سلیمانی
مغرب کا من گھڑت نظریہ آزادی
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے منگل کے دن یونیورسٹی طلباء کے ایک گروپ سے ملاقات میں آزادی کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ آزادی مختلف جہتوں کی حامل ہے اور اسے انسانی عظمت کا باعث بننا چاہیئے۔ آزادی ان محوروں میں سے ایک ہے، جس کو مغربی طاقتیں اپنے لیے پروپیگنڈے نیز اپنے مخالف ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس کی ایک مثال اسلامی جمہوریہ ایران ہے، جس کے خلاف مغرب آزادی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ مغربی نقطہ نظر سے آزادی کی مرکزی علامت و مفہوم انفرادیت اور دنیا پرستی ہے۔ مغرب سیاسی میدان میں آزادی کو بس اس حد تک قبول کرتا ہے، جب تک وہ مغربی اقدار اور اصولوں سے متصادم نہ ہو اور خود اسے چیلنج نہ کرے۔
آزادی کی اس تعریف اور فہم کو اسلام قبول نہیں کرتا۔ اسلام انسانوں کی آزادی پر زور دیتے ہوئے، نسل، مذہب اور رنگ وغیرہ کے لحاظ سے انسانوں میں فرق نہیں کرتا۔ اسلام کے مطابق آزادی کی دنیاوی اور اخروی دونوں جہتیں ہیں اور اس میں دنیا اور آخرت دونوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ آزادی کو صرف دنیوی زندگی کی حدود میں بیان کرنا آزادی کو پست و حقیر کرنا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے آزادی کا حتمی مقصد انسان کا کمال اور اس کی سربلندی ہے، نہ کہ انسان کو شہوت و عارضی لذتوں میں مصروف رکھنا آزادی ہے۔
طلباء سے ملاقات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: “آزادی بہت اہم ہے، اسلام میں نظریہ آزادی کا سب سے اہم حصہ اس مادی فریم ورک سے آزادی ہے۔ یہ مادی فریم کہتا ہے کہ تم پیدا ہوئے، تم چند سال زندہ رہو، پھر تم فنا ہو جاؤ گے، گویا ہم سب کو فنا ہونے کی سزا ہے۔ مادہ پرست اس مادی پنجرے میں کچھ آزادی دیتے ہیں، وہ آزادی ہوس و شہوت کی آزادی، غصے کی آزادی، جبر کی آزادی، یہ آزادی حقیقی آزادی نہیں ہے۔ حقیقی آزادی اسلامی آزادی ہے۔ اسلام ہمیں اس فریم ورک میں رکھتا ہے، جو مادیت کے پنجرے میں بند نہیں کرتا۔۔۔۔ مرنا اختتام نہیں؛ مرنا ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، (اور درحقیقت) اہم مرحلہ کی طرف سفر ہے۔ جب آزادی کو اس طرف دیکھو گے تو آپ کا افق و ویژن بلند ہوگا۔ آپ اپنی ترقی کے لیے خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہیں گے۔ آپ کی فضیلت کی کوئی حد نہیں ہوگی، یہ آزادی ہے۔”
قائد انقلابو ملک کو مثالیت، امید اور عقلانیت کی ضرورت ہے
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ مغربی دنیا میں سیاسی آزادیوں اور انسانی حقوق کے دعوے اس وقت تک معنی خیز ہیںو جب تک وہ دنیا میں مغرب کے سیاسی اور ثقافتی اثر و رسوخ کو چیلنج نہیں کرتے۔ مغرب میں اسلامو فوبیا اور پیغمبر اسلام اور قرآن پاک کی توہین اور مغربی حکومتوں کی طرف سے ایسے اقدامات کی حمایت مغرب کے اس طرز عمل کی مثالیں ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی معاشروں میں سیاسی آزادی عملی طور پر محض دعویٰ اور پروپیگنڈہ ہے۔
درحقیقت مغرب اپنی بیان کردہ سیاسی آزادی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا بھی استعمال کرتا ہے، جس کی تعریف وہ اپنے نظریات کے مطابق کرتا ہے اور اسے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال بھی کرتا ہے۔ طلباء کے ساتھ ملاقات میں رہبر انقلاب نے شخصی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ دقیانوسیت، جمود، مختلف پسماندگیوں، غیر ضروری تعصبات، سپر پاورز اور آمروں کی قید سے آزادی پر زور دیا ہے اور اس بات پر تاکید کی کہ آزادی کا حقیقی مفہوم یہ ہے نہ کہ مغرب کا من گھڑت نظریہ آزادی۔
تحریر: سید رضی عمادی
ایرانی وزیر خارجہ کا فلسطینی مزاحمت اور قوم سے ایران کی حمایت جاری رکھنے پر زور
حسین امیرعبداللہیان نے پیر کے روز اسماعیل ہنیہ کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران عید الفطر کی آمد پر مزاحمتی تحریک اور فلسطینی قوم کو مبارکباد پیش کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یوم القدس کے موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خطاب میں قوم اور فلسطینی مزاحمت کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینی مزاحمت اور قوم سے ایران کی روحانی- سیاسی حمایت پر زور دیا۔
تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نےعید الفطر کی آمد پر ایرانی حکومت اور قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر اور صدر کو گرمجوشی سے سلام پیش کیا۔
حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے قابض حکومت کی جارحیت کے خلاف فلسطینی گروہوں اور عوام کی مزاحمت جاری رکھنے کے پختہ عزم پر زور دیا۔
ہنیہ نے ایران اور سعودی عرب کے حالیہ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس معاہدے کو دونوں ممالک اور پورے خطے کے مفاد میں قرار دیا اور کہا کہ البتہ صہیونی رجیم اس معاہدے سے ناراض ہے۔
عید فطر؛ روحانی سال کا آغاز
عید فطر کا معنی
عید کی ایک اہم وجہ جشن و خوشحالی ہے یعنی جب انسان اوج پر جاتا ہے تو اس کی فطرت پاک ہوجاتی ہے اور یہ ایک مبارک واقعہ ہوتا ہے ۔
عید کا مطلب بازگشت ہے بازگشت یعنی اصل فطرت کی طرف لوٹ آنا اور اس کے مطابق انسان اپنی حقیقت اور پاک فطرت پر واپس لوٹ آتا ہے اور عید یعنی اسی بات کی خوشی اور انعام کا نام ہے۔
عید فطر روحانی سال کا آغاز ہے
یہ احساس درست نہیں کہ ہم رمضان کے اختتام کو عید سمجھے اور اگلے سال تک رمضان سے خداحافظی کرے بلکہ ہم تازہ رمضانی ہوگیے ہیں اور جو زخیرہ میسر آیا ہے اگلے سال تک کا خرچہ ہے۔
حقیقت میں عرفاء کے نزدیک سال کا آغاز شب قدر سے ہوتا ہے اور اس معنی میں ہم ابھی تو روحانی سال کے ابتدائی ایام میں ہیں لہذا کہنا چاہیے کہ عید سے سال نو کا آغاز ہوتا ہے اور اگلے سال تک کا خرچہ ہم نے جو رمضان سے لیا ہے اس کو اگلے رمضان تک کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
اگر دیکھنا ہے کہ اس مہینے میں ہمیں کیا کچھ نصیب ہوا ہے تو دیکھنا چاہیے کہ اگر ہمیں گناہوں سے نفرت ہونے لگا ہے تو پھر اچھی علامات ہیں۔
جو پرہیزگار اور متقی نمازی ہے انکو بھی دیکھنا چاہیے کہ جو نماز وہ رمضان سے قبل یا رمضان کے آغاز میں ادا کرتا تھا اب کی نماز سے فرق کرتی ہے کہ نہیں، زیادہ توجہ اور روحانیت سے ادا کرتے ہیں کہ نہیں اگر تبدیلی آئی ہے تو پتہ چل جاتا ہے کہ انکو رمضان میں خرچہ ملا ہے اور اگر کوئی تبدیلی محسوس نہیں کرتے تو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے بقول انکو صرف بھوک وپیاس اور کم خوابی ملی ہے۔
جنہوں نے اس مقدس مہمانی سے استفادہ کیا ہے جب قرآن پڑھتا ہے تو دل نرم ہوتا ہے جب خدا کا نام لیتا ہے تو سکون ملتا ہے رمضان کے خاص عنایات ہیں اس کو درک کرنا چاہیے۔
ہمیں اس روحانی سرمایے کی قدر کرنی چاہیے اور اس کا ایک راستہ قرآن سے زیادہ مانوس ہونا اور مقدس زیارات کو جانا اور خدا سے روحانی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور اولیاء خدا سے توسل کرنا ہے وگرنہ رمضان کے بعد یہ سارے سرمایے برباد ہوسکتے ہیں۔/
* جامعہ المصطفی کے علمی بورڈ کے رکن مهدی رستمنژاد کی نیوز ایجنسی (ایکنا) سے گفتگو
اسلام میں تین عیدیں ہیں جو خود رسول اکرم (ص) کی زبان مبارک سے بیان ہوئی ہیں؛ ان میں عید الاضحی، عید فطر اور عید غدیر ہے اور عید غدیر زیادہ تر اهل بیت(ع) کی روایات میں موجود ہے جس کو عید الله اکبر کہا گیا ہے۔خطبہ عید سے خطاب؛ عوام میں اتحاد و یکجہتی کامیابی کاراز/ لاحاصل معمولی امور نظر کیا جائے
ایکنا نیوز- رہبری ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی مومن اور عظیم قوم نے آج پورے ملک میں عید الفطر کی نماز نہایت شان و شوکت سے ادا کی اور عید الفطر کے مبارک دن کو " شکر اور سرافرازي " کے جشن کے طور پر منایا، اس معنوی اور قومی شان و شوکت کا نقطہ عروج، تہران کی نماز عید تھی جہاں لاکھوں فرزندان توحید نے مصلائے امام خمینی (رہ)میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی کی امامت میں نماز عید فطرادا کی۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نماز عید کے پہلے خطبے میں ملت ایران اور امت اسلامیہ کو عید کی مبارکباد دی اور ایران کے لئے اس سال کے ماہ مبارک رمضان کو روحانیت، خضوع و خشوع، توسل و مناجات سے معمور مہینہ قرار دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس سال کا رمضان کا مہینہ بہت پر جوش اور رحمتوں سے سرشار تھا اور شبہائے قدر میں لوگوں خاص طور سے نوجوانوں نے اچھے انداز میں عبادت کی اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری تھا۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عالمی یوم القدس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سال عالمی یو م القدس کی ریلیوں میں ایران اور پوری دنیا کے لوگوں نے تاریخی اور مثالی شرکت کی حالانکہ شب قدر کی وجہ سے لوگوں نے ساری رات عبادت کی اور پھر صبح روزے کی حالت میں ریلیوں میں بھر پور طریقے سے شرکت کی اور دشمنوں کے منہ پر زور دار طانچہ رسید کیا۔
رہبرانقلاب اسلامی نے نماز عید کے دوسرے خطبے میں ماہ مبارک رمضان کی خصوصیات میں سے ایک ارادے کی تقویت کو قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ارادہ ایک ایسی چیز ہے جسے خدا وند متعال نے انسان کی پیشرفت کے لئے اسے عطاء کیا اور انسان کو چاہئیے کہ اس سے رمضان کے مہینے کے بعد بھی خدا کی خوشنودی اور پیشرفت کے لئے استفادہ کرے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عوام کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن ہمارے اتحاد اور باہمی تعاون کا مخالف ہے اس لئے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں اتحاد و وحدت کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔
آپ نے فرمایا کہ دشمن، عوام کے مابین بد گمانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے اور دس سال قبل کسی دوسرے طریقے سے کام کرتا تھا اور پہلے دشمن فوجی طریقے سے دوسرے ممالک میں داخل ہوتا تھا لیکن اب اس نے اپنی پالیسی بدل دی اس لئے کہ جس طریقے سے دشمن افغانستان میں داخل ہوا اور اسے جس طریقے سے ناکامی اور مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا اور شکست ہوئی یہ اس کی تازہ مثال ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اب اس نے اپنی پالیسی بدل دی لیکن اس کے باوجود ہم دشمن کو شکست دیں گے۔
رہبر معظم کا کہنا تھا کہ ہماری عوام نے بیداری سے دشمن کی متعدد سازشوں کو ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی ناکام بناتے رہیں گے۔/
امریکی حکومت داعش کی گاڈ فادر ہے: ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا ہے کہ امریکی حکومت داعش کی گاڈ فادر ہے۔
یہ بات ناصر کنعانی نے جمعہ کو اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش کا خالق امریکہ ہے۔
کنعانی نے کہا کہ لیکن ان لوگوں کے لیے جنہوں نے جان بوجھ کر سچ سے آنکھیں بند کیں، جان ایف کینیڈی کے بھتیجے رابرٹ ایف کینیڈی کا یہ بیان کہ "ہم نے داعش کو بنایا" اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ امریکی حکومت داعش دہشتگردوں کا گاڈ فادر ہے۔
سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے بھتیجے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے نئے چیلنجر بن گئے۔
رابرٹ کینیڈی نے تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی تقریر میں کہا کہ "پولیس بدعنوان ہے۔" "ہم نے داعش کو بنایا"، ہم نے 20 لاکھ پناہ گزینوں کو یورپ بھیجا اور وہاں جمہوریت کو غیر مستحکم کیا جس کی وجہ سے برطانیہ یورپی یونین سے نکل گیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے
خطے کے ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کی روشنی میں علاقائی ترقی کو سہل بنایا جاتا ہے: صدر رئیسی
تہران، ارنا - ایرانی صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے میں پیشرفت علاقائی ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ بات علامہ سید ابراہیم رئیسی نے جمعرات کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ایک ٹیلی فونگ رابطے کے دوران گفتکو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام پر آنے والے عید الفطر کے موقع پر مبارکباد دی۔
صدر رئیسی نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کی توسیع اور مضبوطی اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔
مزید برآں، انہوں نے مسجد الاقصی میں فلسطینیوں کے خلاف جعلی صیہونی حکومت کے حالیہ جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایسے گھناؤنے اقدامات کی روک تھام کے لیے مسلم اقوام کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد پر زور دیا۔
قطر کے امیر نے اپنی طرف سے عید الفطر کے موقع پر ایرانی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔
شیخ تمیم نے حالیہ ہفتوں میں صیہونیوں کے فلسطینیوں کے خلاف کیے گئے جرائم کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قطر نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دیا ہے۔
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّـهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَـٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿بقرہ، 114﴾
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے (اللہ کے بندوں کو) روکے اور ان کی ویرانی و بربادی کی کوشش کرے حالانکہ ان (روکنے والوں) کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسجدوں میں داخل ہوں مگر ڈرتے ڈرتے۔ ان لوگوں کے لئے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے.
عید الفطر امت اسلامیہ کے اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے / عید الفطر کا اعلان کرتے وقت ہمیں ولی فقیہ کے حکم کے تابع ہونا چاہیے
ایران کے مغربی علاقہ جزیرہ شیف کے امام جمعہ شیخ جاسم بن ہاجر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا: عید الفطر مسلمانوں کی اہم ترین اعیاد میں سے ایک ہے۔ جو کہ ماہِ رمضان المبارک کے اختتام اور ماہ شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ اس دن مسلمانوں کے لیے روزہ رکھنا حرام اور ان پر فطرہ ادا کرنا واجب ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: عیدالفطر کا اعلان کرتے ہوئے ہمیں ولی فقیہ کے حکم سے ہماہنگ ہونا چاہیے۔ یہ چیز اہلسنت اور شیعہ بھائیوں کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی میں اضافہ کا باعث اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی ناکامی کا سبب بنے گا۔
جزیرہ شیف کے اہلسنت امام جمعہ نے کہا: موجودہ زمانے میں عید الفطر کی نماز فرض نہیں ہے بلکہ مستحب ہے، اس نماز میں اذان و اقامت نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کے درمیان عید الفطر کی نماز خاص اہمیت کی حامل اور عالم اسلام میں امت کے اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے۔
شیخ جاسم بن ہاجر نے فقہِ شافعی میں عید الفطر کی نماز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شافعی مسلک میں عید الفطر کی نماز بھی دو رکعت ہے اور اس میں بارہ تکبیریں کہی جاتی ہیں، پہلی رکعت میں تکبیرۃ الاحرام کے بعد اور سورۂ فاتحہ اور دوسری سورہ سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے پانچ تکبیریں پڑھی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: نماز عید کے بعد امام جماعت خطبہ پڑھتے ہیں اور مقتدی امام جماعت کا خطبہ سنتے ہیں اور اہلسنت میں عید الفطر کی نماز کا وقت طلوع آفتاب کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور زوالِ ظہر تک باقی رہتا ہے۔
عالمی کفر پر مسلمانوں کی فتح کا راز کلمۂ وحدت میں مضمر ہے
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شہر پلدشت کے امام جمعہ حجت الاسلام قربان علی بابائی نے گذشتہ رات پلدشت شہر کی جامع مسجد میں منعقدہ دعوتِ افطار میں خطاب کرتے ہوئے کہا: خداوند متعال کے فضل و کرم، رہبر معظم انقلاب کی مدبرانہ قیادت اور ایرانی قوم کے اتحاد و وحدت نے گذشتہ 44 سالوں میں اسلام و ایران کے خلاف کی گئی تمام سازشوں کو بے اثر کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: خداوند متعال کا یہ حکم ہے کہ دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور امت کے اتحاد و وحدت پر اعتماد کیا جائے، اور اگر ایک معاشرہ میں اتحاد ہی نہ ہو تو وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے گا چونکہ عالمی کفر پر مسلمانوں کی فتح کا راز کلمۂ وحدت میں مضمر ہے۔
حجت الاسلام قربان علی بابائی نے کہا: عالمی کفر کے مقابلہ میں بھی فتح کا راز باہمی اتحاد، اتفاق اور وحدت میں مضمر ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آج ہم انقلابِ اسلامی کی برکت سے ملک میں عملی اتحاد کو مشاہدہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: انقلاب اسلامی کی فتح کے پہلے دن سے ہی نظامِ اسلامی کے ساتھ دشمنی موجود تھی اور آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے لیکن الحمد للہ دشمنوں کی جانب سے ایران کو تقسیم کرنے کے لیے کی جانے والی نسلی اور مذہبی تعصب پر مبنی تمام سازشوں کو ایرانی عوام کے اتحاد نے ناکام بنا دیا ہے۔
شہر پلدشت کے امام جمعہ نے کہا: آج جعلی صیہونی حکومت زوال پذیر اور منہدم ہو رہی ہے اور امریکہ مکمل طور پر دنیا سے الگ تھلگ ہو چکا ہے اور اسلامی ممالک کے درمیان استوار ہونے والے برادرانہ اور مفید رابطوں نے دشمن کو ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ مایوس اور پریشان کر دیا ہے۔
غیر ملکی افواج کو خطے سے نکل جانا چاہیے: صدر رئیسی
تہران، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے کہا ہے کہ ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران کے محافظ ہیں اور غیر ملکی افواج کو خطے سے نکل جانا چاہیے کیونکہ اس کی موجودگی خطے کا خطرہ ہے۔
یہ بات علامہ سید ابراہیم رئیسی نے منگل کے روز ایرانی یوم آرمی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج خطے میں سلامتی لاتی ہیں، آج ہماری بہادر فوج سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف میدانوں میں خطے کی فوجوں پر سبقت رکھتی ہے اور ہر کوئی اسے تسلیم کرتا ہے۔
صدر رئیسی نے کہا کہ آج ہماری فوج ایک لیس اور جدید فوج ہے اور اس کے پاس ملکی اور ایرانی ساختہ جدید آلات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کہ دیگر ممالک کی بعض فوجیں اور مسلح افواج اپنا ساز و سامان درآمد کرتی ہیں، ایرانی فوج جدید علم اور مقامی صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنے آلات سے لیس ہے۔
انہوں نے انقلاب دشمن عناصر اور تکفیری اور شر پسند گروہوں کے مقابلے میں فوج کو ناقابل تسخیر ڈیم قرار دیا اور کہا کہ فوج ایرانی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور یہ سمندروں میں ہمارے ملک کے مفادات کا بھی تحفظ کرتی ہے۔ سیکورٹی کی ضمانت دیتا ہے.
انہوں نے ایرانی مسلح افواج کی جرأت اور بدمعاشوں اور دہشت گردوں کے مقابلے میں ان کے موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جس سے خطے میں سلامتی آئی اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اور فوجی طاقت خطے کے مفاد میں ہے اور آج بھی اس کی مضبوطی خطے کے مفاد میں ہے، فوج اس سیکورٹی کی حفاظت کرتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ یوم آرمی خطے کے ممالک کے لیے امن اور دوستی کا پیغام لے کر، ایران خطے میں سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی کوشش کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن ہماری فوج اور مسلح افواج کا خطے سے باہر کی افواج خصوصاً امریکی افواج کو یہ پیغام ہے کہ وہ جلد از جلد اس خطے سے نکل جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے قوم، عوام، ملک اور اسلامی اقدار کے دفاع میں 48 ہزار شہیدوں کا نذرانہ پیش کیا اور دشمنوں بالخصوص ناجائز صیہونی ریاست کو یہ پیغام ملا ہے کہ کسی بھی غلطی کا ارتکاب ملک کو مسلح افواج کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور حیفا اور تل ابیب کی تباہی کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات خطے میں کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہماری مسلح افواج نے کس طرح خطے کے ممالک کی علاقائی سالمیت کا دفاع کیا اور آج ہم فوج میں جدید آلات کے استعمال کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جو اس نعرے کی علامت ہے کہ ہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج تمام کوتاہیوں اور خطرات کو مواقع میں بدل دیتی ہے۔
اسلامی انقلاب کے عظیم بانی امام خمینی (رح) نے 1979 کے 17 اپریل کو "یوم آرمی" کا نام دیا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
