چڑھایا۔
ایپسٹین فائلز کے معمے سے آپ کیا سمجھے؟
ایپسٹین فائلز کو ہلکا نہ لیجئے۔ امریکی قانون سازوں نے ایک سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کے اثاثوں سے حاصل کردہ بیس ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان، ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن، سابق شہزادہ اینڈریو ماؤنٹبیٹن ونڈسر اور دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ اگرچہ ایپسٹین اب موجود نہیں، یہ دستاویزات اس کے وسیع اور پیچیدہ نیٹ ورک کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں اور عالمی سطح پر گہری توجہ اور مباحثے کا سبب بنی ہیں۔ یہ فائلز نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کے ہاں طاقت، دولت اور خاموشی کے گٹھ جوڑ کا دستاویزی ثبوت ہیں۔ یہ وہ عدالتی ریکارڈ ہیں، جو بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے نام سے وابستہ ہوئے اور اسی نسبت سے ایپسٹین فائلز کہلائے۔ نام ایک فرد کا ہے، مگر مفہوم ایک پورے نظام پر محیط ہے۔ ان فائلز میں فرد کی لغزش بھی ہے اور اداروں کی کمزوری بھی۔
یہ معاملہ دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں سامنے آیا اور سن 2019ء میں عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ جیفری ایپسٹین کی گرفتاری، موت اور پھر دستاویزات کی اشاعت نے اس قصے کو دبنے نہ دیا۔ عدالتوں میں کھلنے والی فائلز نے بتدریج وہ روابط آشکار کیے، جو برسوں پردے میں رہے۔ یوں ایپسٹین فائلز ماضی کا واقعہ نہیں رہیں بلکہ حال کی بحث بن گئیں۔ یاد رہے کہ قانون کی نظر میں یہ دستاویزات شہادت ہیں اور شہادت فیصلہ نہیں ہوتی۔ ناموں کا ظاہر ہونا الزام نہیں کہلاتا اور تعلق کا ذکر جرم نہیں بنتا۔ اس کے باوجود طاقتوروں کے باہمی تعلقات میں عام آدمی کیلئے چھپے خطرات اب سب کے سامنے آگئے ہیں۔ اگر اس وقت ان کا احتساب نہیں ہوگا تو پھر کبھی نہیں ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔ موصوف کا نام ایپسٹین کے سماجی تعلق داروں کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ الگ زاویہ ہے کہ یہ تعلق حقیقت میں اشرافی میل جول تک محدود رہا یا اس سے بھی آگے کا تھا۔ البتہ ابھی تک کسی عدالت نے اسے مجرمانہ رابطہ قرار نہیں دیا۔ اس کے باوجود سیاست دانوں کے ایسے سماجی تعلقات عوام کے لئے کیا پیغام رکھتے ہیں، وہ اب عوام ہی بتائیں گے۔ البتہ قابل ذکر ہے کہ میڈیا نے اس فرق کو پوری طرح برقرار نہیں رکھا۔ خبر نے قلم سے رفتار پائی اور مفہوم سکرین سے پیچھے رہ گیا۔ پبلک کے سامنے سرخی نے فیصلہ سنایا اور وضاحت حاشیے میں چلی گئی۔ یہی قلم کا امتحان ہوتا ہے، ایسی ہی صورتحال میں صحافت آزمائش میں پڑتی ہے اور سچ دباؤ میں آتا ہے۔
بلاشبہ اخلاقی سطح پر ایپسٹین فائلز ایک نمایاں دھبہ ہیں، امریکی سوسائٹی کے چہرے پر۔ امریکہ میں اب یہ چیلنج سامنے آگیا ہے کہ امریکی معاشرے میں طاقتور کا احتساب کہاں تک ممکن ہے اور کمزور کی آواز کب سنی جائے گی۔؟ متاثرین کی موجودگی اس کہانی کی اصل بنیاد ہے اور ان کی خاموشی اس نظام، اداروں، معاشرے اور سیاست کی سب سے بڑی ناکامی۔ ایپسٹین فائلز بے ںس لوگوں کی مظلومیت کا انجام نہیں ہیں بلکہ اعلان ہیں۔ یہ اعلان انصاف کی تاخیر کا بھی ہے اور اصلاح کی ضرورت کا بھی۔ یہ فائلز عالمی انسانی برادری کو یاد دلا رہی ہیں کہ قانون کاغذ پر نہیں، کردار میں زندہ رہتا ہے۔ قانون کو کاغذوں سے کردار میں ڈھالنے کی ہر جگہ ضرورت ہے اور شاید سب سے زیادہ ضرورت امریکہ میں ہے۔
ان فائلز سے پتہ نہیں آپ کیا کچھ سمجھے ہونگے، تاہم ایک بات مجھے بھی سمجھ آئی ہے اور وہ ایک بات یہ ہے کہ "طاقتور جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو قانون کمزور پڑ جاتا ہے اور انصاف محض ایک لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔ اور ہاں یہ بھی انہی فائلز سے ہی سمجھ لیجئے کہ مضبوط ادارے قانون کے آگے طاقتور کو قانونی طور پر جھکاتے ہیں، جبکہ کمزور ادارے طاقتور کے آگے قانون سمیت جھک جاتے ہیں۔
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
صومالیہ لینڈ کا فتنہ
صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک اور خطرناک جوا کھیلا ہے۔ اس نے جمعے کے دن اعلان کیا کہ وہ صومالیہ لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹ "ایکس" پر اپنے پیغام میں نیتن یاہو نے صیہونی وزیر خارجہ گیدون سعر اور صومالیہ لینڈ کے خود ساختہ صدر کے ہمراہ ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔ گیدون سعر نے بھی ایک علیحدہ بیان میں اعلان کیا کہ فریقین نے "مکمل سفارتی تعلقات بشمول سفیروں کی تقرری اور سفارت خانے کھولنے" پر اتفاق کیا ہے۔ صومالیہ لینڈ کے خود ساختہ صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی ایرو نے بھی تل ابیب کی طرف سے صومالیہ لینڈ کو ایک "آزاد اور خودمختار ریاست" کے طور پر تسلیم کرنے کو ایک "تاریخی لمحہ" قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتن یاہو نے صومالیہ لینڈ تسلیم کرنے کے اقدام کو ابراہیم معاہدے سے جوڑ دیا ہے۔
صومالیہ لینڈ کہاں ہے؟
"جمہوریہ صومالی لینڈ" ایک خودمختار علاقے کا نام ہے جو صومالیہ کے پانچ شمالی صوبوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے نے 1991ء سے یک طرفہ طور پر صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم، اب تک اسے صرف اسرائیل نے تسلیم کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اب بھی اسے صومالیہ کے ایک خود مختار علاقے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ افریقی ملک صومالیہ کے شمال مغرب میں واقع یہ علاقہ 175,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہے۔ صومالیہ لینڈ اپنی علیحدہ کرنسی، فوج اور پولیس فورس کا دعویدار ہے۔ یہ علاقہ خلیج عدن کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور اپنے تزویراتی محل وقوع کے پیش نظر آبنائے باب المندب کے دروازے پر دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جو بحیرہ احمر اور نہر سویز کی طرف جاتا ہے۔
اگرچہ صومالیہ لینڈ دیگر اکثر افریقی ممالک کی طرح تنہائی اور غربت کا شکار ہے لیکن صومالیہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ استحکام کا حامل ہے۔ صومالیہ لینڈ کی آبادی 60 لاکھ ہے اور اس کا دارالحکومت ہرگیسا ہے جو موغادیشو کے بعد صومالیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ صومالیہ لینڈ کو ایک "آزاد اور خودمختار ریاست" کے طور پر تسلیم کروانے کی کوششوں میں اس وقت مزید تیزی آئی جب 2024ء میں اس علاقے کے نئے سربراہ عبدالرحمان محمد عبداللہی نے اقتدار سنبھالا۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے خود کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کئے جانے سے صومالیہ لینڈ اپنا سفارتی اثرورسوخ بڑھانے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھا ہے لیکن صہیونی رژیم کے اس اقدام کے خلاف ردعمل اس قدر شدید تھا کہ شاید صومالیہ لینڈ آسانی سے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔
وسیع پیمانے پر مذمت
اسرائیل کی جانب سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی خبر سامنے آتے ہی صومالیہ کے اتحادی اور حامی ملک ترکی نے تل ابیب کے اس اقدام کی مذمت کی۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے خلاف تل ابیب کے اقدام کو "صومالیہ کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت" قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ترکی کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں دسمبر 2014ء میں صومالیہ اور ایتھوپیا کے درمیان معاہدہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں صومالیہ کی مرکزی حکومت میں ترک حکومت کا وسیع اثرورسوخ ہے۔ مصر نے بھی ہر قسم کے ایسے یک طرفہ اقدام کی مذمت کی ہے جو صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہو یا اس کے استحکام کو نقصان پہنچاتا ہو۔ مصر کی وزارت خارجہ نے بھی اس بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔
چار عرب ممالک کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد جاری ہونے والے اس بیان میں کہا گیا ہے: "عرب حکام اسرائیل کی جانب سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی مذمت کرتے ہیں اور صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور ملکی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ ایسے کسی بھی یک طرفہ اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جو صومالیہ کی خودمختاری کے خلاف ہو یا اس ملک میں عدم استحکام کا باعث بنتا ہو۔" اس بیان میں مزید کہا گیا ہے: "عرب ممالک کے وزرائے خارجہ صومالیہ حکومت کے جائز اداروں کے لیے اپنی حمایت پر زور دیتے ہیں اور صومالیہ کے اتحاد سے متصادم ہم پلہ اداروں کو مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔" سعودی عرب نے بھی صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کا نتیجہ علیحدگی پسندی کی صورت میں نکلے گا جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
متحدہ عرب امارات کی پراسرار خاموشی
عرب ممالک میں متحدہ عرب امارات وہ واحد ملک ہے جس نے صومالیہ لینڈ کو خودمختار ریاست تسلیم کیے جانے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ صومالیہ لینڈ میں ابوظہبی کے نمایاں اثرورسوخ کے پیش نظر کئی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم نے متحدہ عرب امارات کو اعتماد میں لے کر صومالیہ لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ روایتی طور پر صومالیہ لینڈ کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں اور بعض ماہرین کے مطابق اماراتی حکام صومالیہ لینڈ کی خودمختاری کو مصر کے خلاف ابوظہبی کی پوزیشن مضبوط کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابوظہبی وہ واحد عرب ملک ہے جو عرب دنیا میں وسیع پیمانے پر مذمت کے باوجود اسرائیل کی طرف سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کے بارے میں اب تک خاموش ہے۔ ایک ایسی خاموشی جس سے ابوظہبی کا اطمینان جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔
تحریر: رضا عموئی
آیت اللہ میلانی اسلامی نہضت کے مضبوط ستونوں میں سے ایک تھے، رہبر معظم انقلاب
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کی یاد میں منعقدہ کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات میں اس عظیم علمی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ میلانی معنوی، اخلاقی، علمی اور سماجی و سیاسی لحاظ سے ایک جامع شخصیت تھے اور مشہد کا حوزہ علمیہ حقیقت میں ان کا مرہونِ منت ہے۔
رہبرِ انقلاب نے آیت اللہ میلانی کی انفرادی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں وقار، متانت، تواضع اور دوستوں کے ساتھ وفاداری کا پیکر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علمی میدان میں وہ ایک بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے علامہ نائینی اور شیخ محمد حسین اصفہانی جیسے عظیم اساتذہ سے فیض حاصل کیا اور اپنے علمی بیان سے فاضل طلباء کی ایک بڑی کھیپ تیار کی۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ آیت اللہ میلانی 1960 کی دہائی کے اوائل میں اسلامی نہضت کے آغاز کے وقت اس کے اہم ستونوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے امام خمینی (رہ) کی گرفتاری کے بعد دیگر علماء کے ساتھ تہران کا سفر کیا اور امام (رہ) کی ترکی جلاوطنی کے بعد ان کی حمایت میں جو خط لکھا، وہ آج بھی ایک اہم تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
رہبر معظم نے مزید لہا کہ آیت اللہ میلانی مختلف سیاسی گروہوں سے رابطے میں رہنے کے باوجود کسی خاص سیاسی دھڑے سے منسوب ہونے سے سختی سے گریز کرتے تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ہمایش کے ذریعے عوام آیت اللہ میلانی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے بہتر طور پر واقف ہو سکیں گے۔
اس کانفرنس کے آغاز میں آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین مروی نے کانفرنس کے مقاصد، علمی کمیٹیوں کی کارکردگی اور مشہد و کربلائے معلیٰ میں ہونے والے نشستوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
امام علی نقی الہادی (ع) اور مستقبل کی منصوبہ بندی
حضرت امام نقی ہادی (ع) کی زندگی کے تاریخی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امام نے اسلامی تاریخ کے ایک مشکل ترین دور میں پوشیدہ انتظام، نظریاتی نیٹ ورکنگ اور مخصوص نظام کی تشکیل کے ذریعے امامت اور شیعہ معاشرے کو مشکلات اور تباہی کے خطرے سے بچایا۔ امام نقی (ع) کا دور اسلامی تاریخ کا ایک مشکل ترین دور تھا۔ یہ وہ دور تھا، جب امامت عباسیوں کے شدید ترین سیاسی اور سکیورٹی دباؤ کے سایہ میں تھی، ان تمام مشکلات کے باوجود امام نقی ہادی علیہ السلام نے شیعہ رہنمائی کے راستے کو محفوظ اور مستحکم کیا۔ امام علی النقی ہادی علیہ السلام نے ایسی حالت میں امت اسلامیہ کی امامت سنبھالی، جب خلافت عباسیہ کا ڈھانچہ سیاسی اور سلامتی کی پختگی کے عروج کو پہنچ چکا تھا۔ اس دور کو عباسی طاقت کے استحکام کا دور سمجھا جاتا تھا اور امامت کے مقام و منزلت کو کنٹرول کرنے، اس پر قابو پانے اور اسے ختم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ پالیسیوں کا آغاز تھا۔ ایک ایسی پالیسی، جس میں نہ صرف خود امام، بلکہ اہل بیت (ع) کے تمام مریدین، رفقاء اور پیروکاروں پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔
بچپن سے شہادت تک سیاسی دباؤ کا تسلسل
امام ہادی علیہ السلام نے اپنی امامت کے دوران نہ صرف عباسی خلفاء کا سامنا کیا بلکہ آپ اپنے بچپن، اپنی جوانی سے اپنے عظیم والد امام جواد علیہ السلام کی امامت کے دوران بھی سخت دباؤ اور حکومتی نگرانی کے ماحول میں بڑے ہوئے تھے۔کل آٹھ عباسی خلفاء آپ کے ہم عصر رہے اور سب کے سب ظلم و تشدد میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔
معاشرے میں امام کی عوامی موجودگی میں بتدریج کمی
امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد کے دور سے عالم تشیع میں ایک نیا تاریخی رجحان شروع ہوا، جس کے دوران معاشرے اور معصوم امام کے درمیان براہ راست اور کھلے رابطے کا امکان بتدریج کم ہوتا گیا۔ یہ رجحان امام جواد علیہ السلام کے زمانے میں ظاہر ہوا اور امام ہادی علیہ السلام کے دور میں اس مرحلے پر پہنچ گیا کہ امام نقی (ع) کے ساتھ عوام کا رابطہ بہت محدود اور کنٹرول شدہ ہوگیا۔ اس وقت امام ہادی علیہ السلام عملی طور پر خلافت کے اہلکاروں کی مسلسل نگرانی میں تھے۔ نقل و حرکت پر پابندیاں، مواصلات کا کنٹرول، بار بار طلبی اور خوف کی فضا پیدا کرنا عباسی خلفاء کی پالیسی کا اہم حصہ تھا۔ عباسی خلیفہ امام اور امامت کے مقام کو عوام سے الگ تھلگ کرنا چاہتے تھے۔ ایک ایسی پالیسی جس کا حتمی مقصد امام معصوم کو شیعہ سماج سے جدا کرنا تھا۔
متوکل عباسی اور پابندیوں میں شدت
متوکل کی حکومت کے دور کو اہل بیت (ع) کے خلاف دشمنی کی شدت کے حوالے سے ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس دور میں مذہبی علامتوں کی تباہی، سادات کا قتل، شیعوں پر جبر اور عقیدہ امامت پر سخت پابندیاں لگانا خلافت کی سرکاری پالیسی بن گئی تھی۔ اس صورتحال نے شیعہ معاشرے کو اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور میں ڈال دیا۔
اہم حکمت عملی کے طور پر رابطہ کے ایک نئے نظام کی تشکیل
ایسے حالات میں شیعہ مذہب کا تسلسل محض کبھی کبھار ردعمل یا عوامی موجودگی سے ممکن نہیں تھا۔ نئی شرائط کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھنے، تعلیمات اسلام کی ترسیل اور دینی کمیونٹی کے انتظام کے لیے ایک طویل مدتی نئے ماڈل کے ڈیزائنگ کی ضرورت تھی۔ ایک ایسا نمونہ جو امام کی ظاہری اور جسمانی موجودگی پر انحصار کیے بغیر شیعہ مذہب کی بقاء کی ضمانت دے سکے۔ اس تاریخی ضرورت کے جواب میں امام ہادی علیہ السلام نے نیابت کا نظام قائم کیا اور اسے وسعت دی۔ اس نظام کی بنیاد پر عالم اسلام کے مختلف خطوں میں قابل اعتماد افراد کو امام کے نمائندے کے طور پر مقرر کیا گیا، تاکہ وہ امام اور ملت شیعہ کے درمیان رابط کا کردار ادا کریں۔ نیابتی یا نمائندگی کا نظام محض ایک انتظامی طریقہ کار نہیں تھا، بلکہ دینی تعلیمات کی ترسیل، نظریاتی مسائل کا جواب، مالیاتی امور کو منظم کرنے، فکری ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور نظریاتی انحرافات کو روکنے کے لیے ایک کثیر الجہتی نیٹ ورک تھا۔ ایک ایسا نیٹ ورک جس نے سخت گھٹن اور شدید دباؤ کے حالات میں شیعہ کمیونٹی کے انتظام کو فعال کیا۔
براہ راست رسائی کے بغیر آئندہ دور کیلئے ایک تاریخی مشق
عملی طور پر اس ماڈل نے شیعہ مسلمانوں کو ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ کیا، جس میں معصوم امام تک براہ راست اور کھلی رسائی ممکن نہ ہو۔ اس نقطہ نظر سے نیابتی یا نمائندگی کے نظام کو اس دور میں داخل ہونے کے لیے ایک عملی اور بتدریج تجربے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جسے بعد میں غیبت کا دور کہا گیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد معصوم امام علیہ السلام سے بالواسطہ رابطے کا ڈھانچہ غیبت کے دور میں جاری رہا۔ اس تاریخی تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ غیبت کوئی اچانک واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک تدریجی اور منظم عمل کا نتیجہ تھا، جس کی بنیاد امام ہادی علیہ السلام کے دور میں رکھی گئی تھی۔
اس ڈھانچے میں، اگرچہ معاشرے میں امام کی جسمانی موجودگی محدود تھی، لیکن مذہبی، فکری اور نظریاتی رہنمائی میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ امام نقی (ع) کے دور میں شیعہ مسلمانوں نے قابل اعتماد نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہوئے اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو محفوظ اور منتقل کرنے کا طریقہ سیکھا۔ عام عقیدہ کے برخلاف، امام ہادی علیہ السلام کی امامت کا دور محض بقا کا دور نہیں تھا بلکہ ترقی کا دور بھی تھا۔ اس دور میں شیعان اہلبیت کے علم، اخلاق اور اعتقاد کی سطح میں بہتری آئی اور ایک زیادہ باخبر اور مربوط ادارہ تشکیل پایا۔
شیعہ دنیا کی بااثر شخصیات کی تربیت
اس طرزِ فکر کا ثمر طلبہ اور شخصیات کی تربیت تھی، جن میں سے ہر ایک بعد میں اسلامی دنیا کے مختلف خطوں میں اثر و رسوخ کا ذریعہ بنا۔ ان شاگردوں میں تہران کے علاقے شہر رے میں مدفون حسنی سادات کے حضرت عبدالعظیم حسنی ان شخصیات میں سے ایک ممتاز ترین شخصیت ہیں، جنہوں نے امام ہادی (ع) کی رہنمائی میں اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ری کے علاقے میں ان کی موجودگی نے دیرپا تاریخی اور نظریاتی آثار چھوڑے۔
امام ہادی علیہ السلام، شیعہ مذہب کی تاریخی تبدیلی کے معمار
ان تاریخی شواہد کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ہادی علیہ السلام نہ صرف ایک مخصوص دور کے امام تھے بلکہ شیعیت کی ایک اہم ترین تاریخی تبدیلی کے معمار بھی تھے۔ آپ نے عوامی موجودگی کے دور سے پوشیدہ، لیکن مسلسل اور گہری رہنمائی کے ذریعے امامت کی تعلیمات و امامت کی منتقلی کے نظام کو متعارف کرایا۔
تحریر: محمد ویسمرادی




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
