سلیمانی

سلیمانی

 ایران کے اسپیکر ڈاکٹر محمدباقر قالیباف نے سماجی رابطے کے ایکس پیج پر اپنی پوسٹ میں خبردار کیا ہے کہ لبنان اور استقامتی محاذ جنگ بندی میں شامل ہیں اور انہیں الگ نہیں کیا جاسکتا۔

 انھوں نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ " لبنان اور پورا استقامتی محاذ، جنگ بندی کے لئے ایران کی دس نکاتی تجویز کی پہلی ہی شق میں شامل ہے۔

ڈاکٹر قالیباف نے کہا کہ پاکستان کے محترم وزیر اعظم نے آشکارا اور شفاف طور پر لبنان کے موضوع پر زور دیا ہے اور اس سے مکرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ایران کے اسپیکرپارلیمان نے کہا کہ " جنگ بند کرو، جنگ بندی کی خلاف ورزی کی قیمت اور ہمارا جواب بہت سخت ہوگا۔'

رہبر معظم اسلامی انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ چالیس دنوں کی طرح عوام کی میدان میں موجودگی جاری رہنی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق شہید امام خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر اور موجودہ جنگی صورتحال کے حوالے سے جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے تک پہنچ کر پورے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ایران کی بہادر قوم اس میدان میں کامیاب رہی ہے۔ اگر کسی وجہ سے جنگی محاذ پر وقتی خاموشی آ بھی جائے تو عوام کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج تک، دفاع مقدس کے اس مرحلے میں، ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آپ، اہل ایران، اس میدان کے واضح فاتح ہیں۔ اگر فرض کریں کہ اب فوجی محاذ پر خاموشی کا وقت آگیا ہے، تو عام لوگوں کا جو مساجد، گلیوں اور میدانوں میں جاسکتے ہیں، کردار پہلے سے بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ یقیناً آپ کے نعرے اور مظاہرے مذاکرات کے نتائج پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

رہبر انقلاب نے زور دے کر کہا کہ دشمن کے ساتھ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کی سڑکوں پر موجودگی ختم ہوجائے۔ ایک مضبوط ایران کے لیے ضروری ہے کہ عوام اسی طرح متحد اور متحرک رہیں جیسے وہ گزشتہ چالیس دنوں سے رہے ہیں۔ میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ سے کہتا ہوں کہ ہم آپ کی خصوصی دعا کے ذریعے، چاہے مذاکرات میں ہو یا میدانِ جنگ میں، دشمن پر حتمی فتح کے لیے پوری دل جمعی کے ساتھ یقین رکھتے ہیں۔

حضرت آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای نے کہا کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن اپنے حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے اور پوری مزاحمتی صف کو یکجا سمجھتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے، ہم ظالم حملہ آوروں کو نہیں چھوڑیں گے، ہر نقصان، شہداء کے خون کا بدلہ اور جانبازوں کے نقصان کی پوری قیمت طلب کریں گے اور تنگہ ہرمز کی نگرانی کو ایک نئے مرحلے میں لے جائیں گے۔

انہوں نے جنوبی ہمسایہ ممالک سے کہا کہ آپ ایک معجزہ دیکھ رہے ہیں، اسے صحیح سمجھیں، صحیح جگہ کھڑے ہوں اور شیطانی جھوٹے وعدوں پر شک کریں۔ ہم ابھی بھی آپ کی مناسب کارروائی کے منتظر ہیں تاکہ ہم آپ کی بھائی چارگی اور خیرخواہی دیکھ سکیں۔ یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب آپ ظالموں سے لاتعلقی اختیار کریں۔ اس لیے یا تو ان سے رابطہ ترک کریں یا ان کی پیشکشوں پر بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ غور کریں۔

انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ دشمن کے حمایت یافتہ میڈیا سے محتاط رہیں کیونکہ ایسے ذرائع ابلاغ ایران اور اس کی قوم کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

 "حزب اللہ کو تنہا نہ چھوڑیں" یہ جملہ بظاہر ایک سیاسی مشورہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک گہری تزویراتی، تاریخی اور تہذیبی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے چیف ایڈیٹر نے اپنی یاد داشت میں لکھا کہ ایسے وقت میں جب امریکی۔صہیونی محاذ نے ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی جنگ کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لانے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، حزب اللہ نے فوری طور پر میدان میں آ کر مقابلے کا بڑا حصہ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ یہ محض علامتی حمایت نہیں تھی بلکہ اس اقدام نے جنگ کے میدان اور نفسیاتی فضا دونوں میں توازن کو بدل دیا۔

اداریے میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حالات میں جب جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، صہیونی حکومت کے طرز عمل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ تو عالمی اصولوں کی پابند ہے اور نہ ہی جنگ بندی کو سنجیدگی سے لیتی ہے، بلکہ اسے اپنی طاقت بحال کرنے اور دوبارہ حملے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ لبنان پر حملے اور شہریوں کا قتل اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

چیف ایڈیٹر کے مطابق اگر جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا کوئی عملی جواب نہ دیا گیا تو اس کا پیغام پورے خطے میں جائے گا کہ جارحیت کی قیمت زیادہ نہیں اور قوانین کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

اخلاقی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کو ضرورت کے وقت تنہا چھوڑ دینا نہ صرف انسانی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے تزویراتی طاقت بھی کمزور ہوتی ہے۔ حزب اللہ اور لبنان کے عوام نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا تعلق محض وقتی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ خطرات اور مستقبل کی سمجھ پر قائم ہے۔

اداریے میں مزید کہا گیا کہ خطے کے حالیہ تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ جب بھی مزاحمتی محاذ کا کوئی حصہ کمزور ہوا، دباؤ فوری طور پر دوسرے حصوں تک منتقل ہو گیا۔ شام کی صورتحال، حماس پر دباؤ اور حزب اللہ پر حملوں نے بالآخر ایسے حالات پیدا کیے کہ دشمن نے براہ راست ایران کو نشانہ بنانے کی جرات کی۔

لبنان کے عوامی ردعمل کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر وہاں کے لوگ خود کو تنہا محسوس کریں تو یہ احساس بداعتمادی میں بدل سکتا ہے، جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے گا اور خطے میں قائم اعتماد کو کمزور کرے گا۔

آخر میں چیف ایڈیٹر نے زور دیا کہ آج کی دنیا میں سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ تہران کی سلامتی بیروت اور اس کے نواحی علاقوں سے الگ نہیں۔ اس لیے حزب اللہ اور لبنان کا دفاع کوئی جذباتی یا محض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر تزویراتی ضرورت ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت مستقبل میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

مطابق دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اس معاہدے کے باوجود صہیونی حکومت نے لبنان کے متعدد علاقوں پر وسیع پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جس سے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اپنے ابتدائی ردعمل میں کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے، تاہم ان کے بقول یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔

 

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: واشنگٹن اور تل ابیب کے پالیسی سازوں نے انتہائی باریک بینی کے ساتھ ایسا منصوبہ تیار کیا تھا جس کا مقصد ایران کو شدید دباؤ میں لاکر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ایک طرف ایران کے دفاعی نظام کو کمزور کرنا اور دوسری طرف حکومت اور عوام کے درمیان موجود مضبوط تعلق کو توڑنا مقصود تھا۔ تاہم چالیس روز تک جاری رہنے والی مزاحمت کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی اور اب دشمن نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے تہران کی شرائط کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صرف معمول کی سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی عسکری حکمت عملی کی ایک بڑی اور تاریخی ناکامی ہے۔

اس صورتحال کو ایک اہم اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جارہا ہے جس میں مزاحمت بتدریج ایسی سفارت کاری میں تبدیل ہوگئی جس نے مخالف قوتوں کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کردیا۔ اس عمل میں ایرانی عوام کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ عوامی استقامت ہی قومی طاقت اور اقتدار کی اصل بنیاد ثابت ہوئی۔

انقلابی بصیرت کے مقابلے میں دشمن کی حکمت عملی ناکام

گزشتہ چالیس دن ایران پر ہونے والا حملہ جدید تاریخ کے پیچیدہ اور کثیر جہتی حملوں میں سے ایک تھا۔ دشمن نے فوجی کارروائیوں، سائبر حملوں، معاشی دباؤ اور نفسیاتی جنگ کو یکجا کرکے میدان جنگ کی سرحدیں دانستہ طور پر دھندلا دی تھیں تاکہ قومی ارادے کو کمزور کیا جاسکے۔ مگر جس چیز کا اندازہ پینٹاگون اور موساد کی منصوبہ بندی میں نہیں لگایا جاسکا، وہ ایران کی انقلابی بصیرت تھی؛ یعنی تزویراتی تدبر، حکمتِ عملی پر مبنی صبر اور مناسب وقت پر درست اور مؤثر ردعمل کا امتزاج۔

دشمن کی پسپائی کسی خیرسگالی کا اظہار نہیں بلکہ مکمل عسکری تعطل اور خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خطے میں اس کے مفادات پر بڑھتی ہوئی ضربت کا نتیجہ ہے۔ اس صورتحال نے ثابت کیا کہ موجودہ عالمی نظام میں حق صرف مذاکرات کی میز پر نہیں ملتا بلکہ اسے طاقت کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے۔

دباؤ کے ہر نئے مرحلے کے جواب میں ایران نے دفاعی، میزائل، بحری اور حتی کہ سفارتی سطح پر بھی اپنے اقدامات کو مزید مضبوط کیا۔ اس کے نتیجے میں مخالف فریق اس نتیجے پر پہنچا کہ اس تنازع کو جاری رکھنے سے ایران نہیں بلکہ عالمی توانائی کی سلامتی اور اس کے اپنے اتحاد متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایران نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ طویل جنگ کا رخ اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تزویراتی پختگی نے دشمن کی حکمت عملی کو عملی طور پر ناکام بنا دیا اور دنیا کے سامنے دانشمندانہ مزاحمت کا ایک نیا نمونہ پیش کیا۔

عوام؛ ملکی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی

دشمن کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے ایرانی حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کا غلط اندازہ لگایا۔ انہوں نے خیالی اختلافات پر اپنی حکمت عملی بنائی تھی، لیکن اس کے برعکس انہیں ایک باشعور اور فطری قومی یکجہتی کا سامنا کرنا پڑا؛ ایسا رشتہ جس کی جڑیں تاریخ، ثقافت اور انقلابی اقدار میں پیوست ہیں۔

دشمن کی عسکری پسپائی کے بعد اب مقابلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس میں حاصل شدہ کامیابیوں کو مضبوط بنانا اور بیانیے کی جنگ اہم ہوگئی ہے۔ آئندہ دو ہفتوں کے دوران عوام کی بھرپور موجودگی قومی طاقت کو مزید مضبوط بنانے اور ایران کی شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دشمن اب اپنی شکست کے بیانیے کو بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسے میں مطالبات کے بارے میں بیداری، سماجی یکجہتی کو برقرار رکھنا اور مسلح افواج کی بھرپور حمایت ہی وہ راستہ ہے جس سے دشمن اپنی عسکری ناکامی کو میڈیا یا نفسیاتی سازشوں کے ذریعے پورا نہیں کر سکے گا۔

باشعور اور پرجوش عوامی شرکت نہ صرف سفارت کاروں اور فوجی قیادت کے لیے قوت کا ذریعہ بنی بلکہ اس سے دشمن کو یہ پیغام ملا ہے کہ اگر وہ عسکری محاذوں کو نقصان پہنچانے میں کامیاب بھی ہوجائے تو بھی قوم کے عزم کی دیوار اس کے لیے ناقابل عبور رہے گی۔

انقلاب مخالف گروہوں کا زوال؛ اقتدار کے خواب سے دائمی رسوائی تک

ان چالیس دنوں کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ انقلاب مخالف گروہوں کی حقیقت اور ان کی بنیادی کمزوریاں پوری طرح بے نقاب ہوگئیں۔ یہ گروہ جو اس مہم میں میڈیا اور ثقافتی محاذ پر دشمن کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے، اب اس وقت عملی طور پر سیاسی طور پر تنہا رہ گئے ہیں جب ان کے مغربی اور صہیونی سرپرست ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔

جو لوگ کل تک ایران کے قریب الوقوع زوال کی پیش گوئیاں کر رہے تھے، آج وہ ایسے حالات دیکھ رہے ہیں جن میں امریکہ اور صہیونی حکومت کو تہران کی شرائط ماننے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس صورتحال کے بعد ان گروہوں کے سماجی حلقوں میں شدید مایوسی پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجے میں غیر معمولی ٹوٹ پھوٹ، بعض عناصر کی واپسی اور شکست کی ذمہ داری کے تعین پر اندرونی جھگڑے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

وہ منصوبہ جس کے تحت بیرونی سرمایہ اور حمایت کے ذریعے ایران میں اختلافات اور داخلی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، بالآخر مکمل ناکامی اور سیاسی و سماجی منظرنامے سے ان گروہوں کی تنہائی پر ختم ہوا۔ یہ واقعہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک اہم سبق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حاصل سخن

چالیس دن کی یہ تاریخی استقامت صرف ایک عسکری اور سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ایران ایک دفاعی کردار تک محدود رہنے کے بجائے اب ایسی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے جو بڑی عالمی قوتوں پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے اور خطے میں مزاحمتی محور کے حق میں حالات کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس صورتحال کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ صرف عسکری میدان میں کامیابی کافی نہیں ہوتی، جب تک اسے عوامی اور سماجی میدان میں محفوظ اور مستحکم نہ کیا جائے۔ آئندہ دو ہفتے اس حوالے سے نہایت اہم قرار دیے جارہے ہیں، جن میں اسٹریٹجک صبر اور عوام کی بھرپور شرکت کو کامیابی کے تسلسل کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ دشمن پسپا ہوچکا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ حقیقت سمجھ لے کہ ایرانی عوام کا عزم اور اتحاد کسی بھی فوجی دفاعی حصار یا مضبوط قلعے سے زیادہ طاقتور اور ناقابل نفوذ ہے۔

ان چالیس دنوں کو ایران کے اقتدار کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔ ایسا دور جس میں مزاحمت صرف ایک وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ بقا، ترقی اور قومی خودمختاری کے لیے بنیادی راستہ سمجھی جارہی ہے۔ ایرانی قوم نے اپنے مضبوط عزم کے ساتھ ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہے اور مستقبل میں بھی اپنے اہداف حاصل کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی تبلیغاتی رابطہ کونسل نے ایک اعلامیے میں شہید امت کے چہلم کی تقریبات کا پروگرام جاری کرتے ہوئے ملک کے تمام طبقات سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے تاکہ ایک اور یادگار منظر رقم کیا جا سکے۔

اعلامیے میں رہبر شہید کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس دلخراش واقعے کو چالیس دن گزر چکے ہیں جب امت مسلمہ نے اپنے ایک عظیم رہنما کی جدائی کا گہرا دکھ برداشت کیا۔

بیان میں آیا ہے، حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ای، جو امت مسلمہ کے عظیم رہنما، مسلمانوں کے پیشوا، محروم طبقات کے قائد اور استقامت و جدوجہد کی علامت تھے، ایک وحشیانہ حملے میں امریکہ اور صہیونی ریاست کے ہاتھوں شہید ہو گئے اور اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس عظیم رہنما نے اپنی پوری زندگی حق کے فروغ، اسلامی نظام کے تحفظ اور قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دی، جبکہ قوم نے بھی ہر مرحلے پر ان کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور اب بھی ان کے چہلم کے موقع پر بھرپور شرکت کے ذریعے اپنے عہد کی تجدید کرے گی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کٹھن وقت میں ایک نئے رہنما کے انتخاب نے قوم کے زخموں پر مرہم رکھا اور معاشرے میں استحکام پیدا کیا۔

دشمن نے یہ گمان کیا تھا کہ قیادت کو نشانہ بنا کر وہ اس مضبوط نظام کو کمزور کر دے گا، تاہم قوم نے ہمیشہ اپنے شہداء کے خون سے نئی طاقت حاصل کی ہے اور یہ اجتماع بھی دشمن کے اس خیال کا بھرپور جواب ثابت ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق بدھ کے روز، جو چہلم کی شب ہوگی، ملک بھر میں رات 8 بجے مساجد، مرکزی چوراہوں اور مزارات پر مجالس، نوحہ خوانی، ذکر اور تلاوت قرآن کی محافل منعقد ہوں گی۔

جمعرات کے روز صبح 9 بجے دارالحکومت تہران میں ریلیاں نکالی جائیں گی جو جمہوریہ اسکوائر سے شروع ہو کر محل شہادت کے قریب اختتام پذیر ہوں گی، جہاں سوگ اور عزاداری کی جائے گی۔

اسی روز رات 9 بجے مختلف مقامات پر امام زمانہ کی سلامتی کی دعا اجتماعی طور پر پڑھی جائے گی۔

جمعہ کے روز نماز جمعہ سے قبل صبح 10 بجے ملک بھر کی عیدگاہوں اور جامع مساجد میں چہلم کی مرکزی تقریبات منعقد ہوں گی، جن میں قرآن خوانی، اجتماعی تلاوت، دعائیں، مرثیہ خوانی، نعت و حمد، اور تقاریر شامل ہوں گی، جبکہ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔

اس کے علاوہ 8 سے 10 اپریل تک گھروں میں بھی مجالس کے انعقاد اور سورہ فتح کی اجتماعی تلاوت کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ قوم اور مزاحمتی محاذ کی کامیابی کے لیے دعا کی جا سکے۔

آخر میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایک بار پھر اپنی بیداری اور اتحاد کا مظاہرہ کریں اور یہ ثابت کریں کہ وہ اپنے رہبر اور شہداء کے راستے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکٹر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آج منگل کو اپنے سماجی رابطے کے ایکس پیج پر " جان فدا برائے ایران" یعنی ایران کے لئے جان فدا کرنے کی مہم میں حصہ لینے کے لئے  اپنے رجسٹریشن کا فارم شیئر کیا ہے۔

 اسپیکر ڈاکٹر قالیباف نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایران کوجھکانے یا  اس کو دھمکی دینے کے لئے اٹھنے والی ہر انگلی کاٹ دی جائے گی۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو کے حوالے سے ارنا کی ہفتہ کو ایک رپورٹ کے مطابق، آج صبح ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر اور وزارت جنگ کو نقصان پہنچا ہے۔

دریں اثنا، اسرائیلی نیوز نیٹ ورک کان  نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح ایران سے داغے گئے میزائل سے نکلنے والے دو کلسٹر بم تل ابیب میں اسرائیلی وزارت جنگ کے ہیڈ کوارٹر کے قریب گرے۔

عبرانی میڈیا نے بتایا کہ ایران کے میزائل حملے کے بعد حیفا، گلیلی اور مقبوضہ فلسطین کے پورے شمالی علاقے میں خطرے سائرن بجنے کی آوازیں تا دیر سنائی دیتی رہیں۔

عبرانی میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ کم از کم ایک میزائل نے اسرائیلی دفاعی لائن سے گزر کر اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ یہ صیہونی حکومت کے خلاف ایران اور لبنان کا مشترکہ حملہ تھا اور بالائی گلیلی میں شدید دھماکے ہوئے اور ایک میزائل عکر ٹاؤن پر بھی گرا۔

ارنا کے مطابق صیہونی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے نئے میزائلوں نے اسرائيل کے ڈیفنس سسٹم کو نئی مشکلات سے دوچار اور پوری طرح ناکام بنادیا ہے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے کلسٹر وار ہیڈ لیجانے والے میزائلوں کی ڈیزائنںگ اس طرح کی گئی ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس سسٹم اس کو روک نہیں پاتے اور ان میزائلوں کا بالائی حصہ الگ ہوتے ہی اس کے اندرسے  متعدد وار ہیڈ نکل کر پھیل جاتے ہیں اور اپنے اہداف کو آسانی سے نشانہ بنالیتے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل جو کلسٹر وار ہیڈ لے جاتے ہیں، اس ميں دسیوں چھوٹے وار ہیڈ ہوتے ہیں جو سطح زمین سے تقریبا سات کلومیٹر کی بلندی پر میزائل سے الگ ہوکر فضا میں پھیل جاتے ہیں۔  

صیہونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے ان میزائلوں نے اسرائیلی حکومت کے ڈیفنس سسٹم پر دباؤ بہت زیادہ بڑھا دیا ہے  اور انہیں عملا ناکارہ بنادیا ہے۔

 ان ذرا‏ئع کے مطابق ایران نے گزشتہ پانچ ہفتے میں پانچ سو سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے ہیں جن کی ایک بڑی تعداد کلسٹر وار ہیڈ سے لیس تھی۔

ایران کے کلسٹر وار ہیڈ بیلیسٹک میزائلوں میں خرم شہر نامی میزآئل ایک ساتھ 80 وار ہیڈ ہیڈ لیجاتا ہے جو 13 کلومیٹر کے علاقے میں پھیل کر اپنے اہداف کو نشانہ بناکر تباہ کردیتے ہیں۔