سلیمانی
انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کی مناسبت سے خطا
بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
و الحمد للّہ ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیّۃ اللّہ فی الارضین.
سبھی خواہران و برادران عزیز کا خیرمقدم کرتا ہوں جنہوں نے آج اپنی آمد سے اس حسینیہ کو متبرک اور منور کر دیا۔
آج میں (اپنی تقریر میں) 12 بہمن مطابق یکم فروری کے بارے میں جو ایک اہم تاریخ ہے، کچھ باتیں عرض کروں گا، چند جملے اس فتنے کے بارے میں عرض کروں گا جو ابھی دو ہفتہ قبل رونما ہوا۔ اس بارے میں وضاحت کروں گا کہ یہ کیسا واقعہ تھا اور کیا ہوا تھا اور چند مختصر جملے امریکا کے بارے میں عرض کروں گا۔ یہ وہ نکات ہیں جو میں نے آج خواہران و براداران عزیز کے سامنے عرض کرنے کے لئے نوٹ کئے ہیں۔
بارہ بہمن مطابق یکم فروری، واقعی ایک ممتاز دن ہے۔ سال کے کچھ دن ایسے ہیں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ ان میں کون سے واقعات رونما ہوئے اور یہ کتنے بڑے اور اہم دن ہیں۔ یہ دن تاریخ میں اپنے واقعات اور حادثات کے نام سے لکھے جاتے ہیں؛ لیکن بعض ایام اتنے اہم اور ممتاز ہوتے ہیں کہ تاریخ سے بالاتر ہوتے ہیں، یہ ایام در اصل تاریخ ساز ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں جو واقعہ رونما ہوتا ہے وہ تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیتا ہے۔ بارہ بہمن مطابق یکم فروری ایک ایسا ہی دن ہے ۔
امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) خطرات کے درمیان تہران آئے؛خطرات کے بیچ میں! آپ، نوجوانوں نے وہ دن نہیں دیکھے ہیں۔ امریکا کا خطرہ تھا، صیہونی حکومت کا خطرہ تھا، دہشت گردوں کا خطرہ تھا؛ بعد میں معلوم ہوا کہ انھوں نے امام (رحمت اللہ علیہ) کی آمد کے تعلق سے کیا منصوبے تیار کئے تھے۔ ان تمام خطرات کے بیچ امام شجاعت کے ساتھ ایران آئے۔ بارہ بہمن مطابق یکم فروری کو امام (رحمت اللہ علیہ) کا جو استقبال ہوا، جہاں تک مجھے اطلاع ہے، خود ہمارے اپنے زمانے کی تاریخ میں، جس میں آبادی زیادہ ہے اور وسائل و سہولیات بڑھ چکی ہیں، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی؛ امام کا حیرت انگیز استقبال کیا گیا۔
ایک رہبر، ایک عظیم ہستی، ایک بڑا لیڈر معاشرے میں آیا، سماج اور معاشرے نے گرم جوشی کے ساتھ اس کو اپنی آغوش میں لیا۔ یہ ایک اہم واقعہ تھا، لیکن امام نے اس کو صرف یک رسمی واقعہ نہیں رہنے دیا۔ بعض اوقات اس طرح کے کام رسمی طور پر انجام دیئے جاتے ہیں؛ آتے ہیں، تعظیم کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ وہ بھی چلا جاتا ہے اور استقبال کرنے والے بھی چلے جاتے ہیں۔ امام (رحمت اللہ علیہ ) نے اس کو صرف ایک رسمی استقبال کی شکل میں باقی نہیں رہنے دیا اور ابتدائی لمحات سے ہی اس پر کام کرنا شروع کردیا۔
امام (رحمت اللہ علیہ) نے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے پہلے ہی دن، شاہی نظام کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ امام رحمت اللہ علیہ نے بہشت زہرا (تہران کا قبرستان) میں دسیوں لاکھ کے عوامی اجتماع سے خطاب میں اس بادشاہی نظام کے خاتمے کا اعلان کر دیا جس کے لئے کہتے تھے کہ اس کی ہزاروں برس کی تاریخ ہے۔ امام نے اس نظام کی جگہ ایک اہم نیز عظیم اور ممتاز خصوصیات کے ساتھ ایک جدید نظام کا اعلان کر دیا۔ یہ نیا نظام جس کی نوید امام (رحمت اللہ) نے تہران پہنچنے پر 12 بہمن مطابق یکم فروری کو دی تھی، متعدد اہم خصوصیات کا حامل ہے جن میں سے بعض کی طرف میں اشارہ کر سکتا ہوں، لیکن جو امام نے فرمایا، اس کی دو بنیادی اور اہم خصوصیات ہیں۔ ایک یہ ہے کہ انفرادی اور استبدادی حکومت کو عوامی حکومت میں تبدیل کر دیتا ہے؛ یہ بہت اہم خصوصیت ہے۔ اس ملک میں عوام کی کوئی حیثیت نہیں تھی؛ حتی وزیروں اور حکومتوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں تھی؛ ہر چیز، سب کچھ، ایک دربار میں تیار اور نافذ ہوتا تھا۔ یہ حکومت ایک عوامی حکومت میں تبدیل ہو گئی؛ ایسی حکومت جس میں عوام اپنی رائے کا اظہار کریں، انتخاب کریں اور اختیار بھی انہیں کے پاس رہے۔
دوسری خصوصیت یہ تھی کہ اس نے ملک پر حکمفرما دین مخالف فکر کی جگہ دینی اور اسلامی فکر رائج کر دی۔ اگر کوئی پہلوی حکومت میں شامل لوگوں کے بارے میں لکھی گئی تحریروں کو جو اسی زمانے میں لکھی گئی ہیں، پڑھے تو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ ایران پوری طرح دین مخالف راستے پر بڑھ رہا تھا؛ جس میں دین اور قرآن کی کوئی علامت نہیں تھی؛ ملک اس سمت میں جا رہا تھا۔
امام نے راستہ 180 ڈگری تبدیل کر دیا۔ البتہ ملک کو یکبارگی، سو فیصد دین کے مطابق نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اقدام دینی ہو گیا اور تدریجی طور پر دینی سمت میں آگے بڑھنے لگا۔ اگر ہم، یعنی ہم عہدیداران اپنے فرائض پر صحیح عمل کرتے تو اب تک جو کیا گیا ہے، اس سے ملک واقعی دینی ہو گیا ہوتا۔ واقعی ہم نے، بعض حکومتوں نے، بعض حکام نے اور بعض لوگوں نے جو کچھ کر سکتے تھے، کوتاہی کی؛ جو کام کر سکتے تھے، وہ ہم نے نہیں کئے، جو کام نہیں کرنے چاہئے تھے وہ کئے۔ لیکن پھر اسی راستے پر آگے بڑھے جس کی بنیاد امام (رحمت اللہ علیہ ) نے رکھی تھی؛ یعنی ہم دینی اور اسلامی راستے پر آگے بڑھے ہیں۔
ایک اور خصوصیت جو اس نئی حکومت میں تھی اور جس کا ذکر امام (رحمت اللہ علیہ) کے خطبات میں ہوتا تھا، اور ان جملہ خصوصیات میں جن کا امام ذکر فرمایا کرتے تھے، بہت اہم تھی اور سامراج کو سراسیمہ کر دیتی تھی، ایران سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ تھا۔ امام ( رحمت اللہ علیہ ) نے اپنے خطبات میں شروع میں ہی، ایران سے امریکا کے اثر و رسوخ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ میں اپنی گفتگو کے آخر میں اس سلسلے میں چند جملے عرض کروں گا۔ یہ بھی وہ خصوصیت تھی جس نے امریکیوں کو وحشت زدہ کر دیا۔ جس چیز نے امریکیوں کو وحشت زدہ اور پریشان کر دیا اور جس کی وجہ سے وہ دشمنی پر اتر آئے، یہ تھی کہ اعلان کیا گیا کہ ہمارے ملک میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے؛ ملک ایرانی قوم کا ہے، بنابریں وہ خود اور ان کے منتخب افراد ہی اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
انقلاب اور حکومت کے عوامی ہونے کے بارے میں، ہم نے عرض کیا کہ یہ اسلامی نظام کی خصوصیت تھی، جو کام امام نے کیا وہ یہ تھا کہ عوام کو، ملت ایران کو ان کی اپنی توانائیوں اور قدر و قیمت سے واقف کر دیا۔ امام (رحمت اللہ علیہ) کا بیان بہت موثر تھا، آپ کی باتیں دلوں میں بیٹھ جاتی تھیں۔ امام نے عوام کو اس بات کی جانب متوجہ کر دیا کہ ان کے اندر کیا توانائیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ بات کہ " ہم کر سکتے ہیں" بہت اہم ہے۔ ہم جو انقلاب سے پہلے زندگی گزار چکے ہیں، حتی ہم بھی جو مجاہدت کر چکے تھے، واقعی یہ سمجھتے تھے کہ ایرانی کچھ نہیں کر سکتے! ہم سے نہیں ہو سکتا، ملک کے عوام کی سوچ بن گئی تھی؛ امام (رحمت اللہ علیہ) آئے اور اس فکر کو ختم کر دیا۔ آپ نے اعلان کیا کہ " ہم کر سکتے ہیں"۔ انھوں نے ہمیں اپنی قدر سے آشنا کیا، ہمیں خود اپنی توانائیوں سے باخبر کیا۔ قاجاریوں اور پہلویوں کے دور میں قوم کو حقیر بنا دیا گیا تھا۔ ایرانی عوام کو اپنے اس ماضی کے ساتھ، اس تمدن کے ساتھ، اس علم کے ساتھ، ان عظیم سائنسدانوں اور دانشوروں کے ساتھ، ان عظیم کتب خانوں کے ساتھ، پہلی قاجاری حکومت سے آخری پہلوی حکومت تک کے دور میں تسلسل کے ساتھ حقیر بنایا گیا۔ ہمیں ایک پچھڑی قوم بنا دیا گیا، ہم علم میں پسماندہ تھے، ٹیکنالوجی میں پسماندہ تھے اور سیاست میں پسماندہ تھے؛ علاقے کی سیاست میں ہمارا کوئی اثرورسوخ نہیں تھا، عالمی سیاست تو بہت دور کی بات ہے!
میں نے یہاں ایک بار ایک واقعے کا ذکر کیا تھا (1) کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا کے ملکوں کو پیرس کانفرنس میں بلایا گیا کہ بین الاقوامی مسائل کے بارے میں فیصلہ کریں؛ ایران سے ایک بڑا وفد پیرس کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا لیکن اس کو کانفرنس میں نہیں جانے دیا۔ ایرانی وفد نے کئی دن انتظار کیا لیکن کانفرنس میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایران عظیم کو، متمدن ایران کو، اس ایران کو جو کبھی علم و فلسفے کا مرکز تھا، اس منزل تک پہنچا دیا گیا۔ اس طرح تحقیر کی گئی، اتنا چھوٹا کر دیا گیا! علم میں، ٹیکنالوجی میں، سیاست میں، طرز زندگی میں، بین الاقوامی اعتبار میں، علاقائی فیصلوں میں، ان تمام میدانوں میں، پہلوی اور قاجاری دور میں ایران پسماندہ پچھڑا ہوا تھا؛ نہ کوئی ایجاد، نہ اختراع ، نہ کوئی اہم کام اور نہ کوئی نمایاں اقدام۔
امام نے عوام میں اس پسماندگی کا احساس پیدا کیا کہ قوم سوچے کہ ہم پسماندہ کیوں رہیں؟ ہماری اپنی پروڈکٹس کیوں نہ ہوں؟ ہم خود کیوں نہ بنائيں؟ ہم خود کیوں ںہ پیش کریں؟ ہم اپنی بات دنیا میں کیوں نہ پیش کریں؟ امام (رحمت اللہ علیہ ) نے قوم میں یہ احساس پیدا کیا۔ اس کے اندر توانا ہونے کا احساس زندہ کیا۔ قوم میں خود اعتمادی کی روح پھونکی اور خود اعتمادی پیدا کی۔ آج ملت ایران میں خود اعتمادی پائی جاتی ہے۔ آج آپ کسی یورپی قوم حتی امریکی قوم کی طرح خود کو کمزور نہیں پاتے۔ چھوٹے ہونے کا احساس نہیں کرتے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم توانا ہیں اور آپ نے کرکے دکھا دیا۔ گزشتہ چالیس برس سے کچھ زائد عرصے میں، اس ملک میں بڑے کام انجام پائے ہیں جن کے بارے میں ماضی میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، لیکن وہ کام کر دکھائے گئے۔ ابھی اس وقت بھی، یہی صورتحال ہے۔ البتہ ہمارے کارناموں کو چھپاتے ہیں اور تشہیراتی میدان میں ہم کمزور ہیں۔ اس وقت ان نوجوانوں کی ہزاروں کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ بعض بڑی مشینیں تیار کر رہے ہیں؛ اہم اور بڑے کام کئے جا رہے ہیں۔ یہی یونیورسٹی طلبا، اپنی تیار کردہ بعض مشینیں، صرف تہران میں ہی نہیں بلکہ ملک کے گوشہ و کنار میں، انھوں نے اپنے صنعتی کارنامے دکھائے تو لوگوں نے تعجب کیا، انہیں یقین نہیں آتا تھا! کون یقین کر سکتا تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ایران ایسا اسلحہ بنائے گا جس کی نقل امریکا کرے گا؟ (2) کسی کی عقل میں یہ بات آتی تھی؟ لیکن یہ ہوا۔ یہ کام کیا گیا۔ امام نے عوام میں یہ خود اعتمادی پیدا کی۔ امید اور بلند پروازی کا جذبہ پیدا کیا۔
خود امام بھی اس امید کا مظہر تھے۔ اپنے سامنے کوئی مشکل نہیں دیکھتے تھے۔ فرماتے تھے، خرم شہر فتح ہونا چاہئے! ہم وہاں تھے، وہ خرم شہر جو چاروں طرف سے لشکروں کے محاصرے میں تھا، اس کے لئے فرماتے تھے کہ " خرم شہر آزاد ہونا چاہئے"؛ بس ایک بات! یعنی آپ کو یقین تھا کہ یہ کام ہو سکتا ہے۔ آپ نے کہا، نوجوانوں نے ہمت کی اور یہ کام ہو گیا۔ آپ خود اس امید کا مظہر تھے اور عوام کو اس امید کے راستے پر ڈالا۔ آج بھی اگر یہ خبیث شیطانی وسواس نہ ہو، ایسا ہی ہے؛ بعض ملک کے اندر اور بعض باہر سے مستقل طور پر یہ وسوسہ پیدا کرتے ہیں کہ ایرانی نوجوانوں میں کوئی امید نہیں ہے، ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اس طرح کی باتیں کرتے ہیں؛ ایرانی نوجوانوں میں امید بھی ہے اور ان کا مستقبل بھی (تابناک) ہے۔ وہ اپنا مستقبل سنوار رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں۔
22 بہمن (11 فروری) 12 بہمن (مطابق ( 1 فروری) وجود میں لایا۔ 22 بہمن( 11 فروری، اسلامی انقلاب کی سالگرہ اور یوم آزادی) اپنی تمام تر عظمتوں کے ساتھ، 12 بہمن (1 فروری،امام خمینی رحمت اللہ کی ایران آمد کا دن) کی دین ہے۔ اگر 12 بہمن ( یکم فروری) کو امام (رحمت اللہ علیہ) نہ آئے ہوتے، آپ کا وہ عظیم الشان استقبال نہ ہوا ہوتا تو 22 بہمن (11 فروری) کا واقعہ بھی رونما نہ ہوتا۔ ایران کا یوم جمہوریہ بھی جو یکم اپریل کو ہے، 12 بہمن (یکم فروری) کی دین ہے۔ اس کی ترقیاں بھی یکم فروری کی دین ہیں۔ یہ بہت اہم اور تاریخ ساز دن ہے۔ 12 بہمن ( یکم فروری) یعنی آج کا دن بہت اہم ہے۔ یہ در حقیقت ایک تاریخ ساز دن ہے۔ اس کو فراموش نہ کریں۔ امام (رحمت اللہ علیہ) پر خدا کا جو لطف وکرم تھا، اس کی برکت سے یہ کام انجام پایا اور الحمد للہ آج تک جاری ہے۔ البتہ 12 بہمن (یکم فروری) میں جہاں یہ ساری برکتیں تھیں، وہیں امریکا کی دشمنی بھی تھی۔ امریکا نے اسی 12 بہمن (یکم فروری،امام رحمت اللہ کی ایران آمدن کے دن) سے اپنی دشمنی پہلے سے زیادہ برملا کر دی۔ یہ بھی تھا۔ اس سلسلے میں بعد میں، میں چند جملے عرض کروں گا۔ یہ چند جملے (امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ایران آمد کے دن) 12 بہمن مطابق یکم فروری کے بارے میں تھے۔
اب آتے ہیں اس فتنے کی طرف جو آٹھ اور نو جنوری کو رونما ہوا۔
میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ امریکی اور صیہونی فتنہ تھا۔ میں نے اس سے پہلے بھی ایک دن یہیں ایک جلسے میں کہا تھا (3) جو لوگ آکر بلوہ کررہے تھے، دو طرح کے تھے۔ کچھ لوگ سرغنہ تھے اور کچھ ان کے احکام پر عمل کر رہے تھے۔ «ھمج لرَّعاع».(4) سرغنہ ٹرینڈ تھے؛ انھوں نے پیسے لے رکھے تھے، ٹریننگ لے رکھی تھی، انہیں سکھایا گیا تھا کہ کس طرح اقدام کریں، کس طرح حملہ کریں، کہاں حملہ کریں، نوجوانوں کو کس طرح اکٹھا کریں، کس طرح بات کریں۔ یہ ساری باتیں انہیں سکھائی گئی تھیں۔ بہت سے سرغنہ گرفتار ہوئے ہیں، انہوں نے ان باتوں کا اعتراف کیا ہے۔
کچھ ماحول سے متاثر ہو جانے والے ہیجان زدہ نوجوان تھے، ہلڑ ہنگامہ ہوا تو وہ بھی نکل پڑے؛ ان کے بارے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہ فتنہ، امریکی فتنہ تھا؛ منصوبہ بندی، امریکی منصوبہ بندی تھی۔ صرف امریکا ہی نہیں بلکہ اس میں صیہونی حکومت بھی شامل تھی۔ یہ جو ہم امریکا کا نام لے رہے ہیں، یہ صرف دعوی نہیں ہے؛ خفیہ اور پرپیچ و پیچیدہ سیکورٹی و انٹیلیجنس راستوں سے ملنے والی اطلاع نہیں ہے۔ البتہ کیوں نہیں، ہمیں ایسی بہت سی خصوصیات کی اطلاع ہے، لیکن جو بات واضح کرتی ہے کہ یہ امریکی اقدام تھا، خود امریکی صدر کے بیانات ہیں (5) پہلی بات تو یہ کہ وہ صراحت کے ساتھ بلوائیوں کو ایرانی عوام کے نام سے مخاطب کر رہے تھے۔ 12 جنوری کو تہران اور ایران کے دیگر شہروں میں دسیوں لاکھ لوگ جمع ہوئے، وہ ایرانی عوام نہیں تھے (لیکن) یہ چند ہزار افراد ایرانی عوام تھے! انہیں وہ کہتے تھے، " ایرانی عوام" اس کے بعد کہا" آگے بڑھو، ہم آ رہے ہیں! (6) بنابریں یہ فتنہ امریکی فتنہ تھا۔ اس بات پر توجہ رکھیں کہ یہ تہران میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ نہیں تھا اور آخری بھی نہیں ہوگا۔ اس کے بعد بھی اس طرح کے واقعات ہوں گے۔ یہ پہلا فتنہ نہیں تھا اور آخری بھی نہیں ہوگا۔ ممکن ہے کہ بعد میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوں۔ ہم ایک ملک ہیں، ہماری فکر نئی ہے اور ہمارا راستہ نیا ہے، ہم عالمی غنڈوں کے مفادات کے مطابق نہیں ہیں۔ ان سے متصادم ہیں۔ ہمیشہ ان باتوں کا منتنظر رہنا چاہئے۔ اب یہ کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ اس وقت تک کہ ملت ایران کے امور میں اتنا ثبات واستحکام آجائے جو دشمن کو مایوس کر دے؛ ہمیں اس منزل تک پہنچنا ہے اور پہنچیں گے۔
اس فتنے سے پہلے بھی تہران کی سڑکیں جرائم کی شاہد رہی ہیں، انھوں نے حوادث دیکھے ہیں۔ 20 جون 1981 کو اسی تہران کی سڑکوں پر کارپٹ کاٹنے والے چاقووں سے عوامی رضا کار فورس بسیج کے سپاہیوں پر حمل کیا گیا! اس طرح کے واقعات ہم نے بہت دیکھے ہیں؛ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا، آخری بھی نہیں ہے۔ ان تمام واقعات میں اغیار کا ہاتھ تھا اور خاص طور پر حالیہ واقعے میں۔
البتہ اس حالیہ فتنے اور اس سے قبل دیگر واقعات میں، حکام، پولیس کے ذمہ داران، سپاہ اور عوامی رضا کار فورس بسیج اور دیگر سیکورٹی اداروں نے اپنی ذمہ داریوں پر مکمل طور پر عمل کیا۔ لیکن اس فتنے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے والے عوام ہیں۔ اس بار بھی 2009 کے فتنے میں بھی اور دیگر واقعات میں بھی یہی ہوا کہ جب عوام نے فیصلہ کیا اور فتنے کی آگ بجھانے کے لئے میدان میں اترے تو فتنوں کے شعلے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ یہ اس بار بھی ہوا اور آئندہ بھی اگر ملک کے لئے کوئی حادثہ رونما ہوا تو توفیق الہی سے عوام اس کا مقابلہ کریں گے اور اس کو بھی ناکام بنا دیں گے۔
اس فتنے کی چند خصوصیات تھیں جن میں سے، میں، دو تین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
ایک یہ ہے کہ بلوائیوں نے تاجر برادری کے پر امن مظاہروں کی آڑ میں خود کو چھپایا؛ جس طرح کہ بعض مجرمین، بعض شہروں میں، دنیا کی بعض جگہوں پر، پولیس کا سامنا ہونے پر عورتوں اور بچوں کو اپنی ڈھال بنا لیتے ہیں۔ بلوائیوں نے تاجر برادری کی آڑ میں یہ فتنہ بپا کیا تھا۔ تاجر برادری کے لوگوں نے احتجاج کیا، سڑکوں پر آئے، ان میں سے بعض نے دکانیں بند کر دی تھیں۔ میں نے اس بار، اسی جگہ، ایک ایسے ہی جلسے میں کہا تھا کہ ان کی باتیں منطقی اور صحیح تھیں۔ (7) بلوائیوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لئے تاجری برادری کی آڑ لی لیکن تاجر برادری کے لوگ ذہین تھے، معاملہ سمجھ گئے، جب دیکھا کہ یہ بلوہ ہے، پر امن تحریک کے بجائے، پولیس اسٹیشن پر حملہ ہو رہا ہے، تو سمجھ گئے کہ یہ بلوائی ہیں اور پھر انھوں نے خود کو ان سے الگ کر لیا۔
اس فتنے کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ بغاوت کی مانند تھا۔ دنیا کے بعض ملکوں نے بھی اس فتنے کو بغاوت سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایران میں بغاوت ہوئی جس کی سرکوبی کر دی گئی ۔ لیکن یہ بغاوت تھی۔ بغاوت کا مطلب کیا ہے؟ یعنی اس کا مقصد، ملک کے موثر اور حساس اداروں کی تخریب تھی۔ پولیس پر حملہ کیا، سپاہ پر حملہ کیا، بعض دیگر حکومتی مراکز پر حملہ کیا، بینکوں پر حملہ کیا، یہ مادی لحاظ سے تھا۔ اس کے ساتھ ہی مساجد پر حملے کئے گئے، قرآن پر حملہ کیا گیا؛ یہ معنوی پہلو تھا۔ ملک چلانے والے یہی ہیں۔ ان پر حملہ کیا گیا۔
ایک اور نکتہ جو اس فتنے میں پایا جاتا ہے اور اس پر توجہ رکھنا بہتر ہے، یہ ہے کہ اس فتنے کی منصوبہ بندی ملک سے باہر کی گئی تھی۔ منصوبہ بندی ملک کے اندر نہیں ہوئی تھی ملک کے اندر بلوائیوں نے یہ فتنہ بپا کیا لیکن اس کی منصوبہ بندی ملک سے باہر کی گئی تھی۔ انہیں باہر سے حکم دیا جا رہا تھا، ان کا باہر سے رابطہ تھا، البتہ سرغنوں کا ۔ بلوائیوں کے سرغنہ ملک سے باہر سے رابطے میں تھے۔ باہر سے ان سے کہا جاتا تھا کہ اب یہ کام کرو، اب فلاں جگہ حملہ کرو، اس سڑک پر جاؤ۔ یہ ہدایات باہر سے انہیں دی جا رہی تھیں۔ سیٹلائٹ وغیرہ کے ذریعے وہ اطلاعات حاصل کرتے تھے اور بلوائیوں کے لئے احکامات صادر کرتے تھے۔
ایک باخبر ذریعے سے مجھے معلوم ہوا کہ امریکی حکومت کے ایک با اثر رکن نےاس طرف، ایرانیوں سے، کہا تھا کہ یہ حالیہ واقعہ جو ایران میں رونما ہوا ، اس میں امریکا اور صیہونی حکومت کے جاسوسی کے اداروں ، سی آئی اے اور موساد نے اپنی پوری قوت سے کام لیا تھا۔ اس کا اعتراف ایک امریکی نے کیا ہے۔ اس نے کہا کہ جاسوسی کی دو اہم تنظیموں سی آئی اے اور موساد نے اس فتنے میں اپنی پوری قوت لگا دی تھی لیکن انہیں شکست ہوئی ۔ منصوبندی باہر کی گئی اور باہر سے ہی بلوائیوں کو احکامات دیئے جا رہے ہیں۔
ایک اور خصوصیت اس فتنے کی یہ تھی کہ اس کے سرغنے سب ٹرینڈ تھے۔ قتل و خونریزی کے ماہر تھے، انھوں نے باقاعدہ ٹریننگ لے رکھی تھی۔ بعض لوگوں سے ان کی کوئی خاص دشمنی نہیں تھی لیکن قتل کرنا ان کا مشن تھا۔ لہذا وہ پولیس اور فوج کے مراکز پر حملے کر رہے تھے۔ لوگوں کے قتل کے لئے مسلحانہ حملے کر رہے تھے۔ اپنے ذاتی اسلحے سے بھی حملے کر رہے تھے تاکہ دوسری طرف سے بھی ردعمل اور جوابی حملے کئے جائيں۔ حتی ان لوگوں کو بھی جنہیں وہ خود پروپیگنڈہ مہم کے ذریعے میدان میں لائے تھے، انہیں بھی پیچھے سے حملے کا نشانہ بنا رہے تھے! مجھے اطلاع دی گئی کہ اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے بعض پر پیچھے سے حملہ کیا گیا ہے۔ یہ لوگ حتی خود اپنے افراد پر بھی رحم نہیں کرتے تھے تاکہ مرنے والوں کی تعداد بڑھے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں کسی حدتک کامیاب بھی رہے ہیں۔ البتہ دشمن چاہتا تھا کہ اس سے زیادہ لوگ مارے جاتے۔ دشمن جتنے لوگوں کا قتل چاہتا تھا، اتنے لوگ نہیں مارے گئے لیکن وہ دعوی کر رہا ہے۔ البتہ ان جیسوں کے لئے اس طرح کا جھوٹ بعید نہیں ہے۔ وہ مارے جانے والوں کی تعداد دس گنا بڑھا کر بیان کر رہے ہیں۔
دشمن کا مقصد ملک کی سیکورٹی ختم کرنا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ پہلے ہی مرحلے میں ملک کی سیکورٹی ختم ہو جائے۔ سیکورٹی نہ ہو تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ جب سیکورٹی نہ ہو تو پیداور بھی نہیں ہوتی اور روٹی بھی نہیں ہوتی۔ پڑھائی لکھائی بھی نہیں ہوتی، اسکول کالج بھی نہیں ہوتے، تحقیقات بھی نہیں ہوتیں۔علم بھی نہیں ہوتا، پیشرفت بھی نہیں ہوتی، سیکورٹی ہو تو یہ سب ہوتا ہے۔
جن لوگوں نے ملک میں سیکورٹی کی حفاظت کی ہے ہماری گردنوں پر ان کا حق حیات ہے۔ ہمارے بچے اگر سڑکوں پر اسکول کی طرف جا سکتے ہیں تو یہ سیکورٹی کی وجہ سے ہے؛ اگر سیکورٹی نہ ہو تو آپ کے بچے اسکول بھی نہیں جا سکتے۔ خود آپ بھی اپنی دکانوں میں نہیں جا سکتے۔ اپنے کام پر نہیں جا سکتے۔ یہ نوجوان جو تحقیقات اور ریسرچ میں مصروف ہيں، یہ، تحقیقات بھی نہیں کر سکتے۔
وہ عوام کو نظام کے مقابلے پر لانا چاہتے تھے لیکن خوش قسمتی سے عوام سے انہیں منھ کی کھانی پڑی ۔ 12 جنوری کو دسیوں لاکھ لوگ باہر نکلے اور اپنے آپ کو دکھا دیا کہ عوام یہ ہیں۔ انہوں نے بلوائیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ حکام کو چاہئے کہ عوام کی قدر کریں؛ واقعی ملک کے حکام کو عوام کی قدر کرنی چاہئے۔
یہاں میں یہ بات عرض کر دوں کہ یہ فتنہ، اتفاقی تھا یا حساب کتاب کے ساتھ کیا گیا تھا، یہ میں نہیں کہہ سکتا، لیکن ایسے وقت میں کیا گیا کہ ملک کے حکام، سرکاری عہدیداران، صدر مملکت(8) اور دیگر عہدیداران، ملک کے لئے ایک اقتصادی پیکیج تیار کر رہے ہیں۔ وہ ملک کے لئے اقتصادی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اقدام کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں کہ حالات بہتر ہوں اور ملک آگے بڑھے۔ ایسے وقت میں یہ فتنہ بپا کیا گیا۔ اب یہ کہ یہ ایک اتفاق تھا یاحساب کتاب کے ساتھ کیا گیا تھا، یہ میں نہیں کہہ سکتا۔
داعش جیسا تشدد بھی اس فتنے کی ایک خصوصیت تھی۔ داعش کو کس نے تیار کیا تھا؟ امریکا کے اسی موجودہ صدر نے اپنے پہلے دور کے انتخابات کے دوران صراحت کے ساتھ کہا تھا کہ داعش کو ہم وجود میں لائے ہیں۔ داعش کو امریکیوں نے تیار کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ دہشت گرد گروہ تشکیل دیا۔ خود اس وزیر خارجہ نے جو ایک عورت تھی، (9) کہا اور اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ داعش کو ہم نے عراق اور شام پر قبضے کے لئے تیار کیا ہے۔ اس داعش کو بھی انہیں نے تیار کیا ہے؛ یہ ایک اور داعش ، اس کا کام بھی اسی کے کاموں جیسا ہے۔ اس دن میں نے عرض کیا کہ داعش لوگوں کو بے دینی کی تہمت لگار ختم کر رہا تھا اور یہ دینداری کی وجہ سے لوگوں کو قتل کر رہے تھے۔ فرق صرف یہ ہے ورنہ یہ وہی گروہ ہے۔ انھوں نے بھی داعش کی طرح لوگوں کو جلا کر مار دیا! دیکھئے یہ کتنی سنگدلی ہے کہ کسی انسان کو زندہ جلاکر مار دیا جائے، سر قلم کر دیے جائيں! یہ وہی کام ہیں جو داعشی دہشت گرد کرتے تھے۔ تشدد ان کی ایک خصوصیت تھی۔ (10)
اب آپ نے یہ جو نعرے لگائے اور امریکا کا نام لیا تو ہم بھی امریکا کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ ہماری گفتگو کا آخری حصہ امریکا کے بارے میں ہے۔
ایران اور امریکا کا مسئلہ کیا ہے؟ اس مقابلہ آرائی میں جو چالیس برس سے زائد عرصے سے جاری ہے اور ایران اور امریکا میں دشمنی ہے، یہ مسئلہ کیا ہے؟ میرے خیال میں اس مسئلے کو دو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا کہ امریکا ایران کو نگل لینا چاہتا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ اور ایران کے باہوش عوام رکاوٹ ہیں۔ کسی نے کہا کہ میں رشتہ مانگنے گیا، ساری باتیں ہو گئيں، دو جملوں میں اصل مسئلہ پھنس گیا۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے آپ کی بیٹی کا رشتہ چاہئے، وہ کہتے ہیں تمہاری ہمت کیسے ہوئی! (11) اسی طرح ایرانی عوام نے فریق مقابل سے کہا کہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔ یعنی ایرانی عوام کا جرم یہ ہے۔ لڑائی اس بات کی ہے۔
آپ کا ایران، آپ کا ملک بہت زیادہ کشش رکھتا ہے۔ ایران کے تیل میں بہت کشش ہے، ایران کی گیس کشش رکھتی ہے، ایران کی معدنیات کشش رکھتی ہیں، ایران کی اسٹریٹیجک جیوپولیٹیکل پوزیشن کشش رکھتی ہے اور اس کی بہت سی خصوصیات ہیں جو پرکشش ہیں۔
ایران ایسا ملک ہے کہ ایک تسلط پسند لالچی طاقت، اس پر طمع کی نظر رکھتی ہے، ایران ایک ایسا ملک ہے۔ وہ اس ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس طرح کہ ماضی یہ ملک ان کے قبضے میں تھا۔
تقریبا تیس برس امریکی ایران میں رہے۔ ایران کے ذخائر ان کے اختیار میں تھے، ایران کا تیل ان کے اختیار میں تھا، ایران کی سیاست ان کے اختیار میں تھی، ایران کی سیکورٹی ان کے اختیار میں تھی، دنیا کے ساتھ ایران کے روابط ان کے اختیار میں تھے، سب کچھ ان کے اختیار میں تھا۔ تیس سال تک انھوں نے یہاں جو چاہا کیا۔ اب جبکہ ان کا اثرورسوخ ختم ہو گیا ہے، وہ یہاں دوبارہ وہی پہلوی دور کی حالت لانا چاہتے ہیں۔ لیکن ایرانی عوام ان کے مقابلے پر ڈٹ گئے ہیں۔ ایران سے ان کی دشمنی کی وجہ یہ ہے۔ لڑائی یہ ہے۔ بقیہ باتیں جیسے انسانی حقوق کی بات اور دیگر باتیں جو وہ کرتے ہیں، سب بیکار کی باتیں ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے ۔ ایران پر اس کی لالچ کی نگاہ ہے، لیکن ایران ان کے مقابلے پر استحکام کے ساتھ ڈٹ ہوا ہے اور اسی طرح پائیداری کے ساتھ ڈٹا رہے گا اور فریق مقابل کو اپنی تمام موذیانہ حرکتوں میں صرف مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ جو آپ دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات جنگ کی بات کرتے ہیں کہ ہم اس طرح کے جنگی طیاروں کے ساتھ آئیں گے اور یہ کر دیں گے، یہ کوئی نئی بات نہيں ہے۔ ماضی میں بھی امریکی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ " سبھی آپشن میز پر پیں" سبھی آپشن "یعنی جںگ سمیت سبھی آپشن، یہ تو انھوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ سبھی آپشن میز پر ہیں ۔ یہ صاحب اسی طرح تسلسل کے ساتھ دعوی کر رہے ہیں کہ ہم جںگی بیڑا لے آئے، اور اسی طرح کے دیگر کام کر دیے، میری نظر میں ایرانی عوام کو ان باتوں سے نہیں ڈرانا چاہئے۔ ایرانی عوام ان باتوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ وہ حق کی لڑائی سے نہیں ڈرتے۔ ہم جنگ شروع کرنے والے نہیں ہیں۔ کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہتے۔ کسی ملک پر حملہ نہیں کرنا چاہتے لیکن کسی کو اس بات کی اجازت بھی نہیں دیں گے کہ ہمارے ملک پر لالچ کی نظر رکھے، اگر کوئی حملہ کرنا اور اذیت پہنچانا چاہے گا تو اس کو ملت ایران کا محکم جواب ملے گا۔ امریکیوں کو جان لینا چاہئے کہ اس بار جنگ ہوئی تو یہ جنگ علاقائی جنگ ہوگی۔
والسّلام علیکم و رحمۃ اللّہ و برکاتہ
1۔ 26 نومبر 2025 کو ملک کے بسیجی جوانوں سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب
2 ۔ امریکا کے لوکاس ڈرون کی طرف اشارہ جو ایران کے شاہد 136ڈرون کی کاپی ہے
3۔ 17 جنوری 2026 کو عوام کے مختلف طبقات کے اجتماع سے رہبر معظم کا خطاب
4۔ پست اور سرگرداں لوگ ( نہج البلاغہ، حکمت 147 سے ماخوذ
5۔ ڈونلڈ ٹرمپ
6۔ حاضرین کی ہنسی
7۔ 3 جنوری 2026 کو، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت پر شہید جنرل قاسم سلیمانی اور 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے شہدا کے لواحقین سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب
8۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان
9۔ ہلیری کلنٹن
10۔ امریکا مردہ باد کے نعرے
11۔ حاضرین کی ہنسی
مہدویت کیا ہے؟
انتظار یعنی زندگي کی موجودہ صورتحال کو تسلیم نہ کرنا
اس زاویے سے انتظار کا مطلب ہے مطمئن نہ ہونا، انسان کی زندگي کی موجودہ صورتحال کو تسلیم نہ کرنا اور مطلوبہ صورتحال تک رسائی کے لیے کوشش کرنا اور مسلّمہ بات ہے کہ یہ مطلوبہ صورتحال ولی خدا حضرت حجت ابن الحسن مہدی صاحب الزمان صلوات اللہ علیہ و عجل اللہ فرجہ و ارواحنا فداہ کے مضبوط ہاتھوں سے عملی جامہ پہنے گی۔ (17 اگست 2008) (امام مہدی کے ظہور کے) انتظار کا مسئلہ بھی مہدویت کے عقیدے کا لازمی جز ہے اور یہ بھی منزل کمال کی سمت امت مسلمہ کی عمومی و اجتماعی حرکت اور حقیقت دین کو سمجھانے میں بنیادی حیثیت رکھنے والے مفاہیم میں ہے۔ انتظار یعنی توجہ، انتظار یعنی ایک یقینی حقیقت پر نظر رکھنا۔ یہ ہے انتظار کا مفہوم۔ انتظار یعنی یہ مستقبل جس کے ہم منتظر ہیں یقینی ہے۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ یہ انتظار ایک جیتے جاگتے انسان کا انتظار ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ (9 جولائی 2011)
مہدویت، دین اسلام کے سب سے اعلیٰ معارف میں سے ایک
اسی بات کے تسلسل میں کہنا چاہیے کہ مہدویت کا مسئلہ، دینی عقائد اور معارف کی چند اہم ترین بنیادوں میں سے ایک ہے، جیسے عقیدۂ نبوت ہے۔ مہدویت کے عقیدے کی اہمیت کو ایسا ہی سمجھنا چاہیے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ عقیدہ جس چیز کی نوید دیتا ہے وہ وہی چیز ہے جس کے لیے تمام انبیاء کو مبعوث کیا گیا اور وہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انصاف کی بنیاد پر ایک توحیدی معاشرے کی تشکیل سے عبارت ہے۔ امام زمانہ (سلام اللہ علیہ و عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کا زمانہ ایسا زمانہ ہے۔ یہ توحیدی معاشرے کا زمانہ ہے، یہ یکتا پرستی کی بالادستی کا زمانہ ہے، یہ انسانی زندگی کے گوشے گوشے میں دین و روحانیت کی حقیقی فرمانروائی کا زمانہ ہے، حقیقی معنی میں انصاف کے قیام کا زمانہ ہے۔ (9 جولائی 2011)
مہدئ موعود کی ولادت، دنیا کے تمام پاکیزہ اور آزاد منش انسانوں کی عید کا دن
بنابریں حضرت مہدی کسی خاص گروہ یا کچھ خاص لوگوں سے مختص نہیں ہیں۔ مہدئ موعود (ارواحنا لتراب مقدمہ الفدا) کی ولادت کا دن، در حقیقت دنیا کے تمام پاکیزہ اور آزاد منش انسانوں کی عید کا دن ہے۔ ممکنہ طور پر صرف وہی لوگ اس دن خوشی و مسرت محسوس نہ کر پائیں جو ظلم کی بنیادوں کا حصہ یا دنیا کے طاغوتوں اور ظالموں کے پیروکار ہوں ورنہ کون سا آزاد منش انسان ہے جو پوری دنیا میں عدل و انصاف کے فروغ، انصاف کے پرچم کے لہرانے اور ظلم کے خاتمے سے خوش نہ ہو اور اس کی آرزو نہ رکھتا ہو۔ (23 نومبر 2008) پندرہ شعبان کا دن امیدوں کا دن ہے ، یہ امید اہلبیت کے شیعوں سے مخصوص نہیں ہے، حتیٰ امت مسلمہ سے بھی مخصوص نہیں ہے۔ عالم بشریت کے ایک روشن و درخشاں مستقبل کی آرزو اور پوری دنیا میں انصاف قائم کرنے والے ایک عدل گستر، منجی موعود کے ظہور پر تقریباً وہ تمام ادیان اتفاق رکھتے ہیں جو آج دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ (17 اگست 2008)
تمام مذاہب میں مہدئ موعود کے ظہور کا عقیدہ
صرف شیعہ ہی نہیں ہیں جو مہدئ موعود (سلام اللہ علیہ) کے منتظر ہیں بلکہ نجات دہندہ اور مہدی کا انتظار تمام مسلمانوں سے متعلق ہے۔ شیعوں اور دوسروں میں فرق یہ ہے کہ شیعہ اس نجات دہندہ کو نام، علامات اور مختلف خصوصیات کے ساتھ جانتے ہیں تاہم دوسرے مسلمان، جو نجات دہندہ پر عقیدہ بھی رکھتے ہیں، نجات دہندہ کو نہیں پہچانتے، بس یہی فرق ہے ورنہ مہدویت کے بنیادی عقیدے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ دیگر ادیان بھی اپنے عقائد میں، زمانے کے آخر میں نجات دہندہ کے انتظار کا عقیدہ رکھتے ہیں، انھوں نے بھی اس مسئلے کے ایک حصے میں بات کو صحیح سمجھا ہے لیکن مسئلے کے بنیادی حصے میں جو نجات دہندہ کی ذات کی معرفت ہے، اس میں ان کے یہاں کمی ہے۔ شیعہ اپنی پختہ اور قطعی معلومات کے ساتھ نجات دہندہ کو نام، نشانی، خصوصیات، تاریخ ولادت کے ساتھ پہچانتے ہیں۔ (20 ستمبر 2005) اسی تناظر میں "تاریخ کے ایک دور میں مہدی کے ظہور" کا عقیدہ صرف شیعوں سے مختص نہیں ہے، سبھی مسلمان، چاہے شیعہ ہوں یا سنی، اس چیز پر عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ غیر مسلمان بھی ایک طرح سے اس پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ البتہ شیعوں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ انسانیت کے اس نجات دہندہ کو نام، علامات اور خصوصیات کے ساتھ جانتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ نجات دہندہ حکم الٰہی پر عمل کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ جب بھی پروردگار عالم اسے حکم دے گا وہ اس عظیم کام کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے جو انسانیت اور تاریخ کو تبدیل کر دے گا۔ (22 اکتوبر 2002)
مہدئ موعود کے انتظار کے جذبے کا امید بخش اور حوصلہ افزا ہونا
حقیقت میں انتظار کا جذبہ، حضرت امام زمانہ (ارواحنا فداہ) سے جڑے ہونے، ان کے ظہور کے منتظر ہونے اور اس دن کے منتظر رہنے کا جذبہ، اسلامی معاشرے کے لیے امید کا بہت اہم دریچہ ہے۔ ہم گشائش کے منتظر ہیں اور خود یہ انتظار اپنی جگہ کسی گشائش سے کم نہیں ہے، خود یہ انتظار گشائش کا دریچہ ہے، یہ اپنے آپ میں امید بخش اور حوصلہ افزا ہے۔ یہ انتظار عبث اور بے مقصد زندگی گزارنے کے احساس، بے وقعتی کے احساس، مایوسی کے احساس، مستقبل کے بارے میں گمراہی اور منزل گم کر دینے کے احساس سے نجات دلاتا ہے، امید عطا کرتا ہے، راستہ دکھاتا ہے۔ امام زمانہ (سلام اللہ علیہ) کا مسئلہ ایسا ہے۔ (11 جون 2014)
مہدئ موعود پر دل سے عقیدہ، روحانی اور سماجی تکلیفوں سے شفا عطا کرتا ہے
حضرت حجت (ارواحنا فداہ) کی ولادت اور اس عظیم یاد سے ہمیں سبق ملنا چاہیے۔ جذبات بہت اچھے ہیں، جذبات انسانوں کے بہت سے نیک اعمال کے پشت پناہ ہیں، دنیا کے اس عظیم نجات دہندہ کے وجود پر قلبی ایمان و عقیدہ بہت سی معنوی، روحانی اور سماجی بیماریوں اور آلام سے شفا عطا کرتا ہے لیکن ان سب سے بڑھ کر ہمیں اس یاد اور اس عظیم واقعے سے سبق لینا چاہیے۔" (12 نومبر 2000) اسی اہم بنیاد کی بنا پر انتظار اور مہدویت کا مسئلہ ایک دلیل اور منطق کا حامل ہے: "کوئی یہ نہ سوچے کہ مہدویت کا مسئلہ، صرف ایک جذباتی مسئلہ ہے، جی نہیں، مہدویت کی فکری بنیادیں، بہت مضبوط اور مستحکم ہیں۔ ان تمام شکوک و شبہات کے، جو اس عقیدے کے مخالفوں اور دشمنوں نے ذہنوں میں پیدا کیے ہیں، ٹھوس جوابات موجود ہیں۔ اگرچہ اس عقیدے کا منطقی، فکری اور استدلالی پہلو بہت ٹھوس اور واضحں ہے لیکن اسی کے ساتھ اس شیعی عقیدے کا جذباتی، معنوی اور ایمانی پہلو بھی بہت اہم ہے۔ (28 جنوری 1994)
مہدئ موعود کے ظہور کے لیے تیاری
حضرت مہدی کی عالمی تحریک کی عظمت و ہمہ گیری کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے فرائض پر صحیح طریقے سے عمل کرنا چاہیے: ہمیں خود کو تیار کرنا چاہیے، ہر شخص کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ خود کو تیار کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ یہ تیاری معنوی ہے، روحانی ہے اور ایمانی ہے۔ ہر شخص کو امید، ایمان اور نورانیت کے ذریعے اپنے اندر عظیم سرمایہ پیدا کرنا چاہیے تاکہ وہ اس لائق بن سکے کہ حضرت کے قریبیوں، ان کے خاص لوگوں، ان کے ساتھیوں، ان کی عظیم عالمی تحریک میں ان کے معاونوں میں شامل ہو سکے۔ (28 جنوری 1994)
اسلامی جمہوریہ نے کس طرح ایران کے میڈیکل سسٹم کو پوری طرح بدل دیا
تساہلی اور پسماندگی: اسلامی انقلاب سے پہلے ایران کے حفظان صحت کے نظام کی صورتحال
انقلاب سے پہلے، ایران کے حفظان صحت کا نظام بہت سی کمیوں کا شکار تھا جن کی جڑ ناکارآمد پالیسیاں، تعلیمی نظام میں کمزوری اور ماہرین کی کمی تھی اور اس سے عوام کی بہبود اور صحت کو خطرہ تھا۔ ماہرین کی کمی اور نظامِ تعلیم و علاج میں بنیادی مسائل، ملک کے علاج معالجے کے نظام کی سب سے بڑی کمزوریوں میں شمار ہوتے تھے۔
ایران میں سابق برطانوی سفیر اینٹنی پارسنز، اس دور کے حفظان صحت کے نامناسب حالات اور ڈاکٹروں کی کمی کے بارے میں اپنی ڈائری میں کہتے ہیں: "اس تاریخ میں (سنہ 1965 کے آس پاس) ایران کے پاس صرف گیارہ ہزار ڈاکٹر تھے، جبکہ چالیس سے پچاس ہزار ڈاکٹروں کی ضرورت تھی۔" وہ ان ڈاکٹروں کی مالی بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں: "ان گیارہ ہزار ڈاکٹروں میں سے کم از کم آدھے تہران میں کام کرتے تھے کیونکہ پرائیویٹ طور پر کام کر کے وہ اپنی جیبیں بھر سکتے تھے۔" اس وقت کے برطانوی سفیر کے بقول، "میڈیکل سروسز کے لیے نرسوں اور تربیت یافتہ عملے کی تعداد بھی کم تھی اور نرسوں اور طبی خدمات کے عملے کی تربیت کے پروگراموں کے فوری نتائج بھی نہیں نکلے۔"(1)
یہ نامناسب پالیسیاں ایران کے علاج معالجے کے میدان میں پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلادیشی ڈاکٹروں کے داخلے کا باعث بنیں۔ عموماً یہ ڈاکٹر مطلوبہ کلینکل معلومات نہیں رکھتے تھے، انھوں نے اپنے ملکوں کے میڈیکل کالجوں میں مریضوں کے علاج کے لیے ضروری مہارتیں نہیں سیکھی تھیں اور اکثر بیچلر آف میڈیسن کی ڈگری جتنی مہارت کے ساتھ کام کرتے تھے، فارسی زبان نہیں بولتے تھے اور متعدد ثقافتی مسائل بھی پیدا کرتے تھے۔ ایران ڈاکٹروں کی تعداد کے انڈیکس کے لحاظ سے فیجی اور جمائیکا جیسے غریب ملکوں سے بھی پیچھے تھا، دس ہزار افراد پر 3 ڈاکٹر! اس صورتحال کے نتیجے میں دارالحکومت تک میں بھی علاج ایک بہت مہنگا اور غیر یقینی آپشن سمجھا جاتا تھا۔ ادویات اور علاج کی سہولیات صرف امیر طبقوں سے مختص تھیں۔ چنانچہ اخبار "اطلاعات" نے 23 جون 1977 کو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ "ستر ہزار آبادی والے شہر اردکان میں ایک بھی میڈیکل اسٹور نہیں ہے" جلی سرخیوں میں لکھا تھا: "اردکانیوں کو دوا خریدنے کے لیے 120 کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے!" دیہی علاقوں میں یہ صورتحال کہیں زیادہ خراب تھی۔ ان معدودے طبی مراکز میں بھی، جو کچھ دیہی علاقوں میں تھے، علاج معالجے کے وسائل اور دوائیں کافی مقدار میں نہیں تھیں۔ ناساز موسمی حالات اور سڑکوں کے بند ہونے کی صورت میں یہ مراکز بند ہو جاتے تھے اور علاج کی خدمات طویل عرصے کے لیے پوری طرح سے بند ہو جاتی تھیں۔ اکثر شہروں اور دیہاتوں میں، روایتی دایائیں، جو عموماً مناسب تربیت یافتہ نہیں تھیں اور حفظان صحت کے اصولوں سے آگاہ نہیں تھیں، خواتین کی زچگی میں مدد کی ذمہ داری نبھاتی تھیں۔ ایسے حالات میں حاملہ عورتوں کی جان ہمیشہ خطرے میں رہتی تھی اور ان کے لیے زچگی ایک بہت ہی خطرناک تجربہ ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر 1976 میں، 255 خواتین زچگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔(2) نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال بھی ماہرین کی نگرانی کے بغیر اور روایتی معلومات اور حفظان صحت کی انتہائی معمولی سہولیات کے ساتھ کی جاتی تھی، اور بعض اوقات حالات اتنے خراب ہوتے تھے کہ صاف پانی تک رسائی بھی نہیں ہوتی تھی۔ ایسے برے حالات میں، نوزائیدہ بچوں اور چھوٹے بچوں کی موت کو ایک ناقابل تبدیل انجام سمجھا جاتا تھا۔
یہ کمزور صورتحال متعدی امراض کے پھیلاؤ کے وقت مہلک صورت اختیار کر جاتی تھی۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم کے نام دزفول کے عوام کے تاریخی ٹیلی گرام میں، جس میں حفظان صحت کی ابتر صورتحال کی شکایت کی گئی تھی، کہا گیا تھا کہ: "ٹائفائیڈ اور ٹائیفس بخار کے ہلاکت خیز امراض، وبائی شکل میں دزفول میں پھیل گئے ہیں اور ڈاکٹر اور دواؤں کے نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ان امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔"
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چار عشرے گزرنے کے بعد ایران کے حفظان صحت کے نظام کی وہ تاریک اور مہلک صورتحال، اسلامی جمہوری نظام کی نمایاں ترین کامیابیوں میں سے ایک بن گئی ہے۔ دانشمندانہ پالیسیوں کے ذریعے جو انصاف اور علاج معالجے تک سبھی کی دسترسی پر مبنی ہیں، ایران کا میڈیکل نظام اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ جدت طرازانہ علاج، ادویات کی تیاری اور طبی صنعت کے بہت سے شعبوں میں ایران دنیا کے صف اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
میڈیکل کی تعلیم کو حفظان صحت کے نظام میں ضم کرنا اور وزارت صحت، علاج و میڈیکل تعلیم کی تشکیل ایک بڑا قدم تھا جو عوام کے علاج معالجے اور حفظان صحت سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار افرادی قوت کی ٹریننگ میں بہت اہم تھا۔ چار عشروں کے دوران میڈیکل کالجوں کی تعداد جو انقلاب کے آغاز میں 9 تھی، بڑھ کر 68 ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں کی تعداد کا انڈیکس پہلوی حکومت کے دور کے مقابلے میں 5 گنا بڑھ گیا ہے۔ حفظان صحت کے نیٹ ورک کی مضبوطی، حفظان صحت سے متعلق دیکھ بھال اور علاج معالجے کی خدمات سے تمام لوگ کے منصفانہ طور پر استفادے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کا ایک اور بڑا کارنامہ ہے۔ دور دراز کے دیہاتوں تک میں، دواخانوں کے قیام، تمام لوگوں کے میڈیکل انشورنس کے قانون کی منظوری اور پورے ملک میں میڈیکل انشورنس کوریج میں بتدریج اضافے نے سبھی کے لیے میڈیکل سروسز کے حصول کو ایک آسان اور قابل برداشت عمل بنا دیا ہے۔ یہ اہم کامیابی صحت کے اشاریوں جیسے زندگي کی امید (74 سال) کے پیش نظر دیکھی جا سکتی ہے جو عالمی اوسط سے بھی تین سال زیادہ ہے۔ اس انڈیکس نے انقلاب سے قبل کے دور کے مقابلے میں 60 پائيدانوں سے زیادہ کی چھلانگ لگائی ہے۔
ایران کے حفظان صحت کے نظام میں خواتین اور ان کے اثرات
طبی نظام کے مردوں پر مبنی ہونے کا مسئلہ، خواتین مریضوں کے تجربات کو نظر انداز کرنا اور ڈاکٹروں کا جنسی تعصب، مغربی ممالک کے حفظان صحت کے نظام کے سنگین بحران شمار ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف اسلامی جمہوریۂ ایران نے بامقصد پالیسیاں اختیار کر کے خاص طور پر خواتین کی صحت کے شعبے میں، ایک الگ راستہ اپنایا۔ انقلاب کے بعد کے برسوں میں خواتین کی میڈیکل کے مختلف شعبوں میں بے مثال شمولیت اور خواتین کی بطور ہیلتھ ورکر، دائی، ڈاکٹر، نرس اور میڈیکل سائنس کی اساتذہ کے طور پر تعلیم و تربیت، انقلاب کے بعد کے برسوں کے ان اہم ترین اقدامات میں تھی جن کا نتیجہ ملک کے حفظان صحت کے نظام میں خواتین کی وسیع موجودگی کی صورت میں نکلا۔ میڈیکل کے تمام مہارتی شعبوں میں خواتین کی موجودگی کی اہمیت اس حد تک تھی کہ رہبر انقلاب نے سنہ 1989 میں اسے ایک واجب کام اور شرعی فریضہ قرار دیا:(3) "خواتین کا میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا واجب ہے، جتنی ضرورت ہے اتنی خواتین ڈاکٹرز کے موجود ہونے تک خواتین کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔"(4)
خواتین اور زچگی کے شعبے کا خواتین ڈاکٹروں سے مختص ہونا، نہ صرف خواتین کی علاج معالجے کی خدمات تک رسائی میں اضافے کا سبب بنا بلکہ اس نے ڈاکٹر اور مریض کے رشتے میں بھی نمایاں بہتری پیدا کی۔ خواتین ڈاکٹروں کی موجودگی اس بات کا سبب بنی کہ خواتین مریض اپنی جسمانی اور افزائش نسل سے متعلق مسائل پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بات کر سکیں، یہ ایسی چیز ہے جو براہ راست بیماری کی زیادہ صحیح تشخیص، موثر علاج اور حفظان صحت کے نظام پر زیادہ اعتماد کا باعث بنی۔ اس چیز نے علاج کو ایک سرد اور رسمی تعلق سے، ایک انسانی اور ہمدردانہ تعلق میں بدل دیا۔ خواتین اساتذہ اور معلمات نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ اخلاق کے نمونے کے طور پر علاج معالجے سے متعلق عملے کی ایک نسل کی تربیت کی ہے جو خواتین کے جسم، درد اور ضروریات کی بہتر سمجھ رکھتی ہے، ایسی سمجھ جس کا فقدان آج بہت سے مغربی معاشروں میں حفظان صحت کے نظام کی ایک سنگین کمزوری کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، دیہی علاقوں کے حفظان صحت کے نیٹ ورک میں ماؤں اور بچوں کی دیکھ بھال، ویکسینیشن، فیملی کی صحت کی تعلیم اور حمل کی نگرانی کے لیے خواتین پر مشتمل عملے کی موجودگی نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی کو ماہر خواتین افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔ آج ایران میں حاملہ خواتین، حمل کے دوران پوری طرح مفت دیکھ بھال تک رسائی رکھتی ہیں، ماہر ڈاکٹر اور تربیت یافتہ دائی تک دیہی خواتین کی رسائی کئی گنا بڑھ چکی ہے اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ انڈیکس 29 پائیدان کی چھلانگ لگ کر عالمی اوسط سے بھی کم ہو گیا ہے (ہر ہزار بچوں پر 11 بچے)۔ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی ترویج، معاون غذاؤں کا بروقت اور مناسب استعمال، شیر خوار اور چھوٹے بچوں کی نشوونما کی نگرانی، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور غذائی قلت کا شکار یا اس کا خطرہ رکھنے والے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی غذائی مدد اور ملک کے پسماندہ علاقوں میں غذائی تحفظ کا نفاذ، بچوں کی ویکسینیشن کوریج قریب سو فیصد تک پہنچانا اور ضروری ویکسینز کی فراہمی، اسلامی جمہوریۂ ایران کے ان دیگر اقدامات میں شمار ہوتے ہیں جو ماؤں اور بچوں کو فراہم کردہ صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
یہ سارے کام اسلامی انقلاب کی برکت سے انجام پائے ہیں جیسا کہ امام خامنہ ای نے فرمایا: "انقلاب نے ہماری قوم کو اور ہمارے ملک کو عزت نفس سے نوازا۔ بار بار یہ کوششیں ہوئیں کہ اس قوم کی فکر و جذبات کو کچل دیا جائے۔ اس قوم کو باور کرا دیا جائے کہ اس میں کسی کام کی کوئی لیاقت نہیں ہے، بیشک تم نے انقلاب لانے میں تو کامیابی حاصل کر لی لیکن ملک چلانا تمھارے بس کی بات نہیں، آگے بڑھنا تمھارے بس کی بات نہیں، دنیا کے قدموں سے قدم ملاکر چلنا تمھارے بس کی بات نہیں۔ بنابریں ہر علمی پیشرفت اور کامیابی اس قوم کے لیے ایک عظیم کارنامہ اور اہم نوید ہے کہ اس کے اندر بھرپور لیاقت ہے۔"(5) اور آج ایرانی قوم نے علاج معالجے اور میڈیکل کے میدان میں پوری دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ خدا پر توکل اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر بھروسہ کر کے بغیر دوسروں پر انحصار کیے ہوئے ترقی کی جا سکتی ہے اور پانچ عشروں سے بھی کم عرصے میں، ایک درآمد کنندہ اور صارف ملک سے، میڈیکل صنعت کے مختلف شعبوں میں برآمد کنندہ اور پروڈکشن والے ملک میں تبدیل ہوا جا سکتا ہے، ایسا ملک جس نے اسلام کے احکام پر اعتماد کرتے ہوئے ایرانی خواتین کے لیے ایک نیا راستہ کھولا اور علاج کی ایک نئی شکل متعارف کرائی۔
تحریر: زہرا شافعی، کلچرل اسکالر
عوام کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات(تصویری جھلکیاں)
انٹرنیشنل جھوٹے
اسلامی جمہوریہ ایران میں حالیہ ہنگاموں کے بعد اس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے والے چینلز نے پورے زور و شور سے یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا تھا کہ ان واقعات میں کم از کم 30 ہزار افراد قتل ہوئے ہیں لیکن مختصر عرصے میں ہی اصل حقائق سامنے آ جانے کے بعد اب وہ اپنے ہی جھوٹ کے بنے ہوئے جال میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ ایران کے سرکاری ذرائع ان ہنگاموں میں قتل ہونے والے افراد کی تمام کوائف کے ہمراہ فہرست جاری کر چکے ہیں۔ اس فہرست کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 3117 ہے۔ اس اقدام کے بعد ایران کے خلاف پروپگنڈہ کرنے والے میڈیا ذرائع سے بھی یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ آپ بھی اپنے اعدادوشمار کے مطابق ایک تفصیلی فہرست جاری کریں اور جن افراد کے جاں بحق ہونے کا دعوی کر رہے ہیں ان کی تفصیلات بھی بیان کریں۔
گزشتہ چند دنوں سے ایران مخالف ذرائع ابلاغ نے ایران کے سرکاری ذرائع کی جانب سے ہنگاموں میں ہونے والے جانی نقصان پر مبنی شائع کردہ فہرست کے بارے میں پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یاد رہے ان ذرائع ابلاغ نے پہلے 12 ہزار افراد قتل ہونے کا دعوی کیا اور پھر یہ تعداد بڑھا کر 30 ہزار کر دی تھی۔ اس دوران انہوں نے اپنے مبینہ اعدادوشمار کو درست ثابت کرنے کے لیے غیر اخلاقی حربہ بھی اپنایا ہے۔ ان میڈیا ذرائع نے ہنگاموں میں ہلاک ہونے والوں کے طور پر کچھ ایسے افراد کے نام بھی شائع کیے ہیں جنہوں نے بعد میں سوشل میڈیا پر اپنے زندہ ہونے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد ان افراد کے خلاف بھی شدید پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا اور حتی بعض کو تو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
درحقیقت یہ میڈیا ذرائع پہلے ایسے افراد کا نام ہنگاموں میں قتل ہونے والے افراد کے طور پر جاری کرتے ہیں جو حقیقت میں زندہ ہیں اور اس کے بعد ان پر یہ دباؤ بھی ڈالتے ہیں کہ وہ اس جھوٹ کی تردید نہ کریں۔ اسی طرح بعض افراد تو ایسے بھی ہیں جنہیں ان میڈیا ذرائع نے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ ایران کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایسی اوچھی اور اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں کا مقصد اپنے مبینہ اعدادوشمار کو درست ثابت کرنا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کی جانب سے بروئے کار لایا گیا ایک اور غیر انسانی حربہ یہ ہے کہ وہ مختلف حادثات و واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کو بھی ہنگاموں کے مقتولین کے طور پر جاری کرتے ہیں۔ اب تک بارہا ایسے افراد کے لواحقین کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آ چکا ہے۔
ایران کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف میڈیا ذرائع اس وقت جس اصلی بحران اور پریشانی سے روبرو ہیں وہ یہ ہے کہ ایران کے سرکاری ذرائع کی جانب سے ہنگاموں میں قتل ہونے والوں کے نام اور تفصیلات شائع کرنے پر مبنی اقدام کے جواب میں کیا کیا جائے؟ رائے عامہ اور جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، مخالفین کا ایک بڑا حصہ بھی یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ یہ میڈیا ذرائع بھی اپنے مبینہ اعدادوشمار کی تصدیق کے لیے متاثرین کے نام شائع کریں۔ اس عوامی مطالبے کے جواب میں ان میڈیا ذرائع نے اب تک صرف خاموشی اختیار کی ہے لیکن یہ خاموشی ان میڈیا ذرائع اور خاص طور پر "ایران انٹرنیشنل" نامی فارسی زبان کے چینل کو اس قدر مہنگی پڑی ہے کہ وہ متاثرین کا نام شائع نہ کرنے کا جواز پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
جمعرات کے دن ایران انٹرنیشنل نے اس بارے میں ایک ٹاک شو پیش کیا۔ اس پروگرام میں میزبان نے بلائے گئے مہمان سے مبینہ 30 ہزار افراد کے نام شائع نہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں پوچھا۔ اس سوال پر بلائے گئے مہمان کا جواب فکر انگیز تھا۔ اس نے دعوی کیا کہ ان لوگوں کے نام اس وقت تک شائع نہیں کیے جا سکتے جب تک بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نہیں بن جاتی! اس عجیب و غریب بہانے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نہیں بنائی گئی تو آپ یہ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ 30,000 لوگ مارے گئے ہیں؟ ایران انٹرنیشنل کی طرف سے اس عجیب و غریب جواز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چینل حالیہ واقعات میں 30 ہزار اموات کے دعوے کو سچ ثابت کرنے میں بالکل بے بس ہے۔
ان میڈیا ذرائع کے طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 30 ہزار کا عدد بالکل غلط ہے اور یہ دعوی محض ایران پر فوجی حملے کے لیے میدان صاف کرنے اور اسے جواز فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یاد رہے ایران انٹرنیشنل کے تانے بانے اسرائیل کے جاسوسی ادارے موساد سے ملتے ہیں۔ ایران میں حالیہ بدامنی اور ہنگاموں کا منصوبہ بھی موساد نے تیار کیا تھا تاکہ یوں امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا مناسب جواز فراہم ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ان میڈیا ذرائع کی جانب سے جعلی اعدادوشمار جاری کرنے کا عمل موساد کے منصوبے کا ایک حصہ تھا۔ موساد نے ایک طرف ایران میں ہنگامے اور دہشت گردی کروائی اور دوسری طرف ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں جھوٹے دعوے کر کے اصل مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جو ایران پر فوجی حملہ تھا۔
تحریر: محمد امین ہدایتی
انقلابِ اسلامی اور داخلی دشمنی کی تاریخ
﴿الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ﴾
یہ آیتِ کریمہ مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ اب کفار تمہارے دین کے مقابلے میں مایوس ہو چکے ہیں؛ وہ اس قابل نہیں رہے کہ تمہارے دین کو نقصان پہنچا سکیں۔ تمہارے خارجی دشمن شکست کھا چکے ہیں اور اب ان کی جانب سے کوئی فوری خطرہ باقی نہیں رہا۔ تاہم قرآن اسی مقام پر ایک نہایت باریک نکتہ کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آج، یعنی کامیابی کے دن، ایک اور خوف ضروری ہے—اور وہ ہے خدا کا خوف۔
مفسرینِ قرآن اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ یہاں خطرے کے ختم ہونے سے مراد صرف بیرونی دشمنی کا خاتمہ ہے، نہ کہ خطرے کا مکمل اختتام۔ اصل خطرہ اب اندر سے پیدا ہو سکتا ہے۔ آیت میں خدا سے ڈرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان خدا کے قانون سے خوف محسوس کرے؛ اس بات سے ڈرے کہ کہیں خدا اس کے ساتھ اپنے فضل کے بجائے عدل کے مطابق معاملہ نہ کرے۔
اسی مفہوم کی بازگشت امیرالمؤمنین علیؑ کی ماثور دعا میں سنائی دیتی ہے:
"اے وہ ذات کہ جس کے عدل کے سوا کسی اور چیز سے خوف نہیں کیا جاتا!"
ایک ایسا کامل عادلانہ نظام، جس میں ذرّہ برابر بھی ظلم کی گنجائش نہ ہو، انسان کو خوف زدہ کر دیتا ہے؛ اس اندیشے سے کہ کہیں اس سے کوئی لغزش سرزد نہ ہو جائے اور وہ سزا کا مستحق ٹھہرے۔
انقلابات اور داخلی اختلافات
دنیا کے اکثر انقلابات اور تحریکوں میں یہ منظر دہرایا جاتا ہے کہ مختلف انقلابی، آزادی پسند اور سیاسی فکر رکھنے والے افراد فرسودہ نظام کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں۔ ایک مشترکہ دشمن اور ایک مشترکہ ہدف کی موجودگی ان کے باہمی اختلافات کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیتی ہے۔ مگر فتح کے بعد، جب مشترکہ دشمن ختم ہو جاتا ہے، تو وہی اختلافات بتدریج سر اٹھانے لگتے ہیں۔
ایران کا اسلامی انقلاب—جو مؤرخین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق دنیا کے دیگر انقلابات سے نمایاں طور پر مختلف ہے—اس عمومی قاعدے سے کلیتاً مستثنیٰ نہیں، تاہم اس کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس انقلاب میں معاشرے کے مختلف طبقات، نظریات اور سیاسی کردار شامل تھے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پہلوی حکومت کے خلاف متعدد گروہوں نے اپنے اپنے نظریاتی پس منظر کے ساتھ جدوجہد کی، مگر ان سب میں سب سے زیادہ منظم، عوامی اور روشن فکر تحریک وہ تھی جو علمائے دین، بالخصوص امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھی۔
منافقین کی پیدائش
امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی تحریک میں جہاں علماء پیش پیش تھے، وہیں معاشرے کے دیگر طبقات اور گروہ بھی شاہی حکومت کی مخالفت میں شریک ہوئے۔ تاہم ان میں سے بعض گروہ نصف راستے میں ہی رک گئے اور فتح کے سورج کے طلوع کے منتظر ہو گئے، تاکہ انقلاب کی کامیابی کے بعد نئی ابھرتی ہوئی طاقت سے اپنے حصے کا مطالبہ کر سکیں۔
یہاں رہبرِ انقلاب امام خمینیؒ کی غیر معمولی بصیرت، حالات پر گہری نظر اور سیاسی ہوشیاری قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے ان گروہوں کے پوشیدہ عزائم کو بھانپ لیا اور انہیں عملی جامہ پہننے سے روک دیا۔ اسی مرحلے پر سازشوں کے طوفان نے جنم لیا اور نو تشکیل شدہ اسلامی نظام کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔
فرقانی گروہ کا قیام
شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد دراصل ان گروہوں کے مابین شدید اختلافات کا آغاز ہوا جو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے انقلاب کا حصہ بنے تھے۔ وہ اس امید میں تھے کہ اسلامی انقلاب کی نئی سیاسی طاقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی حریفوں پر غلبہ حاصل کریں گے۔ یہی سبب تھا کہ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد بعض سیاسی گروہ اس تحریک سے دور ہونا شروع ہو گئے۔
ان میں سے کچھ گروہ تو انقلاب کی کامیابی سے پہلے ہی قیادت کے مخالف بن گئے تھے اور کامیابی کے بعد مسلح گروہوں کی صورت میں انقلاب کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ ان میں سب سے نمایاں فرقانی گروہ تھا، جس نے 12 بہمن 1357ھ ش میں اپنا ہینڈ بل شائع کر کے یہ دعویٰ کیا کہ اسلامی انقلاب اپنے اصل راستے سے منحرف ہو چکا ہے۔
علمائے دین کی مخالفت
اس منحرف گروہ نے دینی تعلیمات سے دوری، کج فکری، انحرافی نظریات اور خوارجی طرزِ فکر کے تحت علماء دین کی مخالفت کو اپنا بنیادی ہدف بنایا۔ یہی وہ گروہ تھا جس نے انقلاب کی کامیابی کے بعد شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری اور شہید آیت اللہ ڈاکٹر مفتح جیسی عظیم علمی و فکری شخصیات کو شہید کیا۔
یہی عناصر بعد ازاں "منافقین" کے عنوان سے اسلامی انقلاب کے بدترین دشمن بن کر سامنے آئے اور نو تشکیل شدہ اسلامی نظام کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے لگے۔ ایران کے پہلے صدر بنی صدر کی منافقت آشکار ہونے اور اس کی برطرفی کے بعد، انہی منافقین نے مسلح بغاوت کا اعلان کیا۔ بنی صدر عوامی ردِعمل سے بچنے کے لیے انہی کے خفیہ مراکز میں پناہ لے کر رجوی کے ذریعے ملک سے فرار ہوا اور مغربی طاقتوں کی آغوش میں جا پناہ لی۔
نتیجہ
اسلامی انقلاب کی کامیابی محض خارجی دشمن کی شکست کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نئے نظام کی تشکیل اور داخلی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا مرحلہ بھی ہے۔ قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ بیرونی خطرات ختم ہو سکتے ہیں، مگر سب سے بڑا خطرہ اندرونی اختلافات، منافقت اور انسانی کمزوریوں سے جنم لیتا ہے۔
ایران کا اسلامی انقلاب اس حقیقت کی عملی مثال ہے کہ انقلاب کے آغاز میں اتحاد مضبوط ہوتا ہے، مگر کامیابی کے بعد ذاتی مفادات رکھنے والے عناصر نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔ امام خمینیؒ کی بصیرت اور قیادت نے ان داخلی خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا اور اسلامی نظام کو استحکام بخشا۔
یہ تجربہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی کامیابی صرف دشمن کی شکست میں نہیں، بلکہ نظام کی اخلاقی، سیاسی اور عدالتی مضبوطی میں مضمر ہے۔
تحریر: عادل کھوسہ
مغربی تہذیب ایپسٹین کی دلدل میں
یہودی ارب پتی اور عالمی سطح پر لڑکیوں کے اسمگلر جفری ایپسٹین کا کیس، وفاقی عدالت میں زیر بحث ہزاروں مقدمات میں اب محض ایک سادہ مجرمانہ کیس نہیں رہا بلکہ یہ ایک تباہ کن زلزلہ بن چکا ہے جس نے مغرب کی سیاست اور دولت کے محلات کے ستون ہلا کر رکھ دیے ہیں اور وہ یکے بعد از دیگرے زمین بوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ایپسٹین ایک ایسا شخص بے جو غربت سے بے پناہ دولت تک پہنچا۔ وہ درحقیقت جدید دور میں بھتہ خوری اور منظم بدعنوانی کے سب سے گندے نیٹ ورک کا بانی تھا۔ اس نے کیریبین میں "لٹل سینٹ جیمز" نامی ایک جزیرہ خریدا اور اسے بچوں کی معصومیت کی قربان گاہ اور "سیاہ سفارت کاری" کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے اس کیس سے مربوط 30 لاکھ سے زائد دستاویزات، خفیہ فلم کے لاکھوں رولز اور ہزاروں تصاویر شائع کی ہیں۔
لندن میں سونامی، اسٹارمر کی حکومت ٹوٹنے کے قریب
اگرچہ برطانیہ نے ہمیشہ خود کو پارلیمانی جمہوریت کا گہوارہ اور گڈ گورننس میں اعلیٰ اخلاقی معیارات کا حامل قرار دیا ہے لیکن 2026ء کی نئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدعنوانی شاہی خاندان اور موجودہ حکومت کے مرکز تک جا پہنچی ہے۔ پرنس اینڈریو کا اسکینڈل اور ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اس برفانی تودے کی صرف ایک نوک تھی جو برسوں پہلے دیکھا گیا تھا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تعلق محض چند یادگار تصاویر سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے محل، ایسی پارٹیوں کی میزبانی کرتے تھے جہاں کم عمر لڑکیوں کو "سفارتی تحائف" کے طور پر منتقل کیا جاتا تھا۔ ان انکشافات نے کیئر اسٹارمر کی حکومت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسٹارمرکو اب ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جس نے پوری لیبر پارٹی کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
امریکہ کرپشن کی لپیٹ میں، کلنٹن اور ٹرمپ کا منحوس اتحاد
بحر اوقیانوس کے اس پار منظرعام پر آنے والی دستاویزات نے امریکہ میں طاقت کے دو ستونوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن، جن کا نام بار بار "لولیتا ایکسپریس" (ایپسٹین کا پرائیویٹ جیٹ طیارہ) کی فلائٹ لسٹ میں درج تھا، کو اب جزیرے پر ان کی موجودگی اور غیر قانونی اجتماعات اور حتی منحرف مذہبی رسومات میں شرکت کی تصدیق کرنے والی نئی شہادتوں کا سامنا ہے۔ ہمیشہ خود کو خواتین کے حقوق کی محافظ کے طور پر پیش کرنے والی ہیلری کلنٹن کو اب ایسی دستاویزات کا سامنا ہے جو ان جرائم کو چھپانے اور متاثرین کو رشوت دینے میں ان کے دفتر کے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایپسٹین کے خفیہ لاکرز سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر اور نوٹس کئی دہائیوں سے ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اور مشکوک معاملات کو ظاہر کرتے ہیں۔
خون اور معصومیت کی تجارت، جزیرے کے شوکیس میں لڑکیوں کی نیلامی
شاید اس کیس کا سب سے خوفناک اور غیر انسانی پہلو، بحران زدہ ممالک سے انسانوںوں کی تجارت اور نوجوان لڑکیوں کی اسمگلنگ پر مشتمل ہے۔ دستاویزی رپورٹس اور ایپسٹین کے کچھ ساتھیوں کے چونکا دینے والے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نیٹ ورک نے گزشتہ چند برسوں میں ہیٹی اور ترکی میں آنے والے زلزلوں جیسے ناگوار حادثات سے پیدا ہونے والی افراتفری کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے بچوں کو نشانہ بنایا جو یتیم ہو گئے تھے یا اسپتالوں سے اغوا کیے گئے تھے۔ موصولہ مالیاتی دستاویزات کے مطابق، ان میں سے کچھ بچوں کو ناقابل یقین قیمتوں جیسے 200 ملین ڈالر کے عوض خرید کر جزیرے پر پہنچایا گیا تھا۔ ان بے سہارا بچوں کو شدید سیکورٹی والے ماحول میں قید رکھا جاتا تھا اور وہ سیاست دانوں کی ہوس رانی اور جنسی خواہشات کی بھینٹ چڑھتے رہتے تھے۔
موساد کا سایہ اور صیہونی "ہنی ٹریپ" پراجیکٹ
اس کیس کے حتمی تجزیے میں غاصب صیہونی رژیم اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی، موساد کے نمایاں اور مشکوک کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جفری ایپسٹین کے رابرٹ میکس ویل (ایپسٹین کا سسر) سے بہت قریبی تعلقات تھے، جو مغرب میں موساد کے ایک اہم ایجنٹ اور جاسوس کے طور پر جانا جاتا تھا۔ رابرٹ میکس ویل کی مشتبہ موت کے بعد ایپسٹین اور اس کی بیوی گیسلن نے عملی طور پر مغربی اشرافیہ کی معلومات اکٹھی کرنے کا کام جاری رکھا۔ بہت سے انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایپسٹین کا جزیرہ دراصل ایک بہت بڑا اور جدید ترین "ہنی ٹریپ" تھا جسے اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز نے ڈیزائن کیا تھا۔ مقصد سادہ لیکن خوفناک تھا: عالمی رہنماؤں کے غیر اخلاقی اعمال، عصمت دری اور شیطانی رسومات کی دستاویز اور فلم بندی کرنا تاکہ انہیں نازک لمحات میں سیاسی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
مغربی سیاست دان اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے بھیانک جرائم پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ یا بلا روک ٹوک مالی اور فوجی مدد فراہم کرتے رہتے ہیں؟ اس کا جواب ایپسٹین کے جزیرے کے بیڈ رومز میں ریکارڈ ہونے والی فوٹیجز میں مل سکتا ہے۔ ایپسٹین کے اپارٹمنٹس میں اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود براک کی موجودگی اور وہاں ان کے اکثر دورے ایک گہرے تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کی دولت کا بڑا حصہ ایسے نامعلوم چینلز کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا جو واشنگٹن اور تل ابیب میں طاقتور صیہونی لابیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مقدمے نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی صیہونیت اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کی اسمگلنگ سے لے کر عالمی رہنماؤں کی اخلاقی بدعنوانی تک کسی بھی گھناؤنے طریقے سے دریغ نہیں کرتی۔
تحریر: مہدی سیف تبریزی
حضرت زینبؑ کی استقامت اور بصیرت نے عاشورا کے پیغام کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا
مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: اسلامی تاریخ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا صبر، بصیرت اور ذمہ دارانہ قیادت کی روشن مثال ہیں۔ واقعہ عاشورا کے بعد حضرت زینبؑ کی استقامت، فکری بصیرت اور حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت نے نہ صرف امام حسینؑ کی تحریک کو زندہ رکھا بلکہ سوئی ہوئی اجتماعی فکر کو بھی جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔ حضرت زینبؑ کا صبر محض مصیبت برداشت کرنا ہی نہیں بلکہ یہ ایک باشعور صبر تھا جو ظلم کے مقابل ڈٹ جانے، حق کو بیان کرنے اور باطل کے پردے چاک کرنے سے کا نام ہے۔ کوفہ اور شام کے درباروں میں آپؑ کے خطبات نے اموی حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا اور عوامی رائے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
حضرت زینبؑ کا تاریخی جملہ «ما رأیتُ إلّا جمیلا» اس بات کی دلیل ہے کہ آپؑ کو شہادت امام حسینؑ کے فلسفے کا مکمل ادراک تھا اور آپؑ نے دینِ اسلام کی بقا کے لیے ہر قربانی کو حُسنِ مطلق کے طور پر قبول کیا۔ یہی شعوری صبر اور فکری پختگی نہضتِ عاشورا کی ماندگاری اور امت کی بیداری کا بنیادی سبب بنی۔
حضرت زینبؑ کے صبر اور عام انسانوں کے صبر میں کیا فرق ہے؟
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر کی توضیح میں صبر کے دقیق اور عمیق مفہوم پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ دینی نگاہ میں صبر صرف دکھ اور تکلیف کو برداشت کرنے یا ایک جذباتی بردباری کا نام نہیں، بلکہ صبر ایک با شعور استقامت اور پائیداری ہے جو بحران کے مؤثر نظم و نسق کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ صبر ہے جو انسان کو ایک باوقار، فکری طور پر بالغ اور ذمہ دار شخصیت میں ڈھال دیتا ہے۔
اسی بنیاد پر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا صبر کوئی عام صبر نہیں، بلکہ آگاہی، ذمہ داری اور بحرانی حالات کی دانشمندانہ مدیریت سے آراستہ ایک بے مثال نمونہ ہے۔ عاشورا کے دن اس عظیم خاتون نے بنی ہاشم کے اٹھارہ نوجوانوں کی شہادت کا منظر دیکھا؛ وہ نوجوان جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے، کوئی بھائی، کوئی بیٹا، کوئی بھتیجا اور کوئی قریبی عزیز۔
حضرت عباس اور حضرت امام حسین علیہ السلام جیسے عظیم ہستیوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے دو فرزند بھی راہِ خدا میں قربان کیے، اور اپنے بھائی کے فرزندوں، جن میں علی اکبر، قاسم بن حسن اور عبداللہ بن حسن شامل ہیں، کی شہادت کی گواہ بھی بنیں۔ ان تمام مصائب کے ساتھ اموی حکومت کی شدید اور منظم پروپیگنڈا مہم نے حالات کو غیر معمولی طور پر دشوار بنا دیا تھا۔
اس کے باوجود حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے اسیر قافلے کی سرپرستی کی ذمہ داری سنبھالی اور 80 سے زائد عورتوں اور بچوں کو دوران اسیری عزت، وقار اور تدبیر کے ساتھ سنبھالا؛ یہاں تک کہ نہ صرف ان کی حرمت محفوظ رہی بلکہ کسی کو گستاخی یا حتی قریب آنے کی بھی جرأت نہ ہوئی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا گہرے غم اور عزاداری کے عالم میں بھی، جب اپنے بھائی کے سر مطہر کو نیزے پر بلند دیکھا، تو دردناک اشعار کے ذریعے اپنے دل کا کرب بیان کیا، مگر اپنی ذمہ داری سے کبھی غافل نہ ہوئیں۔ اسیروں کا قافلہ جب کوفہ میں داخل ہوا تو شہر خوشی اور ہلہ گلہ کے شور سے گونج رہا تھا، لیکن زینب کبری سلام اللہ علیہا کی بصیرت افروز خطبات نے اس فضا کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
حضرت زینبؑ نے سخت ترین حالات میں اپنی سیاسی و سماجی بصیرت کیسے برقرار رکھی؟
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ کے سماجی حالات کا گہرا اور درست ادراک رکھتے ہوئے، پیغام عاشورا کی رسانی کے لیے شہر کی خواتین کو مخاطب بنانے کی حکمت عملی اختیار کی؛ اس لیے کہ کوفہ کے مرد پہلے ہی امام حسین علیہ السلام کے براہ راست مخاطب تھے اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے انکار کرچکے تھے۔ چنانچہ حضرت زینبؑ نے ایک واضح، جرات مندانہ اور ولولہ انگیز خطبے کے ذریعے کوفہ کے لوگوں کو ان کی خیانت، فریب اور بے وفائی پر جھنجھوڑا۔
اس خطبے کا اثر اتنا گہرا تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق پورے شہر پر ایک خوفناک خاموشی طاری ہوگئی، یہاں تک کہ اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز بھی سنائی دینا بند ہوگئی۔ کوفہ کے حاکم عبیداللہ بن زیاد بھی اس روحانی عظمت کے سامنے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور بے اختیار کہہ اٹھا: یوں محسوس ہوتا ہے جیسے علی کی روح اپنی بیٹی کے وجود میں زندہ ہوگئی ہو۔
ان خطبات کے نتیجے میں عوامی شعور بیدار ہوا اور اس سے پہلے کہ مرد اپنے گھروں کو لوٹتے، پیغام عاشورا لوگوں کے دلوں میں اتر چکا تھا۔ کوفہ خوشیوں کے شہر سے ایک سوگوار بستی میں بدل گیا، اور کوفی خواتین اس جنایت کی سنگینی کو سمجھ گئیں جس کے مرتکب ان کے شوہر بنے تھے۔
یہ تمام واقعات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اسی صبر اور مدبرانہ طرزعمل کا نتیجہ تھے۔ ایسا صبر جو اطاعت میں استقامت، معصیت سے اجتناب اور مصیبت میں ثابت قدمی تینوں پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا، اور جس نے ایک غفلت زدہ معاشرے کو جھنجھوڑ کر بدل دیا۔
حضرت زینبؑ اتنے دردناک حالات میں بھی «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» کیسے کہہ سکیں کہ انہیں سب کچھ خوبصورت دکھائی دیا، اور یہ جملہ ان کے ایمان کی کس بلندی کو ظاہر کرتا ہے؟
حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے منقول مشہور جملہ «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» نہایت وضاحت کے ساتھ اس بلند مقام رضا اور کامل تسلیم و رضا کو بیان کرتا ہے جو انہوں نے اپنے عظیم بھائی حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے معرفتی مکتب میں سیکھا تھا۔ یہ کوئی عام یا معمولی جملہ نہیں، بلکہ ایک خاص اور ممتاز کلام ہے، جس کی حقیقت اور عظمت کو سمجھنے کے لیے اس مجلس کے ماحول کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے جہاں یہ جملہ ادا ہوا۔
وہ مجلس یزید کی مجلس تھی؛ ایسی محفل جو اموی حکومت کی ظاہری فتح کے اظہار کے لیے منعقد کی گئی تھی، اور جس میں اس دور کے اوباش، لمپن اور آلودہ کردار رکھنے والے لوگ مبارک باد اور خوشی کے اظہار کے لیے جمع تھے۔ یزید کو یہ خبر مل چکی تھی کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ میں کس طرح ایک فکری طوفان برپا کیا، کیسے مردوں کے گھروں کو لوٹنے سے پہلے پیغامِ عاشورا کو دلوں تک پہنچا دیا، اور خوشیوں میں ڈوبا ہوا شہر ایک سوگوار بستی میں بدل دیا۔ اسی احساسِ شکست اور غصے کے زیرِ اثر یزید نے اس مجلس میں اس عظیم خاتون سے انتقام لینے کا ارادہ کیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دورانِ اسارت جس شہر، گاؤں یا آبادی میں قدم رکھا، وہاں اپنے بھائی کی مظلومیت بیان کی اور لوگوں کے دلوں کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کی حقیقت کی طرف مائل کیا۔ یہی مسلسل روشنگری تھی جس نے یزید کو مجبور کیا کہ سب سے پہلے ایک تحقیر آمیز جملے کے ذریعے حضرت زینبؑ کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ اس نے کہا: “دیکھا، خدا نے تمہارے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟” اس کے جواب میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: «ما رأیتُ إلّا جمیلاً»، یعنی میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ جملہ اس عظیم خاتون کے قلبی اطمینان، معرفتِ الٰہی اور بلند روحانی مقام کی گواہی دیتا ہے۔
لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حضرت زینبؑ کی نظر میں خوبصورتی صرف ظاہری شکل تک محدود نہیں تھی۔ خوبصورتی ایک گہری حقیقت ہے، جس کی جڑیں انسان کی روح اور معرفت میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے: اے یزید! خدا نے تمام بھائیوں میں سے میرے بھائیوں کو چن لیا، تمام بیٹوں میں سے میرے بیٹوں کو منتخب کیا، اور بنی ہاشم کے تمام جوانوں میں سے انہی کو اس لائق سمجھا کہ ان کا خون درختِ اسلام کی آبیاری کے لیے بہایا جائے۔ ہم خاندانِ نبوت ہیں؛ اسلام ہمارے ذریعے زندہ رہا، پروان چڑھا، اور تم جیسے اوباش، ظالم اور بدکار لوگوں کے مقابل ڈٹ کر کھڑا رہا، تاکہ دین اور قرآن لوگوں کے درمیان سے مٹ نہ جائیں۔
اس سے بڑی خوبصورتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان یہ دیکھے کہ اس کے عزیزوں کا خون راہِ خدا میں بہنے کے لائق ٹھہرا اور تاریخ ساز بن گیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا اسی نگاہ سے اپنے بھائیوں، فرزندوں اور عزیزوں کی شہادت کو دیکھتی تھیں؛ وہ اسے شکست نہیں بلکہ حسنِ الٰہی کا ظہور سمجھتی تھیں، اور اسی یقین کے ساتھ کہتی تھیں: «ما رأیتُ إلّا جمیلاً»۔
اسلامی تاریخ کے اس درخشاں کردار میں آج ہمارے لیے کیا درس ہے؟
یہی حقیقت ہمیں آج بھی شہداء کے خاندانوں کے طرزِ عمل میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ ماں جو اپنے شہید بیٹے کے جسدِ خاکی کے پاس کھڑی ہو کر کہتی ہے: “بیٹا، تمہیں نیا ٹھکانہ مبارک ہو”، یا وہ زوجہ جو اپنے شوہر کی شہادت پر مبارک باد دیتی ہے۔ یہ مبارک باد دراصل اسی حقیقت کا ترجمہ ہے جسے حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بیان فرمایا تھا؛ یعنی تم نے وہ راستہ چُنا جس کے نمونے امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام ہیں، اور تم نے خود کو اس بلند مقام تک پہنچانے کی کوشش کی۔
شہداء کے خاندانوں کی جانب سے مبارک باد دینے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا خون اس قدر قیمتی ٹھہرا کہ وہ اسی راہ میں بہا جس میں تم سے پہلے امیرالمؤمنین، امام حسین، امام حسن، علی اکبر اور حضرت عباس علیہم السلام کا خون بہایا گیا۔ اس سے بڑھ کر کون سا اعزاز ہو سکتا ہے کہ خداوندِ متعال اپنے بندے کی جان اور مال کو خرید لے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
«إِنَّ اللَّهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ»۔
اللہ تعالیٰ اس سودے پر خود مبارک باد دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس الٰہی خرید و فروخت کی بشارت دو۔ لہٰذا جب شہداء کے خاندان اپنے عزیزوں کی قبروں کے پاس ان کو مبارک باد دیتے ہیں تو درحقیقت وہ اسی الٰہی کلام کو دہراتے ہیں اور مقام رضا کو عملا پیش کرتے ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» کہہ کر یہ دکھانا چاہا کہ مقامِ رضا کتنا بابرکت اور بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو انسان کو اس منزل تک پہنچا دیتا ہے جہاں تمام غموں اور مصیبتوں کے باوجود ہر چیز خوبصورت دکھائی دیتی ہے، کیونکہ وہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور تقدیر کے تحت ہوتا ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں کوئی ناگوار چیز نظر نہیں آتی، اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسی دنیا میں اس مقام کو پا لیا تھا۔
اسی ایک جملے کے ذریعے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے نہ صرف یزید کی سازش کو ناکام بنایا بلکہ اس کی سوچ اور شخصیت کو تاریخ اور انسانیت کے سامنے ہمیشہ کے لیے مجرم ٹھہرا دیا۔ جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام نے بھی فرمایا: «القتل لنا عادة»؛ شہادت ہمارے لیے ایک عادت ہے اور ہماری کرامت شہادت ہی میں ہے، کیونکہ اللہ مؤمنوں کی جانوں کا خریدار ہے۔
امریکی بالادستی کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا، سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر کا دوٹوک اعلان
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکی بالادستی کو قبول نہیں کرے گا۔
بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے کہا کہ امریکہ اس وقت اسٹریٹجک زوال کے مرحلے میں ہے اور وہ ذرائع اور طریقے جن کے ذریعے وہ ماضی میں دنیا پر اپنی برتری قائم رکھتا تھا، اب مؤثر نہیں رہے۔ اسی کمزوری کے باعث واشنگٹن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت، جنگ، دہشت گردی اور لوٹ مار جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی خودمختار ملک کے صدر کو اغوا کرنا یا شہید قاسم سلیمانی جیسی عظیم شخصیت کو قتل کرنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ ذلت اور شکست کے آثار ہیں۔ ان اقدامات سے امریکہ کی کمزوری اور اخلاقی دیوالیہ پن آشکار ہوتا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ آپریشن طوفان الاقصی کی صورت میں سامنے آیا، جس نے صہیونی حکومت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا اور آج وہ دنیا کی سب سے زیادہ منفور ہوچکی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ دشمنوں کے اندازوں کے برخلاف، شہید سلیمانی کی شہادت سے ایران کمزور نہیں ہوا بلکہ ایرانی قوم مزید مضبوط ہوئی ہے، اور سلیمانی کا راستہ اور اثر آج پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ محاذ مزاحمت کی رہنمائی کر رہا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے کہا کہ ایران اپنے دشمنوں سے خوفزدہ نہیں ہے اور نہ ہی امریکی تسلط کو تسلیم کرے گا۔ دشمن کے سامنے ثابت قدمی ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ مستقبل ایرانی قوم کا ہوگا۔ دشمنوں کی دھمکیوں کو خوف یا کمزوری کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
فرقہ واریت دشمن کی سازش ہے، اتحادِ امت ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے: ملی یکجہتی کونسل پاکستان
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مصالحتی کمیشن کا اہم اجلاس کمیشن کے چیئرمین علامہ رمضان توقیر کی زیرِ صدارت کونسل کے مرکزی دفتر جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیشن کے کوآرڈینیٹر علامہ عارف حسین واحدی، مفتی گلزار احمد نعیمی، ڈاکٹر سید علی عباس نقوی، مولانا عرفان حسین، سید صفدر رضا، مولانا سید وزیر حسین کاظمی،مولانا فرحت حسین، تصور عباس، ناصر عباس، سعادت علی، اسرار احمد نعیمی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت، بھائی چارہ اور وحدت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ۔ ہم نے صرف زمین ہی آزاد نہیں کروائی تھی بلکہ ایک نظریاتی ریاست قائم کی تھی۔ آج بھی دشمن اس تاک میں ہے کہ پاکستان کیوں وجود میں آیا، اسی مقصد کے تحت فرقہ واریت اور انتشار کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے قیام کے وقت علامہ شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد،علامہ سید ساجد علی نقوی،مولانا سمیع الحق،پروفیسر ساجد میر،مولانا فضل الرحمان جیسے عظیم قائدین نے انتہائی مشکل حالات میں اتحادِ امت کا علم بلند رکھا، جب اتحاد کی بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔ ان قائدین کی دانشمندانہ قیادت کے باعث ملک میں فرقہ واریت پر بڑی حد تک قابو پایا گیا۔1995سے لے کر اب تک ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے علماء، بزرگان اور تمام مسالک کے لوگ سب اکھٹے ہیں اور ہم اکھٹے رہیں گے موجودہ ملکی صورتحال میں فرقہ واریت،شدت پسندی، تکفیر اور انتشار پھیلایا جا رہا ہےاس کو کنٹرول کرنے کے لیے دو چیزیں اتنہائی اہم ہیں ایک منبر و محراب سے قرآن کے حکم کے مطابق اتحاد و وحدت کی بھر پور آواز اٹھنی چاہیے اور سوشل میڈیا پر جتنا بھی گند پھیلایا جا رہا ہے اس پر سائبر کرائم اور حکمران متوجہ ہوں۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دشمن کبھی خاموش نہیں بیٹھتا، وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی تکفیر اور مسلکی نفرت کی آگ بھڑکانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ تمام مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے کیونکہ اتحاد ہی مسلمانوں اور پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے۔
شرکاء نے کہا کہ مصالحتی کمیشن کو بھرپور فعال کیا جائے گا جہاں بھی فرقہ واریت کا ناسور ہوگا کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا ہمیں اپنے مسلکی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحادِ امت کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہوگا اور دشمن کی تمام سازشوں کا مقابلہ یکجہتی سے کرنا ہوگا۔
اجلاس میں عالمِ اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطین میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اپنی عوام کے جذبات کا احترام کریں اور مظلوم فلسطینی عوام کی آواز بنیں۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسرائیل کی ہمیشہ مخالفت کی اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ ہم ہر سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھیں گے۔آخر میں شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کبھی ایسا فیصلہ نہیں کرئے گی جو عوامی خواہشات اور قومی مفاد کے خلاف ہو۔









































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
