سلیمانی

سلیمانی

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ادلب میں ابو ظہور ایئربیس پر اسرائیل کے حملے نے ایک بار پھر انقرہ اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی کو بھڑکا دیا ہے۔ اسرائیل نے اس اقدام کو شام میں ترکیہ کی فوجی موجودگی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے جواز پیش کیا ہے، جبکہ انقرہ نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس حملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان خفیہ رابطے کے چینلز موجود ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں اور دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ایسا نہیں لگتا کہ ابو ظہور پر حملہ شام میں دونوں فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کا آخری واقعہ ہوگا، خصوصا ایسے وقت میں جب تل ابیب حالیہ عرصے میں ترکیہ کو اپنے لیے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ تل ابیب کی حکمت عملی میں ترکیہ کے ایک خطرے کے طور پر نمایاں ہونے سے دونوں فریقوں کے تعلقات کس سمت جائیں گے؟ کیا آنے والے عرصے میں شام میں کشیدگی میں اضافے اور ایک دوسرے کے خلاف زمینی اقدامات کا مشاہدہ ہوگا یا دونوں فریق امریکہ کی ثالثی سے کشیدگی کم کرنے اور عدم تصادم کے لیے کسی طریقہ کار کی طرف بڑھیں گے؟

اسی تناظر میں مہر نیوز نے ترکیہ کی بحریہ کے ریٹائرڈ اسٹاف افسر اور پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین یاووز سے تفصیلی گفتگو کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

مہر نیوز: ایران کے خلاف جنگ کے بعد اب ہم صہیونی حکام کی جانب سے ترکیہ کے خلاف دھمکیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، یہاں تک کہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ بھی ترکیہ کو ایک وجودی خطرہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا یہ طرز عمل ترکیہ کے ساتھ تصادم کی تیاری کی علامت ہے؟

جلال الدین یاووز: سب سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ آج ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ صہیونی حکومت خطے کے استحکام کو درہم برہم کر رہی ہے، سنگین ترین خطرات پیدا کر رہی ہے، نہ صرف سیاسی معاملات بلکہ خطے کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور عالمی سطح پر بھی کسی حد یا اصول کو تسلیم نہیں کرتی۔ زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اسرائیل کی حماس کے ساتھ جنگ، پھر لبنان میں داخل ہونا، شام میں پیش قدمی، اس کے بعد ایران پر حملہ اور ان حملوں میں امریکہ کو اپنے ساتھ شامل کرنا، یہ سب خطے میں انتہائی اہم ہیں۔

اس کے مقابلے میں حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ امریکہ اب خطے کو منظم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ اس ملک کے مقام سے دور ہوچکا ہے جو ماضی میں سیاسی استحکام کو منظم یا حتی کہ اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دیتا تھا۔ یہ مسئلہ فوجی اور سیاسی دونوں سطحوں پر پوری طرح نمایاں ہوچکا ہے۔ البتہ امریکہ کی اس کمزوری کو آشکار کرنے میں ایران کا اتحاد، یکجہتی اور دفاعی استقامت اہم اور نمایاں عوامل میں شامل تھے۔

اب آپ کے سوال کے جواب میں، میرے خیال میں اگر اسرائیل ترکیہ کو وجودی خطرہ قرار دیتا ہے تو ترکیہ اس کا پہلا وجودی خطرہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں طویل عرصے سے کہتا آیا ہوں، ایران ہی پہلا وجودی خطرہ تھا۔ خصوصا اس وقت سے جب ایران کے اس وقت کے صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیے، اسرائیل نے ایران کو وجودی خطرہ سمجھا ہے۔

ترکیہ کے بارے میں بھی آپ جانتے ہیں کہ موجودہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی حکومت نے ابتدا میں اسرائیل کے حوالے سے انتہائی مثبت رویہ اختیار کیا تھا۔ یہاں تک کہ ترکیہ کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز یعنی TOBB کے ذریعے غزہ میں ایک صنعتی شہر قائم کرنے کا منصوبہ تھا اور اس حوالے سے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ لیکن 2008 کے اواخر میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر زمین، فضا اور سمندر سے کیا جانے والا شدید اور غیر متناسب 22 روزہ حملہ ترکیہ میں شدید غم و غصے کا باعث بنا۔ یہ اس وقت ہوا جب اس حملے کے آغاز سے صرف چند گھنٹے قبل اسرائیل کے اس وقت کے وزیراعظم نے انقرہ میں ترکیہ کے اس وقت کے وزیراعظم رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی تھی۔

اس کے بعد 2009 کے اوائل میں ڈیووس میں اردوغان اور شیمون پیریز کے درمیان معروف "ون منٹ" واقعہ پیش آیا اور 31 مئی 2010 کو ماوی مرمرہ کشتی کا واقعہ پیش آیا۔ یہ ایک مکمل طور پر غیر فوجی قافلہ تھا جو غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جا رہا تھا اور اس میں ترکیہ سمیت مختلف ممالک کے کارکن موجود تھے۔ اسے غزہ کے ساحلی پانیوں سے 270 کلومیٹر کے فاصلے پر علی الصبح اسرائیلی کمانڈوز نے جارحانہ کارروائی کا نشانہ بنایا اور 9 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد اگرچہ ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات وقتا فوقتا بہتر ہوتے رہے، لیکن عملی طور پر دونوں کے درمیان تعلقات میں دراڑ پڑ گئی اور کم از کم سیاسی تعلقات ہمیشہ کشیدہ اور بحرانی رہے۔

حالیہ عرصے میں بھی ترکیہ نے غزہ کے واقعات، لبنان پر حملوں، شام میں اسرائیل کے اقدامات اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ میزائل اور فضائی حملوں کے حوالے سے، جو مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے خلاف تھے، انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ترکیہ نے عالمی سطح پر اسرائیل کو خطے کے استحکام کو درہم برہم کرنے والا بنیادی عنصر اور ناسور کے طور پر پیش کرنے کی مہم بھی شروع کی، جس میں اسے بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔ اس تشہیری اور حقائق سامنے لانے کی مہم میں ترکیہ سب سے آگے ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی ذرائع ابلاغ ترکیہ کو ایک وجودی خطرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب فوجی تصادم کی تیاری ہے؟

اسرائیلی حکومت کا طرز عمل عموما غیر متوقع ہوتا ہے۔ امریکہ کی مدد سے ایران پر حملہ ممکن تھا، لیکن غزہ اور پھر لبنان میں بیک وقت جاری تنازع کے پیش نظر یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل ایسا قدم نہیں اٹھائے گا اور غالبا ایران میں بھی ایسا اندازہ نہیں تھا، لیکن ہم نے دیکھا کہ اس نے حملہ کردیا۔

تاہم ترکیہ کی صورتحال مختلف ہے۔ سب سے پہلے، ترکیہ جغرافیائی قربت اور قریبی سمندری حدود کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف فضائی اور بحری سطح پر مضبوط جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسرا، ترکیہ نیٹو کا رکن ہے۔ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اپنے قریبی اتحادی اسرائیل اور نیٹو کے ایک اہم اتحادی ترکیہ کے درمیان تصادم ہو، کیونکہ ایسا منظرنامہ واشنگٹن کے حریفوں، خصوصا روس اور چین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگا۔ خصوصا حالیہ برسوں میں یورپ کے یونان اور جنوبی قبرص کے جوڑے کی حمایت پر مبنی رویوں اور بائیڈن اور ٹرمپ کے ادوار میں انقرہ پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے پیش نظر، مغربی ذرائع ابلاغ میں ترکیہ کے مغرب سے دور ہونے کی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ ایسے میں ایک مضبوط فوج، متحرک معیشت اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت رکھنے والے ترکیہ کو مشرقی بلاک کی طرف دھکیلنا امریکہ اور یورپ کے لیے کسی بھی صورت مطلوب نہیں ہوگا۔

لہذا اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی ناممکن ہے۔ اگر وہ ایسی حماقت کرتا بھی ہے تو ترکیہ کی جانب سے اسے ملنے والا جواب اس طمانچے سے کہیں زیادہ بھاری ہوگا جو اسے ایران سے ملا۔ اس کے علاوہ حال ہی میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی طے پایا ہے۔ لہذا اگر اسرائیل جوہری دھمکی استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کی جوہری طاقت ترکیہ کے لیے ایک دفاعی چھتری کے طور پر کام کرسکتی ہے۔

مہر نیوز: اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کی سرحدوں کے قریب شام کی سرزمین میں حالیہ حملے کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس حملے کا پیغام کیا ہے اور کیا آپ ترکیہ کی جانب سے فوجی یا سفارتی ردعمل کی توقع رکھتے ہیں؟

جلال الدین یاووز: یہ حملہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اس وقت شام میں ایک حکومت برسر اقتدار ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضے اور غزہ کے بعد کی کارروائیوں کے علاوہ، اسد حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گولان سے آگے بھی پیش قدمی کی ہے اور مقبوضہ علاقے کو دمشق سے 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے تک بڑھا دیا ہے۔

ترکیہ نے بہت سے دوسرے ممالک کی طرح اس قبضے کی شدید مذمت کی، اسرائیل سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا اور اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ میں موثر موقف اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ترکیہ کی سرحد سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فضائی اڈے پر حالیہ حملہ بھی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر یہ اڈہ اسرائیل کی اپنی سرحدوں کے قریب ہوتا تو یہ جواز پیش کیا جاسکتا تھا کہ کسی خطرے کو روکنے کے لیے اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ اڈہ شمالی شام میں ترکیہ کی سرحد سے متصل واقع ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، سعودی عرب، مصر اور متعدد ممالک نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

تاہم اس وقت ترکیہ کا ردعمل سفارتی اور سیاسی سطح تک محدود رہے گا، کیونکہ ترکیہ کی سرزمین یا شام میں اس کے اڈوں اور فوجیوں پر براہ راست حملہ نہیں ہوا اور انقرہ کی جانب سے فوجی جوابی کارروائی کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ واضح ہے کہ اسرائیل اور خصوصا نیتن یاہو اس حملے کے ذریعے ترکیہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ترکیہ کا جواب یقینا شام میں اسرائیل کے قریب کسی اڈے کو نشانہ بنانا نہیں ہوگا، کیونکہ شام کی حکومت انقرہ کی اتحادی ہے اور ترکیہ احمد الشرع کی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم حامیوں میں شمار ہوتا ہے۔ لہذا ترکیہ سفارتی ذرائع اور اقوام متحدہ، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور یورپی یونین کے ذریعے ان اقدامات کو غیر قانونی اور ناجائز ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔

تاہم نیٹو کی رکنیت اور اس کے آرٹیکل 5 کے طریقہ کار کے باوجود ترکیہ اسرائیل کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیٹو اپنی سابقہ کارکردگی اور اثر و رسوخ کھو چکا ہے اور اس پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے کا تصور بھی اسی تناظر میں تشکیل پایا ہے۔

ایسے حالات میں جب امریکہ میں ٹرمپ جیسے صدور موجود ہوں جو یورپ کے خلاف مختلف موقف اختیار کرتے ہیں، ڈنمارک سے گرین لینڈ کا مطالبہ کرتے ہیں یا کینیڈا کے الحاق کی بات کرتے ہیں، نیٹو کے آرٹیکل 5 پر زیادہ انحصار حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ دوسری جانب، یورپی یونین کے دروازے پر کئی دہائیوں تک انتظار کے بعد ترکیہ نے سکیورٹی کے نئے راستے تلاش کیے اور جوہری ہتھیار رکھنے والے پاکستان اور عرب دنیا میں دولت مند اور بااثر سعودی عرب کے ساتھ مکہ معاہدہ کیا، جس کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے دروازے دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی کھلے ہیں۔ لہذا اگرچہ اس وقت اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ترکیہ ممکنہ خطرات کو سمجھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت، خصوصا کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام جسے آئرن ڈوم کہا جاتا ہے، کو مضبوط بنانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں اسلسان کمپنی کو تقریباً 800 ملین ڈالر مالیت کے نئے میزائلوں کا آرڈر دیا گیا ہے اور ملک کی فوجی جہاز سازی کی صنعت بھی بیک وقت 7 سے 8 جدید جنگی بحری جہاز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مہر نیوز: روزنامہ حریت نے ایک تجزیے میں دعوی کیا ہے کہ اسرائیل ترکیہ کو ایک محدود تصادم میں گھسیٹ کر امریکی کانگریس میں ایف 35 جنگی طیاروں کی ترکیہ کو حوالگی روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا یہ تجزیہ حد سے زیادہ پرامید یا سادہ لوحی پر مبنی نہیں ہے؟

جلال الدین یاووز: امریکی کانگریس نے ابھی تک ترکیہ کو ایف 35 طیارے فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی باضابطہ منظوری کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی، یہودی اور یونانی لابیاں اس معاملے کی شدید مخالفت کر رہی ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ حالات میں امریکی حکومت اس سلسلے میں کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔

اگرچہ ٹرمپ نے اس حوالے سے کچھ بیانات دیے ہیں، لیکن ان کے مؤقف میں تبدیلی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ترکیہ کے ایف 16 طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانے کے لیے درکار انجن اور دیگر سازوسامان، جن کی درخواست بائیڈن کے دور میں تقریباً 2022 میں کی گئی تھی، ابھی تک فراہم نہیں کیے گئے۔

اس کے باوجود یہ تجزیہ مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہے۔ اگر واشنگٹن کی جانب سے ایف 35 طیارے فروخت کرنے کے ارادے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو ترکیہ کسی تصادم میں شامل ہونے کا راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ تاہم اگر کانگریس میں موجود لابیاں یہ بیانیہ مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگئیں کہ انقرہ اسرائیل کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے تو بلا شبہ وہ ایف 35 کے معاملے کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔

مہر نیوز: ترکیہ ایک طرف مشرقی بحیرہ روم میں اہم اقدامات کر رہا ہے، جن میں لیبیا میں خلیفہ حفتر جیسی شخصیات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اور بات چیت شامل ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل کو اس خطے میں یونان اور جنوبی قبرص کی حمایت حاصل ہے۔ کیا مشرقی بحیرہ روم شدید مسابقت کا میدان بن چکا ہے؟

جلال الدین یاووز: مشرقی بحیرہ روم مسابقت کا میدان بننے کے مرحلے میں نہیں ہے، بلکہ کم از کم 2007 سے، یعنی گزشتہ 19 برس سے، یہ انتہائی شدید اور سخت مسابقت کا میدان بن چکا ہے۔ یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب قبرص کے یونانی حصے نے شمالی قبرص کے ترک باشندوں کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے تیل اور گیس کی تلاش کے لیے لائسنس جاری کرنا شروع کیے۔ ترکیہ نے ان اقدامات کو کبھی تسلیم نہیں کیا، اپنے براعظمی شیلف اور سمندری حدود کا تعین کیا اور بحری بیڑا روانہ کرکے ضروری اقدامات کیے۔

ان برسوں میں، خصوصا مصر اور عرب ممالک کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات میں کشیدگی کے دور میں، اسرائیل، یونان اور جنوبی قبرص پر مشتمل ایک بلاک تشکیل پایا، جس میں مصر بھی عارضی طور پر شامل ہوا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے لیبیا میں حفتر کی افواج کی حمایت کے ذریعے ان معاملات میں قدم رکھا۔

یونان اور جنوبی قبرص یورپی یونین کے ذریعے سویل نقشے کے نام سے معروف ایک غیر رسمی نقشے کو سمندری سرحدوں کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ترکیہ نے 2019 میں لیبیا کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی کے معاہدے پر دستخط کرکے ان منصوبوں کو ناکام بنا دیا، اگرچہ یونان نے بعد میں مصر کے ساتھ الگ معاہدہ کرلیا۔

آج اسرائیل کے علاوہ بڑی امریکی، فرانسیسی اور اطالوی تیل کمپنیاں بھی مشرقی بحیرہ روم میں گیس کی منتقلی اور بجلی کی لائنوں کے منصوبوں میں مفاد رکھتی ہیں۔ اس دوران ترکیہ نے لیبیا میں موجود دونوں طاقت کے مراکز، یعنی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت اور حفتر کے دھڑے، دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھا ہے اور ترکیہ کی کمپنیاں اور جاسوسی و جنگی ڈرونز لیبیا میں فعال موجودگی رکھتے ہیں۔

اس میدان میں ترکیہ کی اہم حکمت عملی یہ ہے کہ مصر کو مکمل طور پر مشرقی بحیرہ روم میں اپنے ساتھ شامل کیا جائے۔ اگرچہ یورپی ممالک اپنے بیانات میں ایتھنز اور نکوسیا کے موقف کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ترکیہ کی بحری اور سیاسی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انقرہ نے عملی میدان میں متعدد بار اس بات کو ثابت بھی کیا ہے۔ اسی تناظر میں صدر اردوغان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں شمالی قبرص کی ترک جمہوریہ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ رواں سال ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں پانچویں مرتبہ بھی یہ مطالبہ دہرائیں گے۔

یہاں میں اپنے ایرانی بھائیوں اور معزز ایرانی حکومت کے نام ایک براہ راست پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مناسب ہوگا کہ اسلامی جمہوری ایران بھی شمالی قبرص کی آزادی کو تسلیم کرے۔ ترکیہ نے ہمیشہ منصفانہ معاملات میں ایران کی حمایت کی ہے۔ قبرص میں بھی 1974 کی امن کارروائی کے بعد، یعنی گزشتہ 52 برس کے دوران، دونوں برادریوں کے درمیان کوئی فوجی تصادم نہیں ہوا، جبکہ اس سے قبل ترک باشندوں کے خلاف حملے، نسل کشی کی کوششیں اور انہیں اپنی شناخت سے محروم کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ قائم کی گئی حد بندی نے امن و سکون پیدا کیا ہے اور شمالی قبرص کو تسلیم کرنے کی وجوہات 2008 میں کوسوو جیسے معاملات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

مہر نیوز: کیا ترکیہ کی جانب سے مکہ معاہدے پر دستخط کرنے کا بنیادی مقصد خطے میں اسرائیل کے خطرات کو بے اثر کرنا تھا؟

جلال الدین یاووز: جی ہاں، اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا، نیٹو کی کارکردگی میں کمی، انقرہ کا یورپی یونین اور امریکہ پر اعتماد کھو دینا، اور دونوں فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کے بحران میں شدت بھی ترکیہ کی جانب سے نئے دفاعی اتحاد کی طرف بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

 سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ایران سے جنگ میں وسیع پیمانے پر ہتھیاروں کے استعمال نیز خلیج فارس میں واشنگٹن کے اتحادیوں کو اسلحے دیئے جانے کے نتیجے میں، اس وقت امریکا کے پاس غیر متوقع خطرات سے نمٹنے کے لئے ضروری اسلحے نہیں ہیں۔

ہلیری کلنٹن نے ہیمپٹنس انسٹی ٹیوٹ کی میزبانی میں منعقدہ ایک نشست سے خطاب میں ایران کے خلاف جنگ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں وسیع پیمانے پر اسلحے استعمال کئے گئے اور اس وقت ملک میں غیر متوقع خطرات سے نمٹنے کی توانائی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے اس جنگ میں بہت زیادہ اسلحے استعمال کئے اور اسی کے ساتھ بھاری مقدار میں اسلحے اور گولے بارود، خلیج فارس میں اپنے اتحادیوں کو دیئے۔

 حرم حضرت عبدالعظیم حسنیؑ تہران کے متولی حجۃ الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے کہا ہے کہ ہفتۂ وحدت شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی مضبوط کرنے کا اہم موقع ہے۔ دشمن شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا بلکہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرکے عالم اسلام کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہل سنت 12 ربیع الاول جبکہ شیعہ 17 ربیع الاول کو ولادتِ رسول اکرمؐ کا دن مانتے ہیں۔ ان دونوں تاریخوں کے درمیان ایام کو ’’ہفتۂ وحدت‘‘ قرار دینے کا مقصد شیعہ سنی اتحاد اور امت مسلمہ کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا تھا، جسے امام خمینیؒ نے بھی قبول کیا۔

حجۃالاسلام قاضی عسکر نے قرآن کریم کی آیت «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو اتحاد اور تفرقے سے دور رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ باہمی نزاع مسلمانوں کی قوت اور اقتدار کو کمزور کردیتا ہے، اس لیے اگر مسلمان دنیا میں مضبوط بننا چاہتے ہیں تو انہیں متحد رہنا ہوگا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ شیعہ اپنے عقائد چھوڑ کر سنی ہوجائیں یا اہل سنت شیعہ ہوجائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے مشترکات کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ تمام مسلمان ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قبلہ کے ماننے والے ہیں اور ان کے درمیان متعدد دینی و اخلاقی اقدار مشترک ہیں۔

حرم حضرت عبدالعظیمؑ کے متولی نے مقدسات کی توہین سے اجتناب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے کے لیے مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور ایسے اقدامات کو شیعہ مذہب سے منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اس طرز عمل کا امام خمینیؒ، رہبر انقلاب یا مکتب اہل بیتؑ سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم حتیٰ کہ دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین سے بھی روکتا ہے، کیونکہ اس سے ردعمل اور مزید اختلافات جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کسی صورت درست نہیں۔

حجۃالاسلام قاضی عسکر نے داعش جیسے تکفیری گروہوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا۔ ایسے گروہوں نے شیعوں کے ساتھ اہل سنت کے علماء کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہفتۂ وحدت باہمی شناخت، مشترکات پر توجہ اور تفرقہ پیدا کرنے والی سازشوں کے مقابلے کا ذریعہ بننا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان جتنا اپنے مشترکات پر توجہ دیں گے اور ایک دوسرے کی توہین و اختلاف سے دور رہیں گے، اتنا ہی عالم اسلام مضبوط ہوگا اور دشمنوں کے لیے مسلمانوں کو کمزور کرنا مشکل ہوجائے گا۔

 میں ہفتہ وحدت کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں "امت رسول اللہ" کے مرکزی شعار کے تحت جشن اور مختلف تقریبات شروع ہوگئی ہیں۔ اس موقع پر مختلف صوبوں خاص طور پر سرحدی علاقوں میں خصوصی پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔

اسلامی تبلیغات کی رابطہ کونسل کے تقریبات اور صوبائی امور کے نائب سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید محمدرضا میرتاج الدینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس ہفتے کے پروگراموں کی تفصیلات بیان کیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال اور "قائد شہید امت" حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے پیش نظر ہفتہ وحدت کا مرکزی انتظامی ڈھانچہ کئی ہفتے قبل قائم کردیا گیا تھا۔

میرتاج الدینی نے کہا کہ اس سال کے پروگراموں کو عوام کے بڑے اجتماعات اور رات کے عوامی اجتماعات سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ملک بھر میں تقریبات آج منگل، 12 ربیع الاول سے شروع ہوگئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال کے پروگراموں کا ایک اہم محور شیعہ اور اہل سنت علما اور دانشوروں کے درمیان مشترکہ خصوصی نشستیں ہیں۔ یہ نشستیں صوبوں میں اسلامی وحدت کی 38ویں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مہمانوں کی موجودگی میں منعقد ہوں گی۔

ان کے مطابق اس سال ان نشستوں میں امام خمینی اور امام مجاہد شہید کی اتحاد بین المسلمین اور تقریب مذاہب سے متعلق افکار کا جائزہ لینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اسلامی تبلیغات کی رابطہ کونسل کے نائب سربراہ نے کہا کہ ایسے حالات میں جب ایران، غزہ و فلسطین اور لبنان سمیت اسلامی ممالک کو امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی سربراہی میں استکباری طاقتوں کے شدید حملوں کا سامنا ہے، اسلامی وحدت ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کی قسمت سے لاتعلق نہیں ہونا چاہیے اور مظلوموں کی حمایت کے لیے میدان میں آنا چاہیے۔

میرتاج الدینی نے تہران میں ہونے والے پروگراموں کے حوالے سے بتایا کہ "جشن امت احمد" کے عنوان سے ایک تقریب "دنیا رحمت کی آغوش میں" کے شعار کے ساتھ تہران کے ہفت تیر اسکوائر سے ولی عصر اسکوائر تک منعقد ہوگی۔

 عبرانی زبان کے روزنامے یدیعوت آحارانوت نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کے عالمی سطح پر ممکنہ نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اخبار نے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایران پر اقتصادی دباؤ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے، جسے اقتصادی اخراج کی کارروائی کا نام دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ان ممالک اور اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف ثانوی پابندیوں کا نفاذ اس ملک کی سرحدوں سے باہر بھی وسیع اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات رکھنے کی وجہ سے چین، روس، ملائیشیا، پاکستان، ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی نشانہ بناتا ہے تو اقتصادی جنگ قابو سے باہر ہوسکتی ہے اور ایک عالمی اقتصادی جنگ، سب کے خلاف سب میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تاریخی تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتیں لازمی طور پر پابندیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتیں۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ اقتصادی دباؤ تہران کو جنگ ختم کرنے یا اپنی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کرسکے گا۔

 حجت الاسلام والمسلمین حجت سروری نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سطح پر امامِ عصرؑ کی حکومت کے قیام اور اس کے فروغ کے لیے، حتیٰ کہ حضرتؑ کے ظہور کے بعد بھی، اخلاص، قربانی، سختیاں برداشت کرنا اور بہت سی مشکلات و رنج و غم سہنا ضروری ہوگا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ عالمی موعود حکومت کے قیام کے لیے جنگی اور عسکری مہارتوں کے علاوہ دیگر مہارتوں اور صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوگی۔ تربیت یافتہ جنگی سپہ سالاروں کی شجاعت و بہادری کے ساتھ ساتھ دانا اور پاکیزہ علماء کی حکمت و بصیرت بھی ضروری ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ امامِ زمانہؑ کا ایک اہم ترین مسئلہ اُن لوگوں کے ساتھ علمی اور ثقافتی جہاد ہے جو دین کی نئی نئی تشریحات پیش کرکے لوگوں کے درمیان شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمیں عسکری میدان میں ماہر بہادر مجاہدین کے ساتھ ایسے پاکیزہ اور باصلاحیت علماء کی بھی ضرورت ہے جو ان انسانی شکل میں موجود شیطانوں کے ساتھ علمی جہاد میں امامِ زمانہؑ کی مدد کر سکیں۔
البتہ ہمیں خود کو اس حد تک تیار کرنا چاہیے کہ حضرتؑ کے ظہور کے فوراً بعد ہم ان کے رکاب میں تلوار لے کر جہاد کر سکیں اور جدید ترین جنگی ہتھیاروں کا استعمال بھی جانتے ہوں۔ لیکن اب جب ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ امامِ زمانہؑ کی ایک اور اہم ذمہ داری بھی ہے، جس کا رنج و غم شاید ہر دوسری چیز سے زیادہ تکلیف دہ ہے، تو ہمیں ان کی مدد کے لیے خود کو علم و آگاہی کے ہتھیار سے مسلح کرنا چاہیے اور پوری قوت کے ساتھ ان شبہات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ حضرتؑ کے دوستوں اور شیعوں کو گمراہ کن شبہات پھیلانے والے شیاطین کے جال سے نجات دلا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ شیعیانِ امامِ عصرؑ کے دلوں کی حفاظت علمائے ربانی کی ذمہ داری ہے۔
روایت میں ہے:«عُلَمَاءُ شِيعَتِنَا مُرَابِطُونَ بِالثَّغْرِ الَّذِي يَلِي إِبْلِيسُ وَعَفَارِيتُهُ...»
یعنی: ہمارے شیعوں کے علماء ان سرحدوں پر محافظ اور نگہبان ہیں جہاں سے ابلیس اور اس کے جنّی و انسانی پیروکار حملہ آور ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے کمزور شیعوں کو ابلیس اور اس کے پیروکاروں کے تسلط سے محفوظ رکھتے ہیں۔
آگاہ رہو! ہمارے شیعوں میں سے جو شخص اس عظیم ذمہ داری کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس کا اجر و فضیلت ان تمام دشمنانِ اسلام کے ساتھ جہاد کرنے والے شخص سے لاکھوں گنا زیادہ ہے؛ کیونکہ وہ ہمارے محبین کے دین کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ دوسرا ان کے جسموں کی حفاظت کرتا ہے۔

استادِ حوزہ نے بیان کیا کہ ہر زمانے میں ہمارے لیے نمونہ اور اسوہ انبیاء اور ائمہؑ کی سیرت ہے، جن کی ہدایت بھری زندگی کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے نمونۂ زندگی قرار دیا ہے:﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾
"یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، پس آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔"
کتاب «شوقِ وصال؛ شرحی بر دعای ندبہ» کے

دینی مصنف نے کہا کہ اب ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اسلام کے دشمنوں، یعنی کفار اور منافقین کے مقابلے میں قرآن نے ہمارے لیے کس شخصیت کو اسوہ اور نمونہ قرار دیا ہے؟ اور آخرالزمان کے اس انتہائی حساس دور میں دشمنوں کی فتنہ انگیزی اور منافقین کی جانب سے پیدا کیے جانے والے شبہات کے مقابل ہمیں کس طرح ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

دشمنوں کے مقابلے میں شیعوں کی چار ذمہ داریاں

1۔ فتنوں اور کفریہ شبہات سے دوری

حجت الاسلام والمسلمین سروری نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتّٰى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا﴾

ترجمہ:اور اللہ نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کر دیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں؛ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ بے شک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں ایک ساتھ جمع کرنے والا ہے۔

2۔ دشمنوں سے برائت اور دشمنی کا اظہار

انہوں نے مزید کہا کہ سورۂ ممتحنہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ﴾

ترجمہ:اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی طرف محبت کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اس کا انکار کر چکے ہیں، اور رسولؐ اور تمہیں تمہارے وطن سے نکالتے ہیں۔

یہ آیت مؤمنین سے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہے:اے ایمان والو! اگر تم واقعی اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی اور دوستانہ تعلقات قائم نہ کرو۔

3۔ سازش قبول نا کرنا

انہوں نے وضاحت کی کہ دوسروں کے افکار اور ان کے مقدسات کا احترام کریں، لیکن قرآن کہتا ہے کہ واضح طور پر اعلان کرو کہ ہم کافروں سے بیزار ہیں:﴿كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللّٰهِ وَحْدَهُ﴾
ترجمہ:ہم تم سے بیزار ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو چکا ہے، یہاں تک کہ تم صرف اللہ پر ایمان لے آؤ۔

اپنی تعداد کم ہونے سے خوف زدہ نہ ہوں۔ اس بات سے بھی نہ ڈریں کہ ان کے پاس دولت، علم، ٹیکنالوجی اور جدید صنعتیں موجود ہیں۔ آپ کے پاس اللہ ہے۔ اگر آپ استقامت اور ثابت قدمی اختیار کریں گے تو اللہ آپ کی مدد کرے گا۔

4۔ اللہ کی قدرت، نصرت اور مدد پر ایمان

کتاب «چشم بہ راہِ مُنتَظَر» کے مصنف نے کہا کہ
ہمیں رسولِ اکرم (ص) کی پیروی کرنی چاہیے، جنہوں نے احزاب کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ذرّہ بھر بھی کمزوری نہیں دکھائی؛ اسی طرح مؤمنین نے بھی آپ (ص) کی پیروی کی:﴿فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾
پس ان میں سے کچھ نے اپنی نذر پوری کر دی (شہادت پا گئے) اور کچھ ابھی انتظار کر رہے ہیں۔

استادِ حوزہ نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس بات سے خوفزدہ نہ ہوں کہ دشمن نے تمہیں گھیر رکھا ہے، وہ طاقتور ہے اور ہم کمزور ہیں۔ دشمن زیادہ طاقتور ہے یا اللہ؟ کیا اللہ ہی نہیں تھا جس نے تمہاری مدد کی؟
﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ﴾
اور یقیناً اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، جبکہ تم کمزور اور بے سروسامان تھے۔
اللہ نے تمہاری مدد کی اور تمہیں کامیابی عطا کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر تم وہی بسیجی بن جاؤ جنہوں نے بہادری کے ساتھ دشمن کو اسلامی وطن سے نکالا، جہاد کے لیے اپنی جان کی پروا نہ کی اور اللہ کی راہ میں عشق و اخلاص کے ساتھ جنگ کی، تو اللہ بھی وہی اللہ ہے۔
اگر تم سچ کہتے ہو کہ تم اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہو، تو پھر ڈرتے کیوں ہو؟
یا تو دنیا کی فتح تمہارا مقدر ہوگی، یا آخرت کی سعادت؛ اور ممکن ہے کہ دونوں ہی تمہیں نصیب ہوں۔

تاریخ اسلام کے مطالعے میں حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کا نام اس ستارے کی مانند ہے جس کی روشنی گہری معرفتِ الٰہی سے پھوٹتی ہے۔ آپ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے یہ سمجھا کہ رسالت دراصل ایک تمدنی منصوبہ ہے جس کا مقصد انسان کو توحید کی بنیاد پر ازسرنو تعمیر کرنا ہے۔

مکہ کے دورِ جاہلیت میں دولت اور سماجی مرتبہ ہی عزت و کرامت کا معیار سمجھے جاتے تھے لیکن حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اس معیار کو توڑ دیا اور دولت پر مبنی مردانہ معاشرتی ڈھانچے کے مقابلے میں عورت کی روحانی قوت کو میدان میں اتارا۔ آپ نے جرأت کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ میری دولت، میری طاقت اور میری عزت ایمان کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے۔

یہ وہ مقام تھا جہاں فتح حاصل ہونے سے پہلے ہی ’’انفاق‘‘ نے حقیقی معنویت اختیار کی۔ رہبر انقلاب اسلامی فرماتے ہیں:

’’اگر حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی فداکاریاں نہ ہوتیں تو شاید یہ عظیم اور پُرخطر نبوی تحریک اپنے آغاز میں اس قدر استحکام حاصل نہ کر پاتی۔ انہوں نے اپنا سرمایہ خرچ کیا، اپنی عزت لگائی اور اپنی جان بھی قربان کردی کیونکہ وہ باایمان تھیں۔‘‘

مکہ کے محدود اور پُرخطر ماحول میں یہ طرزِ عمل ایک انقلابی اقدام تھا؛ ایک ایسی خاتون کا کردار جس نے فتح سے پہلے اور انتہائی دشوار حالات میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تاکہ توحیدی تہذیب و تمدن جنم لے سکے۔ قرآن کریم ان لوگوں کے درمیان جو فتح سے پہلے انفاق کرتے اور جہاد کرتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو فتح کے بعد ایسا کرتے ہیں، فرق بیان کرتا ہے کیونکہ طاقت حاصل ہونے سے پہلے ایمان، صداقت کا معیار ہے۔

سورۂ حدید کی آیت 10 میں ارشاد ہوتا ہے: لَا یَسْتَوِی مِنْکُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ۔ اور اس امتیاز کی اولین مثالوں میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا شامل ہیں۔

موجودہ میڈیا دور اور معرفتی جنگ میں بھی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا پیغام زندہ ہے: "ایمان کو حکمت و بصیرت پر مبنی ہونا چاہیے، محبت کو درست سمت حاصل ہونی چاہیے اور عورت کو تہذیب وتمدن کا ستون بن کر رہنا چاہیے"۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے ہمیں سکھایا کہ دنیا کی عظیم ہستیاں خاموشی اور فداکاری کے ذریعے دنیا کو بدل دیتی ہیں۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا وہ خاتون تھیں جو جاہلیت کے مقابل ایمان کی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور فرمایا: "حق کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اسے ادا کرنے والی میں ہوں!"۔

 ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رکھی گئی تو ایران ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں کرے گا۔

محسن رضائی نے سماجی رابطے کے ایک پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں لکھا کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو نہ آبنائے ہرمز کے ذریعے اور نہ ہی خلیج فارس کے کسی اور راستے سے ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران، امریکہ کی جانب سے ایرانی عوام کے خلاف اقتصادی جنگ میں کسی بھی ملک کی شمولیت یا حمایت کو جنگی اقدام تصور کرے گا۔

علاقائی اسٹریٹجک امور کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کا فوجی آپشن اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اور اب واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی محاصرے اور پابندیوں کی حکمت عملی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔

عطوان نے ایک مضمون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف اقتصادی محاصرے اور پابندیوں کی حکمت عملی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ پابندیوں کا حجم خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اس حکمت عملی کا انتخاب اس بات کا اعتراف ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اختیار کیا گیا فوجی آپشن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

صہیونی حکومت کی گمراہ کن معلومات اور ٹرمپ کے غلط اندازے

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گمراہ کن اور زہریلی معلومات، غرور اور غلط اندازوں کے جال میں پھنس گئے اور انہوں نے ایران کی سیاسی و فوجی صلاحیتوں، عوامی حمایت اور جنگ کے دوران اس کی غیر معمولی حکمت عملی کو نظر انداز کیا۔ ایران نے اپنی فوجی، سیاسی اور سفارتی طاقت کے مختلف ذرائع کو انتہائی مہارت، دانش مندی اور غیر معمولی انداز میں استعمال کیا۔

عطوان کے مطابق ٹرمپ اب اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے اور ایسی کسی بھی کامیابی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو انہیں موجودہ بحران سے نکال سکے، لیکن اسرائیل کی جانب سے پیدا کیے گئے اس گہرے بحران سے نکلنے کے امکانات انتہائی کم بلکہ شاید ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح امریکہ کی فوجی طاقت اپنے تمام تر وسائل کے باوجود ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، اسی طرح اقتصادی محاصرہ بھی ناکام ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کی ناکامی فوجی آپشن سے بھی زیادہ بڑی ہو۔

ایران کو قحطی میں مبتلا کرنا ناممکن

عطوان نے ایران کی جغرافیائی اور انسانی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران تقریبا ایک براعظم کے حجم کا ملک ہے، اس کا رقبہ تقریباً 20 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، اس کی زمینیں زرخیز ہیں اور اس کی آبادی 9 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان حالات میں ایرانی عوام کو بھوک کا شکار کرنا آسان نہیں ہوگا۔

عرب تجزیہ کار نے مزید کہا کہ چین، روس اور خلیج فارس کے بیشتر ممالک ایران کے محاصرے سے متعلق ٹرمپ کے مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مکہ میں جلد بازی میں تشکیل پانے والا تین ملکی اتحاد دراصل خلیجی عرب ممالک کی اس مایوسی کا نتیجہ تھا کہ امریکی فوجی اڈے، جن پر وہ بھاری اخراجات کرتے ہیں، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں انہیں مطلوبہ تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

ممکنہ جنگ اور ایران کی تیاری

عطوان نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ دوبارہ ناکام ہوچکے فوجی آپشن کی طرف واپسی کو خارج نہیں کرتے تو ایران بھی اس مرحلے کے لیے پوری طرح تیار ہو رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ خود اس مرحلے کا آغاز کرے، کیونکہ ایرانی کمانڈروں کے بیانات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔

انہوں نے ایرانی عسکری قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل احمد وحیدی نے تمام سطحوں پر دفاعی اور جارحانہ صنعتوں کی پیداوار کو مزید مضبوط بنانے، ملک کی فوجی تیاری کی سطح بلند کرنے اور اس کی ضرب لگانے والی صلاحیتوں کو تقویت دینے پر زور دیا ہے۔

عطوان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے بھی امریکہ اور اس کے صدر کو خبردار کیا ہے کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی غلط اندازے کا سامنا انقلابی، شدید، فیصلہ کن اور تباہ کن جواب سے ہوگا۔

انہوں نے سپاہ پاسداران کے ترجمان جنرل حسین محبی کے بیان کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے دشمنوں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں کے وار ہیڈز کی کارکردگی، ان کی رینج اور اہداف کو نشانہ بنانے کی درستگی کے حوالے سے بڑی حیرت انگیز صلاحیتیں سامنے آنے والی ہیں، جو مستقبل کی فوجی جھڑپوں میں ظاہر ہوں گی۔

جنگ میں ایرانی عوام کی بے مثال استقامت

عطوان نے اپنے مضمون کے اختتام پر کہا کہ وسیع پیمانے پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی عوام کی ثابت قدمی کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی اپنے دعووں کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور دشمن کو شکست سے دوچار کرتے ہیں۔ آنے والے دن بھی نئی کامیابیوں کے ذریعے اس حقیقت کی مزید تصدیق کریں گے۔

، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محسن محبی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی جنگ میں شدت لائے جانے کے باوجود ایران نے دشمن کی ہر سازش اور کارروائی سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔

جنرل محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر خود کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا حکم دیا ہے اور ایران کے خلاف تاریخ کی شدید ترین اقتصادی جنگ شروع کردی ہے۔ یہ اعتراف دراصل فوجی میدان میں دشمن کی شرمناک شکست کا خاموش اعتراف ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ اگر امریکہ فوجی میدان میں کامیاب ہوگیا ہوتا تو اسے اقتصادی جنگ شروع کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اقتصادی جنگ کوئی نئی چیز ہے؟ ہرگز نہیں، امریکہ گزشتہ 47 برس سے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران کے تقریباً تمام اقتصادی شعبوں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے۔

جنرل محبی نے کہا کہ ایران بارہا واضح کرچکا ہے کہ دشمن کی ہر مخاصمت آمیز کارروائی کے لیے اس کے پاس ایک مخصوص منصوبہ موجود ہے۔ اقتصادی جنگ بھی دشمن کی انہی کارروائیوں میں شامل ہے۔ ایران نے اس کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات آسانی سے قائم رکھنے کے لیے بھی منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اقتصادی میدان میں کوئی تشویش نہیں ہے۔ ایران امریکہ کے بالکل قریب واقع ممالک کے ساتھ بھی اقتصادی روابط رکھتا ہے، امریکہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اقتصادی معاملات آگے بڑھا رہا ہے اور اس کے نتائج بہت جلد سب کے سامنے ہوں گے۔