سلیمانی
ایران نے اپنے تین سیٹیلائیٹس کو کامیابی سے فضا روانہ کردیئے
اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے تین سیٹیلائٹس کامیابی سے فضا کی جانب روانہ کردیئے۔
تینیوں سیٹیلائٹس کو سایوز ب 2۔1 راکٹ کے زریعے روانہ کیا گیا۔
ایران نے اپنے سیٹیلائٹس بھیجنے کے لئے روسی خلائی اسٹیشن استوچنی کو انتخاب کیا تھا جہاں سے آج تہران کے مقامی وقت کے مطابق 4 بج کر 48 منٹ پر یہ راکٹ کامیابی سے خلائی مدار کی جانب روانہ ہوگیا۔
شہید سلیمانی کا ہدف اسلامی وحدت کی بنیاد پر اسلامی تمدن کا احیاء تھا
سردار قلوب شہید حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی کے موقع پر ایران میں مقیم افغانی باشندوں کی ثقافتی اور سماجی فاؤنڈیشن کی جانب سے مشہد میں دوسری بین الاقوامی کانفرنس "الغالبون، مکتب شہید سلیمانی، مزاحمت کا راستہ اور روایت" کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایرانی اور غیر ملکی شخصیات اور رہنماؤں سمیت افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
بحرین کے شیعہ رہنما کے نمائندے شیخ "عبداللہ الدقاق" نے شہید حاج قاسم سلیمانی کے منفرد مقام کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی کہ حاج قاسم سلیمانی تین بنیادی افعال کی مربوط کڑی تھے۔ ایک طرف انہوں نے اپنے تزویراتی ویژن سے افق کو صحیح طور پر دیکھا تو دوسری طرف وفادار اور بہادر انسانی وسائل کی تربیت اور تنظیم کے ذریعے مزاحمت کے جسم کو مضبوط کیا اور بالآخر مزاحمتی محور کے ممالک کی تمام سہولیات اور صلاحیتوں کو مقبوضہ سرزمینوں کو آزاد کرانے اور قوموں کی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
شیخ دقاق نے مزاحمتی کمانڈروں کے خلاف استکبار کی شدید دشمنی کی وجہ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ حاج قاسم سلیمانی، ابومہدی المہندس اور دیگر مزاحمتی رہنماؤں کو قتل اور شہید کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس گہرے تہذیبی اور اسٹریٹجک وژن کے حامل تھے۔ ایک ایسا وژن جس نے دشمن کی مساوات میں خلل ڈالا اور تسلط کی بنیادیں ہلا دیں۔
مزاحمتی مکتب کی قرآنی جڑوں پر تاکید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکتب شہید حاج قاسم سلیمانی نے حکمت عملی کے تجزیے، انسانی وسائل کی تربیت اور ولایت کو قبول کرتے ہوئے، نجات کے الہی وعدے کو پورا کرنے اور مزاحمتی محاذ کی فتح کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا ہے۔
اس نشست کے دوسرے مہمان اور مقرر لبنان میں حزب اللہ کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ حسن علی البغدادی نے راہ خدا میں شہادت یا جنگ میں فتح کو مزاحمتی جنگجوؤں کے لیے دو ممکنہ نشیب و فراز قرار دیا اور کہا کہ "قاسم سلیمانی"، شهید "سید حسن نصرالله"، شهید "توسلی"، شهید "حسینی"، شهید "ابومهدی المهندس" و شهید "محمد عبدالکریم جماری" جیسے عظیم شہداء کا نقصان ہوا اور ان شہیدوں نے مزاحمت کے عزم اور ارادے میں کچھ کمی نہیں دکھائی ہے، اس لئے مزاحمت اپنی سرزمین، عزت اور شناخت کا دفاع کرے گی اور دشمن کو جہاں اس سے کم سے کم توقع بھی ہو اسے کچل دے گی۔
البغدادی نے کہا کہ "صیہونی دشمن مزاحمتی قوتوں کو شہید کر کے اپنے لیے ایک "فریبانہ فتح" اور "فریبانہ نتیجہ" حاصل کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل تسلط اور دباؤ کے ذریعے جنگ میں جو کچھ کھو چکے ہیں اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک "نیا مشرق وسطی"، "خطے کے وسائل کو تاراج کرنے،" "خطے کی تقسیم" اور "اسلام سے مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن آخر کار مزاحمت ہی نے یہ جنگ جیت لی۔
بعض لوگ قرآنی وارننگ پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟
حجت الاسلام علیرضا قبادی، سماجیات اور مذہبی امور کے محقق، نے ایک یادداشت میں، جو انہوں نے ایکنا کو فراہم کی ، "قرآنِ کریم میں سوالیہ اسلوب"کے موضوع کو مرکز بنا کر سورۂ مدثر میں موجود قرآنی سوالات کے پسِ پردہ معارف کو بیان کیا ہے، جسے ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سورۂ مدثر کا آخری سوال استفہامِ تعجبی یا توبیخی کے اسلوب میں اس طرح بیان ہوا ہے:
«فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ؟» (تو انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ نصیحت اور تنبیہ (قرآن) سے منہ موڑ رہے ہیں؟) (سورۂ مدثر، آیات ۴۹ اور ۵۰)
قرآنِ کریم چونکہ تذکیر اور انذار کا سرچشمہ ہے، اس لیے یہ توقع تھی کہ کفار یا مشرکین قرآن کی نصیحت اور تنبیہ سننے کے بعد متنبہ ہوتے، نہ کہ اس سے منہ موڑ لیتے۔ لیکن اس کے برعکس ان کا رویہ حیرت انگیز بلکہ قابلِ ملامت ہے۔
یہ روی گردانی اس لیے بھی باعثِ تعجب اور توبیخ ہے کہ قرآنِ کریم کی نصیحت اور تنبیہ کوئی بے بنیاد یا بے اثر انذار نہیں ہے۔ مزید یہ کہ قرآن ان کے اس اعراض کو ایک معمولی بے رخی قرار نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک خاص اور نہایت معنی خیز تشبیہ کے ذریعے بیان کرتا ہے، جو تعجب اور ملامت دونوں پہلو رکھتی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
«كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ» (گویا وہ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں)«فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ» (جو کسی شیر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہوں)
یہ تشبیہ واضح کرتی ہے کہ قرآنِ کریم سے ان کا فرار اور بے اعتنائی نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ سخت قابلِ ملامت بھی ہے۔ اس کے بعد قرآن ان کی طرف سے پیش کی جانے والی بہانہ سازیوں اور بے جا توقعات کو رد کرتا ہے اور ان کے اس طرزِ عمل کی اصل جڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
قرآن کے مطابق ان کے پند نہ قبول کرنے اور قرآن سے منہ موڑنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ یا تو وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، یا پھر ان کا ایمان ایسا نہیں جو آخرت کے خوف اور جواب دہی کے احساس کے ساتھ جڑا ہو۔
اس گفتار کا اختتام ہم امام ہادیؑ کی بارگاہِ قدسی میں سلام کے نذرانے کے ساتھ کرتے ہیں:
«السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُبَيِّنُ لِلْحَلالِ مِنَ الْحَرامِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْوَلِيُّ النَّاصِحُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الطَّرِيقُ الْواضِحُ»
آج دنیا کی اہم ضرورت، ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام ہے
،رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے یورپ میں اسٹوڈنٹس کی اسلامی انجمنوں کی یونین کی سالانہ نشست کے نام اپنے ایک پیغام میں اسلامی ایران کے جوانوں کی جدت طرازی، شجاعت اور ایثار کے سبب امریکا کی فوج اور خطے میں اس کی شرمناک اولاد کے بھاری حملے کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خبیث اور برائی پھیلانے والے منہ زوروں کی تلملاہٹ کی اصل وجہ ایٹمی مسئلہ نہیں بلکہ دنیا میں غیر منصفانہ نظام اور تسلط پسندانہ نظام کے تحکم سے مقابلے کے پرچم کا بلند ہونا اور ایران اسلامی کی جانب سے ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام کی طرف قدم بڑھانا ہے۔
رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عزیز جوانو!
اس سال آپ کے ملک نے، ایمان، اتحاد اور خود اعتمادی کی برکت سے دنیا میں ایک نئی حیثیت اور نیا وقار حاصل کیا ہے۔ امریکا کی فوج اور خطے میں اس کی شرمناک اولاد کے بھاری حملے، اسلامی ایران کے جوانوں کی جدت طرازی، شجاعت اور ایثار کے سبب مغلوب ہو گئے۔ ثابت ہو گيا کہ ایرانی قوم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایمان اور عمل صالح کے سائے میں خبیث اور ظالم سامراجیوں کے مقابلے میں ڈٹ سکتی ہے اور اسلامی اقدار کی طرف دعوت کو پہلے سے کہیں بلند آواز میں دنیا تک پہنچا سکتی ہے۔
ہمارے کچھ سائنسدانوں، کمانڈروں اور عزیز عوام کی شہادت کا گہرا غم، پرعزم ایرانی جوان کو نہ تو روک سکا ہے اور نہ روک پائے گا۔ ان شہیدوں کے اہل خانہ خود اس کارواں کو آگے بڑھانے والوں میں شامل ہیں۔
ایٹمی مسئلے اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کی بات نہیں ہے، بات موجودہ دنیا میں غیر منصفانہ نظام اور تسلط پسندانہ نظام کے تحکم سے مقابلے اور ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام کی طرف قدم بڑھانے کی ہے۔ یہ وہی بڑی دعوت ہے جس کا پرچم اسلامی ایران نے لہرایا ہے اور جس نے خبیث اور برائی پھیلانے والے منہ زوروں کو برہم کر دیا ہے۔
آپ اسٹوڈنٹس اور خاص کر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے کندھوں پر اس عظیم ذمہ داری کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اپنے دلوں کو خدا کے حوالے کر دیجیے، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیے اور انجمنوں کو اس سمت میں آگے بڑھائيے۔
اللہ آپ کے ساتھ ہے اور مکمل فتح آپ کے انتظار میں ہے، ان شاء اللہ
سیّد علی خامنہ ای
مکتبِ اہل بیتؑ خواتین کو خاندان اور سماج کے درمیان انتخاب پر مجبور نہیں کرتا: مدیر جامعۃ الزہراء (س) قم
جامعۃ الزہرا سلاماللہعلیہا کی مدیرہ محترمہ سیدہ زہرہ برقعی نے مکتبِ اہل بیت علیہم السلام میں عورت کے کردار کو جامع، متوازن اور تمدن ساز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مکتب میں عورت کی شناخت ایمان، عقلانیت، عطوفت، مادری کردار اور سماجی ذمہ داری کے ہم آہنگ امتزاج پر قائم ہے، نہ کہ کسی ایک محدود دائرے تک۔
انہوں نے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ میں ایمان صرف ذاتی یا باطنی معاملہ نہیں بلکہ عورت کے طرزِ زندگی، فیصلوں اور سماجی رویّوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی طرح عقلانیت ایمان کے مقابل نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے عورت بصیرت کے ساتھ درست فیصلے کرتی اور معاشرتی اقدار کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔
سیدہ زہرہ برقعی نے مادری کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ میں مادری محض گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ ایک گہرا، تمدن ساز فریضہ ہے۔ نسل کی تربیت صرف علم یا مہارت کی منتقلی نہیں بلکہ توحیدی، اخلاقی اور ذمہ دار انسانوں کی تشکیل کا عمل ہے، جس میں ماں کا کردار بنیادی اور ناقابلِ بدل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کا مستقبل درحقیقت ماؤں کے ہاتھوں تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سماجی ذمہ داری عورت کے ایمان سے جدا نہیں۔ مکتبِ اہل بیتؑ میں عورت کی سماجی موجودگی مقصدی، اخلاقی اور باوقار ہوتی ہے، جو عفت و کرامت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح اور اخلاقی سرمائے کے استحکام میں معاون بنتی ہے۔ اس نظرئیے میں عورت نہ خاندان سے کٹتی ہے اور نہ سماج سے الگ ہوتی ہے بلکہ دونوں کے درمیان درست توازن قائم رکھتی ہے۔
مدیر جامعۃ الزہرا سلاماللہعلیہا نے سیدہ فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کی سیرت کو عورت کے لیے مثالی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیرۂ فاطمی خاندان اور سماج کے درمیان حکیمانہ توازن کی روشن مثال ہے۔ حضرت فاطمہؑ نے مکمل گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ سماجی شعور، حق طلبی اور عدل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا اور اپنی اولاد کو بھی اسی شعور کے ساتھ پروان چڑھایا۔
ایپسٹین فائلز کے معمے سے آپ کیا سمجھے؟
ایپسٹین فائلز کو ہلکا نہ لیجئے۔ امریکی قانون سازوں نے ایک سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کے اثاثوں سے حاصل کردہ بیس ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان، ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن، سابق شہزادہ اینڈریو ماؤنٹبیٹن ونڈسر اور دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ اگرچہ ایپسٹین اب موجود نہیں، یہ دستاویزات اس کے وسیع اور پیچیدہ نیٹ ورک کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں اور عالمی سطح پر گہری توجہ اور مباحثے کا سبب بنی ہیں۔ یہ فائلز نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کے ہاں طاقت، دولت اور خاموشی کے گٹھ جوڑ کا دستاویزی ثبوت ہیں۔ یہ وہ عدالتی ریکارڈ ہیں، جو بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے نام سے وابستہ ہوئے اور اسی نسبت سے ایپسٹین فائلز کہلائے۔ نام ایک فرد کا ہے، مگر مفہوم ایک پورے نظام پر محیط ہے۔ ان فائلز میں فرد کی لغزش بھی ہے اور اداروں کی کمزوری بھی۔
یہ معاملہ دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں سامنے آیا اور سن 2019ء میں عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ جیفری ایپسٹین کی گرفتاری، موت اور پھر دستاویزات کی اشاعت نے اس قصے کو دبنے نہ دیا۔ عدالتوں میں کھلنے والی فائلز نے بتدریج وہ روابط آشکار کیے، جو برسوں پردے میں رہے۔ یوں ایپسٹین فائلز ماضی کا واقعہ نہیں رہیں بلکہ حال کی بحث بن گئیں۔ یاد رہے کہ قانون کی نظر میں یہ دستاویزات شہادت ہیں اور شہادت فیصلہ نہیں ہوتی۔ ناموں کا ظاہر ہونا الزام نہیں کہلاتا اور تعلق کا ذکر جرم نہیں بنتا۔ اس کے باوجود طاقتوروں کے باہمی تعلقات میں عام آدمی کیلئے چھپے خطرات اب سب کے سامنے آگئے ہیں۔ اگر اس وقت ان کا احتساب نہیں ہوگا تو پھر کبھی نہیں ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔ موصوف کا نام ایپسٹین کے سماجی تعلق داروں کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ الگ زاویہ ہے کہ یہ تعلق حقیقت میں اشرافی میل جول تک محدود رہا یا اس سے بھی آگے کا تھا۔ البتہ ابھی تک کسی عدالت نے اسے مجرمانہ رابطہ قرار نہیں دیا۔ اس کے باوجود سیاست دانوں کے ایسے سماجی تعلقات عوام کے لئے کیا پیغام رکھتے ہیں، وہ اب عوام ہی بتائیں گے۔ البتہ قابل ذکر ہے کہ میڈیا نے اس فرق کو پوری طرح برقرار نہیں رکھا۔ خبر نے قلم سے رفتار پائی اور مفہوم سکرین سے پیچھے رہ گیا۔ پبلک کے سامنے سرخی نے فیصلہ سنایا اور وضاحت حاشیے میں چلی گئی۔ یہی قلم کا امتحان ہوتا ہے، ایسی ہی صورتحال میں صحافت آزمائش میں پڑتی ہے اور سچ دباؤ میں آتا ہے۔
بلاشبہ اخلاقی سطح پر ایپسٹین فائلز ایک نمایاں دھبہ ہیں، امریکی سوسائٹی کے چہرے پر۔ امریکہ میں اب یہ چیلنج سامنے آگیا ہے کہ امریکی معاشرے میں طاقتور کا احتساب کہاں تک ممکن ہے اور کمزور کی آواز کب سنی جائے گی۔؟ متاثرین کی موجودگی اس کہانی کی اصل بنیاد ہے اور ان کی خاموشی اس نظام، اداروں، معاشرے اور سیاست کی سب سے بڑی ناکامی۔ ایپسٹین فائلز بے ںس لوگوں کی مظلومیت کا انجام نہیں ہیں بلکہ اعلان ہیں۔ یہ اعلان انصاف کی تاخیر کا بھی ہے اور اصلاح کی ضرورت کا بھی۔ یہ فائلز عالمی انسانی برادری کو یاد دلا رہی ہیں کہ قانون کاغذ پر نہیں، کردار میں زندہ رہتا ہے۔ قانون کو کاغذوں سے کردار میں ڈھالنے کی ہر جگہ ضرورت ہے اور شاید سب سے زیادہ ضرورت امریکہ میں ہے۔
ان فائلز سے پتہ نہیں آپ کیا کچھ سمجھے ہونگے، تاہم ایک بات مجھے بھی سمجھ آئی ہے اور وہ ایک بات یہ ہے کہ "طاقتور جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو قانون کمزور پڑ جاتا ہے اور انصاف محض ایک لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔ اور ہاں یہ بھی انہی فائلز سے ہی سمجھ لیجئے کہ مضبوط ادارے قانون کے آگے طاقتور کو قانونی طور پر جھکاتے ہیں، جبکہ کمزور ادارے طاقتور کے آگے قانون سمیت جھک جاتے ہیں۔
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
صومالیہ لینڈ کا فتنہ
صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک اور خطرناک جوا کھیلا ہے۔ اس نے جمعے کے دن اعلان کیا کہ وہ صومالیہ لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹ "ایکس" پر اپنے پیغام میں نیتن یاہو نے صیہونی وزیر خارجہ گیدون سعر اور صومالیہ لینڈ کے خود ساختہ صدر کے ہمراہ ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔ گیدون سعر نے بھی ایک علیحدہ بیان میں اعلان کیا کہ فریقین نے "مکمل سفارتی تعلقات بشمول سفیروں کی تقرری اور سفارت خانے کھولنے" پر اتفاق کیا ہے۔ صومالیہ لینڈ کے خود ساختہ صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی ایرو نے بھی تل ابیب کی طرف سے صومالیہ لینڈ کو ایک "آزاد اور خودمختار ریاست" کے طور پر تسلیم کرنے کو ایک "تاریخی لمحہ" قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتن یاہو نے صومالیہ لینڈ تسلیم کرنے کے اقدام کو ابراہیم معاہدے سے جوڑ دیا ہے۔
صومالیہ لینڈ کہاں ہے؟
"جمہوریہ صومالی لینڈ" ایک خودمختار علاقے کا نام ہے جو صومالیہ کے پانچ شمالی صوبوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے نے 1991ء سے یک طرفہ طور پر صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم، اب تک اسے صرف اسرائیل نے تسلیم کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اب بھی اسے صومالیہ کے ایک خود مختار علاقے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ افریقی ملک صومالیہ کے شمال مغرب میں واقع یہ علاقہ 175,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہے۔ صومالیہ لینڈ اپنی علیحدہ کرنسی، فوج اور پولیس فورس کا دعویدار ہے۔ یہ علاقہ خلیج عدن کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور اپنے تزویراتی محل وقوع کے پیش نظر آبنائے باب المندب کے دروازے پر دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جو بحیرہ احمر اور نہر سویز کی طرف جاتا ہے۔
اگرچہ صومالیہ لینڈ دیگر اکثر افریقی ممالک کی طرح تنہائی اور غربت کا شکار ہے لیکن صومالیہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ استحکام کا حامل ہے۔ صومالیہ لینڈ کی آبادی 60 لاکھ ہے اور اس کا دارالحکومت ہرگیسا ہے جو موغادیشو کے بعد صومالیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ صومالیہ لینڈ کو ایک "آزاد اور خودمختار ریاست" کے طور پر تسلیم کروانے کی کوششوں میں اس وقت مزید تیزی آئی جب 2024ء میں اس علاقے کے نئے سربراہ عبدالرحمان محمد عبداللہی نے اقتدار سنبھالا۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے خود کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کئے جانے سے صومالیہ لینڈ اپنا سفارتی اثرورسوخ بڑھانے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھا ہے لیکن صہیونی رژیم کے اس اقدام کے خلاف ردعمل اس قدر شدید تھا کہ شاید صومالیہ لینڈ آسانی سے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔
وسیع پیمانے پر مذمت
اسرائیل کی جانب سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی خبر سامنے آتے ہی صومالیہ کے اتحادی اور حامی ملک ترکی نے تل ابیب کے اس اقدام کی مذمت کی۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے خلاف تل ابیب کے اقدام کو "صومالیہ کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت" قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ترکی کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں دسمبر 2014ء میں صومالیہ اور ایتھوپیا کے درمیان معاہدہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں صومالیہ کی مرکزی حکومت میں ترک حکومت کا وسیع اثرورسوخ ہے۔ مصر نے بھی ہر قسم کے ایسے یک طرفہ اقدام کی مذمت کی ہے جو صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہو یا اس کے استحکام کو نقصان پہنچاتا ہو۔ مصر کی وزارت خارجہ نے بھی اس بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔
چار عرب ممالک کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد جاری ہونے والے اس بیان میں کہا گیا ہے: "عرب حکام اسرائیل کی جانب سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی مذمت کرتے ہیں اور صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور ملکی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ ایسے کسی بھی یک طرفہ اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جو صومالیہ کی خودمختاری کے خلاف ہو یا اس ملک میں عدم استحکام کا باعث بنتا ہو۔" اس بیان میں مزید کہا گیا ہے: "عرب ممالک کے وزرائے خارجہ صومالیہ حکومت کے جائز اداروں کے لیے اپنی حمایت پر زور دیتے ہیں اور صومالیہ کے اتحاد سے متصادم ہم پلہ اداروں کو مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔" سعودی عرب نے بھی صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کا نتیجہ علیحدگی پسندی کی صورت میں نکلے گا جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
متحدہ عرب امارات کی پراسرار خاموشی
عرب ممالک میں متحدہ عرب امارات وہ واحد ملک ہے جس نے صومالیہ لینڈ کو خودمختار ریاست تسلیم کیے جانے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ صومالیہ لینڈ میں ابوظہبی کے نمایاں اثرورسوخ کے پیش نظر کئی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم نے متحدہ عرب امارات کو اعتماد میں لے کر صومالیہ لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ روایتی طور پر صومالیہ لینڈ کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں اور بعض ماہرین کے مطابق اماراتی حکام صومالیہ لینڈ کی خودمختاری کو مصر کے خلاف ابوظہبی کی پوزیشن مضبوط کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابوظہبی وہ واحد عرب ملک ہے جو عرب دنیا میں وسیع پیمانے پر مذمت کے باوجود اسرائیل کی طرف سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کے بارے میں اب تک خاموش ہے۔ ایک ایسی خاموشی جس سے ابوظہبی کا اطمینان جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔
تحریر: رضا عموئی
آیت اللہ میلانی اسلامی نہضت کے مضبوط ستونوں میں سے ایک تھے، رہبر معظم انقلاب
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کی یاد میں منعقدہ کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات میں اس عظیم علمی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ میلانی معنوی، اخلاقی، علمی اور سماجی و سیاسی لحاظ سے ایک جامع شخصیت تھے اور مشہد کا حوزہ علمیہ حقیقت میں ان کا مرہونِ منت ہے۔
رہبرِ انقلاب نے آیت اللہ میلانی کی انفرادی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں وقار، متانت، تواضع اور دوستوں کے ساتھ وفاداری کا پیکر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علمی میدان میں وہ ایک بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے علامہ نائینی اور شیخ محمد حسین اصفہانی جیسے عظیم اساتذہ سے فیض حاصل کیا اور اپنے علمی بیان سے فاضل طلباء کی ایک بڑی کھیپ تیار کی۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ آیت اللہ میلانی 1960 کی دہائی کے اوائل میں اسلامی نہضت کے آغاز کے وقت اس کے اہم ستونوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے امام خمینی (رہ) کی گرفتاری کے بعد دیگر علماء کے ساتھ تہران کا سفر کیا اور امام (رہ) کی ترکی جلاوطنی کے بعد ان کی حمایت میں جو خط لکھا، وہ آج بھی ایک اہم تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
رہبر معظم نے مزید لہا کہ آیت اللہ میلانی مختلف سیاسی گروہوں سے رابطے میں رہنے کے باوجود کسی خاص سیاسی دھڑے سے منسوب ہونے سے سختی سے گریز کرتے تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ہمایش کے ذریعے عوام آیت اللہ میلانی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے بہتر طور پر واقف ہو سکیں گے۔
اس کانفرنس کے آغاز میں آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین مروی نے کانفرنس کے مقاصد، علمی کمیٹیوں کی کارکردگی اور مشہد و کربلائے معلیٰ میں ہونے والے نشستوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
امام علی نقی الہادی (ع) اور مستقبل کی منصوبہ بندی
حضرت امام نقی ہادی (ع) کی زندگی کے تاریخی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امام نے اسلامی تاریخ کے ایک مشکل ترین دور میں پوشیدہ انتظام، نظریاتی نیٹ ورکنگ اور مخصوص نظام کی تشکیل کے ذریعے امامت اور شیعہ معاشرے کو مشکلات اور تباہی کے خطرے سے بچایا۔ امام نقی (ع) کا دور اسلامی تاریخ کا ایک مشکل ترین دور تھا۔ یہ وہ دور تھا، جب امامت عباسیوں کے شدید ترین سیاسی اور سکیورٹی دباؤ کے سایہ میں تھی، ان تمام مشکلات کے باوجود امام نقی ہادی علیہ السلام نے شیعہ رہنمائی کے راستے کو محفوظ اور مستحکم کیا۔ امام علی النقی ہادی علیہ السلام نے ایسی حالت میں امت اسلامیہ کی امامت سنبھالی، جب خلافت عباسیہ کا ڈھانچہ سیاسی اور سلامتی کی پختگی کے عروج کو پہنچ چکا تھا۔ اس دور کو عباسی طاقت کے استحکام کا دور سمجھا جاتا تھا اور امامت کے مقام و منزلت کو کنٹرول کرنے، اس پر قابو پانے اور اسے ختم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ پالیسیوں کا آغاز تھا۔ ایک ایسی پالیسی، جس میں نہ صرف خود امام، بلکہ اہل بیت (ع) کے تمام مریدین، رفقاء اور پیروکاروں پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔
بچپن سے شہادت تک سیاسی دباؤ کا تسلسل
امام ہادی علیہ السلام نے اپنی امامت کے دوران نہ صرف عباسی خلفاء کا سامنا کیا بلکہ آپ اپنے بچپن، اپنی جوانی سے اپنے عظیم والد امام جواد علیہ السلام کی امامت کے دوران بھی سخت دباؤ اور حکومتی نگرانی کے ماحول میں بڑے ہوئے تھے۔کل آٹھ عباسی خلفاء آپ کے ہم عصر رہے اور سب کے سب ظلم و تشدد میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔
معاشرے میں امام کی عوامی موجودگی میں بتدریج کمی
امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد کے دور سے عالم تشیع میں ایک نیا تاریخی رجحان شروع ہوا، جس کے دوران معاشرے اور معصوم امام کے درمیان براہ راست اور کھلے رابطے کا امکان بتدریج کم ہوتا گیا۔ یہ رجحان امام جواد علیہ السلام کے زمانے میں ظاہر ہوا اور امام ہادی علیہ السلام کے دور میں اس مرحلے پر پہنچ گیا کہ امام نقی (ع) کے ساتھ عوام کا رابطہ بہت محدود اور کنٹرول شدہ ہوگیا۔ اس وقت امام ہادی علیہ السلام عملی طور پر خلافت کے اہلکاروں کی مسلسل نگرانی میں تھے۔ نقل و حرکت پر پابندیاں، مواصلات کا کنٹرول، بار بار طلبی اور خوف کی فضا پیدا کرنا عباسی خلفاء کی پالیسی کا اہم حصہ تھا۔ عباسی خلیفہ امام اور امامت کے مقام کو عوام سے الگ تھلگ کرنا چاہتے تھے۔ ایک ایسی پالیسی جس کا حتمی مقصد امام معصوم کو شیعہ سماج سے جدا کرنا تھا۔
متوکل عباسی اور پابندیوں میں شدت
متوکل کی حکومت کے دور کو اہل بیت (ع) کے خلاف دشمنی کی شدت کے حوالے سے ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس دور میں مذہبی علامتوں کی تباہی، سادات کا قتل، شیعوں پر جبر اور عقیدہ امامت پر سخت پابندیاں لگانا خلافت کی سرکاری پالیسی بن گئی تھی۔ اس صورتحال نے شیعہ معاشرے کو اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور میں ڈال دیا۔
اہم حکمت عملی کے طور پر رابطہ کے ایک نئے نظام کی تشکیل
ایسے حالات میں شیعہ مذہب کا تسلسل محض کبھی کبھار ردعمل یا عوامی موجودگی سے ممکن نہیں تھا۔ نئی شرائط کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھنے، تعلیمات اسلام کی ترسیل اور دینی کمیونٹی کے انتظام کے لیے ایک طویل مدتی نئے ماڈل کے ڈیزائنگ کی ضرورت تھی۔ ایک ایسا نمونہ جو امام کی ظاہری اور جسمانی موجودگی پر انحصار کیے بغیر شیعہ مذہب کی بقاء کی ضمانت دے سکے۔ اس تاریخی ضرورت کے جواب میں امام ہادی علیہ السلام نے نیابت کا نظام قائم کیا اور اسے وسعت دی۔ اس نظام کی بنیاد پر عالم اسلام کے مختلف خطوں میں قابل اعتماد افراد کو امام کے نمائندے کے طور پر مقرر کیا گیا، تاکہ وہ امام اور ملت شیعہ کے درمیان رابط کا کردار ادا کریں۔ نیابتی یا نمائندگی کا نظام محض ایک انتظامی طریقہ کار نہیں تھا، بلکہ دینی تعلیمات کی ترسیل، نظریاتی مسائل کا جواب، مالیاتی امور کو منظم کرنے، فکری ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور نظریاتی انحرافات کو روکنے کے لیے ایک کثیر الجہتی نیٹ ورک تھا۔ ایک ایسا نیٹ ورک جس نے سخت گھٹن اور شدید دباؤ کے حالات میں شیعہ کمیونٹی کے انتظام کو فعال کیا۔
براہ راست رسائی کے بغیر آئندہ دور کیلئے ایک تاریخی مشق
عملی طور پر اس ماڈل نے شیعہ مسلمانوں کو ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ کیا، جس میں معصوم امام تک براہ راست اور کھلی رسائی ممکن نہ ہو۔ اس نقطہ نظر سے نیابتی یا نمائندگی کے نظام کو اس دور میں داخل ہونے کے لیے ایک عملی اور بتدریج تجربے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جسے بعد میں غیبت کا دور کہا گیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد معصوم امام علیہ السلام سے بالواسطہ رابطے کا ڈھانچہ غیبت کے دور میں جاری رہا۔ اس تاریخی تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ غیبت کوئی اچانک واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک تدریجی اور منظم عمل کا نتیجہ تھا، جس کی بنیاد امام ہادی علیہ السلام کے دور میں رکھی گئی تھی۔
اس ڈھانچے میں، اگرچہ معاشرے میں امام کی جسمانی موجودگی محدود تھی، لیکن مذہبی، فکری اور نظریاتی رہنمائی میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ امام نقی (ع) کے دور میں شیعہ مسلمانوں نے قابل اعتماد نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہوئے اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو محفوظ اور منتقل کرنے کا طریقہ سیکھا۔ عام عقیدہ کے برخلاف، امام ہادی علیہ السلام کی امامت کا دور محض بقا کا دور نہیں تھا بلکہ ترقی کا دور بھی تھا۔ اس دور میں شیعان اہلبیت کے علم، اخلاق اور اعتقاد کی سطح میں بہتری آئی اور ایک زیادہ باخبر اور مربوط ادارہ تشکیل پایا۔
شیعہ دنیا کی بااثر شخصیات کی تربیت
اس طرزِ فکر کا ثمر طلبہ اور شخصیات کی تربیت تھی، جن میں سے ہر ایک بعد میں اسلامی دنیا کے مختلف خطوں میں اثر و رسوخ کا ذریعہ بنا۔ ان شاگردوں میں تہران کے علاقے شہر رے میں مدفون حسنی سادات کے حضرت عبدالعظیم حسنی ان شخصیات میں سے ایک ممتاز ترین شخصیت ہیں، جنہوں نے امام ہادی (ع) کی رہنمائی میں اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ری کے علاقے میں ان کی موجودگی نے دیرپا تاریخی اور نظریاتی آثار چھوڑے۔
امام ہادی علیہ السلام، شیعہ مذہب کی تاریخی تبدیلی کے معمار
ان تاریخی شواہد کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ہادی علیہ السلام نہ صرف ایک مخصوص دور کے امام تھے بلکہ شیعیت کی ایک اہم ترین تاریخی تبدیلی کے معمار بھی تھے۔ آپ نے عوامی موجودگی کے دور سے پوشیدہ، لیکن مسلسل اور گہری رہنمائی کے ذریعے امامت کی تعلیمات و امامت کی منتقلی کے نظام کو متعارف کرایا۔
تحریر: محمد ویسمرادی
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال
ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ، ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﮯ ﻧﺰﻭﻝ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﻮ "ﺭﺟﺐ ﺍﻻﺻﺐ" ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ "ﺻﺐ" ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﮔﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺳﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، روایات میں اس کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔
ماہِ ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ﺣﺮﺍﻡ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ میں سے ایک ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ. (ﺣﺮﺍﻡ ماہ؛ ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ، ﺫﯼ ﺍﻟﻘﻌﺪﺓ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ، ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠۃ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﮨﯿﮟ)
ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ، ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﮯ ﻧﺰﻭﻝ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﻮ "ﺭﺟﺐ ﺍﻻﺻﺐ" ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ "ﺻﺐ" ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﮔﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺳﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ. روایات میں اس کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔
فضیلت ماہِ رجب:
امام کاظمؑ فرماتے ہیں..
"رجب کا مہینہ، ایک عظیم مہینہ ہے، اس میں (اجروثواب) حسنات کئی گنا ہوتے ہیں اور گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک دن روزہ رکھے، جہنم کی آگ ایک سو سال تک دور ہوتی ہے اور جو تین دن روزہ رکھے، اس کے لیے بہشت واجب ہوتی ہے."
امام کاظمؑ فرماتے ہیں:
"رجب بہشت میں ایک دریا کا نام ہے جو دودھ سے سفید تر اور شہد سے شیریں تر ہے۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک دن روزہ رکھے، خداوندمتعال اسے اس دریا کا پانی پلائے گا."
ماہِ رجب کے اذکار وفضیلت:
●رسولِخداؐ نے فرماتے ہیں:
"جو شخص رجب کے مہینہ میں اس ذکر کو سو مرتبہ پڑھے..
"أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ"
اور اس کے بعد کچھ راہ خدا میں دیدے، تو خداوندمتعال اسے رحمت و بخشش عطا کرے گا اور ۔ ۔ ۔ جب وہ قیامت کے دن خداوندمتعال سے ملاقات کرے گا، خداوندمتعال اس سے فرمائے گا؛ تم نے میری سلطنت کا اقرار کیا ہے، پس جو چاہتے ہو مانگو میں اسے قبول کروں گا اور میرے علاوہ کوئی تمھاری حاجتوں کو پورا نہیں کر سکتا ہے."
●آنحضرتؐ نے ایک اور روایت میں فرماتے ہیں:
"جو شخص اس مہینہ میں ایک ہزار مرتبہ..
"َلا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"
پڑھے، خداوندمتعال اس کے نامہ اعمال میں ایک لا کھ اجر و ثواب لکھے گا و..."
اس مہینہ کے اذکار و اوراد بکثرت ہیں، جو دعاؤں کی کتابوں میں درج ہیں، جن کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے.
اعمال ماہِ رجب:
●روزہ:
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
حضرت نوحؑ رجب کی پہلی تاریخ کو کشتی میں سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس دن روزہ رکھیں اور فرمایا؛ جو شخص اس دن روزہ رکھے گا جہنم کی آگ ایک سال تک اس سے دور رہے گی اور جو شخص اس مہینہ میں سات دن روزے رکھےگا، اس پر جہنم کے سات دروازے بند ہوں گے اور آٹھ دن روزے رکھے تو بہشت کے آٹھ دروازے اس پر کھل جائیں گے اور جو شخص پندرہ دن روزے رکھے خداوندمتعال اس کی حاجتیں پوری کرے گا اور جو شخص اس سے زیادہ روزے رکھے خداوندمتعال اس کے لیے اس سے زیادہ عنایتیں کرے گا."
رجب کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں.
●غسل:
اس مہینہ کی پہلی شب، پندرھویں شب اور آخری شب میں غسل کرنا ہے.
●نمازیں:
ماہ رجب کی پہلی شبِ جمعہ (لیلةالرغائب) کی نمازیں.
تیرھویں شب، چودھویں شب اور پندرھویں شب (لیالی البیض) کی نمازیں.
●عمرہ بجا لانا.
●امام حسینؑ کی زیارت.
●امام رضاؑ کی زیارت.
●اس مہینہ کے مخصوص اعمال میں سے کچھ نمازیں ہیں جنہیں ہر شب میں پڑھا جاتا ہے ان کی کیفیت روایتوں میں ذکر کی گئی ہے.
ماہ رجب کے مشترکہ اعمال
یہ ماہ رجب کے اعمال میں پہلی قسم کے اعمال ہیں جومشترکہ ہیں اورکسی خاص دن کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں اور یہ چند ایک اعمال ہیں۔
۱۔ رجب کے پورے مہینے میں یہ دعا پڑھتا رہے اور روایت ہے کہ یہ دعا امام زین العابدین علیہ السلام نے ماہ رجب میں حجر کے مقام پر پڑھی۔
يا مَنْ يَمْلِكُ حَواَّئِجَ السّاَّئِلينَ ويَعْلَمُ ضَميرَ الصّامِتينَ لِكُلِّ مَسْئَلَةٍ مِنْكَ سَمْعٌ حاضِرٌ وَجَوابٌ عَتيدٌ اَللّهُمَّ وَمَواعيدُكَ الصّادِقَةُ واَياديكَ الفاضِلَةُ ورَحْمَتُكَ الواسِعَةُ فَاَسْئَلُكَ اَنْ تُصَلِّىَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ واَنْ تَقْضِىَ حَوائِجى لِلدُّنْيا وَالاْخِرَةِ اِنَّكَ عَلى كُلِّشَىْءٍ قَديرٌ
اے وہ جوسوالیوں کی حاجتوں کامالک ہے اور خاموش لوگوں کے دلوں کی باتیں جانتا ہے ہے ہر وہ سوال جو تجھ سے کیا جائے تیرا کان اسے سنتا ہے اور اس کا جواب تیار ہے اے معبود تیرے سب وعدے یقینا سچے ہیں تیری نعمتیں بہت عمدہ ہیںاور تیری رحمت بڑی وسیع ہے پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ رحمت نازل فرما محمد
وآل محمد پر اور یہ کہ میری دنیا اور آخرت کی حاجتیں پوری فرما بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتاہے۔
۲۔ یہ دعا پڑھے کہ جسے امام جعفرصادق علیہ السلام رجب میں ہرروز پڑھا کرتے تھے:
خابَ الوافِدُونَ عَلى غَيْرِكَ وَخَسِرَ المُتَعَرِّضُونَ اِلاّ لَكَ وَضاعَ المُلِمُّونَ اِلاّ بِكَ وَاَجْدَبَ الْمُنْتَجِعُونَ اِلاّ مَنِ انْتَجَعَ فَضْلَكَ بابُكَ مَفْتُوحٌ لِلرّاغِبينَ وَخَيْرُكَ مَبْذُولٌ لِلطّالِبينَ وَفَضْلُكَ مُباحٌ لِلسّاَّئِلينَ وَنَيْلُكَ مُتاحٌ لِلا مِلينَ وَرِزْقُكَ مَبْسُوطٌ لِمَنْ عَصاكَ وَحِلْمُكَ مُعْتَرِضٌ لِمَنْ ناواكَ عادَتُكَ الاِْحْسانُ اِلَى الْمُسيئينَ وَسَبيلُكَ الاِبْقاَّءُ عَلَى الْمُعْتَدينَ اَللّهُمَّ فَاهْدِنى هُدَى الْمُهْتَدينَ وَارْزُقْنىِ اجْتِهادَ الْمُجْتَهِدينَ وَلاتَجْعَلْنى مِنَالْغافِلينَ الْمُبْعَدينَ واغْفِرْلى يَوْمَالدّينِ
ناامید ہوئے تیرے غیر کی طرف جانے والے گھاٹے میں رہے تیرے غیر سے سوال کرنے والےتباہ ہوئے تیرے غیر کے ہاں جانے والے قحط کا شکار ہوئے روزی طلب کرنے والےمگر وہ نہیں جنہوں نے تیرے فضل سے رزق مانگا تیرا در اہل رغبت کے لیے کھلا ہے اور تیری بھلائی طلب گاروں کو بہت بہت ملتی ہے تیرا فضل سائلوں کے لیے عام ہے اور تیری عطا امیدوارو ں کے لیے آمادہ ہے تیرا رزق نافرمانوں کے لیے بھی فراواں ہے تیری بردباری دشمن کے لیے ظاہر وعیاں ہے گناہگاروں پر احسان کرناتیرا مستقل فعل ہے اور ظالموں کو باقی رہنے دینا تیرا شیوہ ہے اے معبود مجھے ہدایت یافتہ لوگوں کی راہ پر لگا اور مجھے کوشش کرنے والوں کی سی کوشش نصیب فرما مجھے غافل اور دور کیے ہوئے لوگوں میں سے قرار نہ دے اور یوم جزا میں مجھے بخش دے
۳۔ شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ معلی بن خنیس نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ماہ رجب میں یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ صَبْرَ الشّاكِرينَ لَكَ وَعَمَلَ الْخائِفينَ مِنْكَ وَيَقينَ الْعابِدينَ لَكَ اَللّهُمَّ اَنْتَ الْعَلِىُّ الْعَظيمُ وَاَنَا عَبْدُكَ الْباَّئِسُ الْفَقيرُ اَنْتَ الْغَنِىُّ الْحَميدُ وَاَنَا الْعَبْدُ الذَّليلُ اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاْمْنُنْ بِغِناكَ عَلى فَقْرى وَبِحِلْمِكَ عَلى جَهْلى وَبِقُوَّتِكَ عَلى ضَعْفى يا قَوِىُّ يا عَزيزُ اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الاْوصياَّءِ الْمَرْضيِّينَ وَاكْفِنى ما اَهَمَّنى مِنْ اَمْرِ الدُّنْيا وَالا خِرَةِ يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے شکرگزاروں کا صبر ڈرنے والوں کا عمل اور عبادت گزاروں کا یقین عطافرما اے معبود توبلندتر بزرگترہے اور میں تیرا حاجت مند اور بے مال ومنال بہد ہوں اور توبے حاجت اور تعریف والا ہے اور میں تیرا پست تر بندہ ہوں اے معبود! رحمت نازل فرما محمداور ان کی آل پر اور میری محتاجی پر اپنے مال سے میری نادانی پر اپنی ملائمت سے اور اپنی قوت سے میری کمزوری پر احسان فرما اے قوت والے اے زبردست اے معبود!رحمت فرما محمد اور ان کی آل پر جوپسندیدہ اوصیاو جانشین ہیں اوردنیا و آخرت کے اہم معاملوں میں میری کفایت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والےمولف کہتے ہیں کہ کتاب اقبال میں سید بن طاؤس نے بھی اس دعا کی روایت کی ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ جامع ترین دعا ہے اور اسے ہروقت پڑھاجاسکتا ہے۔
۴۔ محمد بن ذکوان جو اس لیے سجاد کے نام سے معروف ہیں کہ انہوں نے اتنے سجدے کیے اور خوف خدا میں اس قدر روئے کہ نابینا ہو گئے تھے، سید بن طاؤس نے اس انہی محمدبن ذاکوان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں یہ ماہ رجب ہے ، مجھے کوئی دعا تعلیم کیجئے کہ حق تعالٰی اس کے ذریعے مجھے فائدہ عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا کہ لکھو اور رجب کے مہینے میں ہرروز یہ دعا پڑھا کرو:
بسم الله الرحمن الرحیم
خدا کے نام سے شروع جو رحمن ورحیم ہے
يا مَنْ اَرْجُوهُ لِكُلِّ خَيْرٍ وَآمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ كُلِّ شَرٍّ يا مَنْ يُعْطِى الْكَثيرَ بِالْقَليلِ يا مَنْ يُعْطى مَنْ سَئَلَهُ يا مَنْ يُعْطى مَنْ لَمْ يَسْئَلْهُ وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ تَحَنُّناً مِنْهُ وَرَحْمَةً اَعْطِنى بِمَسْئَلَتى اِيّاكَ جَميعَ خَيْرِ الدُّنْيا وَجَميعَ خَيْرِ الاْخِرَةِ وَاصْرِفْ عَنّى بِمَسْئَلَتى اِيّاكَ جَميعَ شَرِّ الدُّنْيا وَشَرِّ الاْخِرَةِ فَاِنَّهُ غَيْرُ مَنْقُوصٍ ما اَعْطَيْتَ وَزِدْنى مِنْ فَضْلِكَ يا كَريمُ
اے وہ جس سے ہربھلائی کی امید رکھتا ہوں اور ہر برائی کے وقت اس کے غضب سے امان میں ہوںاے وہ جو تھوڑے عمل پر زیادہ اجردیتا ہے اے وہ جو ہرسوال کرنے والے کو دیتا ہے اے وہ جو اسے بھی دیتا ہے جوسوال نہیں کرتا اور اسے بھی دیتا ہے جو اسے نہیں پہچانتا اس پر بھی رحم وکرم کرتا ہے تو مجھے بھی میرے سوال پر دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں اور نیکیاں عطا فرمادے اور میری طلب گاری پر دنیاوآخرت کی تمام تکلیفیں اور مشکلیں دور کر کے مجھے محفوظ فرمادے کیوں کہ تو جتناعطا کرے تیرے ہاں کمی نہیں پڑتی اے کرم مجھ پر اپنے فضل میں اضافہ فرما
روای کہتا ہے کہ اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنی ریش مبارک کو داہنی مٹھی میں لے لیا اور اپنی انگشت شہادت کو ہلاتے ہوئے نہایت گریہ وزاری کی حالت میں یہ دعا پڑھی:
يا ذَاالْجَلالِ وَالاِْكْرامِ يا ذَاالنَّعْماَّءِ وَالْجُودِ يا ذَاالْمَنِّ وَالطَّوْلِ حَرِّمْ شَيْبَتى عَلَى النّارِ
اے صاحب جلالت وبزرگی اے نعمتوں اور بخشش کے مالک اے صاحب احسان وعطا میرے سفید بالوں کو آپ پر حرام فرما دے
پندرہ رجب کا دن
یہ بڑا ہی مبارک دن ہے اور اس میں چندایک اعمال ہیں:
۱۔ غسل کرے
۲۔ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے ، ابن بی نصر سے روایت ہے کہ میں امام علی رضا علیہ السلام سے عرض کیا کہ کس مہینے میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کروں ؟
آپ نے فرمایا کہ پندرہ رجب اور پندرہ
شعبان کو یہ زیارت کیا کرو۔
۳۔ نماز سلمان بجا لائے ۔
۵۔ عمل ام داؤد کہ یہی اس دن کا خاص عمل ہے جو حاجات برآری مصیبت کی دوری اور ظالموں کے ظلم سے بچاؤ کے لیے بہت مؤثر ہے، شیخ نے مصباح میں اس عمل کی کیفیت یوں لکھی ہے کہ عمل ام داؤد کرنے کے لیے ۱۳۔۱۴۔۱۵ رجب کو روزہ رکھے اور ۱۵رجب کو زوال کے وقت غسل کرے زوال کے فوراً بعد نماز ظہر وعصر بجا لائے کہ رکوع وسجود میں خوف اور عاجزی کا اظہار کرے اس وقت خلوص کی جگہ پر ہو ، جہاں کوئی شخص اس سے بات نہ کرے ، جب نماز سے فارغ ہو جائے تو قبلہ رو ہو کر اس طرح عمل کرے:
سومرتبہ سورة الحمد، سومرتبہ سورہ اخلاص اور دس مرتبہ آیت الکرسی ، اس کے بعد یہ سورتیں پڑھے: سورہانعام ، سورہ بنی اسرائیل، سورہ کہف سورہ لقمان ،سورہ یٰسیٓن سورہ صفآفات، سورہ حم سجدہ، سورہ حٰمٓعٓسقٓ ، سورہ حٰمٓ دخان، سورہ فتح ، سورہ واقعہ ، سورہ ملک ، سورہ نون ، سورہ انشقاق اور اس کے بعد قرآن کی آخری سورت تک مسلسل پڑھے اور پھر قبلہ رخ ہو کہ دعا پڑھے
- مؤلف:
- شیخ عباس قمی (رح)
- ذرائع:
- مفاتیح الجنان




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
