سلیمانی

سلیمانی

ارنا کے نامہ نگار کے مطابق، "امیر سعید ایروانی" نے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے ایک گفتگو میں کہا: امریکہ اور بحرین نے مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز اور اس کے  اطراف کی صورتحال پر ایک انتہائی ناقص، یکطرفہ اور سیاسی طور پر  اشتعال انگيز قرارداد کا مسودہ  تیار کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ   امریکہ و بحرین  دعوی کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کی آزادی کی حمایت کرنا ہے اور انہوں نے ایران کے خلاف کچھ بے بنیاد الزامات بھی لگائے ہیں، جبکہ زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ کے اقدامات اس کے اعلان کردہ اہداف سے واضح تضاد رکھتے ہیں اور امریکیوں نے صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور عدم استحکام کو گہرا کرنے کا  ہی کام کیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کا موقف واضح ہے :  آبنائے ہرمز  کے سلسلے میں واحد پائیدار حل،  جنگ  اور بحری ناکہ بندی کا  مستقل خاتمہ ہے ۔ اس کے برعکس، امریکہ "بحری تجارت کی آزادی" کی آڑ میں سلامتی کونسل میں ایک ناقص اور سیاسی طور پر  اشتعال انگيز قرارداد کا مسودہ پیش کر رہا ہے تاکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے اور غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دے سکے، نہ کہ بحران کو حل کر سکے۔

 سعید ایروانی نے مزید کہا:  اس  قرارداد کے مسودہ کے ذریعے بین الاقوامی بحری تجارت کی حمایت کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اس کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سمیت امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے۔

عراق میں ایران کی ثقافتی کونسل کے حوالے سے جاری بیان میں، ایران کے ثقافتی مشیر نے ندا سلیمی کے نام اپنے پیغام میں انہیں مسلم خواتین کی جرات کی ایک بے نظیر مثال قرار دیا اور تاکید کی کہ آپ کی یہ عالمی نوعیت کی قربانی، جس کے ذریعے آپ نے انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کے جذبے کے تحت معصوم بچوں کی جان بچائی، ہمیشہ کے لیے ایک مثالی نمونہ رہے گی۔ یہ قابلِ قدر اقدام ایک دوست اور قدر دان قوم کی جانب سے اعلیٰ ترین ستائش کا مستحق ہے۔

ندا سلیمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس خوفناک واقعے کے لمحات کو بیان کرتے ہوئے کہا: ان نازک لمحات میں خوف انسان پر غالب آجاتا ہے، لیکن جس چیز نے مجھے حرکت میں لایا وہ ان تین نومولود بچوں کے لیے احساسِ ذمہ داری تھا۔ وہ اللہ کی امانت تھے جن کی پیدائش کو ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا اور ان کی مائیں آپریشن تھیٹر میں تھیں۔ جب میں نے ان کے معصوم چہروں کو دیکھا تو ایک لمحے میں محبت نے خوف پر قابو پالیا اور میں نے انہیں گود میں لے کر بچانے کا فیصلہ کیا۔

اس فداکار نرس نے اس سوال کے جواب میں کہ جب یہ بچے بڑے ہوں گے تو آپ ان کے لیے کیا پیغام دیں گی، کہا: میں انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ تم اللہ کی طرف سے زندگی کا تحفہ ہو۔ کبھی نہ بھولو کہ زندگی ایک معجزہ ہے جسے محبت اور ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مستقبل میں مفید اور خدمت گزار انسان بنیں گے اور جس طرح ہم نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا، وہ بھی مشکل وقت میں اپنے ہم وطنوں اور امت مسلمہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

سلیمی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ نرسنگ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ میں کامیابی صرف فنی مہارت پر منحصر نہیں بلکہ انسانیت کا فن اور محبت سے بھرپور دل رکھنا بھی ضروری ہے۔ ایک کامیاب نرس وہ ہے جو مریض کی تکلیف کے تاریک ترین لمحات میں اس کے دل میں امید کی روشنی پیدا کرے۔

اس آن لائن نشست میں مختلف اسپتالوں اور صحت مراکز کے منتخب نرسوں اور منتظمین، یونیورسٹی اساتذہ اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی اور اس نرس کے بہادرانہ اور ایثار پر مبنی عمل کو سراہتے ہوئے ان کے لیے محبت اور قدردانی کا اظہار کیا، اور انہیں ایک باوقار اور باعمل مسلم خاتون کا مثالی نمونہ قرار دیا۔/

 

 اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے ایک کمانڈو دستے نے ایران کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک آئل ٹینکر کو ضبط کرلیا۔

بحریہ کے کمانڈو فورس نے ایران کا تیل غیرقانونی طریقوں سے لے جانے کی کوشش کرنے والے اس جہاز کو ضبط کرکے ایران کے آبی حدود میں منتقل کردیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ جہاز ایران کے تیل کی برآمدات اورعوام کے مفادات کو متاثر کرنا چاہتا تھا جسے ایران کے عدالتی حکم کے مطابق، ضبط کرلیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری فورس نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں ایران کے اقتدار اعلی اور قومی اور عوامی مفادات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران  کی مسلح افواج کے ایک بیان میں  ایران کی آبی سرحدوں کے پاس دشمن کی جانب سے جارحیت  کے بارے میں بتایا گيا ہے کہ بحریہ نے مختلف میزائلوں، ڈرون طیاروں اور راکٹوں سے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، جنہوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب اور  ایرانی ساحل کے قریب ایرانی تیل بردار جہاز پر حملہ کیا تھا۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کی  بحریہ کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد، جارح امریکی جنگی جہازوں نے اپنا رخ بدل لیا اور وہ  اور علاقہ چھوڑ دیا۔

 اس سے قبل خاتم الانبیاء سنٹرل کمان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  جارح، دہشت گرد اور  بحری قزاق امریکی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی  آل ٹینکر  پر حملہ کیا جو جاسک کے علاقے میں ایران کے ساحل سے آبنائے ہرمز کی طرف جا رہا تھا اسی طرح آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک اور ایرانی بحری جہاز کو  متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کےقریب  حملے کا نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق امریکی فوج نے  اسی دوان خلیج فارس کے جنوب کے کچھ ممالک کے تعاون سے خمیر، سیرک بندرگاہوں اور جزیرہ قشم کے ساحلوں پر غیر فوجی مقامات   پر فضائی حملے کئے ۔

 بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر  کی جانے والی جوابی کارروائی میں، آبنائے ہرمز کے مشرق اور چابہار  بندرگاہ کے جنوب میں امریکی بحری  جنگی  جہازوں پر حملہ کر دیا اور انہیں قابلِ ذکر نقصان پہنچایا۔

 بیان میں خبردار کیا گيا ہے کہ  مجرم اور جارح امریکہ اور اس کے حامی ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ کی طرح طاقتور اور بغیر کسی تردید کے، ہر قسم کی جارحیت اور حملے کا تباہ کن جواب دے گا۔

حزب اللہ لبنان نے جمعے کے روز مقبوضہ سرزمینوں کی جانب 20 میزائل داغے جس کے خوف سے 10 لاکھ سے زیادہ صیہونی پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔

صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حزب اللہ کے ایک میزائلی حملے میں نہاریا علاقے میں واقع ایک عمارت تباہ ہوگئی اور ایک صیہونی آبادکار بھاگتے وقت زخمی ہوگیا۔

حزب اللہ نے اس کے علاوہ ڈرون حملوں سے غاصب اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں لبنان اور صیہونی حکومت کی سرحد کے قریب تین صیہونی فوجی زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

مقبوضہ سرزمینوں سے موصولہ ویڈیو فوٹیج میں، اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹروں کو متعدد زخمیوں کو منتقل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ کے ڈرون حملوں کے سامنے صیہونی فوج بے بس ہوگئی ہے یہاں تک کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے لبنان کی استقامتی تنظیم کے ڈرون طیاروں کو صیہونی حکومت کے لیے سنجیدہ خطرہ قرار دیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج سے کوئی ترکیب نکالنے کی اپیل کی ہے۔

اس کے علاوہ حزب اللہ کے مجاہدوں نے جمعے کے روز جنوبی لبنان میں واقع بیوت السیاد قصبے میں زبردستی داخل ہونے والے دو اسرائیلی ٹینکوں کو تباہ کردیا۔

 ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے میں جاری تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور خطے میں جاری سیاسی و سکیورٹی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ بات چیت اور سفارتکاری کا راستہ جاری رہنا چاہیے اور خطے کے ممالک کے درمیان تعمیری اور مثبت تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان تعاون سے پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور خطے میں کشیدگی اور تناؤ کے امکانات کو روکا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ ریاض اپنے فضائی حدود کو کسی بھی قسم کی جارحانہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی ذرائع نے سعودی چینل الحدث کو بتایا کہ عربستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود کو کسی بھی حملہ آور یا جارحانہ آپریشن میں استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعوی کیا تھا کہ سعودی عرب اور کویت نے امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں، تاہم سعودی حکام نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا۔

اسی حوالے سے سعودی چینل العربیہ نے بھی ایک سعودی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود کو کسی جارحانہ فوجی کارروائی کی حمایت کے لیے فراہم نہیں کیا اور نہ ہی اس کی اجازت دی گئی ہے۔

سعودی ذریعے نے مزید کہا کہ ریاض اس وقت صورتحال کو ٹھنڈا کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور وہ پاکستان کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنا اور کسی سمجھوتے تک پہنچنا ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ حلقے نامعلوم مقاصد کے تحت سعودی عرب کے موقف کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ ریاض کی پوزیشن کے بارے میں ایک گمراہ کن تصویر قائم کی جاسکے۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے خلیج فارس میں دشمن کی مہم جوئی کے ردعمل میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ پشیمان ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق، جنرل امیر حاتمی نے وزارت داخلہ کے خصوصی معاون بریگیڈیئر محمدحسن نامی کے پیغام کو دوبارہ شائع کرتے ہوئے اس کے متن کی تائید کی، جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ دشمن پشیمان ہوں گے۔

ایرانی فوج کے سربراہ کا یہ مختصر مگر سخت بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دشمن کے لیے ایک واضح انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی محاصرے نے سمندری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک نئی صورتحال بتدریج مضبوط ہو رہی ہے اور امریکہ کے لیے موجودہ حالت کو جاری رکھنا ناقابل برداشت بنتا جا رہا ہے۔

اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور محاصرہ قائم کرکے سمندری جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شرارتیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں گی اور ان کے شر سے نجات حاصل ہوجائے گی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ موجودہ صورتحال کا تسلسل امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ہے، جبکہ ایران نے ابھی تک عملی طور پر اپنی کارروائیوں کا آغاز بھی نہیں کیا۔

 امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگست نے پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی اور یہ اس وقت بھی برقرار ہے، جبکہ امریکہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، اور سمندری تجارت جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور آبنائے ہرمز میں شروع کیا گیا منصوبہ عالمی تعاون کا متقاضی ہے۔

پیٹ ہیگست نے یہ دعوی بھی کیا کہ امریکہ ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اقدامات میں احتیاط برتے تاکہ صورت حال جنگ بندی کی خلاف ورزی کی حد سے نیچے رہے۔

دوسری جانب امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ممالک جو آبنائے ہرمز میں مفادات رکھتے ہیں، آگے بڑھیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ایران نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد 10 بار امریکی افواج پر حملے کیے، تاہم یہ حملے اس سطح تک نہیں کہ امریکہ دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرے۔