سلیمانی

سلیمانی

امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن عالمی سطح کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بندی کریں جن میں حملہ آوروں کو اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت دینا اور بعض صورتوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف غیر قانونی حملوں میں حصہ لینا بھی شامل ہے۔

خط میں آيا ہے کہ مذکورہ ملکوں کے یہ اقدامات 14 دسمبر 1974 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 (29ویں اجلاس) خلاف ورزی  شمار ہوتے ہیں۔ 

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب کے خط میں آيا ہے کہ مذکورہ پانچوں ممالک نے عالمی سطح کے غلط اقدامات کے ذریعے ایران کے حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پامال کیا ہے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔لہذا ان ممالک پر یہ بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کو پہنچنے والے مادی اور اخلاقی نقصانات کو مکمل تاوان ادا کریں۔

مہر خبررساں ایجنسی؛ حسام الدین حیدری: "حزب اللہ کو تنہا نہ چھوڑیں" یہ جملہ بظاہر ایک سیاسی مشورہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک گہری تزویراتی، تاریخی اور تہذیبی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے چیف ایڈیٹر نے اپنی یاد داشت میں لکھا کہ ایسے وقت میں جب امریکی۔صہیونی محاذ نے ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی جنگ کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لانے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، حزب اللہ نے فوری طور پر میدان میں آ کر مقابلے کا بڑا حصہ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ یہ محض علامتی حمایت نہیں تھی بلکہ اس اقدام نے جنگ کے میدان اور نفسیاتی فضا دونوں میں توازن کو بدل دیا۔

اداریے میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حالات میں جب جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، صہیونی حکومت کے طرز عمل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ تو عالمی اصولوں کی پابند ہے اور نہ ہی جنگ بندی کو سنجیدگی سے لیتی ہے، بلکہ اسے اپنی طاقت بحال کرنے اور دوبارہ حملے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ لبنان پر حملے اور شہریوں کا قتل اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

چیف ایڈیٹر کے مطابق اگر جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا کوئی عملی جواب نہ دیا گیا تو اس کا پیغام پورے خطے میں جائے گا کہ جارحیت کی قیمت زیادہ نہیں اور قوانین کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

اخلاقی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کو ضرورت کے وقت تنہا چھوڑ دینا نہ صرف انسانی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے تزویراتی طاقت بھی کمزور ہوتی ہے۔ حزب اللہ اور لبنان کے عوام نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا تعلق محض وقتی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ خطرات اور مستقبل کی سمجھ پر قائم ہے۔

اداریے میں مزید کہا گیا کہ خطے کے حالیہ تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ جب بھی مزاحمتی محاذ کا کوئی حصہ کمزور ہوا، دباؤ فوری طور پر دوسرے حصوں تک منتقل ہو گیا۔ شام کی صورتحال، حماس پر دباؤ اور حزب اللہ پر حملوں نے بالآخر ایسے حالات پیدا کیے کہ دشمن نے براہ راست ایران کو نشانہ بنانے کی جرات کی۔

لبنان کے عوامی ردعمل کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر وہاں کے لوگ خود کو تنہا محسوس کریں تو یہ احساس بداعتمادی میں بدل سکتا ہے، جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے گا اور خطے میں قائم اعتماد کو کمزور کرے گا۔

آخر میں چیف ایڈیٹر نے زور دیا کہ آج کی دنیا میں سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ تہران کی سلامتی بیروت اور اس کے نواحی علاقوں سے الگ نہیں۔ اس لیے حزب اللہ اور لبنان کا دفاع کوئی جذباتی یا محض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر تزویراتی ضرورت ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت مستقبل میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

تمہید:
اسلامی تاریخ میں اہلِ بیتِ اطہارؑ کی ہستیاں علم، تقویٰ اور ہدایت کا سرچشمہ رہی ہیں۔ انہی عظیم شخصیات میں Imam Jafar al-Sadiq کا نام نہایت درخشاں ہے۔ آپؑ نے ایسے دور میں زندگی گزاری، جب امتِ مسلمہ فکری انتشار اور سیاسی کشمکش کا شکار تھی، مگر آپؑ نے اپنی علمی بصیرت اور اخلاقِ حسنہ کے ذریعے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو محفوظ رکھا۔ آپؑ کی شہادت علم و معرفت کے ایک عظیم باب کے بند ہونے کے مترادف ہے۔

ولادت و نسب:
امام جعفر صادقؑ کی ولادت باسعادت 17 ربیع الاول 83 ہجری کو Medina میں ہوئی۔ آپؑ کا نسب پاک رسولِ اکرم ﷺ کے خاندان سے جا ملتا ہے۔ آپؑ کے والد گرامی Imam Muhammad al-Baqir اور دادا محترم Imam Zayn al-Abidin تھے۔ اس پاکیزہ خاندان میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے آپؑ کو بچپن ہی سے علم و معرفت کا ماحول میسر آیا۔

علمی مقام و خدمات:
امام جعفر صادقؑ کو بجا طور پر “امامِ علم” کہا جاتا ہے۔ آپؑ نے تفسیرِ قرآن، حدیث، فقہ، کلام، فلسفہ اور دیگر علوم میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپؑ کے درس میں ہزاروں طلبہ شریک ہوتے تھے اور آپؑ کی علمی مجلس ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپؑ کے شاگردوں میں Abu Hanifa اور Malik ibn Anas جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے، جو آپؑ کے علم و فضل کے معترف تھے۔ فقہِ جعفریہ کی بنیاد بھی آپؑ ہی نے رکھی، جو آج شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپؑ کی تعلیمات نے نہ صرف دینی علوم بلکہ سائنسی اور فکری میدانوں میں بھی اثرات مرتب کیے۔

اخلاق و کردار:
امام جعفر صادقؑ اخلاقِ حسنہ کے اعلیٰ نمونے تھے۔ آپؑ نہایت صابر، شاکر، متواضع اور سخی تھے۔ آپؑ کا طرزِ زندگی سادگی اور عبادت سے بھرپور تھا۔ آپؑ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتے اور لوگوں کو عدل، انصاف اور محبت کا درس دیتے تھے۔ آپؑ کی مجالس میں ہر شخص کو عزت دی جاتی تھی اور آپؑ مخالفین کے ساتھ بھی حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کی شخصیت ہر طبقۂ فکر کے لیے قابلِ احترام تھی۔

سیاسی حالات:
امام جعفر صادقؑ کا دور بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتوں کے درمیان تبدیلی کا زمانہ تھا۔ اس دور میں سیاسی بے چینی اور ظلم و ستم عام تھا۔ آپؑ نے سیاسی میدان میں براہِ راست تصادم کے بجائے علمی اور فکری اصلاح کو ترجیح دی، تاکہ دین کی اصل روح محفوظ رہ سکے۔ آپؑ نے اپنے علم کے ذریعے باطل نظریات کا رد کیا اور لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا۔

شہادت:
25 شوال 148 ہجری کو Medina میں آپؑ کو زہر دے کر شہید کیا گیا۔ آپؑ کی شہادت امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی۔ آپؑ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا، جو آج بھی اہلِ ایمان کے لیے مرکزِ عقیدت ہے۔

نتیجہ:
امام جعفر صادقؑ کی زندگی علم، تقویٰ اور صبر و استقامت کا ایک مکمل نمونہ ہے۔ آپؑ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے امت کو یہ سبق دیا کہ حقیقی کامیابی علم، اخلاق اور اللہ کی اطاعت میں ہے۔ آپؑ کی شہادت کے باوجود آپؑ کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم آپؑ کی سیرت پر عمل کریں اور اپنے معاشرے کو علم و اخلاق سے مزین کریں۔
تحریر: تطہیر غدیری
 
 
 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے عالمی کیتھولک چرچ کے رہنما پاپ لیون چهاردہم کے نام ایک اہم مکتوب میں ان کے جرات مندانہ اور انسانی موقف کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ “آپ نے مسیحیت کی حقیقی تعلیمات سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔”

اپنے پیغام میں آیت اللہ اعرافی نے موجودہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں جب ظلم کے خلاف خاموشی طاقتوروں اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعویداروں کی زبان بن چکی ہے، اور کئی عالمی رہنما سیاسی مصلحتوں میں الجھ کر حق گوئی سے گریزاں ہیں، ایسے میں پاپ کا بے گناہوں پر بمباری کی مذمت کرنا ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے اس آواز کو “تاریک دور میں روشنی کی کرن” قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جنہیں مسلمان بھی اولوالعزم انبیاء میں شمار کرتے ہیں، ہمیشہ امن، رحمت اور مظلوموں کے دفاع کا پیغام دیتے رہے ہیں، اور پاپ کا حالیہ موقف اسی الٰہی تعلیمات کی عملی تصویر ہے۔ ان کے مطابق، ویٹیکن صرف ایک مذہبی مرکز نہیں بلکہ انصاف کی آواز بلند کرنے کا پلیٹ فارم بھی بن سکتا ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاپ کے موقف نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دینی ضمیر آج بھی زندہ ہے اور دین انسانی معاشرے میں اخلاقی رہنمائی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظالموں کو عذابِ الٰہی کی یاد دہانی کرانا انبیاء کی مشترکہ سنت رہی ہے، اور یہی روش آج بھی اختیار کی جانی چاہیے۔

خط میں بین المذاہب ہم آہنگی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ قرآن اہلِ کتاب کو مشترکہ اقدار کی طرف بلاتا ہے، اور آج یہ مشترکہ نکتہ انسانیت کا دفاع اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ آیت اللہ اعرافی نے اعلان کیا کہ حوزہ علمیہ قم ویٹیکن کے ساتھ اس سلسلے میں مزید گہرے تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ اس اخلاقی ہم آہنگی کو ایک عالمی تحریک میں بدلا جا سکے۔

آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ انبیائے الٰہی کی مشترکہ تعلیمات—جن میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شامل ہیں—آج بھی انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ ہیں، اور دنیا میں انصاف کی آواز ایک دن ظلم و تشدد پر غالب آئے گی۔

تہران (IRNA) ایران کی پارلیمنٹ مجلسِ شورائے اسلامی میں عیسائی اقلیتوں آشوری، کلدانی کیتھولک اور ارمنی نمائندوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لئو چہاردہم کی توہین انسانیت کے خلاف اقدام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی رہنماؤں کی توہین اور مقدسات کی بے حرمتی کسی بھی آزاد منش انسان کے لیے قابل قبول نہیں۔

ارنا کے مطابق، ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں اقلیتی نمائندوں شارلی انویه‌تکیه، آرا شاوردیان اور گقارد منصوریان نے اپنے بیان میں ایران سے متعلق پوپ لئو چہاردہم کے مؤقف کی قدردانی بھی کی۔

بیان میں کہا گیا کہ خدا انسانوں میں امن کے پیغام کو فروغ دینا چاہتا ہے تاکہ پوری دنیا ایک انسانی خاندان کی صورت اختیار کرے۔

پوپ لئو چہاردم کے نام اپنے پیغام میں عیسائی ارکان پارلیمان نے ایران کے خلاف حملوں کے بارے میں پوپ لئو چہاردم کے واضح مؤقف پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکی صدر کے ذریعہ پوپ کی اہانت کی مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ پوپ کی توہین نہ صرف عیسی مسیح کی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ امن، انصاف اور انسانیت کے اصولوں پر حملہ بھی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ میں اہداف کی حصولی میں ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر پر اندرون ملک اور بیرون ملک دباو میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین اور سیاسی رہنما کسی منصوبہ بندی کے بغیر جنگ شروع کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید کررہے ہیں۔

 رِچَـرڈ اسٹیـنگل، جو اوباما دور میں امریکہ کے سفارتکار رچرڈ اسٹینگل نے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا کہ وکٹر اوربان اپنی تمام آمرانہ یوں کے باوجود، آخر میں صحیح قدم اٹھایا اور انتخابی شکست کو قبول کیا، دھاندلی کے جھوٹے الزامات نہیں لگائے، اپنے حریف سے رابطہ کیا اور اسے مبارکباد دی۔

سابق امریکی سفارتکار نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ شکست کو قبول کیجیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ سبق ہے جو امریکی قدامت پسندوں کو وکٹر اوربان سے سیکھنا چاہیے۔

جنگ بندی کے باوجود صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان کے جنوبی علاقوں پر حملے جاری ہیں۔

لبنان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جنوبی علاقوں، بشمول العباسیہ، صور، فلسیہ اور القاسمیہ میں اسرائیلی فضائیہ نے متعدد فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔

دوسری جانب، حزب اللہ لبنان نے اعلان کیا کہ گذشتہ روز بقاع میں ایک اسرائیلی جنگی طیارے کو زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ علاوہ ازیں، جنوب لبنان کے صدیقین علاقے میں حزب اللہ نے اسرائیلی ڈرون ہرمیس 450 - زیک کو تباہ کردیا ہے۔


ایران کیساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد ٹرمپ بوکھلا گیا ہے اور اس بوکھلاہٹ میں ایران کے ساتھ ساتھ یورپ اور اپنے اتحادیوں کو بھی لتاڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اتحادیوں کے ساتھ اس نے عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔ حالانکہ پوپ نے امن کی بات کی تھی، انسانیت کی بات کی تھی اور جنگوں کی مخالفت میں بولے تھے، لیکن یہ جنگوں کے شوقین ٹرمپ کو یہ اچھا نہ لگا اور اس نے پوپ کو بھی نشانے پر لے لیا۔ یہ وہ موڑ ہے، جہاں پر ٹرمپ امریکہ کیلئے گڑھا کھود رہا ہے۔ اگر ٹرمپ کو فوری طور پر اقتدار سے الگ نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب امریکہ تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا نے کھلے عام امریکہ کو صاف جواب دیدیا ہے اور کسی بھی امریکی ڈکٹیشن پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ خود امریکہ کے انڈر ٹرمپ کی اپنی پارٹی اس کیخلاف ہو گئی ہے اور امریکی صدر کے محاسبے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب آج ٹرمپ نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر وہاں سے ہونیوالی آمدورفت کو روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مذاکرات ناکام کیوں ہوئے؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ اور واضح ہے کہ ایران نے امریکہ سے ڈکٹیشن لینے سے انکار کر دیا ہے۔ جے ڈی وینس کہتے ہیں کہ ایران نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ ’’ایران امریکہ کی بات کیوں مانے؟ اور بات بھی وہ جو ناجائز ہے‘‘۔ ایسی صورتحال میں ایران کا موقف مدلل رہا اور انہوں نے منطق اور دلیل کی بنیاد پر مذاکرات کئے، امریکہ کو آئینہ دکھایا ہے کہ اب دنیا بدل چکی ہے، اب امریکہ سپر پاور نہیں رہا، اور اب دنیا کی تقدیر کے فیصلے واشنگٹن میں نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ میں ہوں گے۔ اب عالم مشرق کا جنیوا تہران بن گیا ہے اور اب قرہ ارض کی تقدیر بدلے گی۔ اب غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں گی اور اب قومیں اور ملک آزاد ہوں گے۔ امریکی طوق اب گلے میں نہیں رہیں گے۔

یہاں تک کہ امریکی اخبار کی ہی رپورٹ ہے کہ عرب ملکوں میں ایران کے ہاتھوں امریکی اڈوں کی تباہی کے بعد عرب حکمرانوں نے بھی سوچنا شروع کر دیا ہے، کہ امریکہ نے تو ان کا دفاع نہیں کیا، وہ امریکہ جو اپنے اڈے نہیں بچا سکا، وہ عربوں کو ایران سے کیا بچائے گا۔ ایران نے نہ صرف اڈے تباہ کئے بلکہ امریکہ کے مہنگے مہنگے دفاعی نظام بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیئے۔ امریکہ کے اٹھارہ طیارے ناکارہ بنا کر رکھ دیئے گئے۔ سپر پاور کا یہ مصنوعی رعب اور دبدبہ ایران نے خلیج فارس میں ڈبو دیا۔ ٹرمپ ایک طرف دعویٰ کرتا ہے کہ اس سے ایرانی نیوی کو سمندر میں غرق کر دیا ہے، اگر ٹرمپ سچ بول رہا ہے، تو آبنائے ہرمز کیوں نہیں کھلوا پا رہا؟ ایران آج بھی مضبوط دفاع رکھتا ہے بلکہ ماضی کی نسبت آج ایران کا دفاع انتہائی مضبوط ہے۔ ایرانیوں کا کہنا ہے کہ اب تک ہم نے پرانے ہتھیار استعمال کئے ہیں، ابھی تو ہمارے پاس ہتھیاروں کی جدید کھیپ بھی موجود ہے اور یہ ہتھیار ایسے ہیں کہ دنیا ایٹم بم کو بھول جائے گی۔ تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران انتہائی خطرناک ہتھیار بنا چکا ہے، اور اس بات کا ادراک امریکی دانشوروں اور سیاستدانوں کو بھی ہو چکا ہے، لیکن ٹرمپ کی بیوقوفیاں امریکہ کو مروا دیں گے۔ ٹرمپ کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے ایران کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اب عرب ممالک سے بھی ایران سے محبت اور خیر سگالی کے پیغامات آ رہے ہیں۔

سعودی عرب میں بھی ایسی باتیں ہو رہی ہیں، جن میں اب بلاک بدلنے پر غور ہو رہا ہے اور حالات اس طرف آ رہے ہیں کہ امریکہ کو چھوڑ کر روس، چین اور ایران پر مشتمل ایک مشرقی بلاک تشکیل دیا جائے اور اس میں ترکیہ، پاکستان، عراق سمیت تمام عرب ممالک شامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے بدلتے ہوئے رویے پر ٹرمپ نے محمد بن سلمان کی توہین بھی کی۔ اگر یہ بلاک معرض وجود میں آتا ہے، جو کہ بہت قریب ہے، تو پیٹرو ڈالر منصوبے سمیت خطے سے امریکی اثرورسوخ ختم ہو جائے گا اور ایران کا ہدف بھی یہی ہے کہ امریکہ کو خطے سے نکالنا ہے اور اس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بہت مدد کی ہے۔ اور یہی ٹرمپ امریکہ کو تنہا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جس پر ٹرمپ کو شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے فوجی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں، بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں اور بحری قزاقی کے مترادف ہے۔ ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ امریکی دھمکیوں کے بعد ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے ایک مستقل نظام نافذ کرے گا، اگر ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور خلیج عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

سکردو بلتستان پاکستان میں قائدِ امت شہید امام خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے عظیم الشان اجتماع، شہر کے سب سے بڑے میونسپل گروانڈ میں منعقد ہوا جس میں لاکھوں عاشقانِ رہبرِ انقلاب نے شرکت کر کے شہدائے مقاومت بالخصوص شہید امام خامنہ ای کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو بلتستان پاکستان میں قائدِ امت شہید امام خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے عظیم الشان اجتماع، شہر کے سب سے بڑے میونسپل گروانڈ میں منعقد ہوا جس میں لاکھوں عاشقانِ رہبرِ انقلاب نے شرکت کر کے شہدائے مقاومت بالخصوص شہید امام خامنہ ای کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔