سلیمانی
رسول گرامی(ص) کی ایک ہزار پانچ سو سالہ سالگرہ قرآنی محور
قرآنی تبلیغ و ترویج کی ترقیاتی کمیٹی کا 69واں اجلاس بروز اتوار، کو وزارتِ ثقافت و اسلامک گائیڈنس کے غدیر ہال میں، جو اس کمیٹی کے سیکریٹریٹ کا مرکز بھی ہے، منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران وزیرِ ثقافت سید عباس صالحی نے قرآن کے فروغ کے منصوبے "فصلِ تعالی" کے پوسٹر کی رونمائی کی اور کہا: قرآن پر بات کرنا ایک نہایت عمیق اور کثیرالجہتی موضوع ہے۔ اس کی ظاہری سطح پر قراءت، تلاوت اور حفظ شامل ہے، مگر قرآن کی تعلیمات کو عام اور مؤثر بنانے کے لیے فن اور میڈیا کے ذرائع کو وحی کے پیغام کی خدمت میں لانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی نے قرآن کی تعلیم و تربیت کو نئی جہتیں عطا کی ہیں، اور ہمیں ان ٹیکنالوجیز سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔ "فصلِ تعالی" منصوبہ دراصل قرآن کی تعلیم، ترویج اور اشاعت کو عام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
صالحی نے مزید کہا: قرآنی تحریک گزشتہ چودہ صدیوں سے امتِ محمدیؐ کی ذمہ داری رہی ہے، اور وہی امت اس پیغام کو درست طور پر آگے لے جا سکتی ہے جو علم، ہنر اور فکری لحاظ سے مستحکم اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق تیار ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے مقاصد میں سے ایک فن اور میڈیا کے دائرے سے فائدہ اٹھا کر عوام کو قرآن سے قریب لانا ہے۔ وزارتِ ثقافت کے تمام شعبہ جات ، سینما، آرٹ، ثقافت وغیرہ کو چاہیے کہ وہ قرآن کے پیغام کو عام کرنے میں اپنی فنی و ابلاغی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
وزیر نے زور دیا کہ قرآن کو ایک ناختم ہونے والا ثقافتی سرمایہ سمجھنا چاہیے، اور میڈیا، آرٹ، سینما اور کتاب جیسے تمام ذرائع کے ذریعے اس پیغام کو آگے بڑھانا چاہیے، کیونکہ یہی ذرائع قرآنی ثقافت کو وسعت اور قوت بخش سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سال حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ولادت کے 1500 سال مکمل ہو رہے ہیں، جسے جمہوریہ اسلامی ایران نے تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر منانے کی تجویز دی ہے، اور اس سلسلے میں ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔
صالحی نے قرآنی اداروں اور تنظیموں ، خواہ حکومتی ہوں یا عوامی ، سے اپیل کی کہ وہ اس موقع پر متحد ہو کر پیغمبرِ اسلامؐ کے نام پر ایک معنوی اتحاد پیدا کریں اور اس موقع کے لیے تجاویز و مشورے فراہم کریں۔
ایٹمی تنصیبات کو پہلے سے زیادہ عزم و ارادے کے ساتھ تعمیر کریں گے: صدر مسعود پزشکیان
صدر مملکت نے ملک کی ایٹمی صنعت کے اعلی عہدے داروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہماری ایٹمی صنعت عوام کے مسائل کو حل کرنے اور شہری استعمال کے لیے ہے۔
انہوں نے ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے ہیڈکوارٹر کا معائنہ کرتے وقت کہا کہ دشمن یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے؛ لیکن رہبر انقلاب اسلامی کے فتوے کے مطابق، ہم ایٹمی ہتھیاروں کی تعمیر کو حرام سمجھتے ہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ہمارے سائنسدانوں کے ذہن علم سے مالامال ہیں لہذا عمارتوں اور فیکٹریوں کو ختم کرکے ہمیں ایٹمی سائنس سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے زور دیکر کہا کہ ہم ایک بار پھر اور پہلے سے کہیں زیادہ عزم و ارادے کے ساتھ ان مراکز کی تعمیر کریں گے۔
اس موقع پر نائب صدر اور ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے صدر مملکت کو ایٹمی شعبے میں ترقی اور اس سلسلے کی آخری صورتحال کی رپورٹ پیش کی۔
صدر پزشکیان نے اس کے علاوہ ریڈیو میڈیسن کی لیباریٹریوں اور ایٹمی شعبے میں ایران کی جدیدترین تحقیقات کا جائزہ لیا اور طبی مصنوعات کا معائنہ کیا۔
سفرِ معرفت۔۔۔۔ ایک قرآنی مطالعہ
قرآنِ مجید، انسان کی خلقت کو محض ایک حیاتیاتی واقعہ نہیں۔۔۔۔۔۔ بلکہ ایک معنوی راز سے تعبیر کرتا ہے: "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون" (ذریات/56) "میں نے جن و انس کو محض اپنی عبادت کے لیے خلق کیا۔" مفسرین نے اس آیت کی تفسیر یوں کی ہے "لِيَعْبُدُونِ اَیْ لیَعْرِفُون" یعنی خالق نے مخلوق کو اپنی معرفت کے لیے پیدا کیا۔۔۔۔ یوں عبادت اور معرفت ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں؛ معرفت باطن ہے تو عبادت اس کا ظہور۔۔۔۔۔ جب پہچان دل میں اترتی ہے تو بدن خود بخود سجدہ ریز ہوتا ہے۔۔۔۔۔ عبادت دراصل معرفت کی شعوری و عملی صورت ہے۔۔۔۔۔۔ عبادت محض حرکات و سکنات کا نام نہیں بلکہ نفی و اثبات پر مشتمل ایک مکمل نظام ہے، جس میں پہلے نفی: لا إله۔۔۔۔ یعنی ہر غیرِ خدا کا انکار ہے اور پھر إلا الله۔۔۔۔ کے ذریعے توحید تک رسائی ہے۔
عبادت کا آغاز اندر کے بت توڑنے سے ہوتا ہے۔ خواہ وہ بت خواہشات کے ہوں۔۔۔۔۔ خود پسندی کے یا پھر مادی۔۔۔۔۔ جب انسان اپنی پسند۔۔۔۔ اپنی چاہت۔۔۔۔ اپنی خواہش کو قربان کرتا ہے تو عبد بنتا ہے۔۔۔۔ اور یہی وہ راستہ ہے، جو انسان کو ظاہر سے حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ "فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى"(بقرہ/256) ۔۔۔۔۔ عبادت کا آغاز انکار میں اور اس کا کمال اقرار میں ہے۔۔۔۔ ہاں عبودیت ہی انسانی کمالات میں اعلیٰ و ارفع ترین منزل ہے، جس کو قرآن نے "سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ"(بنی اسرائیل/01) کی صورت میں بیان کیا اور عبودیت ہی وہ آئینہ ہے، جس میں رسالت کا نور جلوہ افروز ہوتا ہے۔ عبودیت کائنات کا سب سے بڑا شرف ہے۔
قرآن کے نزدیک نہ صرف انسان بلکہ تمام موجودات اسی دائرہ بندگی میں شامل ہیں: "إِنْ كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَٰنِ عَبْدًا"(مریم /93) عبد ہونا محض حکمِ شرع کا تقاضا نہیں بلکہ حقیقتِ وجود کا جوہر ہے۔۔۔۔۔ ہاں عبودیت فنا کا مقدمہ ہے۔۔۔۔۔۔ فنا کا مطلب مٹ جانا نہیں بلکہ حقیقتِ مطلقہ میں باقی رکھنا ہے: "كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ۩ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّك" (رحمن/26, 27) کائنات کا ہر ذرہ اسی فنا کے سفر میں ہے، ہر وجود اپنی اصل کی طرف لوٹ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ فنا وہ مرحلہ ہے، جہاں انسان اپنی مرضی کو مٹا کر خدا کی مشیّت میں ڈوب جاتا ہے۔۔۔۔۔
مختصر یہ کہ معرفت عبادت کی روح ہے۔۔۔۔۔۔ عبادت عبودیت کی علامت اور عبودیت فنا کی حقیقت۔۔۔۔۔۔ انسانی تخلیق، اسی تسلسل کی کہانی ہے۔۔۔۔۔۔۔ پہچان سے جھکنے، جھکنے سے مٹنے اور مٹ کر باقی رہنے تک۔۔۔۔ یہی انسانیت کی معراج۔۔۔۔۔۔یہی اس کا انجام اور یہی اس کی ابدی سعادت ہے۔ عبادت اگر معرفت سے خالی ہو تو رسم۔۔۔۔۔۔ اور معرفت اگر عبادت میں ظاہر نہ ہو تو ادھورا احساس ہے
تحریر: ساجد علی گوندل
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
دشمن کے اندر ایران کو میلی نظر سے دیکھنے کی جرأت نہیں، جنرل وحیدی
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے کہا ہے کہ دشمن ایرانی سرزمین کی طرف میلی نظر ڈالنے کی جرأت بھی نہیں رکھتے۔
بندرعباس میں بحری زون کے دورے کے موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر آج ایران کی آبی سرحدوں پر مکمل امن قائم ہے تو یہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بحری جوانوں کی شبانہ روز قربانیوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔
جنرل وحیدی نے مزید کہا کہ دشمن ایرانی جوانوں سے خوفزدہ ہیں اور اس سرزمین پر بری نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی بحریہ نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے بلکہ دشمنوں کے عزائم کو بھی ناکام بنا رہی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دشمن اس طاقتِ ایمانی اور دفاعی قوت کے سامنے بے بس ہیں۔
فرانس، حقوق نسواں کے دعوے اور گھریلو تشدد کی ہولناک تصویر، ہر تین دن بعد ایک عورت شوہر کے ہاتھوں قتل
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: فرانس میں گھریلو تشدد اور خواتین کے قتل کے واقعات نے ایک بار پھر یورپ کے اس ترقی یافتہ ملک کے سماجی ڈھانچے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 107 خواتین اپنے شوہر یا سابق شوہر کے ہاتھوں قتل ہوئیں، یعنی اوسطاً ہر تین دن بعد ایک عورت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ مجموعی طور پر 138 افراد گھریلو تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہوئے جن میں 31 مرد بھی شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ فرانس میں گھریلو تشدد محض ایک انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی بحران ہے۔ رپورٹ کے مطابق 90 فیصد قتل گھروں میں یا تو مشترکہ رہائش گاہ میں یا متاثرہ کے ذاتی مکان میں ہوئے۔ ان میں سے 49 وارداتوں میں چھری یا چاقو اور 34 میں آتشیں اسلحہ استعمال کیا گیا۔
تشدد کی جڑیں اور محرکات
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 31 فیصد قتل کسی جھگڑے کے بعد ہوئے جبکہ 16 فیصد اس وقت پیش آئے جب ایک فریق نے تعلق ختم کرنے سے انکار کیا۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ 47 فیصد خواتین پہلے ہی گھریلو تشدد کی شکایت پولیس کو کرچکی تھیں اور 81 فیصد نے باضابطہ مقدمات بھی درج کرائے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کی زندگیاں محفوظ نہ ہوسکیں۔
حکومتی اقدامات اور ان کی ناکامی
فرانسیسی وزارت داخلہ نے اعتراف کیا کہ ہنگامی فون لائنز اور حفاظتی اقدامات شاذ و نادر ہی مؤثر ثابت ہوئے۔ صرف ایک متاثرہ خاتون کو شدید خطرے کی ہاٹ لائن کے ذریعے تحفظ ملا اور صرف دو خواتین عدالتی حفاظتی احکامات سے مستفید ہوسکیں۔ حیران کن طور پر صرف ایک مجرم عدالتی نگرانی میں ہے۔
فرانسیسی وزیرِ داخلہ لوران نونے نے اس صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور ژاندارمری پوری طرح متحرک ہیں اور حکومت ہر محاذ پر سرگرم ہے۔ تاہم خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومتی اقدامات انتہائی ناکافی ہیں اور اصل مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
سول سوسائٹی اور عوامی ردعمل
خواتین کے حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ مردوں کو مناسب سزا نہ ملنے کے باعث وہ بار بار تشدد دہراتے ہیں۔ مئیل نوار نامی حقوق نسواں کے ایک کارکن نے کہا کہ بجٹ میں کٹوتیاں دراصل جرم کے مترادف ہیں اور حکومت قتل کے ان واقعات میں شریک ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ فرانس میں خواتین کے خلاف تشدد پر آواز بلند ہوئی ہو۔ نومبر 2019 میں ہزاروں افراد نے پیرس میں مارچ کیا تھا تاکہ گھریلو تشدد کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ اس کے باوجود، حکومت نے اب تک کوئی ٹھوس اور مؤثر پالیسی نہیں اپنائی۔
خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 22 نومبر کو انسداد تشدد نسواں کے عالمی دن کے موقع پر ملک گیر احتجاج میں شریک ہوں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت اس مسئلے کو قومی ترجیح قرار نہیں دیتی اور بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتی، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
صدر میکرون پر تنقید
حقوق نسواں کی تنظیموں نے صدر امانوئل میکرون سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد کو قومی مسئلہ قرار دیں اور اس کے لیے خاطر خواہ بجٹ مختص کریں۔ لیکن صدر میکرون اپنی پالیسی کو عیوب سے مبرا قرار دیتے ہیں، جس پر سول سوسائٹی اور متاثرہ خاندانوں نے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق فرانس جیسے ملک میں، جو خود کو انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتا ہے، خواتین کے خلاف اس قدر سنگین جرائم کا تسلسل سے ہونا ریاستی ناکامی کی علامت ہے۔ ایک طرف حکومت عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرتی ہے، دوسری طرف اپنے ہی ملک میں خواتین کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
فرانس میں ہر تین دن بعد ایک عورت کا قتل محض ایک جرم نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ریاستی ادارے اور عدالتی نظام مؤثر کردار ادا نہ کریں تو ترقی یافتہ ہونے کا دعوی کرنے والے معاشرے بھی خواتین کے تحفظ میں ناکام ہوسکتے ہیں۔ فرانس میں حقوق نسوان کی گھمبیر صورتحال پر سول سوسائٹی کی آواز بڑھ رہی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا میکرون حکومت اس بحران کو محض بیانات سے سنبھالے گی یا عملی اقدامات بھی کرے گی۔
سوڈان کے شہر فاشر میں بے گناہ شہریوں کا قتل عام، ایران کا شدید ردعمل
اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوڈان کے شہر فاشر میں شہریوں کے قتل عام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔
انہوں نے سوڈانی وزیر خارجہ محیالدین سالم سے ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کی جانب سے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔
عراقچی نے کہا کہ دہشت گردی اور بے گناہ افراد کے خلاف تشدد خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو، قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے مغربی ممالک پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بعض قوتیں اپنے مفادات کے لیے دہشت گردوں کو اچھے اور برے میں تقسیم کرتی ہیں، اور ان سے گندے کام کرواتی ہیں۔
وزیر خارجہ نے اس موقع پر سوڈان کی علاقائی سالمیت اور عوامی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا اور کہا کہ ایران ہر سطح پر سوڈانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
گفتگو کے دوران سوڈانی وزیر خارجہ نے ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کی یکجہتی سوڈانی عوام کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
شام کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت کا سلسلہ جاری
رنا کے مطابق قنیطرہ کے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ 2 ٹینکوں، 1 بلڈوزر اور 7 فوجیوں گاڑیوں پرمشتمل صیہونی فوج کا ایک دستہ قنیطرہ کے مضافات میں واقع الصقری چیک پوسٹ پر پہنچا اور پھر السلام ہائی وے کی طرف جانے والی سڑک پر آگے بڑھ گیا۔
غاصب صیہونی حکومت کی فوج یہ دستہ شام کے صوبہ قنیطرہ کے مضافات میں ایسی حالت میں داخل ہوا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے گزشتنہ روز الصمدانیہ نامی علاقے کے اندرایک سڑک پر لوہے کا دروازہ نصب کردیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صیہونی حکومت نے شام کے اس علاقے مں ایک چیک پوسٹ بنالی ہے جس پر علاقے کے لوگوں نے اعتراض کیا ہے اور اس کو شام کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
آیت اللہ علم الہدی: گھر میں خواتین کی فداکاری و خدمت، مردوں کے جہاد کے برابر ہے
ایران کے صوبہ خراسان رضوی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ سید احمد علم الہدی نے اپنے دفتر میں سمنان کے ائمہ جمعہ کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا: ہماری عزت اور سرفرازی امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت سے وابستہ ہے۔ آپ حضرات جو دین کی خدمت کی توفیق رکھتے ہیں یہ برکتیں آپ کی خانگی زندگی میں بھی شامل ہیں، خصوصاً آپ کی زوجات کی محنت اور صبر کے سبب۔ اگر وہ ساتھ نہ ہوتیں تو یہ کامیابیاں بھی نصیب نہ ہوتیں۔
انہوں نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم «جِهَادُ الْمَرْأَةِ حُسْنُ التَّبَعُّل» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عورت کا جہاد یہ ہے کہ وہ گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں کو حسنِ اخلاق، بردباری اور خلوص کے ساتھ نبھائے۔
آیت اللہ علم الہدی نے مزید کہا: یہ روایت اسماء بنت عمیس سے نقل ہوئی ہے کہ جب وہ شہداء اور مجاہدین کے اہل خانہ کے ساتھ خدمت کے جذبے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "عورتوں کا یہ صبر و خدمت اور ایثار، مردوں کے میدانِ جنگ میں جہاد کے برابر ہے"۔
انہوں نے کہا: خواتین جب مشکلات، تنگی حالات، سماجی دباؤ اور خانگی ذمہ داریوں کو صبر و وقار کے ساتھ نبھاتی ہیں، یتیم بچوں کی پرورش کرتی ہیں، بے سہارا خاندانوں کی مدد کرتی ہیں اور گھر کے محاذ کو مضبوط رکھتی ہیں تو یہ سب اعلیٰ ترین درجات کے جہاد میں شمار ہوتا ہے اور آخرت میں اس کا اجر و مقام بہت عظیم ہے۔
خطرناک تر ٹرمپ، امریکہ کے جوہری تجربات کی بحالی کا فیصلہ
اسٹریٹجک اور سیکیورٹی اثرات:
چین اور دیگر جوہری طاقتیں:
برطانیہ اور فرانس جیسے اتحادی ممالک جو واشنگٹن کی جوہری چھتری (deterrence) پر انحصار کرتے ہیں، اس اعلان کے بعد امریکہ کی اخلاقی ساکھ کے کمزور ہونے پر تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر داریل کیمبال نے متنبہ کیا ہے کہ یہ قدم اسلحہ کنٹرول مذاکرات کو کمزور کرے گا اور امریکہ کے مخالفین کو یہ موقع دے گا کہ وہ اسے ایک غیر ذمہ دار طاقت کے طور پر پیش کریں۔ مزید برآں یہ اعلان جوہری عدمِ پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) کے 191 رکن ممالک کو بھی کمزور کر سکتا ہے، جسے عالمی امن کے لیے ایک بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
ماحولیاتی اثرات:
جیسا کہ 1973 میں سوویت یونین کے ایک جوہری تجربے سے 6.97 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ ایسے زلزلے حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کو نقصان پہنچاتے ہیں، مچھلیوں کی اجتماعی ہلاکت اور دریاؤں کی آلودگی جیسے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے حالیہ دنوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسے جوہری تجربات کے لیے ’’کوئی تکنیکی، عسکری، اور نہ ہی سیاسی جواز موجود ہے، لیکن اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی تجربات کے احکامات صادر کرنے کے اس فیصلے کے خطرات اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔






















































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
